14/12/2025
پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے 14 سال قید بامشقت کی سزا ملنے کو بعض ماہرین پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کے بڑے واقعات میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان میں سب سے طاقتور سمجھی جانے والی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو ملنے والی اس غیر معمولی سزا کے بعد ملک میں فوج کی سیاست میں مداخلت کی تاریخ اور موجودہ حالات میں اس کی اہمیت پر بھی بات ہو رہی ہے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو ’سیاسی سرگرمیوں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی‘ سمیت چار الزامات پر 14 سال قید بامشقت کی سزا کے دُور رس نتائج مرتب ہوں گے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو یہ سزا 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع ہونے والے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی 15 ماہ کی کارروائی کے بعد سنائی گئی۔
فوج کی جانب سے جاری بیان میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر عائد کیے گئے الزامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں تاہم ماہرین سنہ 2018 کے عام انتخابات، ملک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور پھر نو مئی سنہ 2023 کے واقعات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
ایسے میں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے آخری حصے پر بھی بات ہو رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر انتشار اور عدم استحکام پھیلانے سمیت دیگر معاملات میں مداخلت کے پہلو علیحدہ طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔‘
پاکستان کے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ اور مختلف سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس سزا پر آنے والے ردِعمل میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’قوم برسوں فیض حمید صاحب اور جنرل باجوہ کے بوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی۔ اللہ ہمیں معاف کرے، طاقت اور اقتدار کو اللہ کی عطا سمجھ کر اس کی مخلوق کے لیے استعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ خوف خدا حکمرانوں کا شیوہ بنے۔