Voice Of Kech

Voice Of Kech This page aims to provide the latest updates and highlight the issues.

24/05/2026

منفی پروپیگنڈے اور جعلی بیانات سے بل نگور روڈ کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے کی سازشیں ناکام ہوں گی: اہلیانِ بل نگور و بلدیاتی اکابرین کا مشترکہ بیان۔
طویل عرصے سے زیرِ التوا منصوبے کا آغاز عوامی امنگوں کا ترجمان اور انقلابی قدم ہے۔

ذاتی مفادات کے لیے علاقے کی خوشحالی کے خلاف سازش کرنے والے چند عناصر عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے۔
انتظامیہ کمیشن خور مافیا کا محاسبہ کرے اور تعمیراتی کام کو بغیر کسی تعطل کے تیزی سے مکمل کرایا جائے: مشترکہ بیان۔
بل نگور (پریس ریلیز) اہلیانِ بل نگور اور منتخب بلدیاتی و سیاسی نمائندوں نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر "اہلیانِ بل نگور" کے نام پر جاری ہونے والے ایک جعلی اور گمراہ کن بیان کی سخت ترین الفاظ میں تردید کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ بل نگور میرانی ڈیم روڈ کی تعمیر کے حوالے سے پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اور اس جعلی بیان کا بل نگور کے غیور عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہار علاقے کی سیاسی، سماجی اور بلدیاتی شخصیات
جاوید اقبال بلوچ سابق ناظم، یونین کونسل بل نگور)
فیصل بلوچ سابق چیئرمین، یونین کونسل درچکوہ
*عبدالحکیم بلوچ* سابق نائب ناظم، یونین کونسل بل نگور
*ماسٹر محمد اکبر بلوچ* معروف سیاسی و سماجی رہنما
فریدشاہ کاشاپی نائب امیر، جمعیت علماء اسلام تحصیل دشت حاجی فدا بلوچ (سابق وائس چیئرمین، یو سی درچکوہ و ممتاز سماجی شخصیت
میر وارث رندمعروف کاروباری و سیاسی شخصیت، کپکپار بل نگور،
ذاکر سبزل سماجی کارکن
نظام عبدین سماجی کارکن و کاروباری شخصیت
نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ترقی دشمن عناصر کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے
مشترکہ تفصیلی بیان میں رہنماؤں نے کہا کہ چند مفاد پرست،کمیشن خور اور ترقی دشمن عناصر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت گمراہ کن بیانات کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ وہ مخصوص ٹولہ ہے جو طویل عرصے سے زیرِ التوا اور اب بفضلِ خدا زیرِ تعمیر "بل نگور روڈ" کے اس تاریخی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بننے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بل نگور روڈ کی تعمیر کا آغاز اہل علاقہ کے لیے ایک انقلابی قدم ہے، جس سے پورے علاقے کی تقدیر بدل جائے گی اور عوام کو برسوں پرانی سفری و معاشی اذیت اور مشکلات سے مستقل نجات ملے گی۔
انہوں نے
منفی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے عوامی و بلدیاتی نمائندوں نے سوال اٹھایا کہ
> یہ نام نہاد ہمدرد اس وقت کہاں چھپے ہوئے تھے جب بل نگور روڈ برسوں سے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا تھا اور اہل علاقہ مٹی، دھول اور اذیت ناک سفر جھیلنے پر مجبور تھے؟ اس وقت ان کا کوئی بیان، ہمدردی یا احتجاج سامنے کیوں نہیں آیا؟
اکابرین نے واضح کیا کہ روڈ کے خلاف صرف وہی مخصوص عناصر مہم چلا رہے ہیں جنہیں علاقے کی ترقی و خوشحالی ہضم نہیں ہو رہی اور جو اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کی خاطر عوامی فلاح کے منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے
انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے
اہلیانِ بل نگور اور بلدیاتی اداروں کے نمائندوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی مفاد پرست اور کمیشن خور ٹولے کو علاقے کے اس سب سے اہم ترین ترقیاتی منصوبے کو نقصان پہنچانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
ایسے ترقی دشمن عناصر اکثر اہلیان کا نام اپنے ذاتی مفادات کے حصول کیلئےاستعمال کرتے ہیں جو قابل شرم ہے

انہوں نے کہاکہ اب بل نگور کے تمام سیاسی و سماجی کاروبار سابق و موجودہ بلدیاتی نُمائندے خود تعمیراتی کام کی نگہبانی اور نگرانی کرتے رہیں گے ان جیسے عوام دشمن کمیشن خور عناصر کا مقابلہ سیسہ پلائی کی دیوار بن کر کھڑے رہیں گے
اور
آئندہ تمام اداروں اور میڈیا سے اپیل ہے کہ اہلیان کے نام پر جاری بیان کی علاقائی معتبرین ،سیاسی وسماجی شخصیات سے تصدیق کے بعد جاری کریں،تاکہ غلط اور ذاتی مفادات اور کمیشن کے حصول کیلئے پروپگنڈے کا ٹول استعمال نہ ہو اور کسی عوامی اجتماعی پروجیکٹ پر منفی اثرات نہ پڑیں۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر جعلی بیانات کے ذریعے ترقیاتی کاموں میں خلل ڈالنے والے عناصر کا فوری محاسبہ کریں، اور روڈ کی تعمیر کے کام کو بغیر کسی تعطل کے تیزی سے مکمل کروایا جائے تاکہ عوام جلد از جلد سکھ کا سانس لے سکیں۔

24/05/2026

کوئٹہ:
کوئٹہ دھماکے میں شہداء کی تعداد 25 سے تجاوز کرگئی،اب تک زخمیوں کی تعداد 52 ہے۔
ڈی ایس پی سٹی قادر قمبرانی

بی ایس او، پی ایس او، بی ایس او پجار، بساک، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے کی جانب سے جامعہ بلوچستان کے اندر جامعہ گوادر کے...
23/05/2026

بی ایس او، پی ایس او، بی ایس او پجار، بساک، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے کی جانب سے جامعہ بلوچستان کے اندر جامعہ گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر منظور احمد، فیکلٹی ممبران ارشاد احمد بلیدی اور حاتم بلوچ کی فوری بازیابی کے مطالبے اور پروفیسر غمخوار حیات کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف مشترکہ پُرامن احتجاجی واک کا انعقاد کیا گیا۔

احتجاجی واک جامعہ بلوچستان کے اکیڈمک بلاک کے سامنے سے شروع ہوئی اور یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریٹو بلاک کے سامنے اختتام پذیر ہوئی، جس میں سینکڑوں طلبہ و طالبات، اساتذہ کرام اور مختلف تنظیموں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جبکہ نعرے بازی کے ذریعے جامعہ گوادر کی اغوا شدہ انتظامیہ کی فوری بازیابی اور پروفیسر غمخوار حیات سمیت ماضی میں شہید کیے گئے تمام اساتذہ و پروفیسرز کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

احتجاجی واک میں طلبہ تنظیموں کی مرکزی قیادت کے علاوہ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن اور آفیسرز ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کا مسلسل اغوا اور قتل انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جامعہ گوادر کی انتظامیہ کی بازیابی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے اور پروفیسر غمخوار حیات کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔

مقررین نے مزید کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت بلوچستان کے تعلیم یافتہ، علمی اور دانشور طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کے خلاف ایک خطرناک سازش ہے۔ انہوں نے حکومت کے رویے اور کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں بلوچستان کے تعلیمی اداروں اور ان سے وابستہ اساتذہ و طلبہ کا تحفظ شامل نہیں، جس کی واضح مثال حکومتی وزراء کے جامعات اور علمی حلقوں کے حوالے سے منفی اور دھمکی آمیز بیانات ہیں، جن کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

مقررین نے جامعہ گوادر کی انتظامیہ کے اغوا اور پروفیسرز کے قتل کو موجودہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی قرار دیتے ہوئے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر اغوا شدہ اساتذہ و پروفیسرز کو بازیاب اور قتل شدہ اساتذہ کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس میں بلوچستان بھر کی جامعات کی بندش اور سڑکوں پر پُرامن احتجاج شامل ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں پر عائد ہوگی۔

آخر میں احتجاجی شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جامعہ گوادر کی انتظامیہ کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور پروفیسر غمخوار حیات کے قاتلوں کو فوری گفتارِ اور بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ، طلبہ اور علمی شخصیات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

حکومت بلوچستان کے زیر اہتمام جاری خصوصی سپورٹ پروگرام (Special Support Program) کے تحت طلبہ کو مالی امداد فراہم کرنے کا ...
23/05/2026

حکومت بلوچستان کے زیر اہتمام جاری خصوصی سپورٹ پروگرام (Special Support Program) کے تحت طلبہ کو مالی امداد فراہم کرنے کا سلسلہ افسوسناک انتظامی لاپرواہی کا شکار ہو گیا ہے۔ ضلع کیچ کے ان طلبہ، جنہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے 7 اگست 2025ء کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر کے اسکالرشپ کے لیے نامزد کیا تھا، اب تک اپنے وظیفے کے چیک حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر نامزد طلبہ کی فہرست ڈپٹی کمشنر کیچ کو بھیجی گئی تھی، جہاں ایک کمیٹی تشکیل دے کر دستاویزات کی جانچ پڑتال اور فوری طور پر چیک فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس وقت ڈپٹی کمشنر کیچ میجر (ر) بشیر احمد بڑیچ صاحب تھے، جن کی تبدیلی کے بعد یاسر اقبال دشتی نے چارج سنبھال لیا۔

شارٹ لسٹ میں شامل طلبہ نے متعدد بار نئے ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی صاحب سے ملاقات کی کوشش کی۔ رمضان المبارک سے قبل ہی طلبہ نے چار مرتبہ دفتر جا کر درخواست دی، مگر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ طلبہ کے مطابق وہ ڈپٹی کمشنر صاحب کے دفتر کے باہر گھنٹوں انتظار کرتے رہے، اور جب کبھی ملاقات ہوتی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا کہ ان شاء اللہ اگلے ہفتے کمیٹی بلا کر چیک جلد فراہم کر دیے جائیں گے۔

لیکن مایوس کن یہ ہے کہ طلبہ کے چیک فراہم کرنے کی بجائے ڈپٹی کمشنر صاحب تہواروں اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف نظر آئے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر صاحب نے اپنا وعدہ فراموش کر دیا ہے۔

دورانِ انتظار طلبہ کو یہ بھی کہا گیا کہ ان کی دستاویزات نامکمل ہیں، جبکہ طلبہ نے بڑی محنت اور مشکلات کے باوجود اپنی تمام دستاویزات مکمل کر لیں، لیکن پھر بھی انہیں چیک فراہم نہیں کیے گئے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر جا کر پانچ چھ گھنٹے دروازے پر بیٹھے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی تعلیمی کلاسز میں شرکت نہیں کر پاتے۔ طلبہ نے اس صورتحال کو ضلع کیچ کے طلبہ کے ساتھ شدید ناانصافی قرار دیا ہے۔

متاثرہ طلبہ نے ایک بار پھر عاجزانہ درخواست کی ہے کہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی صاحب اپنا وعدہ پورا کریں، طلبہ کا مسئلہ حل کریں اور انہیں ان کا جائز وظیفہ فراہم کریں۔ ورنہ طلبہ مزید احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ یہ اسکالرشپ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خصوصی سپورٹ پروگرام (Special Support Program) کا حصہ ہے اور 7 اگست 2025ء کو نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد آج 23 مئی 2026ء تک ضلع کیچ کے نامزد طلبہ کو ان کے چیک فراہم نہیں کیے جا سکے ہیں۔

بوائز مڈل اسکول ہوت آباد کو ہائی اسکول کا درجہ دینے کا مطالبہ، طلبہ تعلیم ترک کرنے پر مجبورہوت آباد: علاقے کے عوام نے حک...
21/05/2026

بوائز مڈل اسکول ہوت آباد کو ہائی اسکول کا درجہ دینے کا مطالبہ، طلبہ تعلیم ترک کرنے پر مجبور

ہوت آباد: علاقے کے عوام نے حکومتِ بلوچستان اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ بوائز مڈل اسکول ہوت آباد کو ہنگامی بنیادوں پر ہائی اسکول کا درجہ دیا جائے، کیونکہ مناسب تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے باعث ہر سال سینکڑوں طلبہ آٹھویں جماعت کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع کرکے مزدوری یا دیگر مشاغل اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق بوائز مڈل اسکول ہوت آباد کی بنیاد ساٹھ کی دہائی میں ایک پرائمری اسکول کے طور پر رکھی گئی تھی، جبکہ 1990 میں اسے مڈل اسکول کا درجہ دیا گیا۔ تاہم تقریباً پینتیس برس گزرنے کے باوجود یہ ادارہ تاحال ہائی اسکول میں اپ گریڈ نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث علاقے کے طلبہ کو شدید تعلیمی مشکلات کا سامنا ہے۔

اہلیانِ علاقہ کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ متعلقہ حکام اور محکمہ تعلیم کو تحریری و زبانی طور پر آگاہ کیا گیا کہ جدید دور میں بھی علاقے کے نوجوان بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں، مگر افسوس کہ اب تک اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ نتیجتاً ہر سال بڑی تعداد میں طلبہ آٹھویں جماعت مکمل کرنے کے بعد تعلیم جاری رکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں اور روزگار کی تلاش میں مزدوری اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

علاقہ مکینوں نے نشاندہی کی کہ سرنکن سے لے کر خیرآباد تک وسیع آبادی کے لیے صرف ایک ہائی اسکول موجود ہے جسے ہائی اسکول خیرآباد کہا جاتا ہے، تاہم یہ ادارہ خیرآباد کے بجائے چربک کے مقام پر واقع ہے۔ اس کے برعکس سرنکن، عبدالعزیز بازار، میرآباد، ہوت آباد، زعمران بازار اور خیرآباد سمیت متعدد آبادیوں میں ایک بھی ہائی اسکول موجود نہیں، جس سے ہزاروں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بوائز مڈل اسکول ہوت آباد کو ہائی اسکول کا درجہ دے دیا جائے تو نہ صرف مقامی طلبہ کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آئیں گے بلکہ شرحِ تعلیم میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا اور نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے گا۔

اہلیانِ ہوت آباد نے صوبائی وزیر میر اصغر رند، وزیر تعلیم بلوچستان، سیکریٹری تعلیم لال جان جعفر اور دیگر متعلقہ حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ علاقے کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بوائز مڈل اسکول ہوت آباد کو فوری طور پر ہائی اسکول کا درجہ دیا جائے تاکہ تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

21/05/2026

*فیوچر میکرز کانفرنس: عزم و خدمت کا جشن*

فیوچر میکرز کانفرنس ہمیشہ ان لوگوں کا مंच رہی ہے جو خاموشی سے اپنے عمل سے معاشرے کی تقدیر بدل رہے ہوتے ہیں۔ اس بار بھی ملک بھر سے چُنے گئے پچاس افراد کو ان کی غیر معمولی کارکردگی پر ایوارڈز سے نوازا گیا۔ یہ صرف ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ اس سوچ کا اعلان تھی کہ ملک اُن لوگوں سے بنتا ہے جو اپنی ذات سے آگے سوچتے ہیں۔

اس باوقار تقریب میں ایک نام جس نے سب کی توجہ کھینچی وہ تھا *اعجاز احمد*۔

اعجاز احمد کو *بہترین سماجی خدمات* کے اعتراف میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ ان کی برسوں کی اُس محنت کا ثمر ہے جو انہوں نے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ ان کی خدمات صرف اعداد و شمار میں نہیں، اُن مسکراہٹوں میں دکھائی دیتی ہیں جو کبھی امید کھو بیٹھے تھے۔

*کیچ، بلوچستان* کی نمائندگی کرتے ہوئے اعجاز احمد نے یہ ثابت کیا کہ خدمت کا کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا۔ جہاں وسائل کم ہوں، وہیں حوصلہ زیادہ بولتا ہے۔ انہوں نے تعلیم، صحت اور فلاحی کاموں میں وہ خلاء پر کیا جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کا طریقہ کار سادہ تھا: مسئلے کا انتظار کرنے کے بجائے خود میدان میں اُتر جانا۔

یہ ایوارڈ محض ایک تختی نہیں، بلکہ اُس پیغام کی تصدیق ہے کہ بلوچستان جیسے علاقوں کے نوجوان جب عزم کر لیں تو وہ پورے ملک کے لیے مشعلِ راہ بن سکتے ہیں۔ اعجاز احمد کی کامیابی ہر اُس شخص کے لیے حوصلہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ تبدیلی کہیں اور سے آئے گی۔

فیوچر میکرز کانفرنس نے یہ یاد دلایا کہ قومیں انفراسٹرکچر سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔ اور اعجاز احمد جیسے لوگ ہی وہ کردار ہیں جو خاموشی سے، مگر مضبوطی سے، کل کا پاکستان تراش رہے ہیں۔

"سانحہ مستونگ"یونیورسٹی آف گوادرخدارا !!اب تو انہیں رہا کر دیںان کے اہلِ خانہ دل پر پتھر رکھ کر سانس لے رہے ہیں،ہر دستک ...
20/05/2026

"سانحہ مستونگ"
یونیورسٹی آف گوادر

خدارا !!
اب تو انہیں رہا کر دیں

ان کے اہلِ خانہ دل پر پتھر رکھ کر سانس لے رہے ہیں،
ہر دستک دل پر ہتھوڑا بن کر گرتی ہے،
ہر فون کال امید کو چکنا چور کر دیتی ہے،

ہر روز مرتے ہیں،
ہر رات سسکیوں میں کٹتی ہے،

غم نے چولہے بجھا دیے،
گھروں کو ویران کر دیا،

خدارا !!
اب تو انہیں رہا کر دیں،

بچے دروازے پر نظریں جمائے اپنی "دنیا" کا انتظار کر رہے ہیں،

عید سر پر ہے
وہ اپنے والدین کے ساتھ عید منانا چاہتے ہیں،
ان کی گود میں سر رکھ کر خوشی کے آنسو بہانا چاہتے ہیں،

ہمیں اپنے پیاروں کا شدت سے انتظار ہے،

خدارا !!
اب تو انہیں رہا کر دیں،

کیونکہ ایک گھر ادھورا ہے،
ایک قوم ادھوری ہے،

جب تک ہمارے پیارے واپس نہ آئیں

جب تک وہ لوٹ نہ آئیں،
ہماری عید بھی ادھوری رہے گی،

سر عبدالرزاق صابر
سر منظور احمد بلوچ
سر ارشاد جان بلیدی
حاتم بلوچ

قوم کے اثاثے ہیں
قوم کے ہیرو ہیں
ہمارے معمار ہیں
ہماری امید ہیں،،،

20/05/2026

یونیورسٹی آف گوادر کے اساتذہ کا اغوا: اہلیانِ گوادر کا شدید تشویش کا اظہار، 22 مئی کو احتجاجی ریلی کا اعلان
​گوادر ۔۔۔ یونیورسٹی آف گوادر کے اساتذہ کے اغوا اور ان کی عدم بازیابی کے خلاف گوادر کے شہریوں اور مختلف مکاتب فکر کی جانب سے شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر، ایک اہم اجلاس زیرِ اہتمام آر سی ڈی کونسل گوادر منعقد ہوا، جس میں اساتذہ کی فوری و بحفاظت بازیابی کے لیے متفقہ طور پر احتجاجی حکمت عملی طے کی گئی۔
​اجلاس میں حکومت بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ مغوی اساتذہ کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے اور اساتذہ کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
​📢 احتجاجی ریلی کا شیڈول اور روٹ
​اساتذہ کی بحفاظت اور فوری بازیابی کے لیے اہلیانِ گوادر کی جانب سے ایک پرامن احتجاجی واک کا شیڈول درج ذیل طے پایا ہے:
​تاریخ: 22 مئی (بروز جمعہ)
​وقت: شام 6:00 بجے
ریلی کا ​آغاز سیرت النبی چوک، جاوید کمپلیکس
​ سے شروع ہو کر عبدالمجید گوادری روڈ سے سید ظہور شاہ ہاشمی یادگار (سید یادگار) پر اختتام ہوگا
​🤝 شرکت کی اپیل
​اجلاس کے شرکاء اور اہلیانِ گوادر کی جانب سے تمام مکاتب فکر، سول سوسائٹی کے ارکان، تاجر برادری، وکلاء اور طلبہ سے پرزور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اساتذہ کی بحفاظت بازیابی کے لیے نکالے جانے والے اس احتجاجی واک میں بھرپور اور فعال شرکت فرما کر یکجہتی کا ثبوت دیں۔ یہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے امن اور علم کا معاملہ ہے۔

براہوی زبان کے نامور شاعر، پروفیسر اور دانشور غمخوار حیات کی شہادت پر دلی رنج و افسوس ہے۔یہ سانحہ بلوچستان کے ادبی، فکری...
20/05/2026

براہوی زبان کے نامور شاعر، پروفیسر اور دانشور غمخوار حیات کی شہادت پر دلی رنج و افسوس ہے۔

یہ سانحہ بلوچستان کے ادبی، فکری اور علمی وجود پر ایک گہرا زخم ہے۔ ایسے اہلِ قلم جو قوم کے دکھ، احساس اور شعور کو لفظ عطا کرتے ہیں، اُن کی جدائی صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پورے سماج کا سوگ ہوتی ہے۔

غمخوار حیات کے لفظ، فکر اور شعور ہمیشہ زندہ رہیں گے اور نوجوان نسل کیلئے روشنی کا استعارہ بنے رہیں گے۔

20/05/2026

سلام علیکم ( 20/5/2026 )
آج میرا بٹوا تربت بس ٹرمینل سے لے کر نادرہ کے راستے کہی گر گیا ہے ۔ جس میں میرا ( NIC ) اور کچھ نقدی رقم ہے ۔ جس کسی بھائی کو بھی ملے ۔
مھربانی کر کے اس نمبر پر رابطہ کرے ۔
0316 2416652
مھراب خان ولد عبدالرشید پیدراک

Address

Turbat

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice Of Kech posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share