15/10/2025
مکران کے تینوں بارڈر بند، جیونی میں پولیس و لیویز کی مبینہ زیادتیاں، عوام فاقوں پر مجبور
مکران: مکران کے تینوں بین الاقوامی بارڈرز کی بندش نے علاقے کے عوام کو شدید معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ بارڈر ٹریڈ اور مزدوری سے وابستہ ہزاروں افراد روزگار سے محروم ہو کر فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ ایسے میں جیونی کے شہریوں پر ایک نیا عذاب نازل ہوگیا ہے جہاں مقامی پولیس اور لیویز اہلکاروں پر شہریوں کے ساتھ مبینہ ظلم و زیادتی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جیونی تھانے کے ایس ایچ او خالد سندھی نے اپنے ساتھ چند پرائیوٹ اور غیر مقامی افراد کو پولیس کے نام پر تعینات کیا ہوا ہے، جو علاقے میں بھتہ خوری، چوری اور ڈکیتی جیسی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پرائیوٹ اہلکار عام شہریوں سے زبردستی پیسے وصول کر رہے ہیں، جبکہ کسی قسم کی مزاحمت پر ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔
علاقائی سماجی رہنماؤں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ خالد سندھی وہی پولیس افسر ہیں جنہیں سابق ڈی پی او گوادر نے منشیات کے الزام میں گرفتار کر کے سروس سے معطل کیا تھا، تاہم حیران کن طور پر موجودہ ڈی پی او گوادر نے نہ صرف انہیں بحال کیا بلکہ ان پر مہربانیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ڈی پی او گوادر کی جانب سے اس سنگین صورتحال پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے، جس سے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی لوگ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں اور اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں نے آئی جی پولیس بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر جیونی میں بڑھتے ہوئے جرائم اور پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف مؤثر اقدامات کریں، تاکہ علاقے میں امن و امان کی بحالی ممکن ہو اور غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔