Johar Tv

Johar Tv news and current affair

*دل پہ ہاتھ رکھا ہے* اک چراغِ علم و دانش بجھ گیا: ماسٹر ہمیش گل ہمیش کی یاد میں، ​ ڈاکٹر محمد علی جوہرؔ ​پختونخوا کی مٹی...
04/06/2026

*دل پہ ہاتھ رکھا ہے*

اک چراغِ علم و دانش بجھ گیا: ماسٹر ہمیش گل ہمیش کی یاد میں،

​ ڈاکٹر محمد علی جوہرؔ

​پختونخوا کی مٹی ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے، یہاں ایسے ایسے نابغہ روزگار اور درویش صفت انسانوں نے جنم لیا ہے جن کی پوری زندگی علم و ادب کی ترویج اور انسانیت کی خدمت میں گزری۔ انہی درخشندہ ستاروں میں ایک نمایاں نام ماسٹر ہمیش گل ہمیش کا ہے، جنہیں تاریخ ایک کثیر الجہت شخصیت—شاعر، ادیب، ریاضی دان، ماہرِ فلکیات و موسميات، اور مورخ—کے طور پر یاد رکھے گی۔ وہ ایک ایسے سچے علم دوست انسان تھے جنہوں نے نام و نمود سے بے نیاز ہو کر پختونخوا کے علمی افق پر گہرے نقوش چھوڑے۔
​ماسٹر ہمیش گل ہمیش 15 جنوری 1947ء (بمطابق 22 سفر 1366 ہجری) بروز پیر، ضلع صوابی کے تاریخی گاؤں اسمٰعیلہ میں انزر گل کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی سے غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے 1964ء میں گورنمنٹ ہائی سکول گڑھی سے میٹرک کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا۔ بعد ازاں، بارہویں جماعت (انٹرمیڈیٹ) کا امتحان پرائیویٹ طور پر پاس کرنے اور مدرسے کی روایتی تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد، انہوں نے تدریس کے شعبے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ 1968ء میں وہ گورنمنٹ مڈل سکول آدینہ میں بحیثیت استاد بھرتی ہوئے اور علم کی شمع فروزاں کرتے ہوئے بالآخر کال 2007ء میں گورنمنٹ پرائمری سکول باغیچہ ڈھیری سے بطور ہیڈ ماسٹر ریٹائر ہوئے۔
​ہمیش گل ہمیش کا ادبی سفر نہایت کم عمری میں شروع ہوا، جب محض نو سال کی عمر میں ان کی شاعرانہ صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں۔ ان کی زندگی میں پشتو نظم کے بارہ (12) مجموعے شائع ہو کر منظرِ عام پر آئے، جو ان کے گہرے فکری شعور اور وطن دوستی کے عکاس ہیں۔ ان کتب میں شامل ہیں:
​ړومبے قدم (پہلا قدم)
​د غم جاله (غم کا گھونسلہ)
​ګل نایاب (گلِ نایاب)
​د سحر بانګ (بانگِ سحر)
​ګل بېدیاء (گلِ بیاباں)
​د عشق جهان (عشق کا جہاں)
​کلام همېش
​د وطن مینه (وطن کی محبت)
​د مصرعو غنچه (مصرعوں کا غنچہ)
​قیصه د غل ځوې (چور کے بیٹے کا قصہ)
​د سپرلی زېرۍ (نویدِ بہار)
​قیصه د سجاد خان آف ګل آباد،

​نظم کے ساتھ ساتھ انہیں نثری ادب پر بھی مکمل دسترس حاصل تھی۔ ان کا پشتو افسانوں کا مجموعہ "پولۍ لاسونه" (چھالوں بھرے ہاتھ) ان کے سماجی شعور اور معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف ان کی حساسیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ، ان کا تحریر کردہ سلسلہ وار ڈرامہ "انسان اور شیطان" اپنی افادیت کے باعث 1980ء میں پشاور ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے اسکولوں اور کالجوں کی لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
​پشتو زبان و ادب میں انہوں نے بعض اچھوتے موضوعات پر بھی کام کیا۔ پشتو چٹکلوں، لطائف اور محفلوں کی گفتگو پر مبنی ان کی منفرد کتاب "د مازغو جنګ او د حجرې ګپ" (دماغی جنگ اور حجرے کی گپ شپ) اپنے وقت میں بے حد مقبول ہوئی، جسے رحمان گل پبلشرز پشاور نے دس سے زائد مرتبہ چھاپا۔
​وہیں، انہوں نے مرحوم شفیق زلمی کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ کتاب "امیل" (ہار) ترتیب دی، جس میں 'یوسفزئی پشتو ادبی جرگہ' کے ارکان سمیت خیبر پختونخوا کے مایہ ناز ادیبوں کا تعارف اور کلام شامل تھا۔ اس اہم کتاب کو نامور مورخ خان روشن خان بابا نے شائع کیا تھا۔ ہمیش گل ہمیش کے خان روشن خان بابا کے ساتھ گہرے علمی و تحقیقی مراسم تھے؛ انہوں نے روشن خان بابا کی معروف کتاب "تواریخ حافظ رحمت خانی" پر ایک گراں قدر تحقیقی مقالہ بھی لکھا جو انہی کے تعاون سے شائع ہوا۔ پشتو کے علاوہ اردو زبان پر بھی ان کو عبور حاصل تھا، جس کا ثبوت مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والے ان کے متعدد کالم، تحقیقی مضامین اور اردو شاعری ہے۔ انہوں نے اردو میں ایک ناول "میرے من کی منگنی" بھی تحریر کیا جو شائع ہو چکا ہے۔

​ماسٹر ہمیش گل ایک ہمہ جہت فنکار بھی تھے۔ جوانی کے دنوں میں وہ کئی اسٹیج ڈراموں میں بحیثیت اداکار، صداکار اور ہدایت کار سرگرم رہے، اور اسی شوق کے باعث 1970ء میں "شاہین ڈرامیٹک کلب" کے صدر منتخب ہوئے (جبکہ راحت زمان خان نائب صدر اور فضل قدیم حاجی صاحب سیکرٹری تھے)۔ وہ موسیقی کے فن سے بھی شغف رکھتے تھے اور بینجو و بانسری (شپیلے) کمال مہارت سے بجایا کرتے تھے، جس کی وجہ سے دوست احباب میں الگ پہچان رکھتے تھے۔
​صحافتی میدان میں وہ روزنامہ "شہباز" کے نمائندے کے طور پر کام کرتے رہے۔ مزید برآں، ریڈیو پاکستان پشاور کے ساتھ ان کا رشتہ بہت گہرا رہا؛ انہوں نے ریڈیو کے لیے کئی ڈرامے لکھے، اور بحیثیت انٹرویور کام کرنے کے ساتھ ساتھ "مزدورکار" اور "ادبی گلدستہ" جیسے مقبول پروگراموں کی برسوں میزبانی بھی کی۔
​ادیبوں اور قلم کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے انہوں نے انتھک جدوجہد کی۔ وہ "یوسفزئی مرکزی پشتو ادبی جرگہ" کے بانی تھے اور طویل عرصے تک اس کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ "پښتانه ادبی لیکوال تنظیم" کے مرکزی سیکرٹری اور "مسلم ادبی لیکوال خیبر پختونخوا" کے جنرل سیکرٹری بھی رہے (جب مرحوم امیر شاد محبوب صدر اور نوشاد پردیسی نائب صدر تھے)۔
​ایک استاد ہونے کے ناطے وہ اساتذہ کے مسائل سے کبھی غافل نہ رہے۔ انہوں نے اساتذہ برادری کی فلاح اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، یہی وجہ ہے کہ وہ "آل ٹیچرز یونین ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا" کے منتخب صدر اور دیگر کلیدی عہدوں پر رہے۔ سماجی خدمات کے میدان میں وہ 1985ء میں لوکل عشر و زکوٰۃ کمیٹی اسمٰعیلہ (صوابی) کے چیئرمین منتخب ہوئے، اور CHW کے زیرِ اہتمام افغان مہاجرین کی امداد کے لیے قائم کردہ اسمٰعیلہ تنظیم کے سربراہ بھی رہے۔
​ماسٹر ہمیش گل ہمیش کی شخصیت کا ایک حیرت انگیز پہلو ان کی ریاضی، فلکیات اور علمِ موسميات میں مہارت تھا۔ جس طرح ماضی میں ماہرین نے مثلث کے رقبے کے لیے طویل اور پیچیدہ کلیے (فارمولے) وضع کیے تھے، ہمیش گل ہمیش صاحب نے اپنی خداداد ذہانت سے 'مساوی الاضلاع مثلث' (Equilateral Triangle) کا رقبہ نکالنے کا ایک انتہائی مختصر، آسان اور اچھوتا کلیہ تخلیق کیا۔ وہ علمِ فلکیات اور موسم پر گہری نظر رکھتے تھے؛ مختلف ریاضیاتی فارمولوں کی مدد سے وہ شمسی اور قمری کیلنڈر کی بالکل صحیح ترتیب و تدوین کر لیتے تھے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے علاقائی اثرات پر بھی گراں قدر تحقیق کی، اور زمینداری و زراعت کے جدید و روایتی طریقوں کے بھی ماہر تھے۔ تاریخ دانی میں ان کا مطالعہ وسیع تھا؛ انہوں نے پختون تاریخ کے حقائق کو کھوجنے کے لیے دور دراز کے سفر کیے اور روشن خان بابا کے ہمرکاب رہ کر تاریخ کے اوراق کو درست شکل میں مرتب کرنے کی کوشش کی۔
​زندگی کے آخری سولہ (16) برسوں میں وہ ایک مخصوص نفسیاتی عارضے کا شکار رہے، جس کی وجہ سے وہ سماجی، ادبی اور سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہونے پر مجبور ہوئے، تاہم نامساعد حالات کے باوجود ان کا تخلیقی اور تحقیقی کام کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کے بہت سے لکھاری ان کے فن کی گہرائی سے واقف نہ ہو سکے۔
​یہ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ رہا ہے کہ ہم اپنے جیتے جی اپنے ہیروز اور اہلٔ علم کی قدر نہیں کرتے۔ ماسٹر ہمیش گل ہمیش ایک ایسے انسان تھے جن کے پاس علم و فن کے کئی ایسے خزانے تھے جن سے ملک و قوم کا نام دنیا بھر میں روشن ہو سکتا تھا، مگر سرکاری سطح پر ان کی وہ قدر دانی نہ ہو سکی جس کے وہ حقدار تھے۔
​بالآخر، علم و ادب کا یہ چمکتا ہوا ستارہ 8 فروری 2020ء (بمطابق 14 جمادی الثانی 1441 ہجری / 27 ماگھ 2076 بکرمی) بروز ہفتہ، شام چھ بجے اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اگلے روز اتوار کو اسمٰعیلہ گاؤں میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد انہیں کڑہ مار پہاڑی کے دامن میں واقع ان کے آبائی قبرستان میں مٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
​ماسٹر ہمیش گل ہمیش آج ہم میں نہیں ہیں، لیکن ان کی تصانیف، ان کی علمی کتب، اور ان کی خدمات ادب اور علم کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین،

*دل پہ ہاتھ رکھا ہے* ​ڈاکٹر محمد علی جوہر ​انسانی بستیوں پر جب جنگ و جدل اور بارود کا دھواں چھا جائے، تو عمارتیں ہی نہیں...
03/06/2026

*دل پہ ہاتھ رکھا ہے*

​ڈاکٹر محمد علی جوہر

​انسانی بستیوں پر جب جنگ و جدل اور بارود کا دھواں چھا جائے، تو عمارتیں ہی نہیں گرتیں، تہذیبیں، اخلاقیات اور مستقبل کے خواب بھی ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ لبنان کی دھرتی اس وقت ایک ایسے ہی بدترین انسانی المیے سے گزر رہی ہے جہاں ہر گزرتا دن زندگی کی رمق کو ماند کر رہا ہے۔ مسلسل تشدد، بار بار کی نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے عام شہریوں سے جینے کا حق تک چھین لیا ہے۔ اس بھیانک صورتحال میں جب انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے چیئرمین رانا بشارت علی خان کا یہ تشویش ناک بیان سامنے آیا کہ لبنان میں 75 ہزار سے زائد خواتین اور بچیوں کے لیے تحفظ اور معاونتی خدمات کی بندش کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے، تو حقیقت میں روح کانپ اٹھی۔ اس خبر نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اور میں نے ایک بار پھر دل پہ ہاتھ رکھا ہے کہ آخر عالمی ضمیر کب تک اس تباہی پر تماشائی بنا رہے گا؟
​جنگیں جب بھی آتی ہیں، اپنے پیچھے صرف مادی نقصان نہیں چھوڑتیں، بلکہ معاشرے کے سب سے کمزور اور حساس طبقات کو سب سے پہلے نشانہ بناتی ہیں۔ لبنان میں اس وقت یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق خواتین اور بچیوں کو انتہائی ضروری اور بنیادی خدمات فراہم کرنے والے متعدد طبی اور حفاظتی مراکز یا تو ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں یا وسائل کی شدید کمی کے باعث بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ مسلسل بے گھری، کیمپوں کی کسمپرسی اور چھت چھن جانے کے خوف نے ان لاکھوں معصوم جانوں کو ایسے سنگین خطرات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جن کا تصور بھی انسانیت کو شرما دینے کے لیے کافی ہے۔ صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی اور تحفظ کے نظام کا تتر بتر ہونا اس انسانی بحران کو مزید ہولناک بنا رہا ہے۔
​رانا بشارت علی خان نے جس گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، وہ دراصل دنیا کے ہر اس ذی شعور انسان کی آواز ہے جو حقوقِ انسانی اور انسانی تکریم پر یقین رکھتا ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی یا سفارتی بیان نہیں ہے، بلکہ یہ اس تڑپ کا اظہار ہے جو ہجرت اور بمباری کے سائے میں سسکتی ہوئی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی بے بسی کو دیکھ کر کسی بھی حساس دل میں پیدا ہو سکتی ہے۔ جب طبی مراکز متاثر ہوں اور پناہ گاہیں بھی غیر محفوظ ہو جائیں، تو وہاں تحفظ کے دعوے محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جاتے ہیں۔ 75 ہزار سے زائد خواتین کی زندگیوں اور ان کے تحفظ کو لاحق یہ خطرہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری عالمی برادری کے ماتھے پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
​ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقوقِ نسواں اور انسانی حقوق کے علمبردار عالمی ادارے، اقوامِ متحدہ اور دنیا کی بڑی طاقتیں فوری طور پر مداخلت کرتیں، جنگ بندی کو یقینی بناتیں اور ان طبی و امدادی مراکز کو تحفظ فراہم کرتیں جو انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے آخری امید بنے ہوئے ہیں۔ مگر افسوس کہ عالمی سیاست کی ترجیحات میں انسانی جانوں کی قیمت شاید بہت کم ہو چکی ہے۔ طاقتور ممالک کے مفادات اور جنگی جنون کے سامنے معصوم بچیوں کی سسکیاں اور بے گھر خواتین کی بے بسی کوئی معنی نہیں رکھتی۔
​لبنان کا یہ بحران پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اگر اب بھی عالمی برادری نے اپنی مجرمانہ خاموشی نہ توڑی، اور انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ جیسی تنظیموں کی ان دردمندانہ اپیلوں پر کان نہ دھرے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک دنیا کے کسی بھی کونے میں خواتین اور بچے غیر محفوظ ہیں، تب تک دنیا کا کوئی بھی خطہ خود کو مہذب اور پرامن کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ لفظی ہمدردیوں اور محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں، امدادی راہداریاں کھولی جائیں اور ان طبی و حفاظتی خدمات کو بحال رکھا جائے جو ان 75 ہزار سے زائد خواتین کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہیں۔ خدا کے لیے اس انسانی بحران کو مزید سنگین ہونے سے بچایا جائے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

*دل پہ ہاتھ رکھا ہے* علم و تحقیق کی کہکشاں: ایک یادگار پروگرام اور ماضی کے دریچے، ​ڈاکٹر محمد علی جوہرؔ​علم و ادب کے سنگ...
03/06/2026

*دل پہ ہاتھ رکھا ہے*

علم و تحقیق کی کہکشاں:
ایک یادگار پروگرام اور ماضی کے دریچے،

​ڈاکٹر محمد علی جوہرؔ

​علم و ادب کے سنگم پر جب کوئی نیا پودا تناور درخت بننے کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، تو دل کو ایک عجیب سی طمأنیت اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔ گزشتہ روز جامعہ پشاور کا شعبہ پشتو (پښتو څانګه) ایک ایسی ہی علمی و تحقیقی کہکشاں کا مرکز بنا، جہاں ایک ہونہار سکالر کی برسوں کی محنت کو سندِ قبولیت عطا کی گئی۔
​شعبہ پشتو کے چیئرمین ڈاکٹر نور محمد دانش بیٹنی صاحب کی صدارت میں منعقد ہونے والا یہ تقریبِ دفاع محض ایک رسمی امتحان نہیں تھا، بلکہ پشتو زبان و ثقافت کے ایک اہم پہلو پر سنجیدہ گفتگو کا فورم تھا۔
​سائل کی شاعری، لوک رنگ اور تحقیق کا سفر
​اس دفاعی پروگرام کے مرکز و محور سکالر حامد خان تھے، جنہوں نے پشتو کے مایہ ناز اور عوامی شاعر رحمت شاہ سائل کی شاعری کو اپنا موضوعِ تحقیق بنایا۔
ان کی ایم فل (M.Phil) کا مقالہ "د رحمت شاه سائل په شاعرۍ کښې فولکلور" (رحمت شاہ سائل کی شاعری میں لوک رنگ/فولکلور) کے عنوان سے تھا۔
سائل صاحب کی شاعری اپنی مٹی، اس کی خوشبو، جذبوں اور روایات کی امین ہے۔ ایسے میں ان کی شاعری سے لوک ورثے اور فولکلور کے موتی چننا ایک کٹھن کام تھا، جسے حامد خان نے بخوبی نبھایا۔
​اس علمی سفر میں ان کی رہنمائی اور نگرانی شعبہ پشتو کی نامور استاد ڈاکٹر نگینہ خانم نگین نے کی، جن کی علمی سرپرستی نے مقالے کو چار چاند لگا دیے۔ بیرونی ممتحن (External Examiner) کے فرائض مقتدر ادیب اور محقق ڈاکٹر حنیف خلیل نے سرانجام دیے۔ ہال میں علم و ادب کا ایک پورا گلدستہ موجود تھا، جن میں ڈاکٹر شکیل احمد، ایم فل سکالر عدنان ثمین خان اور دیگر کثیر تعداد میں ریسرچ سکالرز اور طلبہ شامل تھے، جنہوں نے اپنی موجودگی سے اس تقریب کو مزید پروقار بنایا۔
​اس تقریب کی خبر نے مجھے ماضی کے ان خوبصورت دنوں میں دھکیل دیا جب میں ریڈیو پاکستان پشاور سے وابستہ تھا۔ وقت کتنی تیزی سے پرواز کر جاتا ہے! یہ غالباً 2012 یا 2013 کی بات ہے، جب ایک دن مائیکروفون کے سامنے میری مہمان یہی ڈاکٹر نگینہ خانم نگین صاحبہ تھیں۔ اس نشست میں انہوں نے اپنی دو انتہائی خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی نظمیں ریکارڈ کروائی تھیں—ایک کا عنوان "ماں" تھا اور دوسری ان کے اپنے خوبصورت گاؤں "تھانہ کلے" کے بارے میں تھی۔ ان کی آواز کا وہ سوز اور کلام کا وہ جادو آج بھی میرے ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ ہے۔
​اتفاق دیکھیے کہ اسی دن میں نے محترم جاوید خلیل صاحب کا انٹرویو بھی ریکارڈ کیا تھا۔ ریڈیو کے وہ دن علم، ادب اور شخصیات کو جاننے کا بہترین ذریعہ تھے۔
​زندگی کے شب و روز بدلتے رہے اور پیشہ ورانہ فرائض کے سلسلے میں، میں ایک طویل عرصے تک پشاور سے باہر رہا۔ اب میرا پڑاؤ صوابی میں ہے، لیکن علم و ادب کی یہ چنگاری مدہم نہیں ہوئی۔ اب بھی مختلف جامعات اور ادبی اکیڈمیوں میں آنا جانا لگا رہتا ہے، پرانے اور نئے اصحابِ علم سے ملاقاتیں رہتی ہیں۔ اکثر سرِ راہ محترمہ بہن بشرہ صاحبہ سے بھی علمی و ادبی گفتگو ہو جاتی ہے، جو دل کو تروتازہ کر دیتی ہے۔
​جب بھی پشتو ادب کے میدان میں کوئی نیا سکالر قدم رکھتا ہے، کوئی نئی تحقیق سامنے آتی ہے، تو دل سے دعا نکلتی ہے۔
حامد خان کی کامیابی پشتو فولکلور کی ترویج میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ میری طرف سے حامد خان، ان کی نگرانِ مقالہ ڈاکٹر نگینہ خانم، چیئرمین شعبہ پشتو اور تمام رفقاء کو اس کامیاب دفاع پر بہت بہت مبارک باد!
​امید ہے کہ تحقیق کا یہ سفر اسی آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گا۔

🚨 صوابی والو! لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے عوام کے لیے بڑی خبر! 🚨​لوڈشیڈنگ کا جن بوتل میں بند ہوگا یا نہیں؟ صوابی انتظامیہ اور...
03/06/2026

🚨 صوابی والو! لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے عوام کے لیے بڑی خبر! 🚨
​لوڈشیڈنگ کا جن بوتل میں بند ہوگا یا نہیں؟ صوابی انتظامیہ اور پیسکو آمنے سامنے! 🔌💡
​صوابی (رپورٹ): گرمی کے ستائے صوابی کے شہریوں کے لیے انتظامیہ کے ایوانوں سے ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر صوابی کی صدارت میں ایک ہائی وولٹیج اجلاس ہوا، جس میں پیسکو حکام، پولیس کے تگڑے افسران اور عوامی آواز بنے "صوابی ایکشن کمیٹی" کے نمائندے سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔
​میٹنگ کا ایجنڈا؟ عید سے پہلے صوابی کے عوام کو اندھیروں سے نجات دلانے کا جو وعدہ کیا گیا تھا، اس کا حساب کتاب!
​اجلاس کے اہم اور "مزیدار" نکات: 👇
​پیسکو کا دعویٰ 🗣️: پیسکو بہادر نے ہمیشہ کی طرح دعویٰ کیا ہے کہ "صاحب! لوڈشیڈنگ میں پہلے سے کافی کمی کر دی ہے اور ہم مزید بہتری کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں!" (اب اس بات میں کتنی سچائی ہے، یہ تو صوابی کے پنکھے ہی بتا سکتے ہیں!) 😉
​عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف ✊: ایکشن کمیٹی نے عوام کے دل کی آواز حکام تک پہنچائی اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ زبانی جمع خرچ نہیں، ہمیں زمین پر ریلیف چاہیے۔
​اسسٹنٹ کمشنر کی انٹری 🏛️: اے سی صوابی نے دونوں فریقین کے درمیان "مصلح" کا کردار ادا کیا اور یقین دلایا کہ انشا اللہ بہت جلد لوڈشیڈنگ کا گراف نیچے لانے کے لیے ایسے 'مؤثر اقدامات' کیے جائیں گے کہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں گے۔
​خوشگوار کلائمکس! 🎉
​اچھی بات یہ رہی کہ اجلاس میں کوئی گرمی نہیں دیکھی گئی (شاید وہاں اے سی چل رہا تھا!)۔ میٹنگ بڑے ہی خوشگوار ماحول میں ختم ہوئی اور سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر صوابی کے مسائل حل کرنے کا عزم کیا۔
​اب دیکھنا یہ ہے کہ عید پر صوابی کے گھر روشن رہتے ہیں یا پیسکو روایتی "تکمیلِ کارروائی" پر ہی اکتفا کرتا ہے!
​👉 آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اس بار پیسکو اپنا وعدہ پورا کرے گا؟ کمنٹس میں اپنی قیمتی (اور بغیر بجلی والی) رائے کا اظہار ضرور کریں!

*دل پہ ہاتھ رکھا ہے* ​"میں کون ہوں؟" – پاپڑ بیلنے سے لے کر "مفت" مانگنے کے المیے تک!​ ڈاکٹر محمد علی جوہر​صوابی کی مٹی ہ...
03/06/2026

*دل پہ ہاتھ رکھا ہے*

​"میں کون ہوں؟"
– پاپڑ بیلنے سے لے کر "مفت" مانگنے کے المیے تک!

​ ڈاکٹر محمد علی جوہر

​صوابی کی مٹی ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے—ایسی زرخیز جس نے نہ صرف بہترین فصلیں اگائیں بلکہ علم و تحقیق کے ایسے پودے بھی پروان چڑھائے جن کی چھاؤں تلے آنے والی نسلیں اپنی شناخت کا راستہ تلاش کرتی ہیں۔ گزشتہ روز مجھے ایک ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیت، ممتاز محقق، مصنف اور زرعی ماہر گل رحمان یوسفزئی صاحب (آف کرنل شیر کلے، صوابی) کے ہاں ان کی رہائش گاہ پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی، بلکہ علم، تاریخ، زراعت اور یادوں کا ایک ایسا خوبصورت سفر تھا جو دیر تک دل و دماغ پر نقش رہے گا۔
​گھر پہنچتے ہی گل رحمان یوسفزئی صاحب اور ان کے اہل خانہ نے جس روایتی پختون گرمجوشی اور خلوص سے میرا استقبال کیا، اس نے سفر کی تمام تھکان منٹوں میں دور کر دی۔ کھانے پینے کے پرتعیش اور پرخلوص تکلفات کے بعد، محفل کی یادوں کو محفوظ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ڈی ایس ایل آر (DSLR) کیمرے کے ذریعے باقاعدہ ایک فوٹو سیشن ہوا، جس میں سب سے خوبصورت اور دلنشین لمحہ وہ تھا جب گل رحمان صاحب کے پیارے نواسے اور نواسیاں اپنے "بابے" کے گرد جمع ہو گئے اور ہم نے ان معصوم مسکراہٹوں کو کیمرے کی آنکھ میں قید کیا۔ اس کے بعد، ماحول پرسکون ہوا تو ہمارے درمیان "آف دی ریکارڈ" بہت سارے علمی، ادبی اور سماجی موضوعات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
​گل رحمان یوسفزئی صاحب کی شخصیت کا ایک نہایت معتبر حوالہ ان کا محکمہ زراعت کے تحقیقی شعبے (Research Wing) سے گریڈ 18 کے افسر کی حیثیت سے ریٹائر ہونا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی 39 سال شوگر کراپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SCRI) مردان میں گزارے۔ جوہر میڈیا ہاؤس کے زرعی انٹرویو میں جب انہوں نے اس طویل تجربے کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے گنے (گنون) کی مختلف اقسام، ان کی پیداواری صلاحیت اور صوابی ومردان کی زمین کے لیے موزوں ورائٹیز پر گفتگو کی، تو مائیک کے اس پار بیٹھے میرے دل کے تار بھی بج اٹھے۔
​ان کی زبانی گنے کی ریسرچ کا تذکرہ سن کر میری اپنی یادوں کا دفتر کھل گیا اور میں ماضی کے اس خوبصورت دور میں پہنچ گیا جہاں میں نے 1987ء سے لے کر 2014ء تک ریڈیو پاکستان پشاور کے مائیک پر اپنی زندگی کا ایک طویل اور سنہرا وقت گزارا تھا۔ براڈکاسٹنگ کے اس سفر میں میرا سب سے زیادہ وقت کاشتکاروں اور زمینداروں کے لیے ریڈیو پاکستان پشاور کا مقبولِ عام پشتو پروگرام "کر کیلہ" (کاشتکاری) پیش کرتے ہوئے گزرا تھا۔ یہی نہیں، بلکہ جب نیشنل براڈکاسٹنگ ہاؤس، ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے کاشتکاروں کے لیے مرکزی اردو پروگرام "سرسبز پاکستان" کی میزبانی کے فرائض میرے سپرد ہوئے، تو زراعت اور کسانوں کے مسائل کو میں نے بہت قریب سے دیکھا۔ مائیک پر گزارے وہ سال اور کاشتکاروں کی محبتیں میری زندگی کا کل اثاثہ ہیں۔
​جب ہم زراعت سے ہٹ کر گل رحمان یوسفزئی صاحب کے ادبی و تحقیقی سفر کی طرف مڑے اور ان کی شاہکار تصنیف,

"میں کون ہوں؟"

پر بات شروع کی، تو انہوں نے دل کھول کر رکھ دیا۔ 500 صفحات پر محیط قبیلہ یوسفزئی اور پشتونوں کی تاریخ پر مبنی اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن (2025ء) کی تیاری کے لیے انہوں نے جو پاپڑ بیلے، وہ سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ شجروں کی تصدیق کے لیے گاؤں گاؤں جانا، کٹھن راستوں پر سفر کرنا، بوڑھے بزرگوں سے معلومات اکٹھی کرنا اور پھر ان کو تاریخی پس منظر کے ساتھ جوڑنا, اس حوالے سے سینکڑوں کتب کا مطالعہ، یہ کوئی عام کام نہیں تھا۔ اس کٹھن سفر میں سید شاہ ریاض نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا جس کا تذکرہ کتاب کے صفحات میں موجود ہے،
​گل رحمان صاحب نے انٹرویو کے دوران ایک ایسا سچ بولا جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کتاب کی طباعت، کاغذ اور سالہا سال کی تحقیق پر ان کا 6 لاکھ روپے کا ذاتی خرچ آیا ہے۔ کتاب کی اصل قیمت 1500 روپے مقرر کی گئی ہے۔ لیکن ہمارا سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟
مصنف نے افسوس کے ساتھ بتایا کہ اتنی بھاری لاگت اور محنت کے باوجود قارئین اور دوست احباب فرمائش کرتے ہیں کہ "ہمیں کتاب مفت مل جائے!"

​کتاب مفت مانگنے کے اس رویے نے مجھے دوبارہ ماضی کے جھروکوں میں دھکیل دیا۔ مجھے اپنا وہ دور یاد آ گیا جب 1984ء میں میرا پہلا اردو افسانوی مجموعہ "المیے" چھپ کر آیا تھا۔ اس وقت بھی ہمارے معاشرے کا یہی فکری رویہ تھا اور آج 2026ء میں بھی المیہ وہی ہے!
لکھاری اپنا خونِ جگر جلا کر، لاکھوں روپے لگا کر کتاب چھپواتا ہے اور لوگ ایک پیزا یا ہوٹل کے ایک وقت کے کھانے جتنی رقم بھی کتاب پر خرچ کرنا گوارا نہیں کرتے۔ یہ واقعی ایک قومی المیہ ہے۔

​ان تمام تر تلخیوں کے باوجود، گل رحمان یوسفزئی صاحب کی علم پروری کی داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے بڑے خلوص کے ساتھ اپنی کتاب کا ایک نسخہ مجھے گفٹ کیا، جس پر انہوں نے اپنے دستخط کے ساتھ لکھا:

"محترم محمد علی جوہر کیلیے خلوص کیساتھ — گل رحمان یوسفزئی 1/6/26"

​یہ کتاب، جس کا پہلا ایڈیشن 2014ء میں آیا تھا، سورہ الحجرات کی اس آیت کے گرد گھومتی ہے کہ قومیں اور قبیلے صرف شناخت کے لیے بنائے گئے ہیں،
کتاب میں نوابانِ جونا گڑھ، بابی خاندان، خانی خیل اور محمود زئی کے شجرے مکمل تفصیل کےدرج ھے،
لیاقت الہیٰ پرنٹنگ پریس شیوا اڈہ صوابی سے چھپنے والی اس کتاب کے اندر سابق وزیرِ اعظم شوکت عزیز کی طرف سے مصنف کو گولڈ میڈل دینے کی تصویر اس بات کی گواہ ہے کہ یہ شخصیت صوابی کا فخر ہے ھے،

​جوہر میڈیا ہاؤس کے مائیک پر ریکارڈ ہونے والے یہ دونوں انٹرویو
ایک زراعت پر
اور دوسرا
"میں کون ہوں؟"
جلد ہی ناظرین کے سامنے ہوں گے۔ ریڈیو پاکستان پشاور کے "کر کیلہ" اور اسلام آباد کے "سرسبز پاکستان" سے شروع ہونے والا میرا زرعی اور ابلاغی سفر آج گل رحمان صاحب کے انٹرویو کی شکل میں ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے۔ میں اپنے قارئین اور ناظرین سے التجا کروں گا کہ خدارا! لکھاریوں کی محنت کا احترام کریں، کتابیں خرید کر پڑھیں تاکہ علم کا یہ سفر رکنے نہ پائے۔ گل رحمان یوسفزئی جیسے مخلص محققین صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، ان کی قدر کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ اللہ پاک ان کے قلم اور عمر میں برکت دے۔ آمین۔

*دل پہ ہاتھ رکھا ہے* ​ڈاکٹر محمد علی جوہر *3* *جون ایک یادگار دن* جب ہم ​تاریخ کے جھروکوں سے  گزرتے ہیں، تو کچھ تواریخ م...
03/06/2026

*دل پہ ہاتھ رکھا ہے*

​ڈاکٹر محمد علی جوہر

*3* *جون ایک یادگار دن*

جب ہم ​تاریخ کے جھروکوں سے گزرتے ہیں، تو کچھ تواریخ محض ہندسے نہیں ہوتیں، بلکہ وہ قوموں کے عروج و زوال، فیصلوں اور انسانی ارتقا کی پوری داستان اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہوتی ہیں۔ آج 3 جون ہے—یہ وہ دن ہے جس نے برصغیر کے کروڑوں انسانوں کی تقدیر کا فیصلہ کیا، جس نے عالمی سیاست کو نئے زاویے دیے اور جس نے انسانی ذہن کو نئی مہم جوئی کی راہ دکھائی۔ جب ہم ماضی کے ان اوراق پر دل پہ ہاتھ رکھ کر غور کرتے ہیں، تو سچائی اور سبق کے کئی در وا ہوتے ہیں۔
​قومی اور بین الاقوامی منظرنامے پر 3 جون کی تاریخی اہمیت کے چند اہم ترین گوشے درج ذیل ہیں:

*​1* *. تقسیمِ ہند کا اعلان:*

​برصغیر کی تاریخ میں 3 جون 1947 کا دن ایک عظیم اور تاریخی موڑ تھا۔ اسی دن برصغیر کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے وہ تاریخی منصوبہ پیش کیا جسے تاریخ "3 جون پلان" کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہندوستان کی تقسیم اور دو خود مختار ریاستوں—پاکستان اور بھارت—کے قیام کا حتمی اعلان کیا گیا۔
​قائدِ اعظم محمد علی جناح اور دیگر سیاسی قائدین نے اسی دن اس منصوبے کی توثیق کی، جس نے آل انڈیا مسلم لیگ کی طویل جدوجہد کو منزلِ مقصود سے ہمکنار کیا اور دنیا کے نقشے پر مملکتِ خداداد پاکستان کے ابھرنے کی راہ ہموار ہوئی۔

​2 *. بانیِ انقلابِ ایران آیت اللہ خمینی کا انتقال*

​عالمی افق پر 3 جون 1989 کی تاریخ ایک بڑے سیاسی اور مذہبی خلا کی شاہد ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی اسی دن اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے تھے۔ ان کی رحلت نے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور اسلامی دنیا کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے۔ ان کا جنازہ تاریخ کے چند بڑے جنازوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو ان کی عوامی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

​3. *خلائی تسخیر میں نیا*
*سنگِ میل (1965)*

​انسان کی علم دوستی اور مہم جوئی کی تاریخ میں بھی 3 جون کو خاص مقام حاصل ہے۔ 1965 میں آج ہی کے دن ناسا کے جیمنی 4 مشن کے دوران امریکی خلا باز ایڈورڈ وائٹ (Edward White) نے خلا میں چہل قدمی (Spacewalk) کر کے تاریخ رقم کی تھی۔ وہ خلا کی وسعتوں میں تیرنے والے پہلے امریکی بنے، جس نے انسان کے لیے کائنات کے نئے رازوں کو سمجھنے کی بنیاد رکھی۔

​4. *بین الاقوامی یومِ سائیکل (World Bicycle Day)*

​جدید دور کی مادی اور مشینی لائف اسٹائل کے درمیان اقوامِ متحدہ نے 2018 میں 3 جون کو "سائیکل کا عالمی دن" قرار دیا۔ اس دن کا مقصد دنیا کو یہ یاد دلانا ہے کہ سادگی، ماحول دوستی اور صحت عامہ کی بقا اسی سواری میں ہے جو ہمیں قدرت کے قریب رکھتی ہے اور فضائی آلودگی سے نجات دلاتی ہے۔

​5 *. مکہ مکرمہ میں کلاک ٹاور کا آغاز (2011)*

​عالمِ اسلام کے مرکز، مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے قریب واقع دنیا کے سب سے بڑے کلاک ٹاور (ابراج البیت) کی گھڑی نے 3 جون 2011 کو باقاعدہ طور پر ٹک ٹک کرتے ہوئے کام کا آغاز کیا تھا۔ یہ وقت کی اہمیت اور جدید اسلامی فنِ تعمیر کا ایک شاندار شاہکار ہے۔

3 جون کا یہ کینوس ہمیں بتاتا ہے کہ وقت کبھی تھمتا نہیں، لیکن جو قومیں اور شخصیات وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر فیصلے کرتی ہیں، تاریخ انہیں ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ تقسیمِ ہند کے فیصلوں سے لے کر خلائی تسخیر تک، ہر واقعہ ضمیر کی آواز اور انسانی جدوجہد کی ایک نئی کہانی سناتا ہے۔ کاش کہ ہم تاریخ کے ان اوراق سے سبق سیکھ کر اپنے حال اور مستقبل کو سنوار سکیں۔

: طاہر علی طاہر کو ادبی خدمات پر ’اجمل منصور ادبی و ثقافتی ایوارڈ‘ سے نواز دیا گیا​صوابۍ ( جوھر میڈیا ھاؤس ) پشتو ادب او...
02/06/2026

: طاہر علی طاہر کو ادبی خدمات پر ’اجمل منصور ادبی و ثقافتی ایوارڈ‘ سے نواز دیا گیا

​صوابۍ ( جوھر میڈیا ھاؤس )

پشتو ادب اور کلتور کے فروغ کے لیے کوشاں معروف ادبی تنظیم ’اجمل منصور ادبی او کلتوری غورځنګ صوابۍ‘ کی جانب سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممتاز ادبی شخصیت اور شاعر طاہر علی طاہر کو ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
​یہ خوبصورت ایوارڈ ممتاز ادیب اور دانشور خالد حسرت نے اپنے ہاتھوں سے طاہر علی طاہر کو پیش کیا۔
​ اہل علم و دانش اور شرکاء نے طاہر علی طاہر کو اس مایہ ناز اعزاز پر دلی مبارکباد پیش کی اور ان کے ادبی سفر کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
​مقررین کا کہنا تھا کہ اجمل منصور ادبی و کلتوری غورځنګ صوابۍ کی جانب سے اہل قلم کی یوں پزیرائی کرنا اور ان کی محنت کو تسلیم کرنا نہایت خوش آئند ہے، جس سے خطے میں پشتو اور اردو ادب سے جڑے تخلیق کاروں کا حوصلہ مزید بلند ہوگا۔

02/06/2026

*دل پہ ہاتھ رکھا ہے،*

ڈاکٹر ​محمد علی جوھر

​لاہور کی "انمول پنکی" اور ہماری "انمول" ٹی وی انڈسٹری!
​لیجیے صاحب! ابھی لاہور پولیس انمول عرف پنکی کے قبضے سے برآمد ہونے والے مبینہ پاؤڈر کا وزن ہی کر رہی تھی، اور عدالتِ عالیہ میں یہ فیصلہ ہونا باقی تھا کہ محترمہ واقعی "ڈرگ ڈیلر" ہیں یا محض ایک معصوم خواب فروش، کہ ہمارے پھرتیلے پروڈکشن ہاؤسز نے اس کہانی پر "کیمرہ، ایکشن اور کٹ" کی تیاریاں شروع کر دیں۔ سنا ہے چائے کی پیالی پر ڈیل بھی ہو گئی ہے اور تصویر بھی وائرل ہو چکی ہے۔
​ہماری ٹی وی انڈسٹری کا بھی کوئی جواب نہیں۔ یہاں اسکرپٹ رائٹرز کو کسی فکری، ادبی یا تاریخی شخصیت پر لکھنے کو کہو، تو انہیں "ریسرچ" کے نام پر بخار چڑھ جاتا ہے۔ بانو قدسیہ، فاطمہ جناح یا ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ جیسی عظیم خواتین کی زندگیوں پر ڈرامہ بنانا ہو، تو پروڈیوسرز کو "ریٹنگ" گرنے کا خوف ستانے لگتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: "بھائی! ان میں مسالا کہاں ہے؟ ان میں کوئی سنسنی ہے؟ کوئی پولیس کا چھاپہ؟ کوئی چمکتا دمکتا گلیمر؟"
​لیکن جیسے ہی مارکیٹ میں کوئی "انمول پنکی" آتی ہے، تو ہمارے تخلیق کاروں کے مرجھائے ہوئے دماغ یکدم ہریالی سے بھر جاتے ہیں۔ چشمِ تصور میں دیکھیے کہ سکرین پر جب صبا قمر صاحبہ ایک ہاتھ میں سگریٹ اور دوسرے ہاتھ میں مبینہ ممنوعہ اشیاء کا تھیلا تھامے، پسِ منظر میں سسپنس سے بھرپور میوزک کے ساتھ انٹری ماریں گی، تو ریٹنگ کے سارے ریکارڈ کیسے پاش پاش ہوتے ہیں۔ اور کمال کی بات دیکھیے، ڈرامے کے مصنف کے طور پر کس کا نام لیا جا رہا ہے؟ اینکر شاہزیب خانزادہ کا! اب پتا نہیں شاہزیب صاحب شو پر آ کر اس ڈرامے کا دفاع کریں گے یا اپنے روایتی انداز میں انمول پنکی سے پوچھیں گے: "پنکی صاحبہ! کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آپ نے لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا نیٹ ورک چلایا؟ جواب دیجیے!"
​"پہلے ڈاکو صرف فلموں میں آتے تھے، اب فلمیں اور ڈرامے صرف ڈاکوؤں پر بنتے ہیں!"
​سوشل میڈیا پر ایک لمبی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک طرف وہ ناقدین ہیں جو اخلاقیات کا رونا رو رہے ہیں کہ "جناب! ابھی مقدمہ عدالت میں ہے، آپ نے پہلے ہی اسے برانڈ بنا دیا!" دوسری طرف صبا قمر کے مداح ہیں جو نعرے لگا رہے ہیں کہ "صبا اس کردار میں آگ لگا دیں گی!"
​بات سچ ہے، صبا قمر تو اپنی جاندار اداکاری سے مٹی کو بھی سونا کر دیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو ہیرو بنا کر کسے دکھا رہے ہیں؟
ماضی میں پھولن دیوی پر فلم بنی، سلطانہ ڈاکو کے قصے مشہور ہوئے، اور اب ہماری اپنی "پنکی" کو سکرین کا "سلطانہ ڈاکو" بنانے کی تیاریاں ہیں۔ لگتا ہے وہ دن دور نہیں جب ٹی وی چینلز پر اشتہار چل رہا ہوگا:
"دیکھیے! ایک معصوم لڑکی کی پنکی سے انمول بننے کی سنسنی خیز داستان… ہر منگل کی رات 8 بجے، صرف اپنے پسندیدہ چینل پر!"
​معاشرے کا المیہ دیکھیے کہ شرافت، علم اور فکری خدمات گمنامی کے اندھیروں میں دفن ہو جاتی ہیں، اور جرم کی ایک چمکدار سرخی راتوں رات کسی کو سیلبریٹی بنا دیتی ہے۔ اگر یہی ٹرینڈ رہا، تو اگلے چند سالوں میں ہمارے بچے کتب خانوں کے بجائے تھانوں کے باہر کھڑے ہو کر اپنے فیورٹ "کرداروں" کا آٹو گراف مانگ رہے ہوں گے۔
​پروڈیوسر صاحبان سے گزارش ہے کہ ڈرامے کا نام جو بھی رکھیں، بس نیچے ایک چھوٹا سا ڈس کلیمر لازمی لگا دیں: "اس ڈرامے کے تمام کردار حقیقی ہیں، اور ان کا شرافت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں!"

02/06/2026

‎ملک یوسف کی کھری کھری باتیں،

کیمرہ مین، عاقب حسین،
ایڈیٹر، مروان علی شاہ،
پروڈیوسر ڈاکٹر محمد علی جوھر،
پیشکش جوھر میڈیا ھاؤس ،‎ Part 8

02/06/2026

‎ملک یوسف کی کھری کھری باتیں،

کیمرہ مین، عاقب حسین،
ایڈیٹر، مروان علی شاہ،
پروڈیوسر ڈاکٹر محمد علی جوھر،
پیشکش جوھر میڈیا ھاؤس ،‎ Part 7

Address

Ameer Khail Turlandi
Turlandi

Telephone

+923119735344

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Johar Tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category