04/06/2026
*دل پہ ہاتھ رکھا ہے*
اک چراغِ علم و دانش بجھ گیا: ماسٹر ہمیش گل ہمیش کی یاد میں،
ڈاکٹر محمد علی جوہرؔ
پختونخوا کی مٹی ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے، یہاں ایسے ایسے نابغہ روزگار اور درویش صفت انسانوں نے جنم لیا ہے جن کی پوری زندگی علم و ادب کی ترویج اور انسانیت کی خدمت میں گزری۔ انہی درخشندہ ستاروں میں ایک نمایاں نام ماسٹر ہمیش گل ہمیش کا ہے، جنہیں تاریخ ایک کثیر الجہت شخصیت—شاعر، ادیب، ریاضی دان، ماہرِ فلکیات و موسميات، اور مورخ—کے طور پر یاد رکھے گی۔ وہ ایک ایسے سچے علم دوست انسان تھے جنہوں نے نام و نمود سے بے نیاز ہو کر پختونخوا کے علمی افق پر گہرے نقوش چھوڑے۔
ماسٹر ہمیش گل ہمیش 15 جنوری 1947ء (بمطابق 22 سفر 1366 ہجری) بروز پیر، ضلع صوابی کے تاریخی گاؤں اسمٰعیلہ میں انزر گل کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی سے غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے 1964ء میں گورنمنٹ ہائی سکول گڑھی سے میٹرک کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا۔ بعد ازاں، بارہویں جماعت (انٹرمیڈیٹ) کا امتحان پرائیویٹ طور پر پاس کرنے اور مدرسے کی روایتی تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد، انہوں نے تدریس کے شعبے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ 1968ء میں وہ گورنمنٹ مڈل سکول آدینہ میں بحیثیت استاد بھرتی ہوئے اور علم کی شمع فروزاں کرتے ہوئے بالآخر کال 2007ء میں گورنمنٹ پرائمری سکول باغیچہ ڈھیری سے بطور ہیڈ ماسٹر ریٹائر ہوئے۔
ہمیش گل ہمیش کا ادبی سفر نہایت کم عمری میں شروع ہوا، جب محض نو سال کی عمر میں ان کی شاعرانہ صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں۔ ان کی زندگی میں پشتو نظم کے بارہ (12) مجموعے شائع ہو کر منظرِ عام پر آئے، جو ان کے گہرے فکری شعور اور وطن دوستی کے عکاس ہیں۔ ان کتب میں شامل ہیں:
ړومبے قدم (پہلا قدم)
د غم جاله (غم کا گھونسلہ)
ګل نایاب (گلِ نایاب)
د سحر بانګ (بانگِ سحر)
ګل بېدیاء (گلِ بیاباں)
د عشق جهان (عشق کا جہاں)
کلام همېش
د وطن مینه (وطن کی محبت)
د مصرعو غنچه (مصرعوں کا غنچہ)
قیصه د غل ځوې (چور کے بیٹے کا قصہ)
د سپرلی زېرۍ (نویدِ بہار)
قیصه د سجاد خان آف ګل آباد،
نظم کے ساتھ ساتھ انہیں نثری ادب پر بھی مکمل دسترس حاصل تھی۔ ان کا پشتو افسانوں کا مجموعہ "پولۍ لاسونه" (چھالوں بھرے ہاتھ) ان کے سماجی شعور اور معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف ان کی حساسیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ، ان کا تحریر کردہ سلسلہ وار ڈرامہ "انسان اور شیطان" اپنی افادیت کے باعث 1980ء میں پشاور ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے اسکولوں اور کالجوں کی لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
پشتو زبان و ادب میں انہوں نے بعض اچھوتے موضوعات پر بھی کام کیا۔ پشتو چٹکلوں، لطائف اور محفلوں کی گفتگو پر مبنی ان کی منفرد کتاب "د مازغو جنګ او د حجرې ګپ" (دماغی جنگ اور حجرے کی گپ شپ) اپنے وقت میں بے حد مقبول ہوئی، جسے رحمان گل پبلشرز پشاور نے دس سے زائد مرتبہ چھاپا۔
وہیں، انہوں نے مرحوم شفیق زلمی کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ کتاب "امیل" (ہار) ترتیب دی، جس میں 'یوسفزئی پشتو ادبی جرگہ' کے ارکان سمیت خیبر پختونخوا کے مایہ ناز ادیبوں کا تعارف اور کلام شامل تھا۔ اس اہم کتاب کو نامور مورخ خان روشن خان بابا نے شائع کیا تھا۔ ہمیش گل ہمیش کے خان روشن خان بابا کے ساتھ گہرے علمی و تحقیقی مراسم تھے؛ انہوں نے روشن خان بابا کی معروف کتاب "تواریخ حافظ رحمت خانی" پر ایک گراں قدر تحقیقی مقالہ بھی لکھا جو انہی کے تعاون سے شائع ہوا۔ پشتو کے علاوہ اردو زبان پر بھی ان کو عبور حاصل تھا، جس کا ثبوت مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والے ان کے متعدد کالم، تحقیقی مضامین اور اردو شاعری ہے۔ انہوں نے اردو میں ایک ناول "میرے من کی منگنی" بھی تحریر کیا جو شائع ہو چکا ہے۔
ماسٹر ہمیش گل ایک ہمہ جہت فنکار بھی تھے۔ جوانی کے دنوں میں وہ کئی اسٹیج ڈراموں میں بحیثیت اداکار، صداکار اور ہدایت کار سرگرم رہے، اور اسی شوق کے باعث 1970ء میں "شاہین ڈرامیٹک کلب" کے صدر منتخب ہوئے (جبکہ راحت زمان خان نائب صدر اور فضل قدیم حاجی صاحب سیکرٹری تھے)۔ وہ موسیقی کے فن سے بھی شغف رکھتے تھے اور بینجو و بانسری (شپیلے) کمال مہارت سے بجایا کرتے تھے، جس کی وجہ سے دوست احباب میں الگ پہچان رکھتے تھے۔
صحافتی میدان میں وہ روزنامہ "شہباز" کے نمائندے کے طور پر کام کرتے رہے۔ مزید برآں، ریڈیو پاکستان پشاور کے ساتھ ان کا رشتہ بہت گہرا رہا؛ انہوں نے ریڈیو کے لیے کئی ڈرامے لکھے، اور بحیثیت انٹرویور کام کرنے کے ساتھ ساتھ "مزدورکار" اور "ادبی گلدستہ" جیسے مقبول پروگراموں کی برسوں میزبانی بھی کی۔
ادیبوں اور قلم کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے انہوں نے انتھک جدوجہد کی۔ وہ "یوسفزئی مرکزی پشتو ادبی جرگہ" کے بانی تھے اور طویل عرصے تک اس کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ "پښتانه ادبی لیکوال تنظیم" کے مرکزی سیکرٹری اور "مسلم ادبی لیکوال خیبر پختونخوا" کے جنرل سیکرٹری بھی رہے (جب مرحوم امیر شاد محبوب صدر اور نوشاد پردیسی نائب صدر تھے)۔
ایک استاد ہونے کے ناطے وہ اساتذہ کے مسائل سے کبھی غافل نہ رہے۔ انہوں نے اساتذہ برادری کی فلاح اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، یہی وجہ ہے کہ وہ "آل ٹیچرز یونین ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا" کے منتخب صدر اور دیگر کلیدی عہدوں پر رہے۔ سماجی خدمات کے میدان میں وہ 1985ء میں لوکل عشر و زکوٰۃ کمیٹی اسمٰعیلہ (صوابی) کے چیئرمین منتخب ہوئے، اور CHW کے زیرِ اہتمام افغان مہاجرین کی امداد کے لیے قائم کردہ اسمٰعیلہ تنظیم کے سربراہ بھی رہے۔
ماسٹر ہمیش گل ہمیش کی شخصیت کا ایک حیرت انگیز پہلو ان کی ریاضی، فلکیات اور علمِ موسميات میں مہارت تھا۔ جس طرح ماضی میں ماہرین نے مثلث کے رقبے کے لیے طویل اور پیچیدہ کلیے (فارمولے) وضع کیے تھے، ہمیش گل ہمیش صاحب نے اپنی خداداد ذہانت سے 'مساوی الاضلاع مثلث' (Equilateral Triangle) کا رقبہ نکالنے کا ایک انتہائی مختصر، آسان اور اچھوتا کلیہ تخلیق کیا۔ وہ علمِ فلکیات اور موسم پر گہری نظر رکھتے تھے؛ مختلف ریاضیاتی فارمولوں کی مدد سے وہ شمسی اور قمری کیلنڈر کی بالکل صحیح ترتیب و تدوین کر لیتے تھے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے علاقائی اثرات پر بھی گراں قدر تحقیق کی، اور زمینداری و زراعت کے جدید و روایتی طریقوں کے بھی ماہر تھے۔ تاریخ دانی میں ان کا مطالعہ وسیع تھا؛ انہوں نے پختون تاریخ کے حقائق کو کھوجنے کے لیے دور دراز کے سفر کیے اور روشن خان بابا کے ہمرکاب رہ کر تاریخ کے اوراق کو درست شکل میں مرتب کرنے کی کوشش کی۔
زندگی کے آخری سولہ (16) برسوں میں وہ ایک مخصوص نفسیاتی عارضے کا شکار رہے، جس کی وجہ سے وہ سماجی، ادبی اور سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہونے پر مجبور ہوئے، تاہم نامساعد حالات کے باوجود ان کا تخلیقی اور تحقیقی کام کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کے بہت سے لکھاری ان کے فن کی گہرائی سے واقف نہ ہو سکے۔
یہ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ رہا ہے کہ ہم اپنے جیتے جی اپنے ہیروز اور اہلٔ علم کی قدر نہیں کرتے۔ ماسٹر ہمیش گل ہمیش ایک ایسے انسان تھے جن کے پاس علم و فن کے کئی ایسے خزانے تھے جن سے ملک و قوم کا نام دنیا بھر میں روشن ہو سکتا تھا، مگر سرکاری سطح پر ان کی وہ قدر دانی نہ ہو سکی جس کے وہ حقدار تھے۔
بالآخر، علم و ادب کا یہ چمکتا ہوا ستارہ 8 فروری 2020ء (بمطابق 14 جمادی الثانی 1441 ہجری / 27 ماگھ 2076 بکرمی) بروز ہفتہ، شام چھ بجے اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اگلے روز اتوار کو اسمٰعیلہ گاؤں میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد انہیں کڑہ مار پہاڑی کے دامن میں واقع ان کے آبائی قبرستان میں مٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
ماسٹر ہمیش گل ہمیش آج ہم میں نہیں ہیں، لیکن ان کی تصانیف، ان کی علمی کتب، اور ان کی خدمات ادب اور علم کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین،