05/02/2026
سیکھنا، چھوڑنا اور دوبارہ سیکھنا: بدلتے تعلیمی منظرنامے میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ ذمہ داری Learning, Unlearning and Relearning: A Professional Journey for Educators
تعلیم ایک جامد عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقائی سفر ہے۔ وہ تدریسی طریقے جو کل تک مؤثر سمجھے جاتے تھے، آج غیر متعلق یا بعض اوقات نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ایک مؤثر استاد یا تعلیمی رہنما کے لیے Learning, Unlearning, and Relearning محض نعرہ نہیں بلکہ ایک پیشہ ورانہ فریم ورک ہے۔
1. سیکھنا (Learning): پیشہ ورانہ نشوونما کی بنیاد
سیکھنا اساتذہ کو صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ انہیں بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے۔ ایک سیکھنے والا استاد:
* تحقیق پر مبنی تدریسی طریقے اپناتا ہے
* نصاب اور تشخیص میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے
* مختلف سیکھنے والے طلبہ (slow learners, gifted students) کی ضروریات سمجھتا ہے
* اپنی تدریس میں خود احتسابی (reflective practice) کو فروغ دیتا ہے
یہ سیکھنے کا عمل اساتذہ کو علم کے منتقل کرنے والے سے سیکھنے کے سہولت کار (facilitator) میں بدل دیتا ہے۔
2. چھوڑنا (Unlearning): تعلیمی اصلاح کی اصل روح
تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ لاعلمی نہیں بلکہ غلط یقین ہوتا ہے۔ Unlearning کا مطلب ہے:
* یہ مان لینا کہ ہر طالب علم ایک ہی رفتار اور طریقے سے نہیں سیکھتا
* اس خیال کو ترک کرنا کہ سختی اور خوف سے نظم و ضبط بہتر ہوتا ہے
* یہ سوچ چھوڑنا کہ امتحانی نمبر ہی کامیابی کا واحد پیمانہ ہیں
ان لرننگ Unlearning اساتذہ کو اپنی طاقت، اختیار اور تدریسی کنٹرول کو طلبہ کی شمولیت اور خودمختاری میں تبدیل کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یہی عمل تعلیمی انصاف (equity) کی بنیاد بنتا ہے۔
3. دوبارہ سیکھنا (Relearning): مستقبل کی تعلیم کی تیاری
ری لرننگ Relearning دراصل نئی حقیقتوں کے مطابق خود کو ازسرِنو ترتیب دینا ہے۔ اس میں شامل ہے:
* روایتی لیکچر کے بجائے مسئلہ حل، مکالمہ اور منصوبہ جاتی سیکھنے (project-based learning)
* ڈیجیٹل ٹولز کو محض نمائشی نہیں بلکہ تدریسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا
* تشخیص کو سزا نہیں بلکہ سیکھنے کا ذریعہ بنانا
* طلبہ کی سماجی، جذباتی اور اخلاقی نشوونما کو تدریس کا حصہ بنانا
ری لرننگ Relearning اساتذہ کو مستقبل کے شہری تیار کرنے میں مدد دیتا ہے، نہ کہ صرف امتحان پاس کرنے والے طلبہ۔
4. تعلیمی قیادت کے لیے خصوصی اہمیت
اسکول لیڈرز کے لیے یہ تصور اور بھی اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ:
* وہ اسکول کلچر تشکیل دیتے ہیں
* اساتذہ کی پیشہ ورانہ سیکھنے کی سمت متعین کرتے ہیں
* پالیسی اور عملی تدریس کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں
ایک ایسا لیڈر جو خود سیکھنے، چھوڑنے اور دوبارہ سیکھنے پر یقین رکھتا ہو، وہی سیکھنے والا ادارہ (Learning Organization) قائم کر سکتا ہے۔
حاصل کلام
تعلیمی اصلاح کسی پالیسی فائل سے نہیں بلکہ استاد کے ذہن سے شروع ہوتی ہے۔ سیکھنا ہمیں باخبر بناتا ہے، چھوڑنا ہمیں آزاد کرتا ہے، اور دوبارہ سیکھنا ہمیں مؤثر اور بااختیار بناتا ہے۔
اساتذہ کے لیے یہ عمل اختیار نہیں بلکہ تعلیم کی بقا اور بہتری کی ضمانت ہے۔