10/08/2026
سندھ پولیس نے جن پشتونوں کو گرفتار کیا ہے، ان میں سے ایک شخص نے بتایا: ’مجھ سے قمیض اتروائی گئی اور ساتھ ایک لڑکی کو بٹھا کر پولیس والے اس سے پوچھنے لگے کہ تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اس پر لڑکی کہنے لگی کہ اس شخص نے مجھے فلیٹ پر بلایا تھا اور کہا تھا کہ میں تمہیں ۲ لاکھ روپے دوں گا، جس کے بدلے تم نے میرے ساتھ تعلق قائم کرنا ہے۔ وہ شخص کہتا ہے کہ شاید کل کو یہ ویڈیو مجھے بلیک میل کرنے اور میرے خلاف استعمال کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، حالانکہ نہ تو میرا اس لڑکی سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی میں اسے جانتا ہوں۔ اس ملک میں جس شخص کے پاس تھوڑا سا بھی سرکاری اختیار آ جائے، وہ عوام کے لیے فرعون بن جاتا ہے اور قانون کو بالائے طاق رکھ کر اپنی منشا کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ پختون اس ملک میں اپنی سرزمین پر تو خوار ہیں ہی، لیکن جنگ زدہ ماحول کی وجہ سے جو لوگ ہجرت کر کے اپنا کاروبار سندھ یا پنجاب منتقل کرتے ہیں، وہ وہاں بھی محفوظ نہیں ہیں اور انہیں تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔