13/03/2026
میرے منہ میں خاک… مگر جو نقشہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں بنتا نظر آ رہا ہے، وہ اگر درست ثابت ہو گیا تو یہ صرف ایک جنگ نہیں ہوگی، بلکہ پورے خطے کی تقدیر بدل دینے والا مرحلہ ہو سکتا ہے۔
آئیے جذبات سے ہٹ کر ذرا ٹھنڈے دماغ سے موجودہ صورتحال کو سمجھتے ہیں۔
پچھلے چند دنوں میں جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہ بتا رہی ہیں کہ جنگ اب صرف میزائلوں اور فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہی۔ اب نشانہ بن رہے ہیں تیل کے ذخائر، ریفائنریاں، اور پانی کے پلانٹس — یعنی وہ بنیادی وسائل جن پر پوری قوموں کی زندگی قائم ہوتی ہے۔
ایک طرف United States اور Israel ایران کے اندر توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف ردعمل میں Iran اسرائیل اور خلیج کے علاقوں میں حملوں کی خبریں آ رہی ہیں، جن میں Bahrain کے آئل ٹینکرز اور پانی کے پلانٹس تک کا ذکر ہو رہا ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کس نے پہلے حملہ کیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ اس جنگ کا فائدہ آخر کس کو ہوگا؟
اگر ہم ایک قدم پیچھے ہٹ کر پورا منظرنامہ دیکھیں تو ایک خطرناک حقیقت سامنے آتی ہے۔
جنگ کا رخ آہستہ آہستہ بدل رہا ہے۔
ابھی تک یہ ایران بمقابلہ اسرائیل جنگ دکھائی دے رہی ہے۔
اب اسے ایران بمقابلہ عرب دنیا کی طرف سر توڑ کوششوں سے موڑا جارہا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں سب سے بڑی سیاسی چال نظر آتی ہے۔
جب مسلمان آپس میں لڑتے ہیں تو دشمن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
ادھر Benjamin Netanyahu اپنی سیاسی بساط بچھا رہا ہے، اور ادھر اDonald Trump اور دیگر مغربی حلقے عرب دنیا کو مزید ہلہ شیری دے رہا ہے۔
اب ذرا اس پورے کھیل کے ممکنہ مراحل پر غور کریں۔
پہلا مرحلہ:
خطے میں کشیدگی بڑھاؤ اور چھوٹے چھوٹے حملوں کے ذریعے جنگ کو پھیلاؤ۔
دوسرا مرحلہ:
ایران اور عرب ممالک کو براہِ راست یا بالواسطہ جنگ میں الجھا دو تاکہ توجہ اسرائیل سے ہٹ جائے۔
تیسرا مرحلہ:
جب پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے تو امریکہ سمیت مغربی طاقتیں و اسرائیل “امن کے محافظ” بن کر میدان میں آئیں۔
یہ کوئی نئی حکمت عملی نہیں ہے۔
یہی ماڈل پہلے Iraq، Libya اور Afghanistan میں استعمال ہو چکا ہے۔
اسی لیے بہت سے تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اس تمام کھیل کا آخری مقصد وہی پرانا خواب ہے جسے بعض حلقوں میں “Greater Israel” کہا جاتا ہے
یہاں افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کھیل میں صرف بیرونی طاقتیں ہی نہیں، بلکہ خود مسلمان قیادت بھی بعض اوقات غیر دانشمندانہ فیصلوں سے اسی منصوبے کو آسان بنا دیتی ہے۔
ایران اگر عرب ممالک کے شہروں یا تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو وہ دراصل اسی بیانیے کو مضبوط کرتا ہے جس کی اسرائیل کو ضرورت ہے۔
اور اگر عرب ممالک بھی جذبات میں آ کر اسی راستے پر چل پڑتے ہیں تو وہ بھی اسی جال میں قدم رکھ دیتے ہیں۔
یعنی نتیجہ ایک ہی ہوگا:
مسلمان کا خون… مسلمان کے ہاتھ۔
پھر جب خطہ کمزور ہو جائے گا، معیشتیں تباہ ہو جائیں گی، اور ریاستیں اندرونی بحران میں پھنس جائیں گی… تو عالمی طاقتیں “امن” کے نام پر مداخلت کریں گی۔
اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی مداخلتیں کبھی صرف امن کے لیے نہیں ہوتیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے:
کیا مسلمان تاریخ سے کچھ سیکھیں گے؟
یا ایک بار پھر وہی غلطی دہرائیں گے؟
اس پر فتن دور میں کیا کریں سمجھ نہیں آرہا ہے
اس پر فتن دور میں قرآن پر غور کریں اور وہاں سے ہدایت لیں
اس وقت
قرآن ایک اصول دے رہا ہے:
*"وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ"*
(آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور ہو جاؤ گے اور تمہاری طاقت ختم ہو جائے گی۔)
آج اگر ایران اور عرب دنیا اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے تو نقصان کسی ایک ملک کا نہیں ہوگا… بلکہ پوری امت کا ہوگا۔
اور دشمن شاید یہی چاہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اس فتنے سے محفوظ رکھے۔
اللہ ہمارے حکمرانوں کو وہ بصیرت دے جس سے وہ وقتی سیاست کے بجائے امت کے اجتماعی مستقبل کو دیکھ سکیں۔
اور اللہ ہمیں وہ شعور عطا کرے کہ ہم دشمن کی چال کو پہچان سکیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
آمین۔