06/10/2024
پال پور
ضلع اوکاڑہ کا تاریخی اور خوبصورت شہر
رگ ویدک آف انڈیا'' کے مطابق اس شہر کا پہلا نام سری پور یا سری نگر تھا جسے بعد ازاں سیالکوٹ کے راجہ سلواہان کے بھائی دیپا چند نے اپنے بیٹے راجہ دیپا کے نام پر دیپاپور رکھ دیا جو وقت کے ساتھ ساتھ دیپالپور میں تبدیل ہو گیا رگ ویدک آف انڈیا کے مطابق دیپالپور شہر برصغیر پاک وہند کا قدیم ترین مگر زندہ شہر ہے جو کئی بار مسمار بھی ہوا مگر ہر بار اس کے کھنڈرات پر پھر سے آبادکاری ہوئی اور دیپالپور آج بھی زمین کے سینے پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ماضی کا دیپالپور اس قلعہ دیپالپور کے اندر تک ہی محدود تھا جس کا رقبہ قریباً سو ایکڑ پر محیط تھا
آج سے دو ہزار سال قبل جب آریہ برصغیر میں داخل ہوئے تو ان کا مسکن سپت سندھو یعنی سات دریاؤں کی سر زمین تھا جس میں راوی، ستلج، چناب، جہلم، سندھ، بیاس اور کابل بہتے تھے اور اس دور کی مشہور تہذیبوں میں اجودھن (پاکپتن)، قبولہ اور دیپالپور شامل تھیں۔
13 اور 14 صدی عیسوی میں دیپالپور نے منگولوں کے خلاف دہلی سلطنت کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا اور اس وقت خیبر سے دہلی تک کے راستے میں صرف دیپالپور میں ہی واحد قلعہ موجود تھا۔مشہور مورخ ابناش چندرداس کی کتاب ۔تاریخ دیپالپور از میاں اللہ دتہ نسیم کے مطابق قلعہ دیپالپور پہلی بار کب تعمیر ہوا اس کی تاریخ میں کوئی واضح تاریخ نہیں ملتی تاہم 14 صدی عیسوی میں فیروز شاہ تغلق نے آخری بار اس مضبوط قلعے کی مرمت اور تعمیر نو کی۔
قلعہ دیپالپور کی نایاب سرخ اینٹوں سے بنی پچیس فٹ چوڑی دیواریں اگرچہ منہدم ہو چکی ہیں مگر ان ٹوٹی پھوٹی دیواروں کے پار آج بھی بہت سی داستانیں موجود ہیں۔"قلعے کے دروازوں پر حفاظتی چوکیاں بنائی گئی تھیں جو آج بھی موجود ہیں۔12 صدی عیسوی میں جب غیاث الدین تغلق دیپالپور کا حاکم تھا اس وقت اٹھنے والے تاتاری سیلاب کو بھی قلعہ دیپالپور میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس جنگ میں قلعے کو کافی نقصان پہنچا جسے 1244ء میں غیاث الدین تغلق نے پھر سے مرمت کیا۔ 1526ء میں جب ظہیرالدین بابر نے برصغیر پر حملہ کیا تو اسے بھی سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا قلعہ دیپالپور میں ہی کرنا پڑا جس کا اعتراف اس نے اپنی کتاب تُزکِ بابری میں کیا ہے۔قلعہ دیپالپور کے چار دروازے ہیں مشرقی دروازے کو دہلی دروازہ، مغربی گیٹ کو ملتانی دروازہ، شمالی گیٹ کو لاہوری دروازہ جبکہ جنوبی گیٹ کو بیکانیری دروازے کے نام سے منسوب کی گیا تھا ان میں مشرقی اور مغربی دروازے تو اس وقت بھی موجود ہیں تاہم شمالی اور جنوبی دروازے منہدم ہو چکے ہیں۔قلعہ دیپالپور کے اندر ایک کشادہ سرنگ بھی بنوائی گئی تھی جس میں نہ صرف روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام تھا بلکہ یہ اتنی چوڑی تھی کہ دو گھوڑے بیک وقت اس میں دوڑ سکتے تھے اس کے علاوہ اس میں ایک بہت بڑی شاہی مسجد بھی بنوائی گئی جو کہ آج بھی موجود ہے۔
قلعہ دیپالپور میں لالو جسرائے نامی کالونی میں ایک مندر کے آثار آج بھی موجود ہیں جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہاں ایک لالو نامی بچہ اپنی ماں کی بددعا کے نتیجے میں زندہ زمین میں گڑھ گیا تھا جس جگہ وہ غرق ہوا وہاں پر مندر بنا دیا گیا۔ وہ مندر تو اب ختم ہو چکا ہے تاہم لالو کے غرق ہونے کی جگہ پر آج بھی ایک پتھر کی چھوٹی سی سلیٹ نشانی کے طور پر پڑی ہوئی ہے۔اسی مندر سے ملحقہ تباہ حال کمرے کے پاس فیروز تغلق کی بنائی گئی سرنگ کا ایک دہانہ یہاں پر تھا جو کہ اب بند ہو چکا ہے جبکہ دوسرے دہانے کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں۔قلعہ میں ایک دو منزلہ سرائے بھی موجود ہے جس کے ہر کمرے کے ساتھ ہندی زبان میں عبارات رقم ہیں جو شاید 'نیم پلیٹ' بھی ہو سکتی ہیں۔ سرائے کے کچھ کمرے کھلے ہیں جہاں مقامی لوگ آباد ہو چکے ہیں کٸ کمروں پہ تالے لگے ہوۓ ہیں قلعہ دیپالپور میں ہندوؤں کے کئی مندر بھی تھے جن میں پوجا پاٹ کے لیے ہندوستان سے لوگ آتے بھی رہے مگر 1992ء میں بھارت میں جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو مقامی لوگوں نے ان مندروں کو منہدم کر کے ان پر قبضہ کر لیا اور اپنی رہائش گاہیں بنا لیں۔
دور جدید میں تیزی سے بڑھتی ہوٸی اس شہر کی آبادی اب 14 لاکھ کے قریب ہے
اس کی 55 یونین کونسلز ہیں یہ خطہ اپنی تاریخی حیثیت کے ساتھ ساتھ زرخیزی میں بھی بے مثال ہے۔