Aneela Marketing Hub

  • Home
  • Aneela Marketing Hub

Aneela Marketing Hub 💼 Certified Social Media Marketer
🚀 Boosting | Branding | Creative Design
📞 DM now to grow your business online!

02/04/2026

مجھے نہیں پتہ تھا کہ بچے ضد کر کے کیسے بات منواتے ہیں، کیونکہ احمد نے ایسا کبھی کیا ہی نہ تھا۔

وہ اتنا بے حد پیارا تھا جتنے سب بچے اپنی امیوں کو لگتے ہیں۔ اور اس کی اضافی صفت یہ تھی کہ وہ بہت خوش رہنا، بِیبا بچہ تھا۔ اسے لئے لمبی فلائٹس بھی کیں، ایک براعظم سے دوسرے کا سفر کیا، دن رات، کھانے پینے، لوگ احباب سب بدلا لیکن میرے بچے کا مزاج نہ بدلا۔ وہ سب میں خوش رہتا۔ ننھا سا تھا تب بھی جاگتا تو زندگی سے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ۔

میں نے اس کی پیدائش سے بھی پہلے سے پیرنٹنگ کورسز کر رکھے تھے۔ مجھے کافی اندازہ تھا کہ کیسے کیسے چھوٹے بچوں کو ڈیل کیا جائے۔ یوں مل جل کر ہماری زندگی بڑی پیاری گزر رہی تھی۔ ہم دونوں میں کمال کی بانڈنگ تھی۔ میں اسے رنگ برنگ ایکٹیویٹیز میں مصروف رکھتی، وہ بہترین ساتھ نبھاتا۔

ہم خوب کھیلتے تھے۔ ڈھیر کتابیں پڑھتے تھے، بہت باتیں کرتے تھے۔

پھر پارک سے ماما کے لئے پرندوں کے ٹوٹے ہوئے پر، خشک پتے، اور چکنے پتھر تحفہ لاتے لاتے پتہ نہیں کس دن احمد بڑا ہو گیا۔

بات مان لینے والے میرے بیٹے کی اب اپنی پرسنیلٹی بننے لگی تھی۔ وہ کچھ باتیں مانتا، اور کچھ پر رِزِسٹ کرتا تھا۔ہماری نسل کچھ یوں پروان چڑھی ہے کہ ہم کنٹرولنگ ماحول میں بڑے ہوئے ہیں۔ لامحالہ ہمارے لئے یہ انا کا مسئلہ بن جاتا کہ بچہ میری بات کو رد کر دے۔ اچھے بچے تو وہ ہوتے ہیں نا جو ہر بات مانتے ہیں؟ جن کی شاید اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی۔ جو انسان کے جسم میں روبوٹ ہوتے ہیں۔ آپ ان کا جو بٹن آن کریں، وہ اس کی طے شدہ ہدایات کے مطابق کام شروع کر دیں۔ آپ بٹن آف کریں اور بچہ بلا کسی پس و پیش کے رک جائے۔ ہے نا؟

بس، یہیں سے ابتدا ہوئی میرے اور احمد کے بیچ تلخی کی۔

وہ کبھی بات مان لیتا، کبھی اپنی مرضی کرتا۔ میں بول پڑتی، وہ جواب دیتا، میری آواز مزید اونچی ہوتی۔ ہمارے بیچ واضح طور پر ایک پاور سٹرگل چل رہی تھی اور مجھے یہ جنگ ہر حال میں جیتنا تھی۔ میں ماں تھی آخر! نتیجتاً وہ جتنا لاؤڈ ہو گا، میری آواز اس سے زیادہ بلند ہو گی۔

"شرم نہیں آتی ماں کو جواب دیتے ہوئے؟"
"میرا دل کرتا ہے اب ایک لگا دوں گی آپ کو۔۔" (ایسا زندگی میں کبھی نہیں ہوا لیکن یہ جملہ احمد کے دس گیارہ سال کے ہونے پر میری زبان سے ادا کئی بار ہوا)
"آپ جائیں یہاں سے اور مجھے اب نظر نہ آنا کافی دیر۔۔"

مجھے یہ تو سمجھ آ رہا تھا کہ مجھ سے زیادتی ہو جاتی ہے۔ مجھے ٹھیک سے اس کا حل نہیں پتہ چل رہا تھا۔ مجھے عادت ہی نہ تھی کہ وہ من مانیاں کرتا پھرے۔ بات ماننے والے میرے "اچھے" بچے کا یہ روپ ناقابل قبول تھا۔ میں چڑچڑی ہو رہی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ میں نے دس سال اسے بہترین طریقے سے پالا ہے تو کیا میں کنٹرولنگ تھی؟ یا پھر یہ بد تمیز ہونے لگا ہے؟ ہفتے دس دن بعد ایک بار ماں غصہ کر دے تو یہ نارمل ہے۔ لیکن اگر ہر روز یا دو دن بعد آپس میں چپقلش ہو رہی ہے تو کہیں تو کچھ بہت ہی غلط ہو رہا ہے۔ مجھے اضافی تکلیف یہ ہوتی کہ میں اتنا فریکوینٹ لی اگر اسے ڈانٹوں گی تو کیا اسے وہ ڈھیر لاڈ یاد رہیں گے یا بچپن کی بات بچپن کے ساتھ رہ جائے گی اور اسے کوئی کنٹرولنگ، نارسسسٹ ماں یاد رہے گی؟

انہی دنوں جب میں نے اپنا بلڈ ورک کروایا تو میرا آئرن شدید لو آیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ کمی میرے مزاج پر اس بدترین طرح سے اثر انداز ہو رہی ہے۔ سپلیمنٹ لینے شروع کیے تو ہفتہ بھر میں ہی حالات کی کشیدگی کم ہونے لگی۔ میرا موڈ بہت بہتر ہونے لگا۔ ساتھ ہی ڈاکٹر شیفالی کا پیرنٹنگ کورس کیا۔ خریدتے وقت تو بہت مہنگا محسوس ہوا کہ پانچ لیکچر پانچ سو ڈالر کے۔ لیکن اس نے مجھے بہت سہارا دے دیا۔ ٹین ایج بچوں کے مزاج کے بارے میں بہتر آگاہی ملی۔ سب کچھ جو احمد کر رہا تھا، وہ اس کی عمر کے سبھی بچے کرتے ہیں۔ اور پھر جیسا کہ پیرنٹنگ کا مطلب بچے کی تربیت کی خاطر اپنی تربیت کرنا ہوتا ہے، اس چیز نے بہت مدد دی۔ مزید سیکھنے کے دروازے بھی کھولے۔ اسی میں ایک اینیمیٹڈ مووی "Inside Out" کا ذکر بھی ضروری ہے۔ وہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ بچے کے اندر ہارمونز کس طرح ہلچل مچائے ہوئے ہیں۔

ایک کام اور بہت اہم یہ کیا کہ میں اپنے ٹرِگرز پر نگاہ رکھنے لگی۔ ایک تو وہی ہماری اپنی پرورش جس انداز میں ہوئی ہے، وہ ہمارے اندر سے نکل کر باہر آنے لگتا ہے۔ پھر انر چائلڈ جسے ویلیڈیشن چاہیے اور اپنی بات منوانی ہے۔ پھر یہ کہ انا کو کیسے ہینڈل کریں۔ اور جب میں نے اپنے موڈ سونگز کو ٹریک کیا تو اس کا سرا خواتین کے منتھلی سائیکل کے ساتھ بھی جڑتا محسوس ہوا۔ اسی لئے ٹرگرز پہچاننا ضروری ہے۔ پتہ ہو گا کہ آخر غصہ کیوں آ رہا ہے تو بچے کو الزام دینے، یا اس پر انڈیلنے کے بجائے جڑ پکڑنا آسان ہو گا۔

ایک اہم بات یہاں والد حضرات سے بھی۔ عموماً جس وقت بچے اپنی پری ٹین اور ٹین کو ہٹ کرتے ہیں، اسی وقت مائیں اپنے پیری مینوپاز اور مینوپاز سے گزر رہی ہوتی ہیں۔ یعنی ماں اور ٹین ایجر میں ہارمونز کا تپتا گولہ ایک طرف ہے، تو کھولتا ہوا مادہ دوسری جانب۔ جس دن دونوں طرف کے ہارمونز کا ٹکراؤ ہوتا ہے، لاوا پھٹ پڑتا ہے۔ ایسے میں والد کو چاہئے کہ اپنی بیوی کا خیال کریں، اور اپنی اولاد کا بھی۔ میرے جیسی ماں گھر والوں سے کہہ دیا کرتی ہے کہ کچھ دن مجھ سے مت الجھیں۔ میں خود مشکل میں ہوں۔ آپ لوگ احساس کر لیں۔ نرمی سے یہ بات کہہ دینے سے بھی بہتری آتی ہے۔

بات مختصر کرنے کی کوشش میں بھی طویل ہو گئی۔

حرفِ آخر یہ ہے کہ اپنی صحت کا خیال رکھیے۔ بچوں کے ساتھ تعلق، تعلق، تعلق کی خاطر خود پر کام، کام، کام کرتے رہیے۔ آج کے دور میں بچوں سے تعلق بنانے کے لئے مل کر کوئی گیم کھیل لیں، یا مووی یا سیزن ساتھ دیکھ لیں۔ انہیں میمز بھیج دیں۔ مل کر کوکنگ کر لیں۔اور خدارا، کسی بھی حال میں لڑائی لٹکائیں نہیں۔ انا کو ہار جانے دیں، بچہ جیت لیں۔ خود ان کے پاس چلے جائیں۔ پیچھے سے ہگ کر لیں۔ چہرہ ہاتھ میں لئے ماتھا چوم لیں۔ ہتھیلی پر پیار کر دیں۔ ماں کے محبت بھرے لمس میں جادو ہے۔ بچوں کو (اور خود کو بھی!) اس سے محروم نہ کریں۔

اور دعا۔ بہت دعا کرتے رہیں۔ ماتھا چومتے بآواز بلند دعا بھی کریں تا کہ بچے کے دل و دماغ میں بھی کہیں نہ کہیں وہ دعا راسخ ہوتی رہے کہ والدین ہم سے کیا چاہتے ہیں، اور کیوں چاہتے ہیں۔

اس پوری چیز کو unlearn، اور relearn کرنے، پریکٹس میں لانے میں مجھے کم و بیش سال ڈیڑھ لگ گیا۔ لیکن اب الحمد للہ بہت دن بعد ہمارے بیچ کوئی گڑ بڑ ہوتی ہے۔ اتنا تو پھر چلتا ہے نا۔ وہ بھی روبوٹ نہیں، اور ہم بھی عام انسان ہیں۔

نیر تاباں

🌅 صبح بخیرہر دن ہمیشہ خاص نہیں ہوتا…کبھی تھکن بھی ہوتی ہے، کبھی دل نہیں کرتا کچھ کرنے کو۔لیکن یاد رکھیں،آہستہ چلنا بھی ٹ...
01/04/2026

🌅 صبح بخیر
ہر دن ہمیشہ خاص نہیں ہوتا…
کبھی تھکن بھی ہوتی ہے، کبھی دل نہیں کرتا کچھ کرنے کو۔
لیکن یاد رکھیں،
آہستہ چلنا بھی ٹھیک ہے… بس رکنا نہیں ہے۔
چھوٹی چھوٹی کوششیں ہی بڑی کامیابی بناتی ہیں۔
آج صرف اتنا کریں کہ کل سے تھوڑا بہتر ہو جائیں۔
🌿 خود پر یقین رکھیں — سب ٹھیک ہو جائے گا، ان شاءاللہ

31/03/2026
“Success doesn’t come from what you do occasionally, it comes from what you do consistently.”
30/03/2026

“Success doesn’t come from what you do occasionally, it comes from what you do consistently.”

شبِ قدر — ہزار مہینوں سے بہتر راترمضان المبارک کی بابرکت راتوں میں ایک عظیم رات شبِ قدر ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک...
16/03/2026

شبِ قدر — ہزار مہینوں سے بہتر رات
رمضان المبارک کی بابرکت راتوں میں ایک عظیم رات شبِ قدر ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے۔ یہ وہ مبارک رات ہے جس میں اللہ کی رحمتیں بے شمار نازل ہوتی ہیں، فرشتے زمین پر اترتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو خاص طور پر قبول فرماتا ہے۔
شبِ قدر دراصل قرآنِ مجید کے نزول کی رات ہے۔ اسی رات اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے قرآنِ پاک کو نازل فرمایا۔ اس رات عبادت کرنا، قرآن پڑھنا، درود شریف اور استغفار کرنا بے حد فضیلت رکھتا ہے۔ جو شخص ایمان اور اخلاص کے ساتھ اس رات عبادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔
یہ رات ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کو اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنا چاہیے، اپنی غلطیوں پر توبہ کرنی چاہیے اور دل سے دعا کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مایوس نہیں کرتا، بلکہ سچی نیت اور عاجزی سے مانگی گئی ہر دعا کو قبول فرماتا ہے۔
آئیں اس بابرکت رات کو غفلت میں ضائع نہ کریں۔ زیادہ سے زیادہ عبادت کریں، قرآنِ پاک کی تلاوت کریں، درود شریف پڑھیں اور اپنے لیے، اپنے والدین، اپنے عزیزوں اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے دعائیں کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ قدر کی برکتیں نصیب فرمائے اور ہماری عبادات کو قبول فرمائے۔ آمین۔

🌅 Good Morningآج کا دن ایک نیا موقع ہے۔اپنے خوابوں پر یقین رکھیں اور محنت جاری رکھیں۔یاد رکھیں، کامیابی انہی لوگوں کو مل...
10/03/2026

🌅 Good Morning
آج کا دن ایک نیا موقع ہے۔
اپنے خوابوں پر یقین رکھیں اور محنت جاری رکھیں۔
یاد رکھیں، کامیابی انہی لوگوں کو ملتی ہے جو ہمت نہیں ہارتے۔
اپنے دن کا آغاز مثبت سوچ کے ساتھ کریں اور
اللہ پر بھروسہ رکھیں، وہ آپ کے لیے بہترین راستے آسان کر دے گا۔

✨ آپ کا دن خوشیوں اور کامیابیوں سے بھرپور ہو۔

Have a Blessed Morning!

📱 سوشل میڈیا پر کامیابی کے 3 آسان ٹپساگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا سوشل میڈیا پیج تیزی سے grow کرے اور زیادہ لوگ آپ کی پوسٹس...
09/03/2026

📱 سوشل میڈیا پر کامیابی کے 3 آسان ٹپس

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا سوشل میڈیا پیج تیزی سے grow کرے اور زیادہ لوگ آپ کی پوسٹس دیکھیں تو ان سادہ ٹپس پر عمل کریں:

1️⃣ باقاعدگی سے پوسٹ کریں
اپنے پیج پر ہفتے میں کم از کم 3 سے 4 بار پوسٹ ضرور کریں۔ جب آپ مسلسل اچھی اور مفید پوسٹس شیئر کرتے ہیں تو لوگ آپ کے پیج میں دلچسپی لینا شروع کر دیتے ہیں۔

2️⃣ خوبصورت اور دلچسپ مواد بنائیں
صرف عام text پوسٹ کرنے کے بجائے اچھی ڈیزائن والی تصاویر، معلوماتی پوسٹس اور آسان tips شیئر کریں تاکہ لوگ آپ کی پوسٹ پڑھنے اور شیئر کرنے میں دلچسپی لیں۔

3️⃣ Reels زیادہ بنائیں
آج کل سوشل میڈیا پر Reels کی reach بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مختصر اور معلوماتی ویڈیوز بنائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کے پیج تک پہنچ سکیں۔

✨ مزید ایسے ہی مفید ٹپس کے لیے Aneela Marketing Hub کو Follow کریں۔



28/02/2026

*سورہ العادیات* *پارہ 30*

کیا آپ نے کبھی کسی گھوڑے کو پوری رفتار سے دوڑتے دیکھا ہے؟
سانس پھولا ہوا، نتھنے پھیلے ہوئے، سینہ اوپر نیچے ہوتا ہوا—
لیکن قدم رک نہیں رہے۔

یہ محض ایک جانور کی دوڑ نہیں،
یہ وفاداری کی فزکس ہے۔

قرآن کی مختصر مگر دھماکہ خیز سورت، سورۂ العادیات، اسی منظر سے شروع ہوتی ہے۔
یہ کوئی نرم تمہید نہیں، کوئی تدریجی تعارف نہیں—
یہ براہِ راست ایک “ہائی اسپیڈ سین” ہے۔

جنگ کا شور… اور اخلاق کا کورٹ روم

اللہ فرماتا ہے:

وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا
قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں۔

لفظ “ضبحًا” صرف سانس لینے کی آواز نہیں—
یہ سینے کی گہرائی سے نکلنے والی وہ بھاری، دباؤ والی دھمک ہے
جو اس وقت پیدا ہوتی ہے
جب جسم اپنی حد سے آگے جا چکا ہو۔

یہ “Full Capacity Output” ہے۔

گھوڑا جانتا ہے کہ سامنے نیزے ہیں، تلواریں ہیں، موت ہے—
مگر وہ رک نہیں رہا۔

کیوں؟

کیونکہ اس کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا مالک
اسے ایڑ لگا رہا ہے۔

یہ ہے Loyalty Protocol:
حکم ملے تو جان بھی حاضر۔

توانائی کی ٹکر… اور چنگاریوں کا علم

پھر قرآن منظر کو اور تیز کرتا ہے:

فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا
پھر وہ جو (سموں سے) چنگاریاں نکالتے ہیں۔

یہ کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں۔
یہ کائنیٹک انرجی کا تھرمل انرجی میں بدلنا ہے۔
رفتار، رگڑ، ٹکراؤ—
اور زمین سے آگ نکلتی ہے۔

گھوڑا صرف دوڑ نہیں رہا،
وہ اپنی طاقت کو نچوڑ رہا ہے۔

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ
وفاداری آدھی رفتار سے نہیں ہوتی۔
یا تو پوری شدت سے،
یا پھر نہیں۔

سرپرائز اٹیک… اور اطاعت کی انتہا

فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا

صبح کے دھندلکے میں چھاپہ۔

رات بھر سفر کے بعد،
جب جسم آرام مانگ رہا ہو،
اسی وقت حملہ۔

یہ ہے Obedience Beyond Comfort Zone۔

گھوڑا یہ نہیں کہتا:
“میں تھک گیا ہوں”
“کل کر لیں گے”
“آج موسم ٹھیک نہیں”

وہ بس دوڑتا ہے۔

گرد و غبار… اور نفسیاتی دباؤ

فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا

گرد کا بادل۔
دشمن کے حواس باختہ۔

Modern Warfare میں اسے کہتے ہیں:
Disorientation Strategy

گھوڑے صرف جسمانی طاقت نہیں دکھاتے،
وہ ماحول بدل دیتے ہیں۔

وفاداری جب حرکت میں آتی ہے
تو فضا کا رنگ بدل جاتا ہے۔

اور پھر دل میں گھس جانا…

فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا

لشکر کے بیچ میں داخل ہونا۔

یہ سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔
چاروں طرف دشمن۔
واپسی کا راستہ بند۔

پھر بھی وہ گھوڑا پیچھے نہیں ہٹتا۔

کیوں؟

کیونکہ مالک کا حکم آگے ہے،
اور موت پیچھے رہ گئی۔

اب کیمرہ گھوڑے سے ہٹتا ہے… اور انسان پر آ جاتا ہے

یہ پانچ آیات محض جانوروں کی تعریف نہیں تھیں۔
یہ ایک اخلاقی مقدمہ تھا۔

اب فیصلہ سنایا جاتا ہے:

إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ

بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔

لفظ “کنود”
یہ عربی کا نفسیاتی شاہکار لفظ ہے۔

کنود وہ ہے جو:
• ایک تکلیف کو یاد رکھے
• ہزار نعمتیں بھول جائے

یہ Cognitive Bias ہے—
Negativity Bias۔

انسان کہتا ہے:
“میرے پاس کیا نہیں ہے”
وہ یہ نہیں گنتا:
“میرے پاس کیا کچھ ہے”

گھوڑا تھوڑی سی گھاس کے بدلے جان دے رہا ہے،
اور انسان بے شمار نعمتوں کے بدلے شکایت کر رہا ہے۔

یہ ہے اخلاقی تضاد۔

انسان خود گواہ ہے

وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ

وہ خود جانتا ہے۔

ضمیر ایک خاموش عدالت ہے۔
لاشعور سب کچھ ریکارڈ کرتا ہے۔

Self Awareness موجود ہے—
مگر Self Reform نہیں۔

اصل بیماری: مال کی محبت

وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ

“خیر” یہاں مال ہے۔
انسان نے دولت کو ہی “Ultimate god” بنا لیا۔

وہ بھی ہانپ رہا ہے—
لیکن اللہ کے لیے نہیں،
مال کے لیے۔

گھوڑا مالک کے لیے دوڑتا ہے،
انسان مارکیٹ کے لیے۔

گھوڑا وفادار ہے،
انسان سرمایہ پرست۔

پھر آتا ہے قیامت کا فرانزک آڈٹ

إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ
وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ

دو مرحلے:
1. جسم باہر نکالے جائیں گے۔
2. دل کے راز بھی نکالے جائیں گے۔

یہ صرف Resurrection نہیں—
یہ Forensic Exposure ہے۔

Hidden Intentions Recovery.

تم نے نماز کیوں پڑھی؟
صدقہ کیوں دیا؟
خاموش کیوں رہے؟
غصہ کیوں کیا؟

فائلیں ڈیلیٹ نہیں ہوں گی—
Recover ہوں گی۔

آخری ضرب

إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ

“خبیر” — اندر کی خبر رکھنے والا۔

وہ صرف عمل نہیں دیکھے گا،
نیت بھی دیکھے گا۔

Surface نہیں،
Core۔

العادیات ہمیں ایک سادہ مگر لرزا دینے والا سوال دیتی ہے:

اگر ایک گھوڑا معمولی مالک کے لیے
اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے—

تو کیا انسان اپنے رب کے لیے
اپنا غرور نہیں چھوڑ سکتا؟

کیا ہم اتنی وفاداری بھی نہیں دکھا سکتے
جتنی ایک جانور دکھاتا ہے؟

آخری جھنجھوڑ

ہم سب دوڑ رہے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ہم ہانپ رہے ہیں یا نہیں۔

سوال یہ ہے:
ہم کس کے لیے ہانپ رہے ہیں؟

اگر ہماری دوڑ مال کے لیے ہے،
تو ہم کنود ہیں۔

اگر ہماری دوڑ مالک کے لیے ہے،
تو ہم وفادار ہیں۔

اور جس دن سینوں کے راز کھل گئے—
وہاں کوئی بہانہ قبول نہیں ہوگا۔

پس
گھوڑے سے سبق سیکھو۔
مالک کو پہچانو۔
اور وفاداری کی دوڑ شروع کرو
اس سے پہلے کہ
قبروں کا دروازہ کھل جائے۔

26/02/2026

کیا آپ نے آج درود شریف کا ورد مکمل کیا ؟

اگر نہیں تو ابھی سے شروعات کیجیے۔۔۔
ﷺ ﷺ ﷺ

Address


Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923016999226

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aneela Marketing Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share