24/04/2026
فیکٹ چیک: سولر صارفین پر ماہانہ بنیادوں پر نیا ٹیکس عائد کرنے کی خبریں، حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا اور بعض یوٹیوب چینلز پر یہ دعویٰ گردش کررہا ہے کہ حکومت نے سولر صارفین پر نیا ٹیکس عائد کردیا ہے جس کے تحت ہر کلو واٹ پر ایک ہزار روپے ماہانہ بل میں شامل ہوں گے۔
سوشل میڈیا صارفین اس دعوے کو بغیر تحقیق شیئر کررہے ہیں، اور حکومت کی اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
سینیئر تحقیقاتی صحافی وسیم عباسی کے مطابق پاور ڈویژن، نیپرا حکام اور سولر انڈسٹری سے حاصل کردہ معلومات سے واضح ہوا ہے کہ سولر صارفین کے ماہانہ بجلی بل میں کسی قسم کا نیا ٹیکس شامل نہیں کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق نئے سولر سسٹم لگانے والے صارفین کے لیے ایک ون ٹائم فیس متعارف کرائی گئی ہے، یہ فیس فی کلو واٹ ایک ہزار روپے ہے، یعنی اگر کوئی صارف 10 کلو واٹ کا سسٹم لگاتا ہے تو اسے صرف ایک بار 10 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔
حکام کے مطابق یہ فیس پہلے وصول نہیں کی جاتی تھی، تاہم نئے ریگولیشنز کے تحت اب چھوٹے گھریلو سسٹمز کے لیے بھی نیپرا سے لائسنس لینا ضروری ہو گیا ہے، جس کے باعث یہ چارجز لاگو ہوں گے۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیس صرف نئے صارفین پر لاگو ہے، پہلے سے سولر لگانے والے صارفین اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔
یہ فیس ماہانہ یا سالانہ بل کا حصہ نہیں بلکہ صرف ایک بار ادا کی جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے بجائے نئے صارفین کے لیے اب نیٹ بلنگ سسٹم متعارف ہے، جس کے تحت صارف بجلی کمپنی کو فروخت اور خرید دونوں علیحدہ نرخوں پر کرتا ہے۔
سولر انڈسٹری کے نمائندوں کا بھی کہنا ہے کہ اس فیس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور اسے سولر ٹیکس قرار دینا درست نہیں۔
فیکٹ چیک کے مطابق سولر صارفین کے لیے کوئی نیا ماہانہ ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا بلکہ نئے سولر سسٹم لگانے والے صارفین کے لیے ون ٹائم فیس متعارف کرائی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر زیرگردش دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔