Hafiz Muhammad Kashif

  • Home
  • Hafiz Muhammad Kashif

Hafiz Muhammad Kashif Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hafiz Muhammad Kashif, Digital creator, .

حافظِ قرآن | قرآن ٹیچر 📖
ناظرہ و حفظ قرآن آن لائن کلاسز 🌍
تجوید کے ساتھ آسان اور دوستانہ تدریس ✨

📞 WhatsApp: 03042696596

Hafiz-e-Quran | Quran Teacher 📖
Nazra & Hifz Online Classes 🌍
Teaching with Tajweed in a simple, friendly way
You can contact.

22/05/2026

*سیرت النبی ﷺ*🌴

*قسط نمبر 03*

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کی آنول نال کٹی ہوئی تھی۔{آنول نال کو بچے پیدا ہونے کے بعد دایہ کاٹتی ہے۔}
آپ ختنہ شدہ پیدا ہوئے۔عبدالمطلب یہ دیکھ کر بےحد حیران ہوئے اور خوش بھی۔وہ کہا کرتے تھے، میرا بیٹا نرالی شان کا ہوگا۔{الہدایہ}
آپ کی پیدائش سے پہلے مکّہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے۔لیکن جونہی آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا۔بارشیں شروع ہوگئیں ، خشک سالی دور ہوگئی۔درخت ہرے بھرے ہوگئے اور پھلوں سے لد گئے۔زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔
پیدائش کے وقت آپ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے۔سر آسمان کی طرف تھا۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے۔مطلب یہ کہ سجدے کی سی حالت میں تھے۔{طبقات}
آپ کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔جیسا کہ ہم نماز میں اٹھاتے ہیں ۔
حضور انور ﷺ فرماتے ہیں :
"جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا۔اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے۔" ( طبقات )
آپ ﷺ کی والدہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں :
"محمد( ﷺ )کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی میں مجھے بصری میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں تک نظر آئیں ۔"
علامہ سہلی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ نے اللہ کی تعریف کی۔ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں :
"اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا ۔
"اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ کی بےحد تعریف ہے اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ۔"
آپ کی ولادت کس دن ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔آپ صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔
تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت سے قول ہیں ۔ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ایک روایت 8 ربیع الاول کی ہے، ایک روایت 2 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔اس سلسلے میں اور بھی بہت سی روایات ہیں ۔زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ آپ 8 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔تقویم کے طریقہ کے حساب سے جب تاریخ نکالی گئی تو 9 ربیع الاول نکلی۔مطلب یہ کہ اس بارے میں بالکل صیح بات کسی کو معلوم نہیں ۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مہینہ ربیع الاول کا تھا اور دن پیر کا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو پیر کے دن ہی نبوت ملی۔پیر کے روز ہی آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ کی وفات ہوئی۔
آپ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔یعنی ہاتھیوں والے سال میں ۔اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔

*سیرت النبیﷺ کی اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں* ❤️

آپ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی تھی -
واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ
ابرہہ یمن کا عیسائی حاکم تھا - حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں - اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا :
" یہ لوگ کہاں جاتے ہیں "
اسے جواب ملا:
" بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں "
اس نے پوچھا:
" بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے"
اسے بتایا گیا :
" پتھروں کا ہے "
اس نے پوچھا :
" اس کا لباس کیا "
بتایا گیا
" ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے "
ابرہہ عیسائی تھا - ساری بات سن کر اس نے کہا ":
"مسیح کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے اس سے اچھا گھر تعمیر کروں گا "
اس طرح اس نے سرخ " سفید " زرد " اور سیاہ پتھروں سے ایک گھر بنوایا - سونے اور چاندی سے اس کو سجایا اس میں کئی دروازے رکھوائے اس میں سونے کے پترے جڑوائے - اس کے درمیان میں جواہر لگوائے - اس مکان میں ایک بڑا سا یاقوت لگوایا - پردے لگوائے " وہاں خوشبوئیں سلگانے کا انتظام کیا - اس کی دیواروں پر اس قدر مشک ملا جاتا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کی ہوگئیں - یہاں تک کہ جواہر بھی نظر نہیں آتے تھے۔
پھر لوگوں سے کہا:
" اب تمہیں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جانے کی ضرورت نہیں رہی, میں نے یہیں تمہارے لیے بیت اللہ بنوادیا ہے لہٰذا اب تم اس کا طواف کرو "
اس طرح کچھ قبائل کئی سال تک اس کا حج کرتے رہے - اس میں اعتکاف کرتے رہے - حج والے مناسک بھی یہیں ادا کرتے رہے -
عرب کے ایک شخص نفیل خشمی سے یہ بات برداشت نا ہوسکی - وہ اس مصنوعی خانۂ کعبہ کے خلاف دل ہی دل میں کڑھتا رہا -آخر اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ابرہہ کی اس عمارت کو گندہ کرکے چھوڑے گا -پھر ایک رات اس نے چوری چھپے بہت سی گندگی اس میں ڈال دی -ابرہہ کو معلوم ہوا تو سخت غضب ناک ہوا کہنے لگا :
"یہ کاروائی کسی عرب نے اپنے کعبہ کے لیے کی ہے , میں اسے ڈھادوں گا اس کا ایک ایک پتھر توڑدوں گا "
اس نے شام و حبشہ کو یہ تفصیلات لکھ دیں , اس سے درخواست کی کہ وہ اپنا ہاتھی بھیج دے - اس ہاتھی کا نام محمود تھا - یہ اس قدر بڑا تھا کہ اتنا بڑا ہاتھی روئے زمین پر دیکھنے میں نہیں آیا تھا - جب ہاتھی اس کے پاس پہنچ گیا تو وہ اپنی فوج لیکر نکلا اور مکہ کا رخ کیا - یہ لشکر جب مکہ کے قرب و جوار میں پہنچا تو ابرہہ نے فوج کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے جانور لوٹ لیے جائیں - اس کے حکم پر فوجیوں نے جانور پکڑ لیے - ان میں عبدالمطلِّب کے اونٹ بھی تھے -

*سیرت النبیﷺ کی اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں* ❤️

نفیل بھی اس لشکر میں ابرہہ کے ساتھ موجود تھا اور یہ عبدالمطلِّب کا دوست تھا - عبدالمطلِّب اس سے ملے - اونٹوں کے سلسلے میں بات کی - نفیل نے ابرہہ سے کہا :
" قریش کا سردار عبدالمطلِّب ملنا چاہتا ہے یہ شخص تمام عرب کا سردار ہے " شرف اور بزرگی اسے حاصل ہے - لوگوں میں اس کا بہت بڑا اثر ہے -لوگوں کو اچھے اچھے گھوڑے دیتا ہے, انہیں عطیات دیتا ہے, کھانا کھلاتا ہے- "
یہ گویا عبدالمطلِّب کا تعارف تھا - ابرہہ نے انہیں ملاقات کے لیے بلالیا - ابرہہ نے ان سے پوچھا
" بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں ؟"
انہوں نے جواب دیا :
" میں چاہتا ہوں میرے اونٹ مجھے واپس مل جائیں "
ان کی بات سن کر ابرہہ بہت حیران ہوا - اس نے کہا :
" مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ عرب کے سردار ہے " بہت عِزّت اور بزرگی کے مالک ہیں " لیکن لگتا ہے مجھ سے غلط بیانی کی گئی ہے- کیونکہ میرا خیال تھا آپ مجھ سے بیت اللہ کے بارے میں بات کریں گے جس کو میں گرانے آیا ہوں اور جس کے ساتھ آپ سب کی عِزّت وابستہ ہے - لیکن آپ نے تو سرے سے اس کی بات ہی نہیں کی اور اپنے اونٹوں کا رونا لیکر بیٹھ گئے - یہ کیا بات ہوئی "
اس کی بات سن کر عبدالمطلِّب بولے
"آپ میرے اونٹ مجھے واپس دے دیں بیت اللہ کے ساتھ جو چاہیں کریں " اس لیے کہ اس گھر کا ایک پروردگار ہے - وہ خود ہی اس کی حفاظت کرے گا - مجھے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں "
ان کی بات سن کر ابرہہ نے حکم دیا :
"ان کے اونٹ واپس دے دیے جائیں "
جب انہیں ان کے اونٹ واپس مل گئے " تو انھوں نے ان کے سموں پر چمڑے چڑھا دیے - ان پر نشان لگادیے - انہیں قربانی کے لیے وقف کرکے حرم میں چھوڑ دیا تاکہ پھر کوئی انہیں پکڑ لے تو حرم کا پروردگار اس پر غضب ناک ہو -
پھر عبدالمطلِّب حِرا پہاڑ پر چڑھ گئے - ان کے ساتھ ان کے کچھ دوست تھے - انہوں نے اللہ سے درخواست کی :
"اے اللہ! انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے سامان کی حفاظت کر۔"
ادھر سے ابرہہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھا۔وہ خود ہاتھی پر سوار لشکر کے درمیان موجود تھا۔ایسے میں اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ہاتھی بانوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ اٹھا۔انہوں نے اس کے سر پر ضربیں لگائیں ۔آنکس چبھوئے مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔کچھ سوچ کر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ فوراً اس طرف چلنے لگا۔اس کا رخ پھر مکہ کی طرف کیا گیا تو پھر رک گیا۔ہاتھی بانوں نے یہ تجربہ بار بار کیا۔آخر ابرہہ نے حکم دیا، ہاتھی کو شراب پلائی جائے تاکہ نشے میں اسے کچھ ہوش نہ رہ جائے اور ہم اسے مکہ کی طرف آگے بڑھاسکیں ۔چنانچہ اسے شراب پلائی گئی، لیکن اس پر اس کا بھی اثر نہ ہوا۔

☆☆☆
جاری ہے ۔۔۔۔۔!

*مصنف : عبداللہ فارانی*
*کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم*
*( کاوش استاذ میر اسامہ)*

*سیرت النبیﷺ کی اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں* ❤️

*سیرت النبی ﷺ*🌴*قسط نمبر 02*عبدالمطلب کو یہ حکم اسوقت دیا گیا جب وہ اپنی منّت بھول چکے تھے - پہلے خواب میں ان سے کہا گیا...
20/05/2026

*سیرت النبی ﷺ*🌴

*قسط نمبر 02*

عبدالمطلب کو یہ حکم اسوقت دیا گیا جب وہ اپنی منّت بھول چکے تھے - پہلے خواب میں ان سے کہا گیا " منّت پوری کرو " انھوں نے ایک مینڈھا ذبح کرکے غریبوں کو کھلادیا " پھر خواب آیا " اس سے بڑی پیش کرو " اس مرتبہ انھوں نے ایک بیل ذبح کردیا - خواب میں پھر یہی کہا گیا اس سے بھی بڑی پیش کرو - اب انھوں نے اونٹ ذبح کیا - پھر خواب آیا اس سے بھی بڑی چیز پیش کرو - انھوں نے پوچھا " اس سے بھی بڑی چیز کیا ہے " تب کہا گیا :
" اپنے بیٹوں میں سے کسی کو ذبح کرو جیسا کہ تم نے منّت مانی تھی "
اب انھیں اپنی منّت یاد آئی - اپنے بیٹوں کو جمع کیا - ان سے منّت کا ذکر کیا - سب کے سر جھُک گئے " کون خود کو ذبح کرواتا " آخر عبداللہ بولے
" ابّاجان آپ مجھے ذبح کردیں "
یہ سب سے چھوٹے تھے - سب سے خوبصورت تھے - سب سے ذیادہ محبّت بھی عبدالمطلِّب کو انہیں سے تھی لہٰذا انھوں نے قرعہ اندازی کرنے کا ارادہ کیا - تمام بیٹوں کے نام لکھکر قرعہ ڈالا گیا - عبداللہ کا نام نکلا اب انھوں نے چُھری لی " عبداللہ کو بازو سے پکڑا اور انھیں ذبح کرنے کے لیے نیچے لٹادیا۔
جونہی باپ نے بیٹے کو لٹایا " عبّاس سے ضبط نہ ہوسکا, فوراً آگے بڑھے اور بھائی کو کھینچ لیا " اس وقت یہ خود بھی چھوٹے سے تھے " ادھر باپ نے عبداللہ کو کھینچا " اس کھینچا تانی میں عبداللہ کے چہرے پر خراشیں بھی آئیں " ان خراشوں کے نشانات مرتے دم تک باقی رہے -
اسی دوران بنو مخزوم کے لوگ آگئے انھوں نے کہا :
آپ اس طرح بیٹے کو ذبح نہ کریں , اس کی ماں کی زندگی خراب ہوجائے گی, "اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے بیٹے کا فدیہ دے دیں "
اب سوال یہ تھا کہ فدیہ کیا دیا جائے, اس کی ترکیب یہ بتائی گئی کہ کاغذ کے ایک کاغذ پر دس اونٹ لکھے جائیں , دوسرے پر عبداللہ کا نام لکھا جائے, اگر دس اونٹ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ قربان کردئے جائیں , اگر عبداللہ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ کا اضافہ کردیا جائے - پھر بیِس اونٹ والی پرچی اور عبداللہ والی پرچی ڈالی جائے - اب اگر بیِس اونٹ والی پرچی نکلے تو بیِس اونٹ قربان کردئے جائیں , ورنہ دس اونٹ اور بڑھادئیے جائیں , اس طرح دس دس کرکے اونٹ بڑھاتے جائیں -
عبدالمطلب نے ایسا ہی کیا ہے " دس دس اونٹ بڑھاتے چلے گئے " ہر بار عبداللہ کا نام نکلتا چلا گیا , یہاں تک اونٹوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی - تب کہیں جاکر اونٹوں والی پرچی نکلی - اس طرح ان کی جان کے بدلے سو اونٹ قربان کئیے گئے - عبدالمطلب کو اب پورا اطمینان ہوگیا کہ اللہ تعالٰی نے عبداللہ کے بدلہ سو اونٹوں کی قربانی منظور کرلی ہے - انھوں نے کعبے کے پاس سو اونٹ قربان کئیے اور کسی کو کھانے سے نہ روکا " سب انسانوں , جانوروں اور پرندوں نے ان کو کھایا -
امام زہری کہتے ہیں کہ عبدالمطلِّب پہلے آدمی ہے جنہوں نے آدمی کی جان کی قیمت سو اونٹ دینے کا طریقہ شروع کیا - اس سے پہلے دس اونٹ دیے جاتے تھے - اس کے بعد یہ طریقہ سارے عرب میں جاری ہوگیا - گویا قانون بن گیا کہ آدمی کا فدیہ سو اونٹ ہے - نبی کریم ﷺ کے سامنے جب یہ ذکر آیا تو آپ نے اس فدیہ کی تصدیق فرمائی، یعنی فرمایا کہ یہ درست ہے
اور اسی بنیاد پر نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں :
میں دو ذبیحوں یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت عبداللہ کی اولاد ہوں
حضرت عبداللہ قریش میں سب سے زیادہ حسین تھے ان کا چہرہ روشن ستارہ کی ماند تھا قریش کی بہت سی لڑکیاں ان سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر حضرت عبداللہ کی حضرت آمنہ سے شادی ہوئ۔
حضرت آمنہ وہب بن عبدمناف بن زہرہ کی بیٹی تھیں شادی کے وقت حضرت عبداللہ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
یہ شادی کے لیئے اپنے والد کے ساتھ جارہے تھے راستہ میں ایک عورت کعبہ کے پاس بیٹھی نظر آئ، یہ عورت ورقہ بن نوفل کی بہن تھی۔ورقہ بن نوفل قریش کے ایک بڑے عالم تھے۔ورقہ بن نوفل سے ان کی بہن نے سن رکھا تھا کہ وقت کے آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہےاور انکی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہوگی کہ ان کے والد کے چہرے میں نبوت کا نور چمکتا ہوگا۔جونہی اس نے عبداللہ کو دیکھا فوراﹰ اس کے ذہن میں یہ بات آئ، اس نے سوچا ہونہ ہو یہ وہ وہ شخص ہے جو پیدا ہونے والے نبی کے باپ ہوں گے ۔چنانچہ اس نے کہا:
"اگر تم مجھ سے شادی کرلو تو میں بدلہ میں تمہیں اتنے ہی اونٹ دوں گی جتنے تمہاری جان کے بدلے میں ذبح کئے گئے تھے۔"
اس پر انہوں نے جواب دیا:
"میں اپنے باپ کے ساتھ ہوں ۔ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا۔نہ ان سے الگ ہوسکتا ہوں اور میرے والد باعزت آدمی ہیں ، اپنی قوم کے سردار ہیں ۔"
بہر حال انک شادی حضرت آمنہ سے ہوگئ۔اپ قریش کی عورتوں میں نسب اور مقام کے اعتبار سے افضل تھیں -
حضرت آمنہ، حضرت عبداللٰہ کے گھر آگئیں - آپ فرماتی ہیں :
"جب میں ماں بننے والی ہوئی تو میرے پاس ایک شخص آیا، یعنی ایک فرشتہ انسانی شکل میں آیا - اس وقت میں جاگنے اور سونے کے درمیانی حالت میں تھی(عام طور پر اس حالت کو غنودگی کہاجاتاہے) - اس نے مجھ سے کہا:
"کہا تمہیں معلوم ہے، تم اس امت کی سردار اور نبی کی ماں بننے والی ہو۔"
اس کے بعد وہ پھر اس وقت آیا جب نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم پیدا ہونے والے تھے - اس مرتبہ اس نے کہا:
"جب تمہارے ہاں پیدائش ہو تو کہنا:
"میں اس بچے کے لیے اللٰہ کی پناہ چاہتی ہوں ، ہر حسد کرنے والے کے شر اور برائی سے - پھر تم اس بچے کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ ان کا نام تورات میں احمد ہے اور زمین اور آسمان والے ان کی تعریف کرتے ہیں ، جب کہ قرآن میں ان کا نام محمد ہے، اور قرآن ان کی کتاب ہے - "(البدایہ والنہایہ)
ایک روایت کے مطابق فرشتے نے ان سے یہ کہا:
"تم وقت کے سردار کی ماں بننے والی ہو، اس بچے کی نشانی یہ ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک نور ظاہر ہوگا، جس سے ملک شام اور بصرٰی کے محلات بھر جائیں گے - جب وہ بچہ پیدا ہوجائے گا تو اس کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ تورات میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں ، اور انجیل میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں اور قرآن میں ان کا نام محمد ہے -"(البدایہ والنہایہ)
حضرت عبداللٰہ کے چہرے میں جو نورچمکتا تھا، شادی کے بعد وہ حضرت آمنہ کے چہرے میں آگیا تھا -
امام زہری فرماتے ہیں ، حاکم نے یہ روایت بیان کی ہےاوراس کوصحیح قراردیا ہے کہ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم نے حضور نبی کریم صلی اللٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
"اے اللٰہ کے رسول! ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتایئے-"
آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں ، اپنے بھائی عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور خوشخبری ہوں ، جب میں اپنی والدہ کے شکم میں آیا تو انہوں نے دیکھا، گویا ان سے ایک نور ظاہر ہوا ہے جس سے ملک شام میں بصرٰی کے محلات روشن ہوگئے - "
حضرت آمنہ نے حضرت حلیمہ سعدیہ سے فرمایا تھا:
"میرے اس بچے کی شان نرالی ہے، یہ میرے پیٹ میں تھے تو مجھے کوئی بوجھ اور تھکن محسوس نہیں ہوئی۔"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ آخری پیغمبر ہیں جنہوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ
وسلم کی آمد کی خوشخبری سنائی ہے - اس بشارت کا ذکر قرآن میں بھی ہے، سورہ صف میں اللّٰہ تعالٰی فرماتے ہیں :
"اور اسی طرح وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے فرمایا کہ: اے بنی اسرائیل! میں تمہارے پاس اللّٰہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات آچکی ہے، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والا ہیں ، ان کا نامِ مبارک احمد ہوگا، میں ان کی بشارت دینے والا ہوں ۔"
اب چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ بشارت سناچکے تھے، اس لیے ہر دور کے لوگ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آمد کا بےچینی سے انتظار کررہے تھے، ادھرآپ کی پیدائش سے پہلے ہی حضرت عبداللّٰہ انتقال کرگئے - سابقہ کتب میں آپ کی نبوت کی ایک علامت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ آپ کے والد کا انتقال آپ کی ولادت سے پہلے ہوجائے گا - حضرت عبداللہ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ تجارت کے لیے گئے تھے، اس دوران بیمار ہوگئے اور کمزور ہوکر واپس لوٹے - قافلہ مدینہ منورہ سے گزرا تو حضرت عبداللہ اپنی ننھیال یعنی بنو نجار کے ہاں ٹھہرے - ان کی والدہ بنو نجار سے تھیں ، ایک ماہ تک بیمار رہے اور انتقال کرگئے - انہیں یہیں دفن کردیا گیا -
تجارتی قافلہ جب حضرت عبداللہ کے بغیر مکہ مکرمہ پہنچا اور عبدالمطلب کو پتا چلا کہ ان کے بیٹے عبداللہ بیمار ہوگئے ہیں اور مدینہ منورہ میں اپنی ننھیال میں ہیں تو انہیں لانے کے لیے عبدالمطلب نے اپنے بیٹے زبیر کو بھیجا - جب یہ وہاں پہنچے تو عبداللہ کا انتقال ہوچکا تھا - مطلب یہ کہ آپ ﷺ اس دنیا میں اپنے والد کی وفات کے چند ماہ بعد تشریف لائے -

☆☆☆
جاری ہے ۔۔۔۔۔!

*مصنف : عبداللہ فارانی*
*کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم*( *سبق آموز کہانیاں)*
* کاوش *استاذ میر اسامہ*
*سیرت النبیﷺ کی اگلی قسط جلدی حاصل کرنے کے لیے رئیکٹ کریں* ❤️

🌴 سیرت النبی ﷺقسط نمبر 01✨ حضرت محمد ﷺ کے مبارک نسب اور زمزم کے کنویں کی دوبارہ دریافت کا ایمان افروز واقعہ ✨حضرت ابراہی...
19/05/2026

🌴 سیرت النبی ﷺ

قسط نمبر 01

✨ حضرت محمد ﷺ کے مبارک نسب اور زمزم کے کنویں کی دوبارہ دریافت کا ایمان افروز واقعہ ✨

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے 12 بیٹے تھے۔ ان کی نسل اس قدر بڑھی کہ مکہ مکرمہ میں نہ سما سکی اور پورے حجاز میں پھیل گئی۔ ان ہی کی اولاد میں قیدار، پھر عدنان، معد، نزار اور مضر پیدا ہوئے۔ مضر کی نسل سے قریش بن مالک پیدا ہوئے جنہیں فہر بن مالک بھی کہا جاتا ہے۔

قریش کی نسل آگے چل کر مختلف قبیلوں میں تقسیم ہوگئی۔ انہی میں قصیّ نے اقتدار حاصل کیا۔ قصیّ کے بیٹے عبد مناف ہوئے اور ان کی نسل میں ہاشم پیدا ہوئے۔

ہاشم نے مدینہ منورہ کے ایک سردار کی بیٹی سے نکاح کیا۔ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام شیبہ رکھا گیا۔ ابھی وہ چھوٹے ہی تھے کہ ہاشم کا انتقال ہوگیا۔ بعد میں ان کے چچا مطلّب انہیں مدینہ سے مکہ لے آئے۔ لوگوں نے سمجھا یہ مطلّب کا غلام ہے، اسی وجہ سے انہیں عبدالمطلب کہا جانے لگا۔

عبدالمطلب کے کئی بیٹے تھے جن میں حضرت ابوطالب، حضرت حمزہؓ، حضرت عباسؓ، عبداللہ، ابولہب اور دیگر شامل تھے۔ انہی کے بیٹے حضرت عبداللہؓ سے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پیدا ہوئے۔ ❤️

✨ زمزم کی دوبارہ دریافت

عبدالمطلب کو خواب میں بار بار حکم دیا گیا کہ زمزم کا کنواں کھودو۔ ابتدا میں انہیں “طیبہ”، “برّہ” اور “مضنونہ” جیسے الفاظ سنائے گئے، پھر آخرکار واضح طور پر کہا گیا:

«“زمزم کھودو، وہ پانی جو کبھی ختم نہیں ہوتا اور حاجیوں کو سیراب کرتا ہے۔”»

انہیں جگہ کی نشانی بھی بتائی گئی:
📍 جہاں خون اور گندگی ہو
📍 اور ایک کوّا ٹھونگیں مار رہا ہو

اگلے دن عبدالمطلب اپنے بیٹے حارث کے ساتھ وہاں پہنچے۔ نشانی بالکل ویسی ہی تھی۔ انہوں نے کھدائی شروع کردی، لیکن قریش نے مخالفت کی کیونکہ وہاں ان کے بت موجود تھے۔

عبدالمطلب نے فرمایا:

«“مجھے جس کام کا حکم دیا گیا ہے، میں اسے ضرور پورا کروں گا۔”»

بالآخر کھدائی جاری رہی اور جلد ہی کنویں کے آثار ظاہر ہوگئے۔ یہ دیکھ کر عبدالمطلب نے “اللہ اکبر” کا نعرہ بلند کیا۔

🌊 بیابان میں پانی کا معجزہ

جب قریش نے زمزم میں حصہ مانگا تو فیصلہ کے لیے سب لوگ شام کی طرف ایک کاہنہ کے پاس روانہ ہوئے۔ راستے میں پانی ختم ہوگیا اور سب پیاس سے بے حال ہوگئے۔

اسی دوران عبدالمطلب کی سواری کے پاؤں کے نیچے سے اچانک پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ سب نے سیر ہوکر پانی پیا۔ قریش نے یہ معجزہ دیکھ کر کہا:

«“اللہ کی قسم! اب ہم زمزم کے معاملے میں آپ سے کبھی جھگڑا نہیں کریں گے۔”»

یوں سب واپس مکہ آگئے۔

⚔️ خزانے کی دریافت

مزید کھدائی پر کنویں سے سونا، چاندی، تلواریں اور زرہیں نکل آئیں۔ قریش نے اس میں حصہ مانگا، مگر فیصلہ قرعہ اندازی سے ہوا۔

✔️ مال و دولت کعبہ کے حصے میں آیا
✔️ تلواریں اور زرہیں عبدالمطلب کے حصے میں آئیں
✔️ قریش کے حصے میں کچھ نہ آیا

عبدالمطلب نے سونے سے کعبہ کے دروازے کو مزین کردیا۔ ✨

اسی موقع پر انہیں اپنی ایک پرانی منت یاد آئی کہ:

«“اگر اللہ زمزم کی کھدائی آسان کردے تو میں اپنے ایک بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کروں گا۔”»

اب انہیں خواب میں حکم دیا گیا:

⚠️ “اپنی منت پوری کرو…”

☆☆☆
جاری ہے ۔۔۔۔۔!

📖 مصنف: عبداللہ فارانی
📚 کتاب: سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم
✍️ کاوش: استاذ میر اسامہ
❤️ اگلی قسط جلد حاصل کرنے کے لیے ری ایکٹ ضرور کریں

19/05/2026

بےشک اللہ اور اُس کے فرشتے آپ ﷺ پر دُرود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو۔۔!! تم بھی اُن ﷺ پر دُرود و سلام بھیجو۔۔۔!! 🌸

‏اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبرَاهِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبرَاهِیْمَ اِنَّکَ حَمیْدٌ مَّجِیْدٌ○
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارکْتَ عَلٰی اِبرَاهِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبرَاهِیْمَ اِنَّکَ حَمیْدٌ مَّجِیْدٌ○
#تلاوة

خواب وہی پورے ہوتے ہیں جن کے لیے نیند قربان کی جائے۔ 💯آج محنت کرو، کل کامیابی خود شور مچائے گی۔ 🚀✨MUSK AL BADRI FRAGRANC...
19/05/2026

خواب وہی پورے ہوتے ہیں جن کے لیے نیند قربان کی جائے۔ 💯
آج محنت کرو، کل کامیابی خود شور مچائے گی۔ 🚀✨
MUSK AL BADRI FRAGRANCE 🌙

*ذی الحج کا مہینہ شروع ہو رہا ہے۔**قربانی کے خواہشمند تمام افراد کے لیے بال اور ناخن تراشنے کی آخری تاریخ ہفتہ/اتوار 16 ...
17/05/2026

*ذی الحج کا مہینہ شروع ہو رہا ہے۔*
*قربانی کے خواہشمند تمام افراد کے لیے بال اور ناخن تراشنے کی آخری تاریخ ہفتہ/اتوار 16 یا 17 مئی 2026 ہے۔ جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے ان کے لیے بھی یہ عمل مستحب ہے ۔دوسروں کو بھی یاد دلائیں کیونکہ ہم میں سے اکثر بھول جاتے ہیں!*
#السلام٠عليكم٠ورحمة٠الله

08/05/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔
تلاوت قرآن پاک کی رحمت سے ایمان تازگی کا سبق سن کر جائیں ۔۔
#قرانكريم #تلاوة

29/04/2026

۔

جنگ کا مطلب کیا ہے؟🥀

ایک بچہ دھماکے سے سڑک پر پھینک دیا جاتا ہے،
نہ کوئی نام، نہ کوئی آواز، نہ کوئی ساتھی۔
پھر اس کا چہرہ ایک تصویر بن جاتا ہے،
ایک اسکرین سے دوسری اسکرین تک گردش کرتا ہوا،
صرف ایک سوال پوچھتا ہوا ...
کیا کوئی اس بچے کو جانتا ہے ؟!
اور کبھی کبھی …
کوئی جواب نہیں دیتا۔💔


۔شِفا تو ہر وقتــــ مانگنی چاہیے، صرفــــ بیماریوں سے نہیں حد سے بڑھی ہوئی خواہشاتــــ سےکسی کے خلاف پیدا ہونے والے بغض ...
29/04/2026

۔

شِفا تو ہر وقتــــ مانگنی چاہیے،
صرفــــ بیماریوں سے نہیں
حد سے بڑھی ہوئی خواہشاتــــ سے
کسی کے خلاف پیدا ہونے والے بغض
اور حسد سے
دل کو گرد آلود کر دینے والی سوچوں سے
ذہنی سکون چھین لینے والے انسانوں سے ۔ ۔ 🍁🤎

*مساء الخیــــــــــــــــــر .......☕*

Address


Telephone

+923042696596

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Muhammad Kashif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hafiz Muhammad Kashif:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share