Hafiz Muhammad Kashif

  • Home
  • Hafiz Muhammad Kashif

Hafiz Muhammad Kashif Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hafiz Muhammad Kashif, Digital creator, .

حافظِ قرآن | قرآن ٹیچر 📖
ناظرہ و حفظ قرآن آن لائن کلاسز 🌍
تجوید کے ساتھ آسان اور دوستانہ تدریس ✨

📞 WhatsApp: 03042696596

Hafiz-e-Quran | Quran Teacher 📖
Nazra & Hifz Online Classes 🌍
Teaching with Tajweed in a simple, friendly way
You can contact.

بیوی کے انتقال کے دن حامد صاحب کی عمر صرف پینتالیس برس تھی۔تعزیت کے لیے آنے والے ہر شخص نے ایک ہی مشورہ دیا۔"حامد، ابھی ...
11/07/2026

بیوی کے انتقال کے دن حامد
صاحب کی عمر صرف پینتالیس برس تھی۔
تعزیت کے لیے آنے والے ہر شخص نے ایک ہی مشورہ دیا۔
"حامد، ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ دوسری شادی کر لو۔"
وہ ہر بار مسکرا دیتے، پھر اپنے
بارہ سالہ بیٹے عمار کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے، "
اللہ نے مجھے اس کی صورت میں میری بیوی کی آخری امانت دے دی ہے۔ اب میری باقی زندگی اسی امانت کی حفاظت ہے۔"

اس کے بعد انہوں نے واقعی اپنی زندگی بیٹے کے نام کر دی۔ کاروبار بڑھتا گیا، مگر ان کی دنیا سمٹ کر صرف ایک لڑکے کی مسکراہٹ رہ گئی۔ اپنی خواہشیں، اپنی تنہائیاں، اپنی راتیں... سب انہوں نے خاموشی سے دفن کر دیں۔

وقت نے پلٹا کھایا۔

عمار جوان ہوا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اور ایک دن باپ نے سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔

"اب تم سنبھالو۔ میں تھک گیا ہوں۔"

لیکن تھکن جسم کی نہیں تھی... رشتے کی تھی، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا رہے تھے۔

پھر عمار کی شادی ہو گئی۔

گھر میں نئی ہنسی آئی، نئے پردے لگے، فرنیچر بدلا، برتن بدلے، حتیٰ کہ باورچی خانے کی ترتیب بھی بدل گئی۔

اور حامد صاحب؟

وہ بھی بدل گئے۔

اب وہ کبھی دفتر میں بیٹھے رہتے، کبھی کسی پرانے دوست کی دکان پر چائے پیتے، اور شام ڈھلے صرف سونے کے لیے گھر لوٹتے۔ اپنے ہی گھر میں وہ ایسے چلتے جیسے کسی اور کے مکان میں مہمان ہوں۔

ایک دوپہر سب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے تھے۔

حامد صاحب نے روٹی کا آخری نوالہ توڑتے ہوئے نرمی سے کہا،

"بیٹا... اگر ذرا سا دہی ہو تو دے دو۔"

باورچی خانے سے بہو کی آواز آئی،

"آج گھر میں دہی نہیں ہے، ابا جی۔"

"اچھا..." انہوں نے پانی کا گھونٹ لیا اور خاموشی سے اٹھ گئے۔

کسی نے ان کے چہرے پر نظر نہیں ڈالی۔

وہ حسبِ معمول واک کے لیے نکل گئے۔

ان کے جاتے ہی بہو نے فریج کھولا، ٹھنڈی دہی کی پیالی نکالی اور عمار کے سامنے رکھ دی۔

"گرمی بہت ہے، دہی کے بغیر تمہارا کھانا مکمل نہیں ہوتا۔"

عمار نے پیالی کی طرف دیکھا۔

پھر دروازے کی طرف، جہاں سے ابھی ابھی اس کے باپ کی آہستہ آہستہ دور ہوتی چپلوں کی آواز گم ہوئی تھی۔

اس نے ایک لمحے کو بیوی کی آنکھوں میں دیکھا۔

پھر خاموشی سے دہی کھا لی۔

اس نے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔

کوئی نصیحت نہیں کی۔

صرف اس دن کے بعد اس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

چند روز گزرے۔

ایک صبح اس نے والد سے کہا،

"ابا، آج دس بجے تیار رہیے گا۔ ہمیں کچہری جانا ہے۔"

"کیوں؟"

"آپ کی شادی ہے۔"

حامد صاحب کے ہاتھ سے اخبار پھسل گیا۔

"پاگل ہو گئے ہو؟ اس عمر میں؟ مجھے کسی شادی کی ضرورت نہیں۔ میں نے تو ساری زندگی تمہارے لیے گزاری ہے۔"

عمار نے پہلی بار باپ کی آنکھوں میں ویسے دیکھا جیسے ایک مرد دوسرے مرد کی قربانی کو پہچانتا ہے۔

"ابا... میں آپ کے لیے ماں نہیں لا رہا، نہ اپنی بیوی کے لیے ساس۔"

وہ رکا، پھر دھیرے سے بولا،

"میں صرف آپ کے لیے ایک پیالی دہی کا بندوبست کر رہا ہوں۔"

کمرے میں ایسی خاموشی اتری کہ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک بھی شرمندہ محسوس ہونے لگی۔

عمار نے جیب سے گھر کی چابی نکالی اور میز پر رکھ دی۔

"آج شام میں اور میری بیوی کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہو جائیں گے۔ کل سے میں آپ کے دفتر میں صرف ایک ملازم کی حیثیت سے آؤں گا، تنخواہ لوں گا... تاکہ جس گھر کی ہر چیز آپ نے ہمیں دے دی، وہاں رہنے والوں کو ایک پیالی دہی کی قیمت سمجھ آ جائے۔"

باورچی خانے میں کھڑی بہو کے ہاتھ سے شیشے کا گلاس چھوٹ کر فرش پر بکھر گیا۔

ٹوٹنے کی آواز معمولی تھی، مگر اس کے اندر برسوں سے جمی ہوئی خود غرضی میں ایک دراڑ پڑ چکی تھی۔

وہ لرزتے قدموں سے باہر آئی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ فریج سے دہی کی وہی پیالی نکالی، جسے چند لمحے پہلے اس نے صرف اپنے شوہر کے لیے محفوظ رکھا تھا، اور خاموشی سے حامد صاحب کے سامنے رکھ دی۔

پھر ان کے قدموں میں بیٹھ گئی۔

"ابا جی... مجھے معاف کر دیجیے۔ آج سمجھ آئی ہے کہ میں نے آپ سے دہی نہیں، آپ کا حق چھینا تھا۔"

حامد صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر ان کی آنکھوں میں ایسی نمی تھی جو صرف بڑھاپے کی تنہائی جانتی ہے۔

انہوں نے دھیرے سے کہا،

"بیٹی... بھوک روٹی نہ ملنے سے نہیں لگتی... بھوک اس دن لگتی ہے جب اپنے ہی گھر میں انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اضافی ہے۔"

عمار نے آگے بڑھ کر باپ کے ہاتھ تھام لیے۔

اس روز نہ کوئی عدالت گئی، نہ کوئی نکاح ہوا، نہ کوئی گھر بکھرا۔

صرف ایک دسترخوان پر بیٹھے تین لوگوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنا سیکھ لیا۔

اور اس دن کے بعد اس گھر میں دہی کبھی ختم نہیں ہوئی...

کیونکہ بہو نے فریج میں دہی رکھنے سے پہلے اپنے دل میں احترام رکھنا سیکھ لیا تھا۔

رشتے روٹی سے نہیں نبھتے، عزت سے نبھتے ہیں؛ اور جس گھر میں بزرگ کی عزت کم ہو جائے، وہاں نعمتیں چاہے جتنی بھی ہوں، برکت خاموشی سے دروازہ چھوڑ جاتی ہے۔

HAFIZ M KASHIF

04/07/2026

Muslim or Jannat ka Tukra
M***i Hasan Sahib

Ameen bol kr likh kr jaen ALLAh pak sub ki Mushkilom ko Asaan Farma den Ameen
04/07/2026

Ameen bol kr likh kr jaen
ALLAh pak sub ki Mushkilom ko Asaan Farma den Ameen

ایک بزرگ نے اپنے شاگرد سے کہا: "بیٹا، ایک گلاس پانی لاؤ، مگر اس میں مٹی ملا دینا۔" شاگرد نے مٹی ملائی اور گلاس پیش کر دی...
01/07/2026

ایک بزرگ نے اپنے شاگرد سے کہا: "بیٹا، ایک گلاس پانی لاؤ، مگر اس میں مٹی ملا دینا۔"

شاگرد نے مٹی ملائی اور گلاس پیش کر دیا۔ پانی بالکل گدلا ہو گیا تھا۔
استاد نے کہا: "اسے ایک طرف رکھ دو اور چپ کر کے بیٹھ جاؤ۔"

ایک گھنٹے بعد استاد نے پوچھا: "اب کیا نظر آ رہا ہے؟"
شاگرد نے دیکھا تو مٹی نیچے بیٹھ چکی تھی اور پانی بالکل صاف تھا۔

استاد مسکرا کر بولے: "بیٹا، دل بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔
جب غصہ، دھوکہ، یا جھوٹ کی مٹی پڑتی ہے تو سچ نظر نہیں آتا۔
بس تھوڑا صبر کرو، خاموش ہو جاؤ۔ وقت خود مٹی کو نیچے بٹھا دے گا،
اور سچ خود بخود اوپر آ کر صاف نظر آ جائے گا۔" 🤍

---

*سبق*: جلد بازی میں فیصلہ مت کرو۔ سچ چھپ نہیں سکتا، بس اسے وقت چاہیے۔

Kon Kon agree hai ..?
01/07/2026

Kon Kon agree hai ..?

.آخرکار ایک دن ہم زندگی کے مشکل دنوں کو تو بھول جائیں گے، مگر اُن لوگوں کو کبھی نہیں بھولیں گے جو اُن کٹھن لمحوں میں ہما...
30/06/2026

.

آخرکار ایک دن ہم زندگی کے مشکل دنوں کو تو بھول جائیں گے، مگر اُن لوگوں کو کبھی نہیں بھولیں گے جو اُن کٹھن لمحوں میں ہمارا سہارا بن کر ہمارے ساتھ کھڑے رہے تھے۔ یہی لوگ ہماری دعاؤں اور یادوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔🧡🥀

*مساء الخیــــــــــــــــــر .....☕*

Assalamu alaikum Good Night
30/06/2026

Assalamu alaikum
Good Night

29/06/2026

آتے ہیں اپنے ہی گھر میں مہمان بن کر

واہ اے۔ قسمت کیا بچن دیا ہمیں ۔،😭😭😭😭😭
29/06/2026

واہ اے۔ قسمت کیا بچن دیا ہمیں ۔
،😭😭😭😭😭

Address


Telephone

+923042696596

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Muhammad Kashif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hafiz Muhammad Kashif:

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share