22/05/2026
آج المسجد الحرام اور خانہ کعبہ کے اردگرد گرمی کی شدت اپنے عروج پر تھی۔ اگرچہ درجہ حرارت تقریباً پینتالیس ڈگری تھا، مگر محسوس ایسے ہو رہا تھا جیسے اڑتالیس یا پچاس ڈگری ہو۔ سورج کی تپش، گرم ہوائیں اور جلتی ہوئی زمین انسان کے جسم کو جھلسا دینے کے لیے کافی تھیں، لیکن اس کے باوجود لاکھوں حجاجِ کرام کے قدم نہ رکے۔ حج کے ایام قریب آنے کی وجہ سے سعودی انتظامیہ نے شٹل بس سروس عارضی طور پر بند کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ اپنے ہوٹلوں سے پیدل ہی جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے خانہ کعبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ان میں بوڑھے بھی تھے، نوجوان بھی، بیمار بھی اور کمزور بھی۔ کئی ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے ملکوں میں آدھا کلومیٹر پیدل چلنے سے بھی گھبراتے ہیں، جو سخت گرمی میں گھر سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتے، لیکن آج وہی لوگ پانچ، دس بلکہ بیس بیس کلومیٹر تک پیدل چل رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں چھتری تھی، کوئی پانی کی بوتل اٹھائے ہوئے تھا، کسی کے چہرے پر تھکن نمایاں تھی، مگر دلوں میں ایک عجیب سکون، آنکھوں میں محبت، اور قدموں میں عبادت کی طاقت تھی۔
میں خود بھی اس کیفیت کو محسوس کر رہا ہوں۔ میرے پاؤں پر چوٹ لگی ہوئی ہے، یہاں تک کہ پاؤں کا ناخن بھی متاثر ہوا، چلنے میں تکلیف بھی ہوتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا کرم دیکھیے کہ اس کے باوجود میں الحمدللہ چل کر طواف بھی کر رہا ہوں، عمرہ بھی ادا کر رہا ہوں، اور یہ سب صرف اللہ کی رحمت اور اس کی عطا ہے۔ انسان اپنی طاقت سے نہیں بلکہ اللہ کے سہارے سے چلتا ہے۔ جب نیت خالص ہو اور مقصد اللہ کی رضا ہو تو پھر جسم کی تھکن، درد اور مشکلات بھی عبادت کا حصہ محسوس ہونے لگتی ہیں۔ یہی وہ کیفیت ہے جو حج اور عمرے کو دنیا کی ہر عبادت سے منفرد بناتی ہے۔
یہ منظر صرف جسمانی سفر کا نہیں بلکہ روحانی عشق کا منظر تھا۔ یہ جذبہ صرف دنیاوی مقصد کے لیے نہیں ہو سکتا، یہ صرف اللہ کی رضا، اس کی محبت اور اس کے گھر کی حاضری کا اثر ہے۔ جب بندہ اپنے رب کی محبت میں نکلتا ہے تو پھر دھوپ کی شدت، تھکن، فاصلہ اور مشکلات سب چھوٹی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ ہر قدم پر زبانوں پر ذکرِ الٰہی تھا، دلوں میں دعا تھی اور آنکھوں میں عقیدت۔ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ آخر کون سی طاقت ہے جو مختلف زبانوں، رنگوں اور ملکوں کے لوگوں کو ایک ہی مرکز کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ یہ وہی ایمان کی طاقت ہے جو انسان کو اپنے آرام، اپنی نیند اور اپنی خواہشات قربان کرنے پر آمادہ کر دیتی ہے۔ واقعی، حج صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ عشق، صبر، قربانی اور اللہ سے سچی محبت کا عملی اظہار