Explore Nama

Explore Nama Welcome to Explore Nama– Explore eye-opening documentaries & facts on history, science, culture & more.
🌍 Discover. Learn.

Stay Informed.
📽️ New content weekly – follow us!

اسلام آباد سانحے کے بعد مریم نواز نے بسنت کی تمام تقریبات منسوخ کر دیںاسلام آباد کے سانحے کے پیشِ نظر، میں کل کے لیے طے ...
06/02/2026

اسلام آباد سانحے کے بعد مریم نواز نے بسنت کی تمام تقریبات منسوخ کر دیں

اسلام آباد کے سانحے کے پیشِ نظر، میں کل کے لیے طے شدہ تمام بسنت سے متعلق سرگرمیاں منسوخ کر رہی ہوں۔ لبرٹی اسکوائر میں ہونے والا میگا بسنت شو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔**

**بعد از تحریر:**
یہ نہایت ضروری ہے کہ پوری قوم خوارجی فتنے اور ان کے ’ہمدردوں‘ کے خلاف متحد رہے، ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتے اور ملکی دفاع کے لیے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو۔







اسلام آباد میں خوفناک دھماکا: امام بارگاہ کے قریب متعدد ہلاکتیں اور زخمیاسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کلان میں امام...
06/02/2026

اسلام آباد میں خوفناک دھماکا: امام بارگاہ کے قریب متعدد ہلاکتیں اور زخمی

اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کلان میں امام بارگاہ کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ دھماکہ بارگاہ کے گیٹ یا داخلی حصے کے باہر ہوا، تاہم اس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اندر موجود نمازی بھی اس کی زد میں آ گئے۔

دھماکے کے وقت نماز اور اجتماع جاری تھا جس کے باعث جانی نقصان میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مختلف ذرائع کے مطابق اب تک 10 سے 15 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 60 سے 80 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تمام زخمیوں کو فوری طور پر پمز، پولی کلینک اور دیگر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ ہے اور طبی عملہ الرٹ ہے۔

واقعے کے فوراً بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا، تاہم اب تک کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے، لیکن تحقیقات جاری ہیں اور حتمی سرکاری اعداد و شمار کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ مزید پیش رفت سامنے آتے ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔









06/02/2026

اسلام آباد میں دھماکہ

اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کلان میں آج جمعہ کو ایک شدید دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکہ امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ کے قریب پیش آیا، جہاں اس وقت عبادت کے لیے لوگ موجود تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ گیٹ کے قریب ہوا، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ جانی نقصان کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ ہے۔

واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ دھماکے کی نوعیت اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

تاہم شہریوں کو متاثرہ علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں سرکاری تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔







یوم یکجہتی کشمیر – 5 فروری: یادگار دن اور ظلم کے خلاف آوازہر سال 5 فروری کو دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منای...
05/02/2026

یوم یکجہتی کشمیر – 5 فروری: یادگار دن اور ظلم کے خلاف آواز

ہر سال 5 فروری کو دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک یادگار دن اور آواز ہے اُن لاکھوں کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے لیے جو آزادی اور انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس دن کا مقصد صرف حمایت دکھانا نہیں، بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارت کے ظلم کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔

یوم یکجہتی کشمیر کا مقصد

یوم یکجہتی کشمیر 1990 میں شروع ہوا تاکہ پاکستان اور دنیا کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ کشمیری عوام آزادی اور حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ دن دنیا بھر کے لوگوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ:

کشمیری عوام کی زندگی روزانہ کرفیو، فائرنگ اور فوجی مظالم کے سائے میں گزرتی ہے۔

ان کے بنیادی انسانی حقوق جیسے آزادیِ اظہار، نقل و حرکت اور سیاسی شراکت مسلسل محدود کیے گئے ہیں۔

یہ ایک پرامن جدوجہد ہے جہاں لوگ صرف انصاف اور آزادی کی آواز بلند کر رہے ہیں۔

بھارت کے کشمیر پر ظلم

1947 کے بعد سے بھارت نے کشمیر پر مختلف طریقوں سے قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ آج بھی:

کرفیو اور رابطوں کی بندش معمول بن گئی ہے، لوگ اپنے گھروں میں محصور رہ جاتے ہیں۔

عام شہریوں پر فائرنگ اور گرفتاریاں عام ہیں؛ ہر سال لاکھوں لوگ بغیر مقدمے کے گرفتار کیے جاتے ہیں۔

سیاسی رہنما اور کارکن جیل میں ہیں یا ان کی آواز دبائی جاتی ہے۔

میڈیا اور بین الاقوامی صحافیوں کی رسائی محدود ہے تاکہ ظلم کی کہانی دنیا تک نہ پہنچے۔

یوم یکجہتی کشمیر یہ سب ظلم یاد دلاتا ہے اور دنیا سے کہتا ہے: “کشمیریوں کی آواز سنو، ان کا حق دو۔”

ہم کیا کر سکتے ہیں؟

آگاہی پھیلائیں اور سوشل میڈیا پر کشمیری جدوجہد کے حقائق شیئر کریں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور NGOs کو سپورٹ کریں جو کشمیری صورتحال پر نظر رکھتی ہیں۔

پرامن احتجاج اور کیمپین کے ذریعے ان کے ساتھ یکجہتی دکھائیں۔

یوم یکجہتی کشمیر صرف ایک دن نہیں، بلکہ ایک مشن ہے – دنیا کو یاد دلانے کا کہ آزادی اور انصاف سب کا حق ہے، اور کشمیری عوام بھی اس کے مستحق ہیں۔










لاہور میں بسنت کی مشروط اجازت: دن، علاقے اور قانونی کارروائی کی واضح ہدایاتحکومتِ پنجاب نے عوامی تحفظ اور ہوابازی کے تقا...
04/02/2026

لاہور میں بسنت کی مشروط اجازت: دن، علاقے اور قانونی کارروائی کی واضح ہدایات

حکومتِ پنجاب نے عوامی تحفظ اور ہوابازی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بسنت کو سخت نگرانی اور واضح شرائط کے ساتھ صرف لاہور میں منانے کی اجازت دی ہے۔ سرکاری حکم کے مطابق بسنت اور پتنگ بازی کی سرگرمیاں 6 فروری سے 8 فروری تک صرف تین دن کے لیے ہوں گی۔ ان تاریخوں کے علاوہ کسی بھی دن پتنگ بازی قانوناً ممنوع ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے تحت لاہور کے متعدد رہائشی علاقوں میں بسنت منانے کی اجازت دی گئی ہے، جن میں اندرونِ لاہور، گلبرگ، جوہر ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن، ٹاؤن شپ، والٹن روڈ کے اطراف اور دیگر رہائشی کالونیاں شامل ہیں۔ ان علاقوں میں بسنت کی تمام سرگرمیاں رجسٹرڈ پتنگ، منظور شدہ ڈور اور طے شدہ حفاظتی ضوابط کے تحت ہوں گی۔ خلافِ ضابطہ سامان کے استعمال پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

دوسری جانب شہر کے حساس اور اسٹریٹجک علاقوں میں بسنت اور پتنگ بازی پر مکمل اور غیر مشروط پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان علاقوں میں نشتر کالونی، بھٹہ چوک، نادر آباد، گلشنِ علی کالونی، الفیصل ٹاؤن، جوڑے پل، تاجپورہ، نہر کے کنارے واقع مخصوص علاقے اور ڈی ایچ اے کے وہ بلاکس شامل ہیں جو ایئرپورٹ اور فلائٹ روٹس کے قریب واقع ہیں۔ ان مقامات پر پابندی کی بنیادی وجہ ہوائی جہازوں کی پروازوں، انسانی جانوں اور اہم تنصیبات کا تحفظ ہے۔

پابندی والے علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے اور پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ قوانین کا اطلاق ہوگا۔ خلاف ورزی کی صورت میں فوری گرفتاری، بھاری جرمانہ اور قید کی سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ انتظامیہ کو زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کارروائی کا اختیار حاصل ہوگا۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ لاہور کے علاوہ پورے پنجاب میں بسنت اور پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار ہے۔ لاہور میں بسنت کو بطور آزمائشی اور کنٹرولڈ اقدام اجازت دی گئی ہے، جس کے نتائج اور حفاظتی صورتحال کی بنیاد پر مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور کسی بھی خلاف ورزی سے گریز کریں۔







چوہدری رحمت علی: پیدائش سے وفات تک ایک فکری سفرچوہدری رحمت علی برصغیر کی تاریخ کی ایک ایسی عظیم اور منفرد شخصیت تھے جنہو...
03/02/2026

چوہدری رحمت علی: پیدائش سے وفات تک ایک فکری سفر

چوہدری رحمت علی برصغیر کی تاریخ کی ایک ایسی عظیم اور منفرد شخصیت تھے جنہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا اور لفظ “پاکستان” دنیا کے سامنے متعارف کرایا۔ آپ کی زندگی جدوجہد، فکری بصیرت اور قربانی سے عبارت ہے۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

چوہدری رحمت علی 16 نومبر 1897ء کو ضلع ہوشیارپور (موجودہ بھارتی پنجاب) میں ایک مذہبی اور تعلیم یافتہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہندوستان ہی میں حاصل کی۔ شروع ہی سے ان میں مطالعہ، تاریخ اور سیاست میں گہری دلچسپی پائی جاتی تھی۔

تعلیم اور فکری تربیت

اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ انگلینڈ گئے جہاں آپ نے کیمبرج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ یہاں رہتے ہوئے آپ نے برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل پر گہرا غور و فکر شروع کیا۔ یہی وہ دور تھا جب آپ کے ذہن میں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ مملکت کا واضح تصور ابھرنے لگا۔

تصورِ پاکستان

سن 1933ء میں چوہدری رحمت علی نے ایک تاریخی پمفلٹ شائع کیا جس کا عنوان تھا:
“Now or Never; Are We to Live or Perish Forever?”
اسی تحریر میں پہلی بار انہوں نے لفظ “PAKISTAN” پیش کیا، جو مسلم اکثریتی علاقوں کے ناموں کے ابتدائی حروف سے اخذ کیا گیا تھا۔ یہ تصور اس وقت کے سیاسی حلقوں کے لیے نیا اور جرات مندانہ تھا۔

جدوجہد اور اختلافات

اگرچہ تحریکِ پاکستان نے بعد میں عملی شکل اختیار کی، مگر چوہدری رحمت علی کا تصورِ پاکستان مسلم لیگ کے بعض رہنماؤں کے نظریے سے مختلف تھا۔ وہ ایک وسیع اور مضبوط مسلم ریاست کے حامی تھے۔ اختلافات کے باعث وہ مرکزی سیاسی دھارے سے الگ تھلگ رہے، لیکن ان کی فکری اہمیت اپنی جگہ مسلمہ رہی۔

قیامِ پاکستان کے بعد

1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد چوہدری رحمت علی پاکستان آئے، مگر ان کی توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ بعد ازاں وہ دوبارہ انگلینڈ چلے گئے جہاں انہوں نے کسمپرسی اور تنہائی میں زندگی گزاری۔ افسوس کہ جس شخص نے پاکستان کا نام دیا، وہ خود اس سرزمین پر مستقل قیام نہ کر سکا۔

وفات

چوہدری رحمت علی 3 فروری 1951ء کو انگلینڈ میں انتقال کر گئے۔ انہیں کیمبرج کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات ایک ایسے مفکر کا اختتام تھی جس نے تاریخ کا رخ موڑنے والا تصور پیش کیا۔

چوہدری رحمت علی کا نام تاریخِ پاکستان میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ وہ ایک مفکر، نظریہ ساز اور دور اندیش رہنما تھے جن کی سوچ نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نئی پہچان دی۔ قوم ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔









نیا سال 2026 مبارک ہوﷲکرے یہ نیا سال آپ کی زندگی کے تمام دکھ کم کرے، دل کو سکون دے اور ہر ادھورا خواب پورا ہونے کی امید ...
31/12/2025

نیا سال 2026 مبارک ہو
ﷲکرے یہ نیا سال آپ کی زندگی کے تمام دکھ کم کرے، دل کو سکون دے اور ہر ادھورا خواب پورا ہونے کی امید بنے یہ سال آپ کے لیے خوشیوں، کامیابیوں اور خوبصورت لمحوں سے بھرا ہو....
آمین








پاکستان بھر میں سال 2025 کی آخری سپر مون کا شاندار نظارہپاکستان بھر میں آج رات سال 2025 کی آخری سپر مون نے شہریوں کو حیر...
05/12/2025

پاکستان بھر میں سال 2025 کی آخری سپر مون کا شاندار نظارہ

پاکستان بھر میں آج رات سال 2025 کی آخری سپر مون نے شہریوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ ملک کے مختلف شہروں میں لوگ اس فلکیاتی منظر کو دیکھنے کے لیے گھروں کی چھتوں، پارکوں اور کھلے میدانوں میں جمع ہوئے، جبکہ سوشل میڈیا پر سپر مون کی تصاویر اور ویڈیوز کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق سپر مون اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب چاند اپنی بیضوی مدار میں زمین کے سب سے قریب آتا ہے، جس کی وجہ سے وہ معمول سے بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے۔ آج کی سپر مون میں چاند تقریباً 14 فیصد بڑا اور 30 فیصد زیادہ روشن نظر آیا۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت زیادہ تر شہروں میں صاف موسم نے شائقین کو اس نایاب منظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا۔ بچے، نوجوان اور بڑے سبھی موبائل فونز اور کیمروں کے ذریعے اس لمحے کو محفوظ کرنے میں مصروف رہے۔

فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلی سپر مون 2026 میں ہی دیکھی جا سکے گی، اس لیے آج کی رات فلکیات کے شائقین کے لیے خاص اہمیت رکھتی تھی۔









قدرتی آفت اور انسانی بحرانسائیکلون ڈیٹواہ نے سری لنکا کو شدید متاثر کیا ہے۔ پورے ملک کے 22 سے 25 اضلاع متاثر ہوئے، شدید ...
04/12/2025

قدرتی آفت اور انسانی بحران

سائیکلون ڈیٹواہ نے سری لنکا کو شدید متاثر کیا ہے۔ پورے ملک کے 22 سے 25 اضلاع متاثر ہوئے، شدید بارشیں اور لینڈ سلائیڈز آئیں، اور اس سے 410 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں لاپتہ ہوئے ہیں۔

متاثرہ علاقے انتہائی تباہ ہو چکے ہیں: تقریباً 1.5 ملین افراد متاثر ہوئے، ہزاروں مکانات تباہ، اور کئی سڑکیں اور پل بھی نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔

بہت سے لوگ اپنے گھروں کو واپس جانے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ زمین پر دراڑیں پڑ چکی ہیں اور کمزور و غیر محفوظ ڈھانچے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے متاثرین ریلیف مراکز میں رہنے پر مجبور ہیں۔

متاثرین کی امداد کے لیے بین الاقوامی اور پڑوسی ممالک سے امدادی ٹیمیں اور سامان بھیجا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان آرمی نے ریلیف ٹیم کے ساتھ امدادی سامان بھیجا ہے جو کولمبو پہنچ چکا ہے۔

معیشت اور حکومت کی کوششیں

باوجود اس بحران کے، حکومت معیشت کو سنبھالے رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے سری لنکا کے پاور سیکٹر ریفارمز اور ری نیو ایبل انرجی کے لیے فنڈنگ کی منظوری دی ہے تاکہ توانائی کا سیکٹر مستحکم کیا جا سکے۔

مالی اعتبار سے، حال ہی میں ایک اور دو سالہ ڈالر بانڈز فروخت کی گئیں اور حکومت نے 50 ملین ڈالر جمع کیے ہیں۔

مگر ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عالمی بینک (World Bank) کے مطابق سری لنکا میں غربت کی شرح ابھی بھی بہت زیادہ ہے۔ 2024 میں تقریباً 24.5 فیصد لوگ غربت کی زندگی گزار رہے تھے، یعنی عام عوام ابھی تک بحران کے بعد پوری طرح باہر نہیں آئے۔

معاشرتی تناظر اور نگرانی

سیلاب اور لینڈ سلائیڈز کی وجہ سے نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے، اور لوگ معاشی طور پر بھی بہت کمزور ہیں۔ زرعی نقصان — فصلیں تباہ ہونا — نے کسانوں کی آمدنی ختم کر دی ہے اور کئی افراد کو امداد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

حکومت اور بین الاقوامی اداروں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، مگر ان علاقوں تک رسائی ابھی بھی مشکل ہے، خاص طور پر پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں۔

خلاصہ: چیلنجز موجود مگر کوششیں جاری

فی الحال، سری لنکا ایک بڑے انسانی اور قدرتی بحران سے گزر رہا ہے، جو گھروں کی تباہی، نقل مکانی، غذائی اور معاشی بحران، اور امدادی ضرورتوں کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔ حکومت اور بین الاقوامی ادارے امداد فراہم کر رہے ہیں اور معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، مگر غربت، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی اور بحالی کے مسائل ابھی بھی برقرار ہیں۔










مکہ مکرمہ کی فضائی تصویر سوشل میڈیا پر وائرلمکہ مکرمہ کی ایک شاندار فضائی تصویر نے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا ہے۔...
04/12/2025

مکہ مکرمہ کی فضائی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

مکہ مکرمہ کی ایک شاندار فضائی تصویر نے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا ہے۔ اس تصویر میں مسلمانانِ عالم کے مقدس ترین مقام، خانہ کعبہ، خلا سے بھی ایک روشن نقطے کی صورت میں واضح دکھائی دے رہا ہے۔ صارفین نے تصویر کی خوبصورتی اور مقدس مقام کی روشنی کو سراہا اور اسے وائرل کر دیا۔










Address


54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Explore Nama posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Explore Nama:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share