08/01/2026
مودی اور اس کے حواری لاکھ چھپانے کی کوشش کریں،لیکن اہل کشمیر کی آنکھوں میں اب دھول نہیں جھونکی جاسکتی۔بھارتی نیشنل میڈیکل کمیشن کے اس فیصلے پر جموں کے ہندو انتہا پسندوں کے سوا ہر ایک مغموم اور مایوس ہے۔ظاہر ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی اکثریت مسلمانوں کی ہے اور بھارتی فیصلے سے مسلمان ہی پریشان اور مایوس ہوں گے۔05اگست2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی صدیوں پرانی ریاست کیساتھ جو کھلواڑ کیا گیا،اس پر جموں کے ڈوگروں نے شادیانے تو بجائے تھے،لیکن وقت نے انہیں ہمیشہ کی طرح غلط ثابت کیا،جس کا وہ آج کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں مسلمان طلبا کا داخلہ منسوخی مسلم برادری کیلئے باعث تشویش سہی اور یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ میرٹ کا قتل کیا گیا،البتہ جو ناعاقبت اندیش ہندو انتہا پسند اس حد درجہ ناانصافی اور مسلم دشمن اقدام پر خوشی منارہے ہیں ،آنے والے وقت میں انہیں اس کا بڑی شدت کیساتھ احساس ہوگا،کہ انہوں نے بھلائی کے مقابلے میں برائی کا انتخاب کیا ہے۔ڈاکٹرمذہب کی بنیاد پر علاج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کرتا اور نہ ہی میڈیکل کی تعلیم میں ذات پات یا مذہب کی ترغیب یا ترویج کی جاتی ہے،مسلمان، جنہوں نے ہمیشہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق افراط و تفریط کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کی خدمت میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا،آج ان کے بچے محض مسلمان ہونے کی بنیاد پر اپنی ہی سرزمین پر ہندو فسطائیت کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔
UrduPaper is a premium Urdu News & Magazine theme developed by StyloThemes. Super fast loading, built-in SEO settings and a lot of customization options.