K.M.C Sports Complex Skating Club

  • Home
  • K.M.C Sports Complex Skating Club

K.M.C Sports Complex Skating Club Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from K.M.C Sports Complex Skating Club, Digital creator, shop no 3, Al Mustafa centre, Khalid bin walid Road, .

25/12/2020



27/11/2020

Sir Farid has taught Usman one leg balance skating at Kmc Skating Class 💖

خاکے بنانے والے خاک میں مل جائیں گے لیکن ہمارے نبی ﷺ کا ذکر ہمیشہ بلند رہے گا
03/11/2020

خاکے بنانے والے خاک میں مل جائیں گے لیکن ہمارے نبی ﷺ کا ذکر ہمیشہ بلند رہے گا

29/09/2020

پاکستان کے لئے 60 ورلڈ ریکارڈ بنانے والا محمد راشد نسیم
کراچی سے تعلق رکھنے والے محمد راشد نسیم کی جانب سے پاکستان کیلئیے ایک اور اعزاز, بھارتی کھلاڑی کی جانب سے 239 اخروٹوں کو سر سے توڑ کر بنایا جانے والے ریکارڈ کو 254 اخروٹ توڑ کر روایتی حریف کو شکست دے دی اور ایک بار پھر گینز ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کرادیا,
راشد اب تک پاکستان کیلئیے 60 ورلڈ ریکارڈ بنا چکے ہیں۔

پاکستان_زندہ_باد

گزشتہ روز جب شہر میں سیلابی صورتحال کے باعث سارا شہر ڈوبا ہوا تھا لوگ دفاتر سے اپنے گھر کو جانے کیلئیے نکلے تو شہر کے مح...
28/08/2020

گزشتہ روز جب شہر میں سیلابی صورتحال کے باعث سارا شہر ڈوبا ہوا تھا لوگ دفاتر سے اپنے گھر کو جانے کیلئیے نکلے تو شہر کے محتلف علاقوں میں پھس گئے گاڑیاں اور بائیکیں پانی کی نظر ہوگئیں, شہر کے بزرگ, نوجوان, مائیں, بہنیں, بیٹیاں مختلف علاقوں میں شدید بارش کے باعث پھسے تھے اور یوں ہی سڑکوں پر زلیل و خوار ہورہے تھے وہیں دوسری جانب کراچی والو نے ایک بار پھر خدمت خلق اور ایک دوسرے کی مشکل وقت میں مدد کرنے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے گھروں کے دروازہ کھول دئیے سوشل میڈیا پر میسجز کا سلسلہ بن گیا کہ کوئی فلاں فلاں علاقہ میں پھسا ہوا ہے تو آج ہمارے گھر قیام کرلے کھانا بھی تیار ہے, لوگوں اپنی مدد آپ کے تحت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کا کام بھی سرانجام دینا شروع کردیا, بالکل اسی طرح اس شہر کراچی سے تعلق رکھنے والا یہ چھوٹو بھی ہے جو مکینک کا کام کرتا ہے جب کل شدید بارشوں کے باعث شہریوں کی بائیک اور گاڑیاں پانی میں بند ہونا شروع ہوئی تو اس نے اپنے ہنر کو خدمت خلق کیلئیے وقف کرتے ہوئے شہریوں کی گاڑیاں موقع پر مفت صحیح کرنا شروع کردی اس جیسے کئی نوجوان کل کراچی کی سڑکوں پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے دکھائی دئیے, سلام ہے کراچی والو کو جو کام حکومت کو کرنا تھا وہ اس شہر کے فرزند کل اپنی مدد آپ کے تحت سرانجام دے رہے تھے۔

لالچی ڈاکٹر اپنے بیٹے کی جان لے بیٹھا۔"ڈاکٹر صاحب جلدی سےآئیے ایک ایمرجنسی کیس ہے" ڈاکٹر سرمد کا اسسٹنٹ بدحواسی کےعالم م...
25/08/2020

لالچی ڈاکٹر اپنے بیٹے کی جان لے بیٹھا۔
"ڈاکٹر صاحب جلدی سےآئیے ایک ایمرجنسی کیس ہے" ڈاکٹر سرمد کا اسسٹنٹ بدحواسی کےعالم میں دروازہ کھول کر ان کےآفس میں داخل ہوا
"تو اس میں بدحواس ہونےکی کیا بات ہے؟کیس تو آتے ہی رہتے ہیں" ڈاکٹر سرمد نےاخبار سےنظر ہٹا کر اسسٹنٹ کو گھورتے ہوۓ کہا ان کی نظروں میں واضح ناپسندیدگی نظر آرہی تھی
"سوری سر، وہ دراصل مریض کی حالت بہت خطرےمیں ہے"
اسسٹنٹ نےوضاحت پیش کرنا چاہی
"فیس وصول کرلی؟"
ڈاکٹر نےسوال کیا
"وہ سر دراصل وہ ۔ ۔ ۔ ایک ایکسیڈنٹ کیس ہے، نوجوان سڑک پہ لاوارث پڑا تھا تو کچھ لوگ اسےیہاں پہنچا گئے. لواحقین آئیں گےتو فیس وصول کرلوں گا" اسسٹنٹ نے ہکلاتےہوۓجواب دیا
"دفع ہوجاؤ یو ایڈیٹ ڈیم فول، تمہیں پتا نہیں میں فیس لیے بغیر آپریشن نہیں کرتا"
بری طرح سےچلاتےہوۓڈاکٹرسرمد کہیں سےبھی پڑھے لکھے انسان نہیں لگ رہےتھے
"پتا نہیں کیا سمجھ رکھا ہے، ڈاکٹر سرمد اب مفتوں کا علاج کرےگا ہنہہہ"ڈاکٹر صاحب سر جھٹکتے ہوۓ گویا ہوۓ
اسسٹنٹ جاچکا تھا.
ڈاکٹر صاحب کاموڈ بھی بگڑ چکا تھا، میز سےگاڑی کی چابی اٹھا کر وہ باہر چلدیے.
پندرہ منٹ کی ڈرائیو کےبعد گھر پہنچے تو گھرمیں کوئی نہیں تھا، ان کی مسز کسی پارٹی میں شرکت کرنےگئی تھیں اور اکلوتا بیٹا عاطف بھی غائب تھا.
ملازم کو چائے کا کہہ کر وہ لان میں آکر بیٹھے ہی تھے کہ فون کی گھنٹی بجی.
"ہیلو، ڈاکٹر سرمد بات کررہےہیں؟"
"جی! آپ کون؟"
"میں انسپکٹر شہزاد بات کررہا ہوں، آپ جنرل ہسپتال تشریف لائیےجلدی"
"کیوں خیریت؟"
"آپ بس آجائیے"
بھاگم بھاگ ڈاکٹر صاحب ہسپتال پہنچے، کوریڈور میں موجود ایک ملازم انہیں اندر لے گیا، سردخانے میں وہی انسپکٹر موجود تھا جس نےان کو فون کیا تھا.
"ڈاکٹر صاحب مجھے افسوس ہےکہ میرےپاس آپ کیلیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے، انہیں پہچانتے ہیں؟"
انسپکٹر نےبات کرتے ہوۓ ایک لاش کےاوپر سےکپڑا ہٹایا، لاش پہ سےکپڑے کا ہٹنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو محسوس ہوا جیسے ان کےسر پہ آسمان گرپڑا ہو، وہ لاش ان کےاکلوتے بیٹے عاطف کی تھی.
"اس لڑکےکو پہلے"الشافی ہسپتال" لےجایا گیا تھا لیکن وہاں ڈاکٹر کی بےتوجہی اور بروقت طبی امداد نا ملنےکےباعث اس کی وفات ہوگئی، وہاں موجود ڈاکٹر نےفیس کے بغیر آپریشن کرنے سے انکار کردیا تھا." انسپکٹر تفصیلات بتاتا جارہا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب اپنےہی خیالوں میں گم تھے، ان کےذہن میں یہ جملہ ہتھوڑے کی مانند لگ رہا تھا
"اسےالشافی ہسپتال لےجایا گیا تھا لیکن وہاں ڈاکٹر نےفیس کےبغیر آپریشن کرنےسےانکار کردیا"
ڈاکٹر سرمد کےہسپتال کا نام"الشافی ہسپتال" تھا.
یہ پیغام ان تمام ڈاکٹرز کے لیے ہے جو انسانیت سے زیادہ مال و زر کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس پوسٹ کو اتنا شیئر کریں کہ ہر ڈاکٹر تک پہنچے۔
کو پی ۔۔

یہ ہوتا ہے انصاف۔۔ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی...
20/08/2020

یہ ہوتا ہے انصاف۔۔
ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔

جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"

"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔

"کیوں؟"

"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔

"خرید لیتے"

"پیسے نہیں تھے"

"گھر والوں سے لے لیتے"

"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"

"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"

"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"

"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"

"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"

جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔

"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔

"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"

فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"

فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔

("کفر" کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں)
کبھی ہمارا معاشرہ بھی اس طرح ہوا کرتا تھا ۔۔۔

20/08/2020

KMC Skating Class Open Alhamdulillah

17/08/2020

Like and surbscribe

10/07/2020

ہر مجبوری سے نماز ضروری
اللہ پاک مجھے اور میرے دوستوں کو پانچ ٹائم کی نماز باجماعت ادا کرنے والا بنا دے آمین

10/07/2020

ہر مجبوری سے نماز ضروری اللہ پاک توفیق دے ہم سب کو پانچ ٹائم کی نماز ادا کرنے کی آمین

Address

Shop No 3, Al Mustafa Centre, Khalid Bin Walid Road

59201

Telephone

+92 300 2606813

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when K.M.C Sports Complex Skating Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share