Digital Alliance

  • Home
  • Digital Alliance

Digital Alliance The University was established in 2002 by a charter from the Federal Government on the orders of President Pervez Musharraf.

The University is situated against a dramatic backdrop of steep mountains at the confluence of the Gilgit and Hunza rivers. The main campus of the university is located in Gilgit, the central town of the entire Gilgit-Baltistan. Gilgit has an airport, providing daily flights to Islamabad, punctuated only by adverse weather conditions. The famous Karakoram Highway (KKH), formerly known as part of t

he Silk Route, runs all the way for Islamabad to the Khunjarab Pass (the Chinese border), passing through Gilgit. An offshoot of the KKH connects Gilgit with Skardu (Baltistan).

26/05/2025

کے۔ٹو کتنا ضدی ہے؟؟

1953 میں ایک امریکن کوہ پیماہ George Bell نے K-2 سے شکست کھانے کے بعد ایک عیجب و غریب بیان دیا۔اس نے اس پہاڑ کو The Savage Mountain کا نام دیا اور کہا کے اس پہاڑ کا سر کیا جانا ناممکن ہے۔اس دنیا میں 8000 میٹر کی کل 14 چوٹیاں موجود ہیں جن میں سے 5 پاکستان ،8 نیپال اور ایک چوٹی چائینہ میں واقع ہے۔ 1856 میں برٹیش سرکار نے ایک Trigonmetrical سروے کے دوران ان 5 چوٹیوں کوK5,K4,K3,K2,K1 کا نام دیا۔انھی پانچ چوٹیوں میں دنیا کی دوسری بلند ترین اور پہلی خطرناک ترین چوٹی K2 بھی شامل ہے۔اسکو دنیا خطرناک ترین چوٹی اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس پہ مرنے والوں کی تعداد دنیا کی بلند تریں چوٹی ماوئنٹ ایوریسٹ سے کہیں زیادہ ہے۔شروع شروع میں K2 کو سر کرنے میں سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ K2 پہ جانے کا صیح راستہ کسی شخص کو معلوم نہ تھا۔K2 کو سر کرنے کی پہلی کوشیش 1902 میں Victor wessely اور اس کی ٹیم نے کی انہوں نے کے۔ٹو کو شمال مشرق کے ڈھلوانی راستے سے سر کرنے کی کوشیش کی لیکن 68 دن کی انتھک محنت کے بعد یہ لوگ صرف K2 بیس کیمپ یعنی 5000 سے 6000 میٹر بلندی تک ہی پہنچ سکے۔اس مہم سے واپسی پر انھوں نے صرف اتنا کہا کہ اس مہم میں نہ تو کسی انسان کو اور نہ ہی Beast کو کوئی نقصان پہنچا۔انھوں نے اس پہاڑ کے لیے Beast کا لفظ استعمال کیا۔K2 کو سر کرنے کی دوسری کوشیش 1909 میں کی گئی لیکن یہ لوگ بھی بیس کیمپ سے آگے نہ جا سکے۔واپسی پر ان کے ٹیم لیڈر Duke نے کہا K2 Would never be climbed یعنی کے۔ٹو کبھی سر نہیں ہو پاے گا۔کے۔ٹو کو سر کرنے میں سب سے اہم کردار ایک امریکن کوہ پیما Charles Houston نے ادا کیا۔اس کے۔ٹو کا پاکستان کی طرف سے جانے والا مغرابی راستہ جسے آجکل Abruzzi روٹ کہا جاتا ہے دریافت کیا۔اس نے کہا کہ کے-ٹو کو سر کرنے کا یہ راستہ سب سے آسان اور پریکٹیکل ہے۔1939 میں Dudly Wolfe اور اس کی ٹیم اس راستہ سے پہلی بار کے۔ٹو پر 8000 میٹر کی بلندی جہاں پہ آجکل کیمپ 4 ہوتا ہےاس تک پہنچے۔لیکن اس سے آگے کے۔ٹو کی چوٹی کی طرف جاتے ہوے ان کے ٹیم ممبرز اس پہاڑ پر کہیں کھو گئے اور ان کو ناکام واپس آنا پڑا۔1953 میں پھر ایک بار Charles Houston اور اس کی ٹیم نے K2 کو سر کرنے کی کوشیش کی لیکن ان کے ساتھ بھی وہی ہوا جو Dudly Wlofe کی ٹیم کے ساتھ ہوا تھا۔مشہور زمانہ کوہ پیماہ George Bell بھی اس بار ان کے ساتھ تھے لیکن اس مہم میں ایک Frost Bite کی وجہ سے ان کو اپنی ایک ٹانگ کٹوانی پڑی۔K2 کو پہلی مرتبہ کامیابی سے کرنے کا سہرا اٹلی کے دو کوہ پیماوں کے سر جاتا ہے۔انھوں نے پہلی مرتبہ31جولائی 1954 میں کے۔ٹو کو کامیابی سے سر کیا۔اس مہم میں ان کے ساتھ پاکستانی کوہ پیماہ کرنل عطا محمد اور ہنزا کا ایک پورٹر عامر مہدی بھی شامل تھا۔انھوں نے ان کوہ پیماوں کا سامان 8000 میٹر بلندی تک پہنچانے میں ان کی مدد کی تھی۔اس مہم سے واپسی پر عامر مہدی کو اپنی ایک ٹانگ کٹوانی پڑی۔کے۔ٹو کو پہلی بار کامیابی سے سر کرنے کے ٹھیک 23 سال بعد جاپان سے آئے ہوئے کوہ پیماوں نے کے۔ٹو کو دوسری مرتبہ کامیابی سے سر کیا۔ان کی اس مہم میں تقریبا 1500 پاکستانی پورٹر شامل تھے۔اس کے علاوہ مشہور پاکستانی کوہ پیماہ اشرف امان بھی ان کے ساتھ تھے۔اشرف امان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے کے۔ٹو کی چوٹی پر اپنے قدم رکھے۔1986 میں پہلی مرتبہ کسی خاتون نے کے۔ٹو کو کامیابی کے ساتھ سر کیا۔اس Polish خاتون کا نام *Wanda* تھا۔اور کے۔ٹو کو سر کرنے کے ٹھیک 8 گھنٹے بعد واپسی پر وہ کے۔ٹو کے انتقام کا شکار بن کر جان کی بازی ہار گئی۔یوں بھی کہا جاتا ہے کہ کے۔ٹو خواتین سے انتقام ضرور لیتا ہے۔
اس کے بعد مختلف ادوار میں مختلف ممالک سے لوگ آتےکچھ کامیابی سے کے۔ٹو کو سر کرتے رہے اور کچھ اس کے غضب کا شکار بنتے رہے۔ کے۔ٹو سے منسلک 3 حادثات کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی اور ان کو *Three Major Disaster* کا نام بھی دیا جاتا ہے۔پہلا حادثہ اگست 1986 میں پیش آیا جس میں 13 کوہ پیماہ اکٹھے کے۔ٹو پر مارے گئے۔دوسرا حادثہ 1995 میں رونما ہوا جب کے۔ٹو کو کامیابی سے سر کرنے کے بعد واپسی پر 6 کوہ پیما جان سے گئے۔تیسرا حادثہ اگست 2008 میں پیش آیا جب کے۔ٹو نے 11 ماہر کوہ پیماوں کی جان لی۔ان حادثات پر مختلف موویز بھی بن چکی ہیں۔
اگر آپ کے۔ٹو کے معتلق موویز دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں تو ہالی *وڈ کی یہ 4 موویز آپ کو بہت پسند آئیں گی۔جن میں
K2(1991)
Vertical limit(2001)
The siren of Himalaya(2012)
The Summit(2012)
* شامل ہیں۔ان موویز کو دیکھنے کے بعد آپ کو قدرت کے اس شاہکار کی وسعت اور خدوخال کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

copied

14/06/2023

داخلے جاری ھیں:

IT Training,Digital Marketing,Blogging and SEO,And many more
02/06/2023

IT Training,
Digital Marketing,
Blogging and SEO,
And many more

List of the Fully Funded Scholarships for International Students 2022-23 | Bachelors/Masters/PhD1) Fulbright Scholarship...
15/03/2022

List of the Fully Funded Scholarships for International Students 2022-23 | Bachelors/Masters/PhD

1) Fulbright Scholarship 2023 in the USA | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/us-fulbright-scholarship/

2) Global Korea Scholarship 2022-23 | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/global-korea-scholarship/

3) Ireland Government Scholarship 2022-23 | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/ireland-government-scholarship/

4) DAAD Scholarship in Germany 2022-23 | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/daad-scholarship-in-germany

5) Azerbaijan Government Scholarship 2022-23 | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/azerbaijan-scholarship-program/

6) Shandong University CSC Scholarship 2022-23 | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/shandong-university-csc-scholarship/

7) Australia Awards Scholarships 2022-23 | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/australia-awards-scholarships/

(8) Romania Government Scholarship 2022-23 | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/romania-government-scholarship/

9) Global Korea Scholarship for Undergraduate Students | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/global-korea-scholarship-for-undergraduate-students/

10) Netherlands Government Scholarships 2022-23 | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/netherlands-government-scholarship/

11) SIIT Scholarship in Thailand 2022-23 | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/siit-scholarship-thailand/

12) Joint Japan World Bank Scholarship 2022-23 | Fully Funded
Link: https://scholarshipscorner.website/joint-japan-world-bank-scholarship-program/

The wait is over! Fulbright applications for graduate degree programs have opened now. US Fulbright Scholarship for Pakistani Students 2023

21/02/2022

مقدمہ گلگت بلتستان کا حل کیا ھے؟

اشفاق احمد ایڈوکیٹ۔

تاریخی پس منظر۔
گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ پر دستیاب کتب کے مطالعہ سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ھے کہ 1842سے قبل گلگت بلتستان میں بھی قدیم دور کے یونانی شہری ریاستوں کی طرح چھوٹی ،چھوٹی آزاد خودمختار ریاستیں قائم تھیں،جنھوں نے صدیوں تک ھمسایہ طاقتور ملکوں کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم رکھے۔
مشہور ماہر علوم بشریات کارل جٹمر اپنی کتاب "بلور اینڈ دردستان" کے صفحہ نمبر 5 میں لکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی قدیم ریاست بلور (Bolor) دو حصوں پر مشتمل تھی ، مشرقی آدھا حصہ گریٹ بلور جبکہ مغربی آدھا حصہ Little Bolor کہلاتا تھا، گریٹ بلور آٹھویں صدی میں چین کے شاہی دربار میں اپنے کہی سفارت کاروں کو بھیج دیا کرتے تھے۔ ریاست بلور کو بیرونی ممالک کی جارحیت کا خطرہ موجود رہتا تھا، صفحہ نمبر 18میں وہ لکھتے ہیں کہ ترکی کے مبلغین بلور بادشاہی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور انہوں نے بدھ مذہب قبول کیا، 6th or 7th century ADکے دوران پہاڑی چٹانوں پر گلگت بلتستان کے بدھ حکمرانوں کے نام کندہ کئے گئے ہیں، ضلع غذر تحصیل پونیال موضع ہاتون گورنمنٹ سکول کے قریب ایک پہاڑی چٹان پر ایک قدیم نام درج ہے جس کے بارے میں کارل جٹمر اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 19میں لکھتے ہیں کہ The second Patoladeva appears in an inscription discovered near the modern village Hatun not far from the outlet of the ishkoman River into the Gilgit Rive.
, Here we learn his Indian title.. Parambhattaraka Maharajadhiraja Paramesvara.
چھٹی صدی عیسوی اور ساتویں صدی عیسوی میں ریاست بلور کے حکمران گریٹ بلور کے دارالخلافہ سکردو میں رہائش پذیر تھے۔
جبکہ تبت والے Little Bolor Stateکو Bru-za کے نام سے جانتے تھے، جس سے ریاست بروشال کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔جس کے متعلق زکر تبت کی قدیم کتابوں میں کیا گیا ہے بروشال کو بروشسکی زبان بولنے والے لوگوں کا وطن قرار دیا گیا ہے۔
According to Hoffman this country is already mentioned in the 7th century when the king Man slon man brstan married a princess of Bru-za.
ساتویں صدی عیسوی سے نویں صدی عیسوی کے درمیان گلگت ویلی بروشال کے لوگوں کے ہاتھوں میں تھی۔
مارکو بلور ریاست کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ جنگلی ملحدوں کا ملک ہے جو جانوروں کا کھال پہنتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے قدیم ریاستوں کے بارے میں بلورستان Balurastan قابل زکر ہے کیونکہ ایک ہزار سال تک بلور ریاست کا نام تاریخ میں موجود رہا ہے۔

بقول احسان محمود خان Medieval Era یعنی 5th to 15th centuryمیں اس خطے میں خودمختار ریاستیں موجود تھے, وہ اپنے ڈاکٹریٹ ڈگری کے مقالے بعنوان
The role of Geography In Human Security ,
A case study of Gilgit Baltistanکے صفحہ نمبر 83 میں لکھتے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی سے انیسویں صدی عیسوی کے درمیان گلگت بلتستان کے اس خطے میں
سترہ خودمختار ریاستیں موجود تھے جن میں ریاست گلگت، ہنزہ نگر پونیال،یاسین ،اشکومن ، کوہ غذر،چلاس ،داریل تانگیر ،استور،سکردو،گھرمنگ،ٹولٹی، Tolti,شگر،روندو،keris,اور خپلو شامل تھیں ، جن پر ساتویں صدی عیسوی سے انیسویں صدی تک مختلف مقامی حکمرانوں نے حکومت کی، لیکن وقتاً فوقتاً اس خطے کو بیرونی جارحیت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
گلگت کی جدید تاریخ کے بارے میں اکثر مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ گلگت بلتستان پر قبضہ کرنے کے لئے 1840 کے بعد لاہور کی سکھ Dynesty نے بقایدہ فوج کشی شروع کیا.
جموں وکشمیر کی ریاست کو مہا راجا گلاب سنگھ نے معاہدہ امرتسر 1846 کے تحت تاج برطانیہ سے پچھتر لاکھ نانک شاھی میں خریدا.
مثال کے طور پر اس معاہدے کے ارٹیکل 3 میں یہ لکھا گیا ہے

Article III. In consideration of the transfer made to him and his heirs by the provisions of the fore¬ going Articles, Maharajah Golab Sing will pay to the British Government the sum of seventy-five lakhs of Rupees (Nanukshah^e), fifty lakhs to be paid on ratification of this Treaty, and twenty-five lakhs on or before the first October of the current year, a.d. 1846.

لیکن اس معاہدے کے آرٹیکل 10کے تحت تاج برطانیہ کی بالادستی کو بھی تسلیم کیا اور برٹش حکومت کو سالانہ بقایدیگی سے خراج دینے کا پابند ھوا ،
جبکہ معاہدے کے آرٹیکل 9کے تحت بیرونی جارحیت کی صورت میں اپنی ریاست کی سرحدوں کے تحفظ کیلئے تاج برطانیہ سے مدد کا وعدہ بھی لیا۔،

سکھوں نے اسی دوران گلگت بلتستان کے مقامی حکمرانوں کے اندورنی جھگڑوں اور دشمنیوں کا بھرپور فایدہ اٹھایا ۔ بقول احسان محمود خان
راجا سکردو احمد شاہ کے بیٹے محمد شاہ نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کیا اور شری نگر کے ڈوگرہ حکمرانوں سے اپنے باپ کے خلاف مدد طلب کی اور گلگت پر حملہ کرنے کی دعوت دی، ڈوگرہ نے دعوت قبول کرلی اور ڈوگرہ فوج کی کمان کرتے ہوئے وزیر زورآور سنگھ نے حملہ کیا اور سکردو پر قبضہ کرلیا اور راجہ سکردو احمد شاہ کی جگہ احمد شاہ کو سکردو کا راجا بنا کر تخت پر بیٹھا دیا اور احمد شاہ ڈوگروں کی قید میں 1845میں مرگئے۔

جبکہ گلگت اور اس کے مضافات کا معاملہ کچھ اس طرح ہے۔
سال1842کی بات ہے جب گلگت پر نگر کے حکمران سکندر شاہ کی حکومت تھی اسی دوران یاسین کے حکمران گوہرِ امان نے گلگت پر حملہ کیا اور گلگت کے حکمران سکندر شاہ کو قتل کیا.
سکندر شاہ کے بھائی کریم خان نے لاہور دربار میں پناہ لیا اور سکھوں سے مدد طلب کی۔
لاہور دربار نے گورنر آف کشمیر کو حکم دیا کہ اس کی مدد کرو۔ یاد رہے اسی دوران کشمیر کے گورنر کو لاہور کے دربار سے ہی تعینات کیا جاتا تھا۔
جنہوں نے ایک ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک طاقتور فوج گلگت پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا جس کی قیادت کمانڈر نتھو شاہ کر رہا تھا۔

کرنل نتھو شاہ نے ایک طاقتور فوج کے ساتھ گلگت پر حملہ کیا ڈاکٹر امر سنگھ چوہان کے مطابق نتھو شاہ نے بسیں کے مقام پر گوہر امان کی فوج کساتھ ٹکرایا مگر کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔
اسی سال دوسرا ڈوگرہ کمانڈر Marhra Dasگلگت میں داخل ہوا جس نے نتھو شاہ کی جگہ لے لی اور نتھو شاہ کو واپس بھیج دیا۔
لیکن گلگت بلتستان کے سب سے نامور حکمران راجہ گوہر امان نے ماترا داس کی فوج پر شروٹ اور
گلا پور کے مقام پر حملہ کر کے بدترین شکست سےدوچار کیا ، ڈاکٹر امر سنگھ کا کہنا ہے کہ جنگ میں شکست کھا کر ڈوگرہ فوج کا کمانڈر ماترا داس سیدھا کشمیر بھاگ نکلا۔

لیکن نتھو شاہ نے شکست تسلیم نہیں کیا اور ہار نہ مانی دوبارہ گلگت پر حملہ کیا تو راجہ گوہر امان نے جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی، نتیجتاً کرنل نتھو شاہ نے کریم خان کو تخت گلگت پر بیٹھا دیا مگر گوہر امان سے لاحق خطرے اور ممکنہ حملے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے متفقہ طور پر گلگت پر joint administration کرنے پر راضی ہوئے۔
کچھ سکھ ٹروپس کو ایک تھانیدار کے ماتحت گلگت میں تعینات کردیا۔
اس طرح گلگت براہ راست پنجاب کے سکھ امپائر کے زیر اثر آگیا۔
1845میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی اور سکھ امپائر آف پنجاب کے درمیان انیگلو سکھ جنگ ہوئی۔
جنگ میں سکھوں کو شکست ہوئی اور ایسٹ انڈیا کمپنی اور شکست خوردہ سکھ امپائر کے درمیان 9مارچ1846کو معاہدہ لاہور طے پایا۔
جس کے نتیجہ میں سکھ اپنی سلطنت کے ایک وسیع حصے بشمول گلگت محروم ہو گئے۔
معاہدہ لاہور کے ایک ہفتے کے بعد برٹش انڈین حکومت نے گلاب سنگھ آف کشمیر سٹیٹ کے ساتھ 16مارچ 1848کے درمیان معاہدہ امرتسر طے کیا۔
اس معاہدے کی شقوں کے مطابق برٹش انڈیا نے کشمیر کے کچھ حصے جو انہوں نے پنجاب کے سکھ حکمرانوں سے حاصل کئے تھے انہیں کشمیر کے ڈوگرہ حکمران ۔۔۔۔۔۔کو پچہتر لاکھ نانک شاہی (سکھ کرنسی ) کے عوض میں بیج ڈالا۔
اس بیچی گئی اراضی میں گلگت بلتستان کے کچھ وہ علاقے بھی شامل تھے جنھیں پنجاب کے سکھوں نے 1842کے بعد سے قبضہ کرلیا تھا۔
اس پر پنڈت پریم ناتھ نے کہا ویلی اور گلگت کے دو ملین (بیس لاکھ) لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بیچا گیا۔
بعض لکھاریوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنت کشمیر کو پچہتر لاکھ نانک شاہی میں بیچا گیا۔
اس پر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال جو خود بھی کشمیری النسل تھے انہوں نے کہا۔
دہقان و کشت و جونے و خیابان فروختند
قومےفروختند و چہ ارزاں فروختند۔
اس طرح1846 کشمیر اور گلگت کے ڈوگروں کو فروخت کے بعد کرنل نتھو شاہ نے گلگت میں تعینات اپنے ایک سو سکھ سپاہیوں کے ساتھ ملکر سکھوں کی سرکار سے اپنی ملازمت تبدیل کروا کر ڈوگروں کی حکومت میں شامل ہوگئے۔
جبکہ گلگت اور استور میں تعینات سکھ فوج کی جگہ ڈوگرہ افواج اور جھنڈے نے لے لی۔

بھوپسنگھ پڑی میں ڈوگرہ فوج کو بھرپور شکشت دے کر گلگت بلتستان سے ڈوگرہ افواج کو نکال باہر کیا،

راجا گوہر امان نے گلگت بلتستان کی منقسم چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ملا کر ایک بڑی متحدہ ریاست بنانے کی کوشش کی لیکن گوھر امان کی زندگی نے وفا نہیں کی اور بیماری کی وجہ سے گلوپور پونیال کے مقام پر وفات پا گئے، ان کا مقبرہ آج بھی یاسین ناز بر نالہ کے پاس موجود ہے۔
راجہ گوہر امان کی وفات کی وجہ سے ان کا متحدہ ریاست گلگت بلتستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا، اگرچہ اس کے سب سے چھوٹے بیٹے غلام محی الدین عرف پہلوان نے گلگت پر دوبارہ قبضہ کیا مگر چترال کے اس وقت کے راجہ نے شندور کے راستے حملے کر کے مستوج یاسین پر قبضہ کرلیا اور پہلوان اس وجہ سے ڈوگرہ اور چترال کی افواج کا ایک ساتھ مقابلہ نہیں کرسکا اور گلگت اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔

گوھرامان کی وفات کے بعد گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار مضبوط لیڈرشپ کا خلا پیدا ہوا اور ڈوگروں نے دوبارہ حملے شروع کیے اور مختلف اوقات میں بعض مقامی حکمرانوں نے ایک دوسرے کے خلاف مہا راجا کشمیر کی افواج سے مدد لینے کی روایت قائم کیا اور بدلے میں مہاراجہ کی بالادستی کو تسلیم کیا ۔
اس طرح مہاراجہ رنبیر سنگھ کے دور حکومت میں انگریزوں نے 1877میں ایک معاہدہ کے تحت گلگت ایجنسی کی بنیاد رکھی جوکہ 1888تک قایم رھی اور 1889میں برٹش انڈیا نے گلگت ایجنسی کو دوبارہ قایم کرکے ان علاقوں میں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کا عمل شروع کیا اور بعض مقامی حکمرانوں کی فارن پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کرتے رھے اور بلاآخر1891میں برٹش افواج نے پرنسیلی سٹیٹ آف ھنزہ، و ریاست نگر کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑی اور بہت نقصان اٹھانے کے بعد تاج برطانیہ کے فوجی کمانڈر Arnold Durantنے نلت کے معرکے میں نگر اور ھنزہ پر کنٹرول حاصل کیا۔اسطرح 1893میں ریاست ھنزہ اور ریاست نگر مکمل طور پر تاج برطانیہ کی Protectorate بن گئے۔
گلگت بلتستان میں بیرونی جارحیت اور جنگ وجدل نے تین طرح کے حکمران پیدا کئے ۔ انگریز، مہاراجہ کشمیر ،اور گلگت بلتستان کے مقامی حکمران۔
گلگت بلتستان کی فارن پالیسی کو تاج برطانیہ کنڑول کرتی تھی۔
جبکہ انگریزوں کے نیچے دوسرے درجے پر مہاراجہ کی حکومت تھی،،
مہاراجہ جموں وکشمیر ،گلگت بلتستان کے مقامی حکمرانوں کے زریعے عوام پر حکومت کرتے تھے، جو عوام سے مالیہ لیتے تھے جبکہ مقامی حکمرانوں سے مہاراجہ خراج وصول کرتا تھا۔

اتحاد،ثلاثہ کی اس پالیسی کے تحت گلگت بلتستان میں تاج برطانیہ اور مہاراجہ کشمیر نے مقامی حکمرانوں کے ساتھ ملکر آسانی سے حکومت کی،لیکن جب 1917میں زار روس کی شہنشاہیت کا خاتمہ کرکے ولادیمیر لینن نے روس میں دنیا کا سب سے بڑا شوشلسٹ انقلاب برپا کیا۔ تو اس کے اثرات یورپ سے لیکر ھندوستان تک پھیل گئے، جو کہ تاج برطانیہ کی سمندر پار سلطنت برٹش انڈیا کے لیے بھی خطرے کی علامت بن سکتی تھی اسلیے
برٹش انڈیا نے روسی کمیونسٹوں کی ممکنہ پیش قدمی کو روکنے کیلئے گلگت ایجنسی کو براہ راست اپنی کنٹرول میں رکھنے کی حکمت عملی طے کیا،

چونکہ گلگت ایجنسی کی سرحدیں سنٹرل ایشیا، یعنیUSSRاور چین کے ساتھ ملتی ہیں،اور روس اور چین سے نمٹنے کیلئے گلگت ایجنسی پر براہ راست حکومت کرنا ضروری تھا اسلیئے برٹش انڈیا نے مہا راجا گلاب ھری سنگھ سے 26مارچ 1935کو گلگت ایجنسی لیس پر لے لیا،اور اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔

لیس آف گلگت ایگرمنٹ1935 کے آرٹیکل 1 کے تحت گورنر جنرل آ ف انڈیا نے گلگت ایجنسی میں سول اور ملٹری ایڈمنسٹریشن قایم کرنے کا اختیار حاصل کیا۔لیکن ساتھ میں یہ بھی لکھا گیا کہ یہ علاقے بدستور مہاراجہ کے ریاست جموں وکشمیر کا حصہ رھے گا۔
اور سال بھر مہاراجہ جموں وکشمیر کی ریاست کا جھنڈا بھی لہراتا رہے گا۔
معاہدے کے آرٹیکل 5کے تحت یہ ایگرمنٹ 60سال تک نافذالمل تھا
۔جبکہ آرٹیکل 4 کے تحت مائننگ کے تمام اختیارات مہا راجا کشمیر کو ھی حاصل تھے۔ اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ
یکم نومبر 1947کی جنگ آزادی گلگت بلتستان سے قبل کلگت بلتستان کی چھوٹی چھوٹی پرنسلی ریاستیں مہا راجا آف کشمیر کی ریاست جموں وکشمیر کا حصہ تھے۔اور اس دلیل کی مزید تصدیق کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں آئینی اور انتظامی اصلاحات کے لیے گورنمنٹ آف پاکستان منسٹری آف فارن افیئرز کے زیر نگرانی قایم سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ مورخہ 10مارچ 2017کے پیراگراف نمبر 31کے آخری جملے میں لکھا گیا ھے کہ
Though UNCIP ,vide their Resolutions dated 13th August 1948 and 5th January 1949 ,had included the Northern Areas in the State of (J&,K ) for the purpose of over-all plebiscite ."

تاریخی و قانونی طور پر موجودہ گلگت بلتستان جو کہ 28ھزار مربع میل علاقے پر مشتمل ھے،1842سے قبل نہ تو کھبی مہاراجہ کی ریاست کا حصہ رہا ھے نہ تو کھبی برصضیر کا حصہ رہا ھے۔البتہ 1842 کے بعد اس علاقے پر قبضہ کر کے ریاست جموں و کشمیر کا حصہّ بنایا گیا اور پھر ریاست جموں وکشمیر پر پہلی جنگ کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے گلگت بلتستان کو بھی ریاست جموں وکشمیر کا حصہ قرار دیکر تنازعے کشمیر میں شامل کیا۔

اسی لیے یکم نومبر 1947کی جنگ آزادی گلگت بلتستان کو انگریز میجر الگزینڈر بروان نے بغاوت گلگت کا نام دیا،،اور اس کے مرنے کے بعد اس کی کتاب Gilgit Rebellion کو اسکی بیوی نے شائع کروایا اور حکومت پاکستان نے اس کو ستارہ پاکستان سے بھی نوازا۔

اگرچہ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ھے کہ یکم نومبر 1947سے 16نومبر 1947تک گلگت بلتستان میں ایک مکمل آزاد حکومت قائم رھی، اور جنگ آزادی گلگت بلتستان کے بعد ڈوگرہ حکومت کا ھمیشہ کے لیے خاتمہ تو ھوا،مگر مسئلہ کشمیر میں الجھایا گیا اور گلگت بلتستان کی آزادی کو اقوام متحدہ کے کسی بھی ممبر ملک نے آج تک تسلیم نہیں کیا۔

سولہ نومبر کے بعد پاکستان کے صوبہ سرحد کے ایک نایب تحصیل دار محمد عالم خان صاحب نے بحثیت گلگت بلتستان کے نئے لولیٹکل ایجنٹ انتظامی معاملات کنٹرول کیے۔اور اس دور سے لیکر 1974تک گلگت بلتستان کے لوگوں کو بنیادی انسانی جمہوری حقوق سے محروم رکھا گیا۔

1974میں زوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان سے FCR اور راجگی کا خاتمہ کردیا۔اور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر کو آئین پاکستان میں اسلیے شامل نہیں کرسکا کیونکہ اس کو بخوبی علم تھا کہ یہ ایک بین الاقوامی تنازعہ ھے۔
پاک چین سرحدی معاہدہ 1963 کے وقت ایوب خان کے دور حکومت میں زالفقارعلی بھٹو وزیر خارجہ تھے اور اس سرحدی معاہدے کے تحت گلگت بلتستان کے علاقے اقصاے چن اور
Trans Karakoram Tract
کو چین کے حوالے کیا گیا لیکن اس معاہدے کے آرٹیکل 6 میں لکھا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بعد گلگت بلتستان میں جو بھی حکومت ھوگی اس کے ساتھ اس معاہدے کو Renegotiate کیا جائے گا۔
اسی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے زالفقارعلی بھٹو اپنے دور حکومت میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حالات کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے خواہش مند تھے جیسا کہ سرتاج عزیز کمیٹی میں لکھا گیا ھے کہ ان علاقوں کے مستقبل کے حوالے سے 13اکتوبر 1973 میں کابینہ کی ایک سپیشل میٹنگ میں زالفقارعلی بھٹونے کہا کہ The conditions prevailing there should be so favourable that they act as an inducement to the people in Occupied Kashmir to join Pakistan.
لیکن افسوس زالفقارعلی بھٹو کی سوچ کے برعکس ان علاقوں کے حالات بہت بہتر کرنا تو دور کی بات لوگوں کو ان کے بنیادی انسانی جمہوری حقوق ھی نہیں دیے گئے۔اور FCRجیسے کالے قوانین گلگت بلتستان کے لوگوں پر نافذ کیا گیا۔

بلاآخر 1994میں ایک LFOدیا گیا اور
1999میں اس LFOمیں ترمیم کرکے کونسل کے سٹیٹس کو بڑھا کر ناردرن ایریاز لیجسلیٹیو کونسل کا نام دیا گیا۔۔جس سے KANAڈویزن کا ایک بیوروکریٹ کنڑول کرتا تھا۔
1994کے اس LFO میں 2007میں بھی کچھ ترامیم کی گئیں۔اور اس کے بعد 2009اور 2018 میں ارڑرز جاری کیے گئے، نتیجتاً آج صورتحال یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ انڈیا کے زیر کنٹرول جموں وکشمیر طرز کے حقوق دینے کا مطالبہ کررھے ہیں۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کے بنیادی انسانی جمہوری حقوق کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں دایر کیس الجہاد ٹرسٹ بنام فیڈریشن آف پاکستان نامی کیس کا فیصلہ 1999میں ہوا اور سپریم کورٹ نے وفاق پاکستان کو ڈایرکشن دیا کہ وہ گلگت بلتستان کے لوگوں کوبنیادی انسانی جمہوری حقوق مہیا کریے اور ایک آزاد عدلیہ کا قیام بھی عمل میں لائے۔

اس کے ساتھ ھی گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقوق کے لیے یوروپین پارلیمنٹ نے بھی ایک قرارداد منظور کی تو پھر کہیں جاکر 2009کا آرڈر آیا

اور اس کے بعد بدنام زمانہ 2018کا آرڈر دیا گیا۔

گلگت بلتستان کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے پر گزشتہ بیس سالوں سے عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا کہ اسی دوران سابقہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف صاحب کی دور حکومت میں CPECمنصوبہ زور وشور سے شروع ہوا اور گلگت بلتستان کی اھمیت قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچانک بہت زیادہ بڑھ گئی ۔
چاینہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک ) گلگت بلتستان سے گزر کر بلوچستان کی طرف جاتاہے جہاں گوادر پورٹ ھے ، اور اس پورٹ سے چین اپنے برآمدات کو دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچائے گا
گوادر پورٹ سے دنیا بھر کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے چین اپنی اس تجارتی سفر کی شروعات گلگت بلتستان سے کرئے گا۔،،

اسیلیے اس متنازع علاقے کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے سفارشات تیار کرنے کے لیے سرتاج عزیز کمیٹی مقرر کی گئی تھی جس نے گلگت بلتستان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 258کے تحث ایک تحت صدارتی فرمان کے زریعے عبوری آئینی صوبہ بنانے کی سفارش کی،، چونکہ مکمل صوبہ بنانے میں مسئلہ کشمیر رکاوٹ ہے اور گلگت بلتستان بھی مسئلہ کشمیر کا حصہ ھے۔

1947سے قبل گلگت بلتستان پرنسیلی ریاست جموں وکشمیر کا حصہ تھا لیکن جموں و کشمیر پر پاکستان انڈیا کی پہلی جنگ 22اکتوبر 1947 کے نتیجے میں ریاست جموں و کشمیر تین حصوں انڈیا کے زیر کنٹرول جموں کشمیر،اور پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں منقسم ھوگیئ۔
22اکتوبر کو جنگ کے شروعات میں جب سرحد کے قبائلی لشکروں نے ریاست جموں وکشمیر پر حملہ کیا تو مہا راجا گلاب ھری سنگھ نے انڈیا کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ کچھ شرائطِ کے ساتھ Instrument Of Accessionپر دستخط کر کے الحاق کیا ،اور قبائلی لشکروں کے مقابلے میں نہررو نے اندیا کی افواج جموں و کشمیر میں اتار دی اور موجودہ انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دونوں حصوں میں جنگ شروع ہوئی۔لیکن ریاست جموں وکشمیر کے تیسرے حصے یعنی گلگت بلتستان میں بلکل امن اور خاموشی تھی اس دور میں گلگت بلتستان میں ایک بھی ھوائی اڈاہ نہیں تھا نہ ھی ریڈیو،ٹی وی کی کوئی بھی سہولت موجود نہیں تھی دشوار گزار پہاڑی علاقہ دنیا سے بلکل کٹا ہوا تھا اس لیے کشمیر میں جاری اس 22اکتوبر 1947کی جنگ کے بارے میں عوام کو پتہ ھی نہیں چلا البتہ گلگت ایجنسی میں گلگت سکوٹس کے انگریز میجر الگزینڈر بروان کو اس جنگ کا پہلے سے ھی علم تھا۔ چونکہ تین جون 1947 کے
منصوبہ تقسیم ھند کے تحت پاکستان،انڈیا کو آزادی دینے سے قبل ھی یکم اگست 1947 کو تاج برطانیہ نے گلگت ایجنسی کی لیس ایگرمنٹ کو ٹرمنینٹ کرنے کے بعد گلگت ایجنسی مہا راجا گلاب ھری سنگھ کے حوالہ کیا تھا اور مہاراجہ نے اپنے کزن برگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گلگت بلتستان کا گورنر مقرر کیا تھا۔جو گلگت میں اپنے عہدے پر براجمان تھے۔
ریاست جموں و کشمیر کے دیگر دو حصوں یعنی آزاد کشمیر اور جموں وکشمیر میں جنگ جاری تھی
لیکن گلگت بلتستان میں امن وامان قائم تھا ۔

جنگ کے حالات سے فایدہ اٹھا کر اسی دوران یکم نومبر 1947کو گلگت بلتستان کے گلگت سکوٹس کے مقامی آفیسران و جوانوں نے مقامی باشندوں کے ساتھ ملکر گھنسارا سنگھ کو گلگت میں گرفتار کیا اور آزادی گلگت بلتستان کا اعلان کیا۔
اور 16دںوں تک ایک مکمل آزاد حکومت قائم کی۔
اور اس کے بعد پاکستان کے صوبہ سرحد کے نایب تحصیل دار محمد عالم خان نے یہاں کے معاملات کنٹرول کیا۔ اور تقریباً ڈیڑھ سال کے بعد حکومت پاکستان نے 28اپریل 1949کو آزاد کشمیر کے سردار محمد ابرہیم خان اور چودھری غلام عباس کے ساتھ معاہدہ کراچی کیا اور اس معاہدے کے تحت گلگت بلتستان کا انتظامی کنٹرول حاصل کرلیا۔

۔ اس کے بعد حکومت پاکستان نے اپنے سسٹم کے تحت ان علاقوں کے لیے پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کیئے جو گلگت بلتستان پر حکومت کرتے تھے ان علاقوں کے باشندوں کو کوئی بنیادی جمہوری آیئنی حقوق حاصل نہیں تھے نہ ھی گلگت بلتستان میں جمہوریت اور منتخب نمائندوں کا کوئی تصور موجود تھا۔ جبکہ دوسری طرف جموں وکشمیر اور آزاد کشمیر کے لوگوں کو 1948میں جنگ بندی کے بعد سے تمام اختیارات و حقوق دیے گئے۔

جبکہ گلگت بلتستان میں موجودہ آرڈر 2009اور 2018کے تحت کچھ حقوق دیے گئے۔۔اور کچھ مملات میں قانون سازی کے اختیارات بھی بظاھر دیا گیا لیکن ایک کالونیل ٹایپ کی سیاست کرکے ان اختیارات کو ایک ہاتھ سے دیکر دوسرے ہاتھ سے بزریعہ وزیر اعظم پاکستان اور گلگت بلتستان کونسل کے غیر منتخب چھ پاکستانی ممبران کے زریعے واپس لیے گیے جیسے کہGB order 2018کے آرٹیکل 60کے تحت جی بی کونسل کا چیرمین وزیراعظم پاکستان ھے اور 6ممبران پاکستان کے وزیر ہیں۔اور عوامی نمائندے وزیراعظم پاکستان کے مرضی کے برعکس کوئی بھی قانون سازی نہیں کر سکتے نہ ھی اسں آرڈر میں ترمیم کرسکتے ہیں۔
نہ اس آرڈر کو سپریم اپیلیٹ کورٹ یا چیف کورٹ گلگت بلتستان میں چیلنج کیا جا سکتا ھے۔

گلگت بلتستان میں اس طرح کی صورت حال جاری تھی کہ CPECکا منصوبہ آیا اور ستر سال سے اندھرے میں ڈھوبے ھوے اس علاقے کی اھمیت عالمی سطح پر بہت زیادہ بڑھ گئی۔
دنیا کے مختلف طاقتور ملکوں کے پارلیمان جیسے امریکہ و برطانیہ اور یوروپین پارلیمنٹ میں گلگت بلتستان کا نام لیا جانے لگا اور یہ علاقے عالمی ممالک کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

دوسری جانب دستاویز الحاق نامے کو بنیاد بنا کر انڈیا نے گلگت بلتستان میں بنائے جانے والے میگا پراجیکٹس پر عالمی سطح پر اعتراضات کرنا شروع کردیا نتیجتاً بھاشا دیامر ڈیم کے لیے عالمی مالیاتی ادارے بشمول ورلڈ بنک نے قرضے دینے سے صاف انکار کردیا۔
بعض ماہرین بین الاقوامی امور کا کہنا ہےکہ گلگت بلتستان کے سٹیٹس کے متعلق ،"سرتاج عزیز کمیٹی" چین اور پاکستان کے سرمایہ دار طبقہ کے کہنے پر بنائی گئی تھی۔تاکہ ان علاقوں میں چین اور پاکستان کے سرمایہ دار طبقہ کے سرمایہ کاری کو محفوظ بنایا جا سکے۔،
گلگت بلتستان کے علاقے کو ایک لمبے عرصے سے بیکار سمجھ کر چھوڑا گیا تھا ایک دم اس کی قیمت بڑھ گئی ۔اور پاکستان کے امیر طبقے کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کا آئینی اور قانونی مسئلہ حل ھو تاکہ وہ اس علاقے کے وسائل سے بھرپور فایدہ اٹھا سکیں۔اسلیے تو گلگت بلتستان آرڈر 2018کے آرٹیکل 2bمیں خصوصی طور پر ترمیم کرکے اپنے لیے شہریت کا دروازہ کھولا گیا ھے۔،،۔

جبکہ گزشتہ ستر سالوں سے گلگت بلتستان کے لوگ پوچھتے ہیں کہ ھمارا سٹیٹس کیا ھے،؟

اس سوال کا بنیادی وجہ یہ ھے کہ گزشتہ ستر سالوں سے گلگت بلتستان آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں ھے۔لیکن پاکستان کے وفاق کے زیر اہتظام ھے البتہ پاکستان اس کو اپنا شہ رگ کہتا ہے،،
دوسری طرف انڈیا اسے اپنا اٹوٹ انگ کہتا ھے ۔
تیسری طرف کشمیری گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کا نہیں بلکہ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ سمجھتے ہیں۔

یہ آسان سا سوال جو گلگت بلتستان کے 20لاکھ لوگوں کے بنیادی انسانی جمہوری حقوق سے متعلق ہے اتنا مشکل کیوں ھے؟؟؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان سابقہ پرنسیلی ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ھے۔ لیکن پاکستان کے زیرِ انتظام ھے ۔
گلگت بلتستان کو پاکستان کے آئین میں شامل کرکے صوبہ کیوں نہیں بنایا جاسکتا ہے؟
اس کی ایک وجہ یہ ھے کہ اس علاقے کی حیثیت میں کوئی تبدیلی کرتے ہیں تو اسے مسلہ کشمیر متاثر ھوتا ھے،اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق جموں وکشمیر کا مستقبل کا فیصلہ پاکستان اور انڈیا نے نہیں کرنا ھے بلکہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام نے بزریعہ استصواب رائے اس بات کا فیصلہ کرنا ھے کہ انھوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا ھے یا انڈیا کے ساتھ الحاق کرنا ھے۔

دوسری بنیادی وجہ اگر پاکستان اپنی مرضی سے یکطرفہ طور پر گلگت بلتستان کو اپنے آئین میں شامل کر کے صوبہ بناتا ھے تو اس ایکٹ سے ریاست جموں وکشمیر پر UNO کی جو ریزولوشنز ہیں ان کی خلاف ورزی ھوگی،، اسی سوچ کی وجہ سے گلگت بلتستان کو پاکستان کے 1956,اور 1962کی طرح 1973کے آئین میں بھی شامل نہیں کیا گیا ھے۔

کشمیر کی پہلی جنگ کے دوران جب مہاراجہ کشمیر نے 26اکتوبر 1947میں انڈیا کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ الحاق نامے میں دستخط کیے تو پھر اس مسئلہ کو انڈیا کے اس دور کے وزیراعظم پنڈٹ جواہر لعل نہرو UNOلیکر گئے۔
۔اور UNCIP کے قراردادوں میں ریاست جموں و کشمیر بشمول کلگت بلتستان کو متنازع علاقے قرار دیا گیا ھے اور Plebisciteکے زریعے اس مسلئے کا حل دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے کشمیر میں پاکستان انڈیا کے درمیان جنگ بندی کروانے کےبعد اپنے ملیڑری اوبزرور مقرر کئے گئے جو کہ منقسم جموں وکشمیر کے تینوں حصوں میں UNMOGIPکے نام سے دفاتر کھول کر آج تک موجود ہیں۔ اور مختلف وجوہات کی وجہ تاحال رائے شماری نہیں ھو سکی،، البتہ پاکستان انڈیا میں مسئلہ کشمیر پر تین جنگیں ھونے کے باوجود بھی مسئلہ کشمیر بدستور حل طلب ھے۔

اس لیے یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیا گیا تو UNکے ریزولوشن کے ساتھ تصادم میں آجائے گا۔
نواز شریف کی مقرر کی گئی سرتاج عزیز کمیٹی نے اسلیے مکمل صوبہ کے بجائے آئین پاکستان کے آرٹیکل 258کے تحت گلگت بلتستان کو صدر پاکستان کے ایک صدارتی فرمان کے تحت ایک عارضی خصوصی صوبہ بنانے کی شفارش کی تھی۔اور گلگت بلتستان کے تین ڈویژن گلگت، بلتستان اور دیامر کے لیے ایک ایک سیٹ پاکستان کی قومی اسمبلی میں دینے اور ایک ویمن سیٹ مختص کرنے کے ساتھ سینیٹ پاکستان میں بھی کل تین سیٹس دینے کی سفارش کی تھی۔البتہ تمام قومی اداروں بشمول NFCمیں بطور مبصر نمائندگی دینے کی سفارش کی تھی۔
مگر اس کمیٹی کے سفارشات کے برعکس گزشتہ دنوں 1999کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عملدرآمد کیس کی سماعث کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس صاحب نے اپنے ریمارکس میں یہ بات واضح کیا کہ
"گلگت بلتستان آئینی صوبہ تو دور کی بات عبوری آئینی صوبہ بھی نہیں بن سکتاھے۔ "

پاکستان کی وفاقی حکومت نے بھی کورٹ کو بتایا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنا نا ممکن نہیں ہے اسلیے وہ ارڈد 2018میں کچھ ترامیم کر کے عدالت میں پیش کرینگے۔
گلگت بلتستان کو صوبہ نہ بنانے والے مقتدر سکول آف تھاٹ کا واضح مؤقف یہ ھے۔
گلگت بلتستان" ریاست جموں وکشمیر" کا حصہ تھا،ھے اور رھے گا, جب تک مسئلہ کشمیر استصواب رائے سے حل نہیں ہوتا۔ اگر گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنا دیا گیا تو مسئلہ کشمیر ختم ھو جائے گا۔
اور ھم ایسا نہیں چاہتے۔

اس سکول آف تھاٹ کو کشمیری قیادت خصوصاً انڈین زیر کنٹرول جموں و کشمیر کی لیڈر شپ بھی سپورٹ کرتی ھے اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی سختی سے مخالفت کرتی ھے۔
کیونکہ وہ یہ سوچتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوششیں ان کے مقصد اور ستر سالوں کی جدوجھد کو متاثر کرنے کی وجہ بنے گا۔
اور آزاد کشمیر کے لیڈرشپ بھی متفقہ طور پر اس موقوف کی تائید کرتی ھے۔

کشمیر میں گلگت بلتستان کے لوگوں کے بنیادی انسانی جمہوری حقوق کے بارے میں دو طرح کی رائے پائی جاتی ھے۔

ایک مکتبہ فکر کا کہنا ھے کہ گلگت بلتستان میں سٹیٹس کو بدستور برقرار رکھا جائے اور ان کے کچھ جمہوری حقوق ہیں تو ان کو دیں دو۔
بقول بیرسٹر حامد بھاشانی کے یہ درحقیقت ان لوگوں کی رائے ھے جو سیاست کے بارے میں زیادہ Literate نہیں ھیں۔اور آئینی و قانونی مملات سے نابلد ہیں۔
اسلیے عام آدمی کی طرح کہتے ہیں کہ یہ کیا مسئلہ ھے؟ھماری خواھش ھے کہ گلگت بلتستان کو ایسے ھی رکھا جائے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ کیا چاہتے ہیں۔ بہرحال اکیسویں صدی میں یہ کوئی Intelligent opinion نہیں ھے۔
کچھ لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بناؤ بلکہ آزاد کشمیر طرز پر ایک علیحدہ سیٹ اپ دے دو۔
اس سیٹ اپ کے تحت گلگت بلتستان کے لوگوں کو جو کچھ بھی ان کے جمہوری حقوق ہیں وہ دئے جائیں۔
آزاد کشمیر کی لیڈر شپ کا مطالبہ ھے کہ گلگت بلتستان کو ان سے زیادہ بڑھ کر اچھا سٹیٹس دیا جائے۔ البتہ اس حمایت کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ھے۔
اس کے جواب میں گلگت بلتستان کے لوگ کہتے ھیں کہ We are part of the Kashmir Dispute but we are not Kashmiris
کیونکہ ھمارا کلچر،رسوم رواج اور زبانیں مختلف ھیں۔اگر 1846میں مہاراجہ جموں وکشمیر اور تاج برطانیہ نے گلگت بلتستان پر قبضہ کر لیا تھا تو آسکا ھرگز یہ مطلب نہیں ھے کہ ھماری قومی شناخت بدل جائے ،،۔
تاج برطانیہ نے برصغیر پاک و ہند میں دو سو سال حکومت کی لیکن ان دو سو سالوں میں برصغیر کے باشندوں کی قومیت نہیں بدل گئی نہ ھی وہ انگریز بن گئے تو گلگت بلتستان کے لوگوں کی قومی شناخت کیسے بدل سکتی ھے۔؟؟
اس لیے گلگت بلتستان کے لوگوں کو مسئلہ کشمیر کا حصہ بنایا گیا ھے لیکن وہ کشمیری نہیں بلکہ ھزاروں سالوں سے ان کی اپنی ایک علیحدہ قومی پچان ھے۔

مسئلہ کشمیر کے بہانے سے گلگت بلتستان کے لوگوں کو زیادہ دیر تک ان کے بنیادی انسانی جمہوری حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ہے۔

اگر گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے مسئلہ کشمیر متاثر ھوتا ھے اور کشمیر پر پاکستانی ریاست کے Long standing narrativeمیں اگر دراڈ پڑتا ہے تو اس صورت گلگت بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دینے میں کیا قباحت ھے؟؟

کیونکہ اب گلگت بلتستان کے اندر موجود گزشتہ ستر سالوں کی احساسں محرومی کا خاتمہ اور یہاں کے لوگوں کے بنیادی انسانی جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی طور پر دو ممکنہ آپشن بچتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔"

1. آئین پاکستان کے آرٹیکل 258کے تحت
جی بی آرڈر 2018 میں ترمیم کر کے گلگت بلتستان میں نافذ کیا جائے، جس کے آثار گلگت کے سیاسی فضا میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔بس تقدیر کا لکھا سمجھ کر اس پر چپ چاپ گزرا کرنا ھے یا پھر ایک قوم ایک آواز بن کر پرامن طریقے سے دوسرے اوپشن یعنی
( 2)۔کشمیر طرز کاسیٹ آپ کے قیام کیلئے متفقہ طور پر مطالبہ کیا جائے جو کہ آئین و قانون کے مطابق ممکن ھے۔
اور مطالبہ کیا جائے کہ وہ تمام حقوق گلگت بلتستان کے لوگوں کو دے دیں جو کسی بھی جمہوری ملکوں کے لوگوں کو دیئے گئے ہیں۔اور
لوگوں کو ان کی زمینوں کی اونرشپ کا حق دیا جائے۔
مقامی عوام کے منتخب نمائندوں کو اپنے معاملات کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔
دفاع،کرنسی ،کمیونیکیشن اور فارن پالیسی کے علاؤہ دیگر تمام معاملات پر قانون سازی کرنے کے مکمل اختیارات دیئے جائیں۔

اگر اس کے بعد بھی گلگت بلتستان پر پاکستان، انڈیا اور کشمیر یوں کا دعویٰ چلتا ہے تو چلتا رھے۔
جسے دنیا کے کئی علاقوں پر تنازعے ہیں مختلف ممالک کے درمیان دعویٰ چلتے رہتے ہیں۔
اس طرح کی ایک بہترین مثال China v.s Tiwan کی ھے۔
چونکہ تنازعے کے نام پر ھمیشہ کے لئے لوگوں کو ان کے بنیادی انسانی و جمہوری حقوق سے محروم نہیں
رکھا جاسکتا ھے ، اور یہ کہنا کہ مسلہ کشمیر کے حل تک آپ کو کچھ نہیں مل سکتا سوائے آرڈرز کے اس طرح کی سوچ اور پالیسی سے منفی اور خطرناک نتائج نکلنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔

اسلیے گلگت بلتستان کے لوگوں کو مکمل بنیادی انسانی جمہوری حقوق دینے کا یہ واحد حل ھے ، کہ گلگت بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے۔
اس سے کسی کو کوئی اعتراض اور تکلیف نہیں ھوگی ۔گلگت بلتستان میں موجود بے چینی اور سماجی اجنبیت کا بروقت خاتمےہھونے کے ساتھ ان کی شناخت کا مسلہ بھی حل ھو گا۔
کشمیر کے لوگ بھی اس پر اعتراض نہیں کرسکتے چونکہ وہ خود اس طرح کے نظام سے بھرپور فایدہ اٹھا رھے ھیں۔
ریاست پاکستان کا بھی کوئی نقصان نہیں ھوگا چونکہ کشمیر طرز کا سیٹ اپ دینے کے باوجود بھی گلگت بلتستان بدستور ان کے پاس ھی رھے گا، خصوصاً گلگت بلتستان کی دفاع ،کرنسی ،کمیونیکیشن اور فارن افیئرز پاکستان کے پاس ھی رھنگے البتہ گلگت لوکل اتھارٹی کے تحت گلگت بلتستان میں داخلی خود مختاری ملے گی
چونکہ گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے حل سے پہلے اپنے ساتھ آئینی اور مکمل طور پر ملانا ناممکن ھے"چونکہ مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی قانون کے تحت ریاست پاکستان کا یہ اصولی موقف ھے۔
اس طرح سے مسئلہ کشمیر کو بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا نہ ھی متنازعہ ریاست جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ھوگی۔ کیونکہ ان قراردادوں میں بھی لوکل اتھارٹی کی سفارش کی گئی ھے۔
اور اسطرح کی لوکل اتھارٹی حکومت جموں وکشمیر و آزاد کشمیر کو 1948 میں ہی دیا گیا ھے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ وہ قابل قبول حل ہے جس سے اقوام محدہ کی قراردادوں کے مطابق نہ تو پاکستان کا مسلہ کشمیر پر اصولی موقف کمزور پڑتا ہے نہ ہی کشمیر کاز کو کوئی نقصان ہوتا ہے بلکہ گلگت بلتستان کو داخلی خودمختاری دینے سے کشمیر کاز پر ریاست پاکستان کا اصولی موقف مصْبوط ہوتا ہے جب تک مسلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تب تک کے لیے یہ ایک بہترین حل ہے.
چونکہ گلگت بلتستان کو کشمیر طرز کا سٹ اپ دینے سے تنازعہ کشمیر کا ایک فریق انڈیا کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ اسے اعتراض صرف گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے سے ھے۔
گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر جیسا نظام دینے سے آر پار کے کشمیریوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ وہ خود اس طرح کے نظام سے اپنے اپنے حقوق لیکر مزے سے خود اپنے مملات چلا رھے ھیں اس طرح داخلی خود مختاری دینے گلگت بلتستان کے عوام کی ستر سالہ محرومیوں کا بھی ازالہ ہوگا.
اس لیے یہ کہنا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا ھے گلگت بلتستان کو آرڈرز ھی ملتے رہیں گے یہ بات بالکل بچکانہ ھے۔

اور آخر میں تنازعہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر گلگت بلتستان کو ریاست پاکستان کے اصولی موقف سے ھٹ کر پھر بھی اگر کوئی دوست صوبہ بنا سکتا ھے تو اس اچھے کام میں اتنا تاخیر بھلا کیوں؟؟

البتہ کوئی بھائی اگر آرڈر پر آرڈر کی حمایت کرتاھے تو مت بھولنا کہ آرڈر اور ڈنڈے کا چولی دامن کا ساتھ ھے.

تحریر۔اشفاق احمد ایڈووکیٹ۔

12/12/2018

Address

Karakoram International University University Road, Gilgit (15100)

15100

Telephone

+92-5811-960045

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Digital Alliance posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share