21/06/2026
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ریسرچرز کو بحر ہند میں وہیلز کا ایک قبرستان ملا ہے جو کہ بارہ سو کلو میٹر لمبا ہے جس میں پانچ سو سے اوپر وہیلز کی باقیات ملی ہیں اور ان میں سے سب سے پرانی باقیات 5.3 ملین یا پھر ترپن لاکھ سال پرانی ہیں۔
یاد رہے ایک وہیل تقریبا دس فٹ (سب سے چھوٹی قسم) سے لے کر سو فٹ (سب سے بڑی قسم) تک لمبی ہو سکتی ہے۔ اور ان کی عمر کم سے کم اسی سال سے لے کر زیادہ سے زیادہ دو سو سال تک ہو سکتی ہے۔ جون 2026 میں یہ ریسرچ _Nature_ جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
1. جگہ اور سائز
بحر ہند کے جنوب مشرق میں *Diamantina Fracture Zone* میں 1,200 کلومیٹر لمبا "whale graveyard" ملا ہے۔ یہ گہرائی میں 4,200 سے 7,000 میٹر نیچے ہے۔
2. باقیات کی تعداد
ریسرچرز نے 32 ڈائیوز میں *476 سے 485 وہیل کے فوسلز* گنے ہیں۔ اندازہ ہے کہ پورے علاقے میں 10 لاکھ تک وہیلز کے فوسلز ہو سکتے ہیں۔
3. عمر
سب سے پرانی باقیات 5.3 ملین سال پرانی ہیں۔ ان میں ایک نئی معدوم وہیل کی نوع _Pterocetus diamantinae_ بھی ملی ہے۔
4. وہیلز کا سائز اور عمر
- چھوٹی وہیل ∼3 میٹر/10 فٹ، بڑی وہیل ∼30 میٹر/100 فٹ تک ہوتی ہے
- زندہ وہیلز کی عمر عام طور پر 80-200 سال ہوتی ہے۔ فوسلز کی عمر اس سے الگ ہے - یہ لاکھوں سال پرانی ہیں۔
کیسے ملا؟
چینی سبمرسیبل _Fendouzhe_ نے 2023 میں ڈائیوز کیں۔ Diamantina Zone کی V-shape topography کی وجہ سے مرنے والی وہیلز یہاں جمع ہوتی رہیں۔
اہم بات: یہ زندہ وہیلز کا قبرستان نہیں، بلکہ fossil graveyard ہے۔ یہاں وہیلز کے فوسلز لاکھوں سال سے پڑے ہیں اور اب ان پر deep-sea creatures کا ecosystem بن گیا ہے۔
یہ دنیا کا سب سے گہرا، سب سے پرانا اور سب سے بڑا whale graveyard ہے جو اب تک ملا ہے۔