14/10/2024
ایک خاتون کا شوہر بے وفا ہوگیا. افواہ تھی کہ وہ شائد کسی دوسری عورت سے خفیہ شادی کر چکا ہے. ایسے میں پھر پیر فقیر یاد آتے ہیں۔ عورت کو پتہ چلا کہ آبادی سے دور فلاں پہاڑی پر ایک پہنچے ہوئے بزرگ کی خانقاہ ہے۔ خاتون اس بزرگ سے ملنے چل نکلی. بڑی مشکل سے جب خانقاہ پہنچی تو بزرگ نے پوچھا کہ کیسے آنا ہوا ؟
خاتون نے کہا۔ میں نے اپنی زندگی کے بیس بہترین سال جس کو دیئے، دن رات جس کی خدمت کی وہ مجھے بھول کر کسی دوسری عورت کے چکر میں پڑ گیا ہے.
بزرگ نے مٹھائی کا ایک ڈبہ کھولا اور خاتون سے کہا۔ لیں یہ مٹھائی چیک کریں اور پھر بتائیں کہ یہ کب سے ہوا.
خاتون نے ایک مٹھائی اٹھائی اور کھائی۔ اسے اچھی لگی تو دوسری اٹھائی اور کھالی۔ مٹھائی کھاتے کھاتے ساری سنی افواہیں دہرا دیں۔ افواہیں اور جن خواتین پر اسے شک تھا ان کی تعداد شائد زیادہ تھی کیونکہ مٹھائی کا ڈبہ ساتھ نہیں دے پایا.
بزرگ نے اس خاتون سے کہا۔ میں نے آپ کو ایک مٹھائی کھانے کو کہا تھا ، آپ سارا ڈبہ کھا گئیں. اس سے آپ کو کیا سمجھ آئی.؟
خاتون نے کچھ دیر سوچا اور پھر بہت فلسفیانہ انداز میں کہا۔ اچھا میں سمجھ گئی آپ کا مطلب ہے مرد کا مزاج ایسا ہے. ایک مٹھائی چھکنے کے بعد وہ پھر دوسری تیسری چوتھی کی طلب رکھ لیتا ہے.
بزرگ نے تپ کر کہا۔ نہیں بلکہ اسکا مطلب یہ ہے کہ تم بہت زیادہ موٹی اور بھدی ہوگئی ہو. تمہارا اپنے کھانے پینے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے. تمہارے مسائل کوئی تعویذ کوئی دم ٹھیک نہیں کر سکتے۔ جاو اپنا منہ اور پیٹ کنٹرول میں رکھو۔ منہ پیٹ اگر کنٹرول ہوگیا تو عمر بھلے کم نہ ہو ، جسامت ضرور بیس سال پیچھے والی مل جائے گی.
سُنا ہے اس پہاڑی والے بزرگ کے پاس اب خواتین نہیں جاتی. بقول خواتین کے اس کے دم درود و تعویذ میں کوئی اثر نہیں ہوتا.