30/01/2026
عمران ہاشمی نے اس انٹرویو میں بتایا کہ اس واقعے نے ان کی توجہ کیرئیر سے ہٹا کر ایک باپ کی ذمہ داری کی طرف مرکوز کر دی تھی۔
یوٹیوبر رنویر الہ بادیہ کے ساتھ ایک گفتگو میں انہوں نے بتایا تھا کہ میری زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ وہ تھا جب میرا بیٹا 2014 میں بیمار ہوا، میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں یہ سب بیان کرسکوں کہ وہ وقت کیسا تھا۔
یہ 5 سال تک جاری رہا اور میری زندگی ایک ہی دوپہر میں بدل گئی۔
عمران ہاشمی کا کہنا تھا کہ 13 جنوری کو ہم کھانے پر گئے اور ہم اپنے بیٹے کے ساتھ پیزا کھا رہے تھے، پہلی خبر اسی وقت سامنے آئی جب اس نے بتایا کہ اس کے پیشاب میں خون آیا ہے۔
عمران ہاشمی نے مزید کہا کہ اگلے 3 گھنٹوں میں ہم ایک ڈاکٹر کے پاس تھے جس نے کہا کہ آپ کے بیٹے کو کینسر ہے،
آپ کو اس کا اگلے دن ہی آپریشن کروانا ہوگا اور پھر آپ کو کیموتھراپی بھی کروانی ہوگی، تو میری پوری دنیا 12 گھنٹوں میں ہی الٹ گئی تھی۔