Jang Geo News Usta Mohammad

Jang Geo News Usta Mohammad اوستامحمد کی عوام کا نمائندہ چینل
جنگ جیو نیوز اوستا محمد بلوچستان

26/03/2026
استا محمد: امن کا شہر بدامنی کی زد میںتحریر: عبدالستار ترینبلوچستان کے جنوب مشرق میں سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ض...
16/03/2026

استا محمد: امن کا شہر بدامنی کی زد میں
تحریر: عبدالستار ترین
بلوچستان کے جنوب مشرق میں سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ضلع استا محمد طویل عرصے تک ایک پُرامن، خوشحال اور باشعور معاشرے کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ صوبے کے دیگر اضلاع کے مقابلے میں یہاں امن و امان کی صورتحال نسبتاً بہتر رہی اور یہی وجہ تھی کہ یہ علاقہ معاشی اور سماجی اعتبار سے ایک متوازن اور مستحکم خطہ سمجھا جاتا تھا۔
اس ضلع کے تقریباً نوے فیصد باشندوں کا ذریعہ معاش زراعت ہے۔ مستقل نہری نظام کی بدولت یہاں کی زمینیں زرخیز ہیں اور ربیع و خریف کے موسم میں گندم، چاول اور روغنی اجناس کی وافر پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ یہی زراعت اس خطے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی۔
آج سے دو دہائیاں پہلے تک استا محمد میں امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کی فضا قائم تھی۔ لوگ اپنے اپنے کام میں مصروف رہتے اور سماجی زندگی میں ہم آہنگی نمایاں دکھائی دیتی تھی۔ یہاں نہ تو صوبائی عصبیت کا کوئی اثر تھا اور نہ ہی قبائلی منافرت کا۔
استا محمد دراصل مختلف قومیتوں اور قبائل کا سنگم ہے۔ برطانوی نوآبادیاتی دور میں جب سکھر بیراج سے استا محمد کی تقریباً پونے دو لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لیے کھیر تھر کینال نکالی گئی، جو تقریباً 2400 کیوسک پانی فراہم کرتی تھی، تو اس وسیع زرعی زمین کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے بڑی تعداد میں افرادی قوت درکار تھی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر حکومت نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو یہاں آباد کرنے اور انہیں زرعی زمینیں الاٹ کرنے کا منصوبہ بنایا۔
یوں سبی، نوشکی، دالبندین اور خاران سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لوگ آ کر یہاں آباد ہوئے اور استا محمد مختلف قبائل اور قومیتوں کا خوبصورت مجموعہ بن گیا۔
تاہم اس ضلع کی شناخت زیادہ تر جمالی قبیلے سے وابستہ رہی ہے۔ جمالی خاندان یہاں کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس خاندان کی باوقار شخصیات میں میر جعفر خان جمالی، حاجی محمد مراد خان جمالی (شہید)، میر ظفر اللہ خان جمالی، سردار یار محمد خان جمالی اور میر تاج محمد خان جمالی کے نام قابل ذکر ہیں۔
ان رہنماؤں کی قیادت اور کردار نے علاقے میں امن و استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ تعلیم کے فروغ، سماجی ہم آہنگی اور عوامی خدمت کے حوالے سے جمالی خاندان کی خدمات کو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
لیکن وقت کے بدلتے دھارے نے اس شہر کی فضا کو بھی متاثر کیا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران استا محمد اور اس کے نواحی علاقوں میں بدامنی کے آثار تیزی سے نمایاں ہونے لگے ہیں۔ شہر اسٹریٹ کرائم کی لپیٹ میں آ چکا ہے، قبائلی تنازعات سر اٹھا رہے ہیں اور شدت پسندی کی لہر بھی اس علاقے کے دروازے تک پہنچنے لگی ہے۔
اس بدلتی صورتحال کے اثرات صرف امن و امان تک محدود نہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
استا محمد کی شناخت یہاں کی چاول کی صنعت بھی ہے۔ شہر میں ایک سو سے زائد رائس ملیں قائم ہیں جو نہ صرف علاقے کی معیشت کا اہم حصہ ہیں بلکہ ہزاروں مزدوروں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ جب رائس ملوں کا پہیہ چلتا ہے تو پورا شہر معاشی سرگرمیوں سے زندہ ہو جاتا ہے۔
لیکن حالیہ برسوں میں توانائی کے بحران اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے باعث یہ صنعت بھی زوال کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق درجنوں رائس ملیں بند ہو چکی ہیں اور سینکڑوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں بھی جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ تاہم مؤثر اور مضبوط انتظامی اقدامات کے ذریعے جرائم کو قابو میں ضرور رکھا جا سکتا ہے۔
استا محمد سٹی تھانے کے ایس ایچ او عبدالروف کو ایک بہادر، دبنگ اور پیشہ ور پولیس افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں ان کی مہارت اور جرات کا اعتراف عوامی حلقوں میں کیا جاتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ شہر میں موٹر سائیکل چھیننے سے لے کر اسلحے کے زور پر ہونے والی وارداتوں تک بڑھتے ہوئے جرائم کو مکمل طور پر کیسے روکا جا سکتا ہے؟
عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ بعض بااثر عناصر کی درپردہ سرپرستی جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بلند کرتی ہے۔ مبینہ طور پر سیاسی اور قبائلی اثر و رسوخ کے باعث پولیس کو جرائم کی بیخ کنی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وجہ کچھ بھی ہو، حقیقت یہی ہے کہ اگر اس صورتحال کا فوری اور سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا گیا تو اس کے نتائج مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ٹھوس اور عملی اقدامات کریں۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ چشم پوشی اور مصلحتوں کا شکار معاشرے ہمیشہ زوال اور تنزلی کی طرف بڑھتے ہیں۔
آخر میں یہی سوال رہ جاتا ہے:
کیا استا محمد دوبارہ اپنے کھوئے ہوئے امن کو حاصل کر سکے گا؟
ذرا سوچیے۔

13/03/2026

ایری لاڑا سے علی آباد تک بڑھتی ہوئی تجاوزات نے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ دکانداروں کی جانب سے آہستہ آہستہ سڑکوں پر قبضہ کر کے انہیں تنگ کیا جا رہا ہے، جبکہ محکمہ بی اینڈ آر اور میونسپل کارپوریشن کی دانستہ چشم پوشی یا مبینہ لاپرواہی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
ویسے بھی اس شہر کی بدقسمتی رہی ہے کہ ماضی میں تجاوزات نے اس کے حسن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اندرونِ شہر سڑکیں اور گلیاں اس قدر تنگ ہو چکی ہیں کہ بعض مقامات پر جنازہ نکالنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ شہریوں نے بلا روک ٹوک اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے تعمیرات کو سڑکوں تک پھیلا دیا ہے، جس کے باعث نہ صرف عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بلکہ خود ان کے لیے بھی یہ ناجائز تجاوزات زندگی کو اجیرن بنا رہی ہیں۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ شہریوں کا مائنڈ سیٹ بھی اس معاملے میں بدل چکا ہے اور تجاوزات کو معمول سمجھ لیا گیا ہے۔ تاہم اس سے زیادہ حیرت ان سرکاری اداروں اور محکموں پر ہوتی ہے جن کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، مگر اربابِ اختیار مصلحتاً آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر گزارش ہے کہ متعلقہ محکمے اور میونسپل کارپوریشن فوری طور پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تجاوزات کے خلاف مؤثر آپریشن شروع کریں۔ بصورت دیگر تجاوزات کی بڑھتی ہوئی یلغار اس ماضی کے خوبصورت شہر کے چہرے کو مزید مسخ کر دے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما علینا الابلاغ

11/03/2026

استا محمد: میونسپل کارپوریشن کا مالی بحران — حقیقت کیا ہے؟
تحریر: عبدالستار ترین
استا محمد میں میونسپل کارپوریشن کو درپیش مالی مشکلات اور وسائل کی کمی کی بازگشت گزشتہ کئی برسوں سے سنائی دے رہی ہے۔ بلدیاتی اداروں کو ملنے والی سہ ماہی گرانٹس، ملازمین اور صفائی کے عملے کی تنخواہوں، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور روزمرہ انتظامی اخراجات کے لیے اکثر یہ شکوہ کیا جاتا ہے کہ ادارے کا خزانہ خالی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً میونسپل کارپوریشن کا سینیٹری اسٹاف تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج پر مجبور ہو جاتا ہے، ہڑتالیں ہوتی ہیں اور شہر کی صفائی کا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔
کبھی اوپن مارکیٹ سے ادھار پر لی گئی اشیاء کی ادائیگی میں تاخیر سروسز کی فراہمی میں رکاوٹ بنتی ہے، تو کبھی ترقیاتی منصوبے مالی بحران کی نذر ہو کر ادھورے رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً شہری نہ صرف بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ گزشتہ چار برسوں سے کئی ٹھیکیدار بھی اپنے واجبات کی ادائیگی کے منتظر ہیں۔
یہ صورتحال محض ایک وقتی بحران نہیں بلکہ ایک طویل داستان ہے، جس کی جڑیں ماضی کے مالی اور انتظامی معاملات میں پیوست دکھائی دیتی ہیں۔
بحران کی ابتداء: 2019-20 کا دور
اس مالی بحران کی کہانی کا آغاز غالباً 2019-20 کے اس دور سے ہوتا ہے جب میونسپل کمیٹی کو کارپوریشن کا درجہ ملا۔ اس مرحلے پر شہر کی ترقی کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا گیا۔ اندرون شہر خستہ حال سڑکوں اور گلیوں کی مرمت و تعمیر، نکاسی آب کے نالوں کی تعمیر اور سولر لائٹس کی تنصیب جیسے منصوبوں کے لیے باقاعدہ ٹینڈر جاری کیے گئے۔
گو ہیڈ ملنے کے بعد تعمیراتی فرموں نے میونسپل کارپوریشن کے ٹیکنیکل اسٹاف کی نگرانی میں کام شروع کیا۔ ابتدا میں ٹھیکیداروں کو پہلی ادائیگی بھی کر دی گئی، جس سے یہ تاثر ملا کہ منصوبے باقاعدہ فنڈنگ کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔

تاہم اسی دوران میونسپل کارپوریشن کے چیف آفیسر کا تبادلہ ہو گیا اور نئے چیف آفیسر کی تعیناتی کے بعد صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ اچانک بلدیاتی ادارے میں ترقیاتی فنڈز کی کمی یا شارٹ فال کی باتیں سامنے آنے لگیں۔
حکام کی جانب سے ٹھیکیداروں کو بتایا گیا کہ ترقیاتی فنڈز میں کمی واقع ہو گئی ہے اور سابق چیف آفیسر مبینہ طور پر فنڈز میں بے ضابطگیوں کے ذمہ دار ہیں۔ اس بنیاد پر ٹھیکیداروں کو مزید ادائیگیاں روک دی گئیں۔
اس وقت تک بیشتر ترقیاتی منصوبوں پر کام تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔ کہیں صرف دس فیصد اور کہیں بیس فیصد کام باقی تھا، لیکن فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث منصوبے ادھورے رہ گئے اور ٹھیکیدار مالی مشکلات میں پھنس گئے۔

واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف ٹھیکیداروں نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ چند ٹھیکیداروں نے تو میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے باہر احتجاجی کیمپ لگا کر تقریباً تین ماہ تک دھرنا بھی دیا۔
بعد ازاں بعض بااثر شخصیات کی مداخلت سے ایک ٹھیکیدار کو جزوی ادائیگی کر کے دھرنا ختم کرا دیا گیا، لیکن مجموعی طور پر مسئلہ حل نہ ہو سکا اور دیگر ٹھیکیدار بدستور اپنے واجبات کے منتظر رہے۔

ٹھیکیداروں کے مسلسل احتجاج کے بعد محکمہ بلدیات کے حکام نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا۔ اینٹی کرپشن حکام نے ریکارڈ تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کیں۔
تاہم ذرائع کے مطابق یہ انکوائری کسی منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم کر دی گئی۔ مبینہ طور پر کرپشن کے الزامات میں ملوث اہلکاروں کو نہ صرف کلین چٹ دی گئی بلکہ انہیں دوبارہ بحال کر کے ان کی پسند کی تعیناتیاں بھی دے دی گئیں۔

بلدیاتی اداروں میں مالی معاملات کی نگرانی کا نظام بظاہر انتہائی کمزور دکھائی دیتا ہے۔ بلوچستان کے کئی بلدیاتی اداروں میں ماضی میں بھی بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ پسماندہ اور وسائل کی کمی کا شکار صوبے کے بلدیاتی ادارے مبینہ مالی بدعنوانیوں کی وجہ سے سروسز کی فراہمی کے بجائے انتظامی مفلوجیت کا شکار ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حال ہی میں میونسپل کارپوریشن استا محمد کے اکاؤنٹ میں مبینہ شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے تقریباً پانچ کروڑ روپے منتقل کیے گئے ہیں۔
تاہم جب متاثرہ ٹھیکیداروں نے چیف آفیسر سے ادائیگی کے لیے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ رقم کسی غلطی کی وجہ سے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئی ہے۔
اس بیان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا واقعی یہ ایک انتظامی غلطی تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور حقیقت پوشیدہ ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
اصل مسئلہ صرف فنڈز کی کمی نہیں بلکہ مالی نظم و ضبط کے فقدان کا ہے۔ بلدیاتی اداروں میں مالی قواعد و ضوابط کا نظام اس قدر کمزور ہے کہ اکثر اخراجات کی واضح درجہ بندی ہی موجود نہیں ہوتی۔
اکثر اداروں میں اکاؤنٹس کے باقاعدہ ہیڈز مقرر نہیں کیے گئے، جس کے باعث تنخواہوں اور ترقیاتی اخراجات کو ایک ہی کھاتے سے ادا کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً مالی نظم و ضبط برقرار نہیں رہتا اور فنڈز کا استعمال بے ترتیب ہو جاتا ہے۔
اسی وجہ سے کبھی ملازمین تنخواہوں سے محروم رہ جاتے ہیں، کبھی صفائی اور دیگر شہری خدمات متاثر ہو جاتی ہیں اور کبھی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم کسی اور مد میں خرچ ہو جاتی ہے۔
احتساب کی ضرورت
اس تمام صورتحال نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے:
کیا مالی بدعنوانی سے جڑا یہ بوسیدہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا؟ کیا بلدیاتی اداروں میں چیک اینڈ بیلنس اور احتساب کا کوئی مؤثر نظام قائم نہیں کیا جا سکتا؟
جب تک مالی شفافیت، مضبوط آڈٹ نظام اور واضح احتسابی ڈھانچہ قائم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک نہ صرف بلدیاتی ادارے مالی بحران کا شکار رہیں گے بلکہ عوام بھی بنیادی شہری سہولیات سے محروم رہیں گے۔
قصہ مختصر یہ کہ استا محمد کی میونسپل کارپوریشن کا بحران محض ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے بلدیاتی نظام میں موجود کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مسائل نہ صرف برقرار رہیں گے بلکہ وقت کے ساتھ مزید سنگین بھی ہو سکتے ہیں۔

11/03/2026

بلوچستان کے سرسبز و شاداب خطے میں معیاری طبی سہولتوں کا فقدان کیوں؟رپورٹ: عبدالستار ترین

بلوچستان کے ایک سرسبز اور گنجان آباد علاقے میں واقع قدیم سول ہسپتال آج اپنی اصل شناخت کھو چکا ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل برطانوی دور میں قائم ہونے والا یہ ہسپتال ماضی میں علاج و معالجہ کی بہترین سہولتوں کے باعث ایک مثالی طبی ادارہ سمجھا جاتا تھا، مگر بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ یہ ادارہ زوال کا شکار ہوتا چلا گیا اور آج محض نام کا ہسپتال بن کر رہ گیا ہے۔

عوامی حلقوں کی جانب سے بارہا مطالبات کے باوجود یہاں ماہر ڈاکٹروں کی تقرری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ ہنگامی طبی امداد کے لیے ٹراما سینٹر موجود نہیں، جبکہ آپریشن تھیٹر بھی غیر فعال ہے۔ آبادی کے تناسب سے ادویات کا محدود کوٹہ اور طبی عملے کی شدید کمی نے اس گنجان آباد شہر کے لاکھوں افراد کو معیاری طبی سہولتوں سے محروم کر رکھا ہے۔

اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو آج سے تقریباً نصف صدی قبل اسی ہسپتال میں ماہرینِ امراض کی نگرانی میں لوگوں کو بہترین علاج میسر تھا۔ آپریشن تھیٹر فعال تھا، جراحی کی مکمل سہولتیں موجود تھیں اور ادویات بھی بآسانی دستیاب ہوتی تھیں۔ اس زمانے میں ایک مخیر ہندو تاجر کی جانب سے عطیہ کی گئی زمین پر قائم یہ ہسپتال علاقے کے لیے ایک مثالی طبی مرکز تصور کیا جاتا تھا۔ مگر موجودہ دور میں یہ ادارہ عملی طور پر بنیادی طبی سہولتوں سے بھی محروم دکھائی دیتا ہے۔

میڈیکولیگل کیسز میں نہ تو آپریشن کی سہولت موجود ہے اور نہ ہی پوسٹ مارٹم کی۔ او ٹی غیر فعال ہے جبکہ ایمرجنسی کا شعبہ بھی مطلوبہ انداز میں کام کرتا نظر نہیں آتا۔ اگرچہ بعض عالمی اداروں کے تعاون سے ہسپتال میں امراضِ اطفال کا یونٹ قائم کیا گیا ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ وہاں اس شعبے کا کوئی ماہر ڈاکٹر موجود نہیں۔

ہسپتال میں ڈاکٹروں کے لیے رہائشی سہولت کا بھی فقدان ہے اور مریضوں کے وارڈز میں بنیادی سہولتیں ناکافی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بجلی اور پانی کا بحران بھی یہاں کے مسائل میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ روزانہ تین سے چار سو مریضوں کی او پی ڈی کو سنبھالنے کے لیے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہوتا ہے، جو واضح طور پر ناکافی ہے۔

چند برس قبل اس ہسپتال میں گیارہ میڈیکل آفیسرز تعینات تھے، مگر ان میں سے اکثر اپنا تبادلہ کرا کے دیگر مقامات پر چلے گئے، جبکہ بعض کو مقامی لیبر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسی وجہ سے مقامی لوگوں میں ایک تلخ محاورہ عام ہو چکا ہے کہ یہ ہسپتال دراصل مریضوں کو لاڑکانہ اور کراچی ریفر کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

صفائی ستھرائی کی صورتحال بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ چار لاکھ سے زائد آبادی والے اس شہر میں ہسپتال کا بیرونی شعبہ (او پی ڈی) کسی حد تک فعال ضرور ہے، مگر مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کا نظام انتہائی غیر تسلی بخش قرار دیا جاتا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ادویات کا ماہانہ کوٹہ مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

ان تمام مسائل کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری آبادی اور گردونواح کے علاقوں کی طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک وسیع اور جدید ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کسی مناسب اور کھلی جگہ پر تعمیر کیا جائے، جہاں جدید طبی سہولتیں، ماہر ڈاکٹرز، فعال ایمرجنسی، ٹراما سینٹر اور مکمل آپریشن تھیٹر کی سہولت دستیاب ہو۔

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خدشہ موجود ہے کہ اس گنجان آباد علاقے کے لاکھوں شہری بنیادی طبی سہولتوں سے محروم ہی رہیں گے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ وما علینا الاالبلاغ

06/03/2026

بلوچستان پبلک سروس کمیشن: اصلاحات کی ناگزیر ضرورت
بلوچستان کے انتظامی ڈھانچے میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو ایک بنیادی اور انتہائی اہم ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ادارے کی ذمہ داری میرٹ، شفافیت اور اہلیت کی بنیاد پر سرکاری افسران کا انتخاب کرنا ہے تاکہ صوبے میں بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے۔ تاہم بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس ادارے کے اندرونی نظام اور طریقہ کار میں سنجیدہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
اگرچہ یہ کمیشن غالباً 1974 سے وجود میں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے ساتھ جڑے بیوروکریٹک ڈھانچے میں ہونے والی بھرتیوں کا بڑا حصہ سیاسی اثر و رسوخ، خاندانی تعلقات اور سفارش کی بنیاد پر ہوتا رہا ہے۔ اندازاً 95 فیصد بھرتیاں ایسی رہی ہیں جن میں میرٹ سے زیادہ تعلقات اور سیاسی وابستگی کو ترجیح دی گئی۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے بیوروکریٹک نظام کی صورت میں سامنے آیا جسے عوام اکثر نااہلی، بدانتظامی اور بدعنوانی کی علامت سمجھتے ہیں۔
آج اگر صوبے کے انتظامی حالات پر نظر ڈالی جائے تو بدعنوانی، سفارش، علاقائی تعصبات اور ناقص حکمرانی کی شکایات عام ہیں۔ یہ صورتحال کسی ایک فرد یا ایک دور کی پیداوار نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری کمزور اور غیر شفاف نظام کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کمیشن کے پورے طریقہ کار، سسٹم اور بورڈ کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ مکمل تاریکی کے اس منظرنامے میں کچھ مثبت مثالیں بھی موجود ہیں۔ تقریباً پانچ فیصد ایسی بھرتیاں بھی ہوئی ہیں جو میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کی گئیں اور جنہوں نے اپنے فرائض بخوبی انجام دیے۔ تاہم ان چند مثالوں کو بنیاد بنا کر پورے نظام کو مثالی قرار دینا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔
ایسے حالات میں کوہلی صاحب جیسے دیانتدار اور اہل فرد کی تقرری ایک خوش آئند پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے۔ ان جیسے افراد کی موجودگی نہ صرف ادارے کے وقار میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ایک بہتر اور انسان دوست ہیومن ریسورس کی بنیاد رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ تاہم صرف ایک اچھی تقرری پورے نظام کو تبدیل نہیں کر سکتی؛ اس کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف پالیسیوں اور احتساب کے مضبوط نظام کی ضرورت ہے۔
آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ بلوچستان کی ترقی اور بہتر حکمرانی کا راستہ ایک مضبوط، غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی پبلک سروس کمیشن سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر اس ادارے کو واقعی مؤثر اور قابل اعتماد بنانا ہے تو اس کے ڈھانچے، طریقہ کار اور نگرانی کے نظام میں جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بصورت دیگر ہم اسی فرسودہ نظام کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے جو صوبے کی ترقی کے بجائے اس کی مشکلات میں اضافہ کرتا رہا ہے۔

06/03/2026

بلوچستان پبلک سروس کمیشن — اصلاحات کی فوری ضرورت

بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں کوہلی صاحب جیسے باصلاحیت اور باکردار انسان کی تعیناتی یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ ایسے افراد کسی بھی ادارے میں امید کی کرن ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک اچھی شخصیت کی تقرری سے پورا نظام درست نہیں ہو سکتا۔

یہ ادارہ غالباً 1974 سے قائم ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کے ساتھ جڑے بیوروکریٹک ڈھانچے میں بڑی تعداد میں بھرتیاں سیاسی اثر و رسوخ، خاندانی تعلقات اور سفارش کی بنیاد پر ہوتی رہی ہیں۔ اندازاً 95 فیصد بھرتیوں پر یہی الزامات لگتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک ایسا نظام وجود میں آیا جو بدانتظامی، کرپشن اور علاقائی تعصبات کا شکار نظر آتا ہے۔

آج اگر صوبے کے انتظامی حالات دیکھے جائیں تو عوام کے سامنے ایک کمزور اور غیر مؤثر حکومتی ڈھانچہ موجود ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ناقص اور غیر شفاف بھرتی کا نظام ہے۔

یہ درست ہے کہ کچھ فیصد بھرتیاں میرٹ پر بھی ہوئی ہیں اور ان لوگوں نے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے، مگر چند اچھی مثالوں کو بنیاد بنا کر پورے نظام کو مثالی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے پورے سسٹم، طریقہ کار اور بورڈ میں جامع اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اگر واقعی بلوچستان کے لیے بہتر حکمرانی اور مضبوط بیوروکریسی چاہیے تو اس ادارے کو مکمل طور پر شفاف، میرٹ پر مبنی اور احتساب کے دائرے میں لانا ہوگا۔

کوہلی صاحب جیسے افراد اس بوسیدہ نظام میں مثبت تبدیلی کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں — مگر اصل ضرورت پورے نظام کی اصلاح ہے۔

During a training session in SAMBARA larkana....
20/02/2026

During a training session in SAMBARA larkana....

Address

Usta Muhammad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jang Geo News Usta Mohammad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share