Uthal Press Club Tv

Uthal Press Club Tv UPC Tv

Missing link in population controlThe Express TribuneSameer Shoukat ,  Lasbela
08/03/2026

Missing link in population control

The Express Tribune

Sameer Shoukat , Lasbela

نوجوان قیادت کی روشن مثال، سینیٹر اسد قاسم رونجھوتحریر سلمان شوکت رونجھوپاکستان کی سیاست میں وقتاً فوقتاً ایسی شخصیات سا...
07/03/2026

نوجوان قیادت کی روشن مثال، سینیٹر اسد قاسم رونجھو

تحریر سلمان شوکت رونجھو

پاکستان کی سیاست میں وقتاً فوقتاً ایسی شخصیات سامنے آتی رہی ہیں جو اپنی صلاحیتوں، وژن اور خلوصِ نیت کے باعث کم عرصے میں ہی نمایاں مقام حاصل کر لیتی ہیں انہی ابھرتی ہوئی شخصیات میں سینیٹر اسد قاسم رونجھو کا نام نمایاں طور پر لیا جا رہا ہے وہ اس وقت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کشمیر امور و گلگت بلتستان و سیفران کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور مختصر عرصے میں اپنی کارکردگی اور سنجیدہ طرزِ سیاست کے باعث ایک باصلاحیت اور مخلص سیاسی رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں نوجوان قیادت کی ہمیشہ ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے سینیٹر اسد قاسم رونجھو اسی نوجوان قیادت کی ایک امید افزا مثال ہیں وہ تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور قومی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے رہنما ہیں سیاست میں ان کا انداز نہایت سنجیدہ، شائستہ اور متوازن ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بہت کم عرصے میں نہ صرف پارلیمانی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی اپنی ایک مثبت شناخت قائم کی ہے بطور چیئرمین قائمہ کمیٹی کشمیر امور، گلگت بلتستان و سیفران انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو نہایت سنجیدگی سے نبھایا ہے۔ کشمیر پاکستان کی خارجہ اور قومی پالیسی کا ایک انتہائی اہم مسئلہ ہےجبکہ گلگت بلتستان اور سیفران کے معاملات بھی قومی سطح پر بڑی اہمیت رکھتے ہیں اس حساس ذمہ داری پر فائز ہو کر سینیٹر اسد قاسم رونجھو نے نہ صرف ان معاملات کو سنجیدگی سے لیا بلکہ مختلف فورمز پر ان مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر بھی کیا، ان کی قیادت میں کمیٹی نے اہم اجلاس منعقد کیے، قومی سطح پر مشاورت کو فروغ دیا اور کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششوں کو تقویت دی وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا ایک بڑا مسئلہ ہے جسے عالمی سطح پر موثر انداز میں پیش کرنا ضروری ہے۔سینیٹر اسد قاسم رونجھو کی ایک نمایاں خصوصیت ان کی حب الوطنی ہے وہ پاکستان کے مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں اور یہی جذبہ ان کی سیاسی سوچ اور عملی اقدامات میں واضح طور پر نظر آتا ہے وہ ملک کی ترقی، استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے دن رات کوشاں رہتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ مضبوط پاکستان ہی ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ سیاسی میدان کے ساتھ ساتھ وہ عوامی مسائل کے حل میں بھی بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں اپنے حلقے اور عوام کے ساتھ رابطہ رکھنا ان کی سیاسی ترجیحات میں شامل ہے وہ عوامی مسائل کو سننے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنے کے قائل ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ انہیں ایک امید کی کرن کے طور پر دیکھتے ہیں۔نوجوان قیادت کی کامیابی کا انحصار صرف عہدوں پر نہیں بلکہ کردار، دیانت اور عوامی خدمت کے جذبے پر ہوتا ہے سینیٹر اسد قاسم رونجھو ان خصوصیات کے حامل رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں ان کی سنجیدگی، شائستگی اور مثبت سوچ انہیں دیگر سیاستدانوں سے ممتاز بناتی ہے یہ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کو اس وقت ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو جدید تقاضوں کو سمجھتی ہو، قومی مفادات کا تحفظ کر سکے اور عالمی سطح پر پاکستان کا مؤثر مقدمہ پیش کر سکے۔ سینیٹر اسد قاسم رونجھو کی شخصیت میں یہ تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود دکھائی دیتی ہیں اگر یہی جذبہ، محنت اور خلوص برقرار رہا تو یقیناً آنے والے دنوں میں سینیٹر اسد قاسم رونجھو پاکستان کی سیاست میں ایک نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کرتے نظر آئیں گے ان کی قیادت نہ صرف نوجوانوں کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے بلکہ ملک کی ترقی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسد قاسم رونجھو جیسے پڑھے لکھے، باصلاحیت اور محب وطن نوجوان رہنما پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہیں ان کی خدمات اور کوششیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ وہ ملک کی بہتری، عوام کی خدمت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری لگن کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور یہی جذبہ کسی بھی سچے سیاسی رہنما کی اصل پہچان ہوتا ہے۔

بیـــــلہ:: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کے چیئرمین سینیٹر اسد قاسم رونجھو کو گوٹھ اسماعیلانی...
11/01/2026

بیـــــلہ:: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کے چیئرمین سینیٹر اسد قاسم رونجھو کو گوٹھ اسماعیلانی کی سیاسی و سماجی شخصیت سیٹھ ثنا اللہ رونجھا اور اسماعیلانی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرزاق اجرک کا تحفہ پیش کررہے ہیں۔

بیـــــلہ:: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کے چیئرمین سینیٹر اسد قاسم رونجھو سے وائیٹ ہاؤس بیلہ...
11/01/2026

بیـــــلہ:: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کے چیئرمین سینیٹر اسد قاسم رونجھو سے وائیٹ ہاؤس بیلہ میں سردار عمران گلاب رونجھو ملاقات کررہے ہیں۔

بیـــــلہ:: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کے چیئرمین سینیٹر اسد قاسم رونجھو گوٹھ اسماعیلانی می...
11/01/2026

بیـــــلہ:: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کے چیئرمین سینیٹر اسد قاسم رونجھو گوٹھ اسماعیلانی میں سپریڈنٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لسبیلہ بابو محمد حسین رونجہ کی اہلیہ خزانہ آفیسر واجہ محمد انور رونجھو کی ہمشیرہ نیشنل بینک آواران برانچ کے آفیسر سمیع حسین کی والدہ کی وفات پر تعزیت کررہے ہیں اس موقع پر بیرسٹر جہانزیب قاسم رونجھو ، ڈائریکٹر جیڈا وقاص احمد لاسی ، لسبیلہ یونیورسٹی کے فنانس آفیسر ذوہیب امان لاسی سابق چیئرمین نثار احمد رونجھو، سابق کونسلر محمد قاسم رونجھو، عبدالرشید دونجھو، محمد حیات رونجھو عبد الصمد رونجھو منیر احمد رونجھو،حسین احمد رونجھو محمد اکرم رونجھو سجاد رونجھو و دیگر موجود ہیں ۔

11/01/2026

Salman Shoukat with Senator Asad Qasim Roonjho Sahib

اوتھــــــل:: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کے چیئرمین سینیٹر اسد قاسم رونجھو لسبیلہ کےپہاڑی ع...
10/01/2026

اوتھــــــل:: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران کے چیئرمین سینیٹر اسد قاسم رونجھو لسبیلہ کےپہاڑی علاقے کھرڑی میں لسبیلہ ایکسٹریم آف روڈ جیپ ریلی حصہ لینے والے ڈرائیور کو سونیئر دے رہے ہیں۔

اوتھــــــل:: لسبیلہ کی نوجوان قبائلی شخصیت بیرسٹر جہانزیب قاسم رونجھو اور دیگر ڈرائیورز کا لسبیلہ کےپہاڑی علاقے کھرڑی م...
10/01/2026

اوتھــــــل:: لسبیلہ کی نوجوان قبائلی شخصیت بیرسٹر جہانزیب قاسم رونجھو اور دیگر ڈرائیورز کا لسبیلہ کےپہاڑی علاقے کھرڑی میں لسبیلہ ایکسٹریم آف روڈ جیپ ریلی میں ریلی سے قبل نکالا گیا فوٹو

اوتھــــــل:: لسبیلہ کے خوبصورت اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کھرڑی میں لسبیلہ ایکسٹریم آف روڈ جیپ ریلی کا شاندار انعقاد کی...
10/01/2026

اوتھــــــل:: لسبیلہ کے خوبصورت اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کھرڑی میں لسبیلہ ایکسٹریم آف روڈ جیپ ریلی کا شاندار انعقاد کیا گیا اس تاریخی ایونٹ نے نہ صرف علاقے میں ایڈونچر اسپورٹس کو نئی زندگی دی بلکہ مقامی ٹورازم، نوجوانوں کی سرگرمیوں اور لسبیلہ کی پہچان کو بھی نمایاں طور پر اجاگر کیا جیپ ریلی نیلسن پینٹ کے خصوصی تعاون سے منعقد کی گئی جس میں ملک کے مختلف حصوں سے آف روڈرز اور شائقین نے بھرپور شرکت کی، اس شاندار ایونٹ کے مہمانِ خصوصی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر امور، گلگت بلتستان و سیفران کے چیئرمین سینیٹر اسد قاسم رونجھو تھے جنہوں نے ریلی کے انتظامات سخت ٹریک اور نوجوانوں کی شرکت کو سراہتے ہوئے اسے لسبیلہ کی تاریخ کا ایک منفرد لمحہ قرار دیا، کھرڑی کا خطرناک مگر دلکش ٹریک ڈرائیورز کے اعصاب کا امتحان ریلی کا ٹریک انتہائی مشکل اور چٹیل پہاڑوں کے درمیان سے گزرتا ہے جس میں نوکیلے پتھر، کھڈے، تنگ راستے اور خطرناک موڑ شامل تھے کھرڑی جیسے چیلنجنگ علاقے میں ایونٹ منعقد ہونے پر آف روڈ ڈرائیورز نے نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ اسے بلوچستان کے لیے ایک بڑا مثبت قدم قرار دیا کھرڑی کا ٹریک پاکستان کے مشکل ترین آف روڈ ٹریکس میں شامل ہو سکتا ہے یہاں گاڑی چلانا ہمت، مہارت اور برداشت کا امتحان ہے، کھرڑی آف روڈ جیپ ریلی کے مہمان خاص سینیٹر اسد قاسم رونجھو نے اپنی گفتگو میں کہا کہ آف روڈ جیپ ریلی میں حصہ لینے والے ڈرائیوز باصلاحیت ہیں جس میں لسبیلہ کے نوجوان بیرسٹر جہانزیب قاسم رونجھو بھی حصہ لے رہے ہیں ایسے ایونٹس نہ صرف باہر کے ڈرائیوز بلکہ لسبیلہ کے ڈرائیورز کو بھی مثبت سرگرمیوں کی طرف لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں اور علاقے میں ایڈونچر ٹورازم، کاروباری مواقع اور سافٹ امیج کو بھی فروغ دیتے ہیں، کھرڑی کے پہاڑی سلسلے سیاحت کے لیے قدرتی جاذبیت رکھتے ہیں حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ یہاں ٹورازم انفراسٹرکچر کو بہتر بنائیں جیپ ریلی کے انعقاد سے لسبیلہ میں کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کو نئی جہت ملی ہے، سینیٹر اسد قاسم رونجھو نے ڈرائیورز نوجوانوں، نیلسن پینٹ اور علاقے کے لوگوں کو شاندار ایونٹ کروانے پر مبارکباد دی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، ریلی کے دوران بڑی تعداد میں مقامی افراد، نوجوانوںنے شرکت کی پہاڑوں میں دلکش مناظر کے درمیان گاڑیوں کی گرج اور تیز رفتاری کا نظارہ عوام کے لیے تفریح کا ایک بہترین تجربہ تھا، کھرڑی کے رہائشیوں نے کہا کہ ہمارے علاقے دوسری بار یہ بڑا ایونٹ ہوا ہے جس نے ان کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا، سینیٹر اسد قاسم رونجھو کی خصوصی شرکت نے اس ایونٹ کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا جبکہ نوجوانوں کی بھرپور دلچسپی اور شاندار انتظامات نے ثابت کر دیا کہ لسبیلہ میں ٹیلنٹ بھی ہے اور مواقع بھی بس ضرورت ہے ان مواقع کو پہچاننے اور مسلسل آگے بڑھانے کی، یہ ایونٹ لسبیلہ کی رگوں میں بسے ایڈونچر کے جوش کا عملی ثبوت بن گیا، جبکہ آف روڈ جیپ ریلی میں نوجوان ڈرائیور بیرسٹر جہانزیب قاسم رونجھو نے پہلی پوزیشن حاصل کی، ریلی کے اختتام پر ریلی میں حصہ لینے والے ڈرائیورز میں انعامات تقسیم کیے گئے۔

بلدیاتی سیاست کا نیا مرحلہ، 2026 کی بساط بچھنے لگیتحریر، سلمان شوکت رونجھادسمبر 2022 میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابا...
02/01/2026

بلدیاتی سیاست کا نیا مرحلہ، 2026 کی بساط بچھنے لگی

تحریر، سلمان شوکت رونجھا

دسمبر 2022 میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو اب تقریباً تین برس مکمل ہونے جا رہے ہیں، جبکہ 7 دسمبر 2026 کو ایک بار پھر بلدیاتی سیاست کا نیا دنگل سجنے جا رہا ہے۔ اگرچہ ابھی وقت باقی ہے مگر سیاسی حلقوں میں یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پلاننگ، لابنگ اور صف بندی کا عمل ابھی سے شروع ہو چکا ہے بلدیاتی سیاست ہمیشہ سے نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہے مگر بدقسمتی سے موجودہ سیٹ اپ نے کئی حوالوں سے عوام کو مایوس بھی کیا۔
موجودہ بلدیاتی دور کا جائزہ لیا جائے تو تصویر خاصی ملی جلی نظر آتی ہے۔ بعض چیئرمین اور کونسلرز ایسے رہے جنہوں نے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کی اپنے محدود وسائل کے باوجود مسائل کے حل، رابطہ کاری اور عوامی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ دوسری جانب کچھ منتخب نمائندوں کی کارکردگی نہایت مایوس کن رہی جن سے عوام کو جو امیدیں وابستہ تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں۔ کہیں اختیارات کا رونا رہا تو کہیں فنڈز کی کمی کو جواز بنایا گیا مگر عملی طور پر عوامی مسائل جوں کے توں رہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے بلدیاتی سیٹ اپ سے قبل موجودہ بلدیاتی نظام میں بڑی اور اہم تبدیلیوں کے لیے ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے گرین سگنل دے دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو بلدیاتی سیاست میں ایک ممکنہ ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس بار محض نمائشی سیٹ اپ کے بجائے ایک فعال، متحرک اور عوام دوست نظام تشکیل دینے کی بات کی جا رہی ہے، سیاسی حلقوں میں ضلع چیئرمین کے لیے سردار غلام فاروق شیخ کا نام نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے جبکہ وائس چیئرمین کے طور پر آغا محمد گدور کو لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ یہ جوڑی بظاہر ایک متوازن سیاسی کمبی نیشن سمجھی جا رہی ہے جس میں تجربہ، سنجیدگی اور سیاسی بصیرت کا امتزاج نظر آتا ہے۔
سردار غلام فاروق شیخ کو علاقے میں ایک سنجیدہ، زیرک اور معاملہ فہم سیاسی رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں محض ایک عہدہ نہیں بلکہ پورے بلدیاتی سسٹم کو مکمل طور پر فعال بنانے اور عوامی مسائل کے عملی حل کا ٹاسک سونپے جانے کا امکان ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر انہیں ذمہ داری دی گئی تو وہ نمائشی سیاست کے بجائے نتائج پر مبنی حکمت عملی اپنائیں گے جس میں گلی محلے کی سطح کے مسائل، صفائی، پانی، سڑکیں، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی معاملات کو ترجیح دی جائے گی۔
اس تناظر میں ایک چیئرمین کی کارکردگی کو سیاسی حلقے تقریباً زیرو قرار دے رہے ہیں ناقدین کے مطابق موصوف عملی کارکردگی کے بجائے دعوؤں، بیانات اور جھوٹے اعداد و شمار کے انبار لگانے اور جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کرنے میں زیادہ مہارت رکھتے تھے مگر زمین پر عوام کو کوئی خاطر خواہ ریلیف نہ مل سکا یہی وجہ ہے کہ عوام اب روایتی نعروں کے بجائے عملی کارکردگی دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 2026 کے بلدیاتی انتخابات محض ایک انتخابی عمل نہیں بلکہ احتساب کا مرحلہ بھی ہوں گے۔ وہ چیئرمین اور کونسلرز جنہوں نے واقعی کام کیا وہ عوام کے سامنے سرخرو ہوں گے جبکہ ناکام نمائندوں کے لیے دوبارہ عوامی اعتماد حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر واقعی موجودہ بلدیاتی سیٹ اپ میں اصلاحات، مؤثر قیادت اور فعال نظام متعارف کرایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف آنے والے انتخابات کے لیے راہ ہموار کرے گا بلکہ عوام کا بلدیاتی نظام پر اعتماد بھی بحال ہو سکے گا۔ سردار غلام فاروق شیخ جیسے ناموں کی گردش اس بات کی علامت ہے کہ اس بار سیاست محض بیانات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کارکردگی کو اصل معیار بنانے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دعوے عملی شکل اختیار کرتے ہیں یا نہیں مگر ایک بات طے ہے کہ 2026 کی بلدیاتی بساط پر اس بار مہرے پہلے سے زیادہ سوچ سمجھ کر چلائے جا رہے ہیں۔

اوتھــــــل:: سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی و رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی بدھ کے روز لسبیلہ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر اوتھل...
17/12/2025

اوتھــــــل:: سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی و رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی بدھ کے روز لسبیلہ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر اوتھل پہنچے جہاں پر انہوں نے بھوتانی گروپ کے رہنما کریم بخش دودا کی رہائشگاہ پر انکی والدہ کی وفات پر ان سے تعزیت کی اور مرحومہ کےلیے مغفرت کی دعا کی، بعد ازاں سابق رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی سے اوتھل کے مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے ان سے ملاقات کی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، علاؤہ ازیں سابق رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی کے اعزاز میں کریم بخش دودا نے ایک پُرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا، اس موقع پر عالم خان انگاریہ، ماسٹر غلام رسول انگاریہ، ڈاکٹر نور محمد انگاریہ، وڈیرہ سلیمان انگاریہ، وڈیرہ عبدالستار انگاریہ، زاہد انگاریہ، پیر رحیم شاہ جیلانی، سابق زرعی بینک مینجر محمد بخش شیخ، وانگ کے رہنما خلیل رونجھو، پیر غلام شاہ جیلانی، پیر عارب شاہ جیلانی، پیر قادر شاہ جیلانی، ڈاکٹر الطاف شیخ، وڈیرہ شیر خان خاصخیلی، ڈاکٹر علی موندہ، جاوید سمالانی، ابرہیم دودا، غلام محی الدین جاموٹ، زاہد مبارک انگاریہ، سفر خان دودا، خدا بخش دودا، رحیم بخش دودا، اقبال حسین انگاریہ، محمد علی میروانی اور دیگر موجود تھے۔

ان معصوموں کا مقدمہ آخر کس کے سامنے پیش کیا جائے؟؟                     تحریر: محمد انور جمالیلسبیلہ "میدان اور جنگلوں کی...
09/12/2025

ان معصوموں کا مقدمہ آخر کس کے سامنے پیش کیا جائے؟؟
تحریر: محمد انور جمالی
لسبیلہ "میدان اور جنگلوں کی سرزمین" وہ خوش نصیب خطہ جسے ہمیشہ حکومتی حلقوں میں خاصی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل رہا۔ ایک ہی خاندان کو تین دفعہ وزارت اعلی کا اعزاز اس کے علاوہ کبھی نگراں وزیر اعلیٰ، کبھی نگراں گورنر، کبھی اسپیکر اور کبھی ڈپٹی اسپیکر، کبھی وفاقی وزارتیں، کبھی صوبائی وزارتیں، سینیٹر اور اقلیتی نمائندگی وغیرہ وغیرہ ہر دور میں لسبیلہ کی پوزیشن نمایاں رہی ہے۔ بلدیاتی سطح پر ضلعی عہدے، تحصیلی عہدے، میئر، میونسپل کمیٹی کے چیئرمین، اراکین، یو سی چیئرمین وائس چیئرمین پھر سرکاری افسران کی طویل فہرستیں۔۔۔۔ پھر ہمارے قبائلی سردار، میر، معتبر، وڈیرے، بھوتار، ٹکری اور ان کے چاہنے والوں کا لاؤ لشکر۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ نوجوان سماجی اور سیاسی شخصیات جو بار بار اور جگہ پر اپنی موجودگی کا احساس ضرور دلاتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔ ان معزز اور محترم شخصیات کی اعلی اور آسائشوں بھری زندگیاں۔۔۔۔۔ پرتعش اور پرسکون علاقوں میں لگژری بنگلے، چھوٹے اوربڑے خاندان کے ہرچشم وچراغ کے پاس اپنی اپنی وی آئی پی گاڑیاں اور نوکر چاکروں کی چلت پھرت۔۔۔۔۔ یہاں پر تو اگر ایس ایچ او جیسی پوسٹ بھی مل جائے تو محلات کھڑے کرنے میں وقت نہیں لگتا۔ کسی سے صاحب سلامت ہو جائے۔ تو زندگی کی کایا پلٹنے میں کوئی پریشانی اور تاخیر نہیں ہوتی۔۔۔۔ افسران کے لیے یہ ایک پسندیدہ اسٹیشن ہمیشہ سے رہا ہے۔ ضرور اس کی بھی کوئی وجہ رہی ہوگی۔۔۔۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک مالا مال ضلع ہے۔ ایک طرف سمندر کی موجیں اپنی بیش بہا خزانوں کے ساتھ ہیں۔ درمیان میں سونا اگلتی سرسبز زمینیں ہیں۔ جن کے ساتھ پہاڑ اپنی دامن میں ماربل، کرومائیٹ، تانبہ اور نہ جانے کون کون سے خزانے نچھاور کرنے کے لیے خاموش کھڑے رہتے ہیں۔۔۔۔۔ اور ان سب کے درمیان وہ معصوم بچہ پلتا ہے۔۔۔۔ جس کا چہرہ بجھا ہوا ہے۔۔۔۔۔ جس کے بال الجھے ہوئے ہیں۔۔۔ جس کے چپل پھٹے ہوئے ہیں۔۔۔۔ جس کے کپڑے میلے اور گدلے ہیں۔۔۔۔ اور جس کی کل کائنات جھونپڑی میں موجود چند بھیڑ بکریوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کا باپ ان پڑھ ہے۔ جس کی ماں نے کبھی پڑھنے لکھنے کا سوچا بھی نہیں ہے۔ اور نہ اس معصوم بچے اور اس کی بہن بھائیوں نے تعلیم کے بارے کچھ فکر کی ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ نہ گاؤں کے آس پاس کوئی اسکول ہے۔ نہ کوئی مسجد ہے نہ کوئی قاری ہے۔۔۔۔ جب بھی ایسے بچوں سے پالا پڑتا ہے۔۔۔۔ دل میں ایک ٹیس سی اٹھتی ہے۔۔۔۔۔ کہ اس جدید دور میں، آج بھی ہمارے لوگوں کا یہ حال۔۔۔؟ اور یہ بچے لسبیلہ میں جگہ جگہ پائے جاتے ہیں۔ درازی ، لک روہیل سے لے کر لیاری رسملان تک، وٹا چماسرہ سے لےکر پیر کونانو تک، ممبار سے لےکر سسئی پنھوں کی بستیوں تک، کنراج سے لے کر ویراحب تک، سوڑھ سے ہنیدان لینڈانی تک، نمی کڈ کرکی سے لے کر تا اکری، گدڑی لاکھڑا تک ہر جگہ پر تعلیم کا مل جانا آج بھی سب سے بڑی خوش بختی ہے۔
گوکہ تعلیم انسان کی سب سے بڑی بنیادی ضرورت ہے۔ ہر باشعور فرد بار بار اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کا اقرار بھی کرتا ہے۔ تاہم ہماری عملی زندگیوں میں تعلیم شاید ترجیحات کے درجے میں شامل نہیں رہا ہے۔۔۔۔ آج پنجگور اور تربت جیسے علاقے تعلیمی لحاظ سے بہت آگے نکل گئے ہیں۔ کہ ان کے باشعور اور صاحب حیثیت لوگوں نے اپنے لوگوں کو اٹھانے اور آگے بڑھانے میں کردار ادا کرنے کی پوری پوری سعی کی ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں ایسی مثالیں ش*ذ ونادر ہی ملتی ہیں کہ ہم نے اپنی افرادی سرمائے کو اہمیت دے کر انہیں چمکانے اور سنوارنے کیلئے اور جہالت کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیے کوئی مہم شروع کی ہو۔اور انہیں دینی دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مند بناکر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوئی خاص کوشش رہی ہو۔۔۔۔۔
سیاسی، سماجی رہنما تو اپنی جگہ ہمارے ہاں تعلیم سے وابستہ لوگوں میں بھی تعلیمی پسماندگی کو محسوس کرنے اور اسے کم کرنے کی کوشش سے کہیں ذاتی سہولت اور آسائش کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ کمیونٹی کا موثر کردار بھی اسکولوں کی بہتر کارکردگی کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
لہذا تحریر کے اختصار کے پیش نظر گزارش ہیکہ تعلیم ہر بچے کا حق ہے۔۔۔ یہ معصوم بچے ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری کا حصہ بنتے ہیں۔۔۔ہم میں سے معاشرے کا ہر فرد اگر ان کے لیے درد دل رکھتے ہوئے کوشش شروع کردے۔۔۔ تو ان تک علم کی روشنی پہنچانے کے راستے نکل سکتے ہیں۔۔۔ یہ سب کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔۔۔ جو صدیوں کی تاریکیوں کو روشنی میں بدل کر رکھ دے۔۔۔۔ اگر مرحومہ جماعتی بلوچ اور مرحوم عبدالعزیز گدور جیسے معذور لوگ بھی علم کی روشنی بانٹ سکتے ہیں۔۔۔ تو اس دھرتی کے صاحب حیثیت، باشعور، تعلیم یافتہ اور صاحب دل لوگ کیونکر آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے۔۔۔۔
ان معصوم بچوں کا مقدمہ میں تمام سیاسی، سماجی، قبائلی ، عوامی نمائندوں، سول سوسائٹی، سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں، اساتذہ کرام، مخیر حضرات اور علمائے کرام کی خدمت پیش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ آگے بڑھ کر لسبیلہ کے مستقبل کو روشن کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔۔۔۔ جہاں جہاں پہ ہماری ضرورت پیش آئےگی۔۔۔۔ ہم ان شاءاللہ ہمیشہ ساتھ ساتھ کھڑے ہوں گے۔

Anwar Jamali

Address

Main RCD Road Uthal
Uthal
90150

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Uthal Press Club Tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Uthal Press Club Tv:

Share