Muhammad Yousuf Saifi

Muhammad Yousuf Saifi President CBS | Learner | Leader | Changemaker — inspiring growth, empowering others, and turning every stage into a platform for impact.

🌟 Small Achievement, Big Vision! 🚀Every successful entrepreneur starts with a single idea—and a willingness to learn.I'm...
05/07/2026

🌟 Small Achievement, Big Vision! 🚀

Every successful entrepreneur starts with a single idea—and a willingness to learn.

I'm delighted to share that I have successfully completed "Developing Innovative Ideas for New Companies: The First Step in Entrepreneurship," authorized by the University of Maryland, College Park and delivered through Coursera.

This course has strengthened my understanding of innovation, opportunity recognition, and the mindset required to build impactful ventures.

As I continue my journey in higher education and professional development, I look forward to applying these insights to future projects and creating solutions that make a positive difference.

The journey has just begun. 💡

Alhamdulillah for another step forward. 🤲

خالص ریاضی کیوں اہم ہے؟Why Pure Mathematics Still Matters?حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران مجھ سے ایک دلچسپ سوال پوچھا گی...
07/02/2026

خالص ریاضی کیوں اہم ہے؟
Why Pure Mathematics Still Matters?

حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران مجھ سے ایک دلچسپ سوال پوچھا گیا کہ ایسا کون سا ریاضی دان ہے جس کے کام کی فوری عملی (practical) applications نہیں تھیں، لیکن پھر بھی اسے بڑے اعزازات ملے۔ اس سوال نے مجھے جی۔ ایچ۔ ہارڈی (G. H. Hardy) کی یاد دلائی، جو خالص ریاضی کے ایک عظیم ماہر تھے۔

اپنی مشہور کتاب A Mathematician’s Apology (1940) میں ہارڈی نے وضاحت کی کہ خالص ریاضی منطق، تخلیقی سوچ اور خوبصورتی پر مبنی ایک علمی جستجو ہے، نہ کہ صرف عملی استعمال پر۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ ان کا زیادہ تر کام نظریاتی تھا۔

اس کے باوجود، ہارڈی کو کئی بڑے اعزازات ملے، جن میں شامل ہیں:
• Fellow of the Royal Society (FRS)
• Royal Medal (1940)
• Sylvester Medal (1940)

ہارڈی کو بھارتی ریاضی دان سرینواس رامانجن (Srinivasa Ramanujan) کے ساتھ تعاون اور Hardy–Weinberg principle اور Hardy spaces جیسے اہم نظریات کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج کے نظریاتی خیالات ہی کل کی عملی ایجادات کی بنیاد بنتے ہیں۔

یادوں کی دہلیز پر ایک شام۲۵-۱۲-۲۵آج شام ٹھیک آٹھ بجے، جب میں اکیڈمی کی کلاسز ختم کر کے دروازہ بند کرنے ہی والا تھا، زندگ...
25/12/2025

یادوں کی دہلیز پر ایک شام

۲۵-۱۲-۲۵

آج شام ٹھیک آٹھ بجے، جب میں اکیڈمی کی کلاسز ختم کر کے دروازہ بند کرنے ہی والا تھا، زندگی نے اچانک مجھے برسوں پیچھے لوٹا دیا۔ ایسا لگا جیسے کسی نے وقت کی ریل کو روک کر مجھے میرے بچپن کے اسٹیشن پر اتار دیا ہو۔ میرے بچپن کے دوست، جو صرف نام نہیں تھے بلکہ میری زندگی کے وہ روشن لمحے تھے جو وقت کے ہجوم میں کہیں دب گئے تھے۔ اچانک میرے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ ایک لمحے کو یقین نہ آیا، پھر سلام ہوا، نظریں ملیں، اور دل نے مان لیا کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے ساتھ کبھی دن چھوٹے اور ہنسیاں بڑی ہوا کرتی تھیں۔

بات شروع ہوئی تو یوں لگا جیسے لفظ نہیں، یادیں بول رہی ہوں۔ مڈل اسکول کے دن آنکھوں کے سامنے چلنے لگے۔ وہ شرارتیں جن پر کبھی ڈانٹ پڑی، کبھی سزا ملی، اور کبھی استاد کی خاموش مسکراہٹ نے ہمیں بچا لیا۔ وہ دوست جن کے ساتھ بیٹھ کر مستقبل کے خواب نہیں، بس اگلے پیریڈ کی شرارتیں سوچتے تھے۔ وہ دن جب وقت کی کوئی قیمت نہ تھی، اور دل پر کسی ذمہ داری کا بوجھ نہیں تھا۔

گفتگو کا رخ آہستہ آہستہ مون وے پبلک اسکول، گڑھا موڑ کی طرف مڑ گیا۔ اسکول کا نام سنتے ہی دل میں ایک عجیب سی ٹھنڈک اتر گئی۔ وہ عمارت نہیں تھی، وہ ایک دنیا تھی، جہاں ہم نے بولنا سیکھا، سہنا سیکھا، اور انسان بننے کی پہلی سیڑھی چڑھی۔ راہداریاں، کلاس رومز، اسمبلی کی قطاریں، بلیک بورڈ پر لکھے سبق، سب کچھ جیسے دوبارہ زندہ ہو گیا۔

اور پھر ذکر آیا اس شخصیت کا جس کے بغیر یہ سب ادھورا تھا۔
محترم ملک اسد اعوان صاحب—جن کی قیادت میں مون وے پبلک اسکول صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں رہا، بلکہ تربیت کی آماجگاہ بن گیا۔ وہ صرف پرنسپل نہیں تھے، وہ ایک باپ جیسی شفقت اور ایک استاد جیسا وقار رکھتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں سختی بھی تھی، مگر اس سختی کے پیچھے اصلاح کی نیت چھپی ہوتی تھی۔ ان کا لہجہ کم بولتا تھا، مگر اثر دیر تک رہتا تھا۔ وہ ہمیں صرف کتابی علم نہیں دے رہے تھے، وہ ہمیں زندگی کے آداب سکھا رہے تھے۔ آج بھی ان کا نام آتے ہی دل احترام سے بھر جاتا ہے۔

اسی محفل میں، ہمارے ساتھ ہی پاس بیٹھا میرا ایک میٹرک کا طالب علم خاموشی سے یہ سب سنتا رہا۔ کچھ دیر بعد اس نے دھیمی آواز میں کہا:
“سر، ہمیں آج تک ایسے دوست کیوں نہیں ملے؟”

اس ایک سوال نے جیسے دل کو چھو لیا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا، مسکرایا، اور نرمی سے کہا:
“یہ سب اُس وقت معلوم نہیں ہوتا جب آپ شرارتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ اُس وقت تو بس لمحے جیتے جاتے ہیں، ان کی قدر نہیں کی جاتی۔ اصل میں یہ سب یادیں تب بنتی ہیں، جب آپ سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں، جب راستے جدا ہو جاتے ہیں، اور تب احساس ہوتا ہے کہ جو وقت گزر گیا، وہی سب سے قیمتی تھا۔”

یہ کہتے ہوئے خود مجھے بھی محسوس ہوا کہ شاید میں یہ بات اسے کم، اور خود کو زیادہ سمجھا رہا ہوں۔

ہم باتوں میں اتنے گم ہو چکے تھے کہ احساس ہی نہ ہوا کہ باون منٹ کب گزر گئے۔ وقت جیسے ہمارے سامنے ہار مان گیا ہو، یا شاید وہ بھی ان یادوں کا احترام کرتے ہوئے رک گیا ہو۔ جب محفل ختم ہوئی تو دل عجیب سی کیفیت میں تھا—خوشی بھی تھی، اداسی بھی، مگر ایک میٹھی سی اداسی، جو انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتی بلکہ مضبوط بنا دیتی ہے۔

آج یہ یقین پختہ ہو گیا کہ زندگی کے سب سے حسین لمحات وہ نہیں جو ہم آج جیتے ہیں، بلکہ وہ ہیں جو کل یاد بن جاتے ہیں۔ انسان چاہے کتنا ہی پریشان کیوں نہ ہو، جب بچپن، دوستی اور خلوص کی یادیں اچانک سامنے آ جائیں تو دل خوشی سے نڈھال ہو جاتا ہے۔

مون وے پبلک اسکول، گڑھا موڑ صرف ایک نام نہیں، یہ ایک احساس تھا، ایک گھر تھا، اور محترم ملک اسد اعوان صاحب جیسی قیادت اس گھر کی وہ بنیاد تھی، جس پر آج بھی ہماری یادیں قائم ہیں۔

Muhammad Yousuf Saifi YouSuf Saifi @

Address

Vehari

Telephone

+923061065114

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Yousuf Saifi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Yousuf Saifi:

Shortcuts

Share