Tribal View

Tribal View Tune in for bold voices and fearless
journalism.

Pakhtunkhwa first multilingual digital platform amplifies unheard stories from Tribal Areas and marginalized communities, breaking stereotypes and challenging powerfull narratives.

Sindh High Court grants bail to Pashtun leader Ali Wazir in terrorism caseMarch 10– The constitutional bench of the Sind...
10/03/2026

Sindh High Court grants bail to Pashtun leader Ali Wazir in terrorism case

March 10– The constitutional bench of the Sindh High Court on Monday granted bail to former member of Pakistan’s National Assembly and Pashtun political leader Ali Wazir in a terrorism case registered in Nawabshah, his lawyer said.

During the previous hearing, the court had expressed concern that Wazir was being held in Sukkur Central Jail without any active case pending against him and directed relevant officials to appear and explain the legal basis for his continued detention.

Wazir has been in custody since Aug. 3, 2024, and has been transferred between several prisons across the country since his arrest. He was initially held in different jails in Punjab province, later moved to Balochistan and eventually transferred to Sindh, including detention in Sukkur Jail.

His lawyer said the repeated transfers made it difficult for his family and legal team to track the cases and provide timely legal assistance.

During this period, dozens of first information reports (FIRs) were registered against Wazir in different cities across Pakistan. Authorities also issued multiple detention orders under Section 3 of the Maintenance of Public Order (3-MPO), allowing him to remain in custody even after courts granted bail in other cases.

Lawyers and rights advocates say this pattern of successive cases and preventive detention orders has effectively prolonged his imprisonment, as new cases or detention orders appeared whenever relief was granted in earlier ones.

They also questioned the credibility of some FIRs, noting that several were filed in cities Wazir had never visited, alleging he had addressed anti-state gatherings there.

While the Sindh High Court’s decision to grant bail is seen as a significant development, Wazir’s legal team expressed concern that new cases or fresh preventive detention orders could still delay his release.

Wazir, a prominent Pashtun politician and former lawmaker from South Waziristan, has been a vocal critic of state policies and an advocate for the rights of Pashtun communities in Pakistan.

وانا رستم بازار میں دھماکہ،دو پولیس اہلکار ہلاک 20 سے زائد عام شہری زخمیجنوبی وزیرستان لوئر وانا رستم بازار میں پولیس کی...
07/03/2026

وانا رستم بازار میں دھماکہ،دو پولیس اہلکار ہلاک 20 سے زائد عام شہری زخمی

جنوبی وزیرستان لوئر وانا رستم بازار میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنا یا گیا دھماکے میں دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ چار پولیس اہلکاروں سمیت بیس سے زائد عام شہری زخمی ہوگئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب بازار میں لوگ افطاری کے لیے سامان کی خریداری میں مصروف تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں پولیس گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ آس پاس موجود افراد بھی دھماکے کی زد میں آگئے۔

زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

سیاسی جماعتیں باشعور کارکنان پیدا کرنے کے بجائے جذباتی فینز کیوں تیار کر رہی ہیں؟تحریر: Sohail Ahmad Danish پاکستان بظاہ...
09/02/2026

سیاسی جماعتیں باشعور کارکنان پیدا کرنے کے بجائے جذباتی فینز کیوں تیار کر رہی ہیں؟

تحریر: Sohail Ahmad Danish

پاکستان بظاہر ایک جمہوری ریاست ہے جہاں ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانے، اظہارِ رائے اور جلسہ جلوس کی آزادی حاصل ہے۔ یہی جملے ہمیں نصابی کتابوں، میڈیا اور سرکاری بیانیے میں بار بار سننے کو ملتے ہیں۔ مگر جب ہم پاکستانی سیاست کو گہرائی سے دیکھتے ہیں تو ایک مختلف حقیقت سامنے آتی ہے—ایسی حقیقت جہاں جمہوریت محض ایک ظاہری ڈھانچہ ہے اور اصل طاقت ایک طے شدہ فارمولا کے تحت تقسیم ہوتی ہے۔
پاکستانی سیاست میں “قبولیت” ایک اہم اصطلاح بن چکی ہے۔ اس قبولیت سے مراد وہ غیر تحریری معیار ہے جس کے ذریعے سیاسی جماعتیں مقتدرہ کی رضامندی حاصل کرتی ہیں تاکہ انہیں اقتدار میں شراکت کا موقع مل سکے۔ اس مقصد کے لیے سیاسی جماعتیں اکثر عوامی مفاد، عوامی بیانیے اور عوامی فلاح کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں، کیونکہ کئی مواقع پر عوامی مطالبات مقتدرہ کے مفادات اور اشرافیہ کے مفروضہ “قومی مفاد” سے ٹکرا جاتے ہیں۔
اسی تناظر میں سیاسی جماعتوں کا کردار بھی بدل گیا ہے۔ وہ کارکن پیدا کرنے کے بجائے فینز تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ کارکن وہ ہوتا ہے جو سوال اٹھاتا ہے، پالیسی پر بحث کرتا ہے اور قیادت کو جوابدہ بناتا ہے، جبکہ فین وہ ہوتا ہے جو قیادت کے ہر فیصلے کو بلا چون و چرا قبول کرتا ہے۔ آج کی سیاسی جماعتوں کو ایسے ہی فینز درکار ہیں جو نہ قیادت سے سوال کریں، نہ متبادل سوچ پیش کریں اور نہ ہی پارٹی کے اندر جمہوری عمل کو فروغ دیں۔
یہ رجحان صرف مقتدرہ کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے اندر موجود جاگیردارانہ سوچ کے لیے بھی انتہائی موزوں ہے۔ جب پارٹی قیادت کو جاگیر سمجھ لیا جائے اور کارکنوں کو محض فینز میں تبدیل کر دیا جائے تو قیادت کو کسی داخلی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ یوں سیاسی جماعتیں شخصی اقتدار کے گرد گھومنے لگتی ہیں، نہ کہ نظریات اور اصولوں کے گرد۔
اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ پالیسی سازی کے عمل میں عوامی فلاح کو ثانوی حیثیت دے دی گئی۔ حکمران جماعتیں فیصلے کرتے وقت عوام کی ضروریات کے بجائے مقتدرہ کی خوشنودی کو ترجیح دیتی ہیں۔ جب تک پاور شیئرنگ کا توازن برقرار رہتا ہے، یہ گٹھ جوڑ چلتا رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور مقتدرہ کسی سیاسی جماعت کو اقتدار سے باہر کر دیتی ہے، وہی جماعت اچانک انقلابی بن جاتی ہے اور عوام کے ذریعے مقتدرہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔
یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے، اور اس کی بنیادی وجہ عوامی شعور کی کمی ہے۔ جب تک عوام اس کھیل کو نہیں سمجھیں گے، نہ حقیقی جمہوریت ممکن ہوگی اور نہ ہی عوامی فلاح کو مرکزیت حاصل ہو سکے گی۔ اصل تبدیلی اسی دن آئے گی جب عوام فین بننے کے بجائے باشعور شہری بنیں گے، سیاسی جماعتوں سے سوال کریں گے اور اقتدار کو عوامی مفاد سے مشروط کریں گے۔
تب ہی پاکستان میں جمہوریت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بن سکے گی۔

تحصیل برمل کراس فائرنگ میں کم عمر لڑکا جاں بحقتحصیل برمل اعظم ورسک کے علاقے کراباغ میں آج صبح سیکیورٹی فورسز اور مبینہ ع...
08/02/2026

تحصیل برمل کراس فائرنگ میں کم عمر لڑکا جاں بحق

تحصیل برمل اعظم ورسک کے علاقے کراباغ میں آج صبح سیکیورٹی فورسز اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی کراس فائرنگ کے نتیجے میں ایک کم عمر لڑکا جاں بحق ہو گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ اس وقت شروع ہوئی جب اکبر خان زمان ولد جانق گل اپنے باغ میں موجود تھا۔ اچانک ہونے والی فائرنگ کی زد میں آ کر گولی لگنے سے وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

علاقہ مکینوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہری آبادی میں ایسے آپریشنز اور فائرنگ کے واقعات سے گریز کیا جائے اور معصوم جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

Two children injured in landmine blast in South WaziristanTwo children have been injured in a landmine explosion in the ...
28/01/2026

Two children injured in landmine blast in South Waziristan

Two children have been injured in a landmine explosion in the Zairenoor Patni area of South Waziristan lower,
according to local sources.

The blast left two young girls wounded. One of them, identified as Ferdnia, daughter of Faridullah, sustained severe injuries to both legs. The other child, Palwasha, daughter of Aziz, suffered serious injuries to both arms.

Local residents said the explosion occurred when the children came into contact with a buried landmine, a remnant of past conflict in the region.

The injured girls were initially taken to a nearby hospital, where they received first aid, before being referred to a medical facility in Dera Ismail Khan for further treatment.

Landmines and unexploded ordnance remain a persistent threat in parts of the former tribal districts, despite official claims of clearance operations over the years.

Residents of the area have urged the government and security agencies to speed up efforts to clear landmines, warning that delays continue to put civilian lives especially those of children at risk.

پیکا قانون کے تحت متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں اسلام آباد کے ایک عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کو مجموعی طور پر 1...
24/01/2026

پیکا قانون کے تحت متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں اسلام آباد کے ایک عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کو مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنادی

اسلام آباد کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا پر متنازع بیانات کے مقدمے میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو پیکا (PECA) ایکٹ کی دفعہ 10 کے تحت مجرم قرار دے دیا ہے۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ریاست پر جبری گمشدگیوں کے الزامات عائد کیے اور ایسی معلومات پھیلائیں جن کی تصدیق موجود نہیں تھی۔ عدالت کے مطابق سوشل میڈیا پر کی جانے والی متعدد پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ریاست افراد کی جبری گمشدگی کی ذمہ دار ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایسے بیانات نہ صرف غلط معلومات کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ ان سے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت اور بداعتمادی کو فروغ ملتا ہے۔

سماعت کے دوران بائیکاٹ

ہفتے کے روز ہونے والی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ تاہم سماعت اس وقت تعطل کا شکار ہو گئی جب دونوں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔

سماعت کے آغاز پر عدالت نے استغاثہ کے گواہوں پر جرح کے حوالے سے سابقہ احکامات پر عمل درآمد طلب کیا۔ پولیس نے سکیورٹی خدشات کے باعث ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی اجازت مانگی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

ویڈیو لنک کے دوران تکنیکی مسائل اور انٹرنیٹ کی خرابی کے باعث سماعت میں تاخیر ہوئی۔ بعد ازاں ایمان مزاری نے عدالت سے استفسار کیا کہ آیا میڈیا نمائندگان کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ جیل میں انہیں اور ان کے شوہر کو مناسب خوراک اور پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ ایمان مزاری نے جج سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری عدالت پر عائد ہوتی ہے۔

اس کے بعد دونوں نے عدالتی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہوئے سماعت کا بائیکاٹ کر دیا اور ویڈیو لنک سے اٹھ گئے۔

انسانی حقوق کے اداروں کا ردعمل

ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاست دانوں اور صحافیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گرفتاری کو ’بغیر شفاف قانونی عمل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمات انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر جوابی کارروائی کے مترادف ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے بھی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کو اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

شریں مزاری کا مؤقف

ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شریں مزاری نے عدالتی فیصلے کو ’مکمل طور پر غیر قانونی‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی منتقلی کی درخواست زیرِ سماعت ہے، اس لیے ٹرائل کورٹ قانونی طور پر فیصلہ سنانے کی مجاز نہیں تھی۔

سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ انصاف نہیں بلکہ طاقت کے مظاہرے کے مترادف ہے۔

حکومتی ردعمل

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:
“جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔ یہ پیکا قانون کا پہلا حتمی اور سرکاری نتیجہ ہے۔”

مقدمے کا پس منظر

یہ مقدمہ 12 اگست 2025 کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں درج کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایمان مزاری نے سوشل میڈیا پر ایسے بیانات دیے جو کالعدم تنظیموں کے بیانیے سے ہم آہنگ تھے، جبکہ ہادی علی پر ان پوسٹس کو شیئر کرنے کا الزام تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق دونوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملات کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا اور ریاستی اداروں کو شدت پسند تنظیموں کے خلاف ناکام ظاہر کیا۔

عدالت نے نومبر 2025 میں دونوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ بعد ازاں متعدد سماعتوں، عبوری ضمانت کی منسوخی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستوں کے بعد حالیہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔

فی الحال مقدمے سے متعلق مزید قانونی کارروائی متوقع ہے، جبکہ انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر بحث جاری ہے۔

له خیبر پښتونخوا څخه د یوشمېر بې درکه کسانو خپلوانو د جنورۍ په ۱۹مه، په پېښور کې د خبریالانو د مرکز مخې ته احتجاجي مظاهر...
19/01/2026

له خیبر پښتونخوا څخه د یوشمېر بې درکه کسانو خپلوانو د جنورۍ په ۱۹مه، په پېښور کې د خبریالانو د مرکز مخې ته احتجاجي مظاهره وکړه او له حکومته یې وغوښتل چې د هغوی خپلوان دې عدالتونو ته وړاندې شي۔

مظاهرچیانو د رسنيو سره په خبرو کې وویل چې د دوی خپلوان له څو کلونو راهیسې بې درکه دي او په وینا یې، امنیتي ادارو دغه کسان په وروستیو کې د خیبر پښتونخوا له زندانونو پنجاب ته منتقل کړي دي۔ احتجاج کوونکو ټینګار وکړ چې د خپلو عزیزانو د ځای او قانوني حیثیت په اړه هېڅ معلومات نه ورکول کېږي، چې له امله یې کورنۍ سختې اندېښنې سره مخ دي۔

تر اوسه پورې حکومتي او امنیتي چارواکو د مظاهرچیانو د دغو څرګندونو په اړه رسمي غبرګون نه دی ښودلی۔

دا په داسې حال کې ده چې په پاکستان کې له تېرو څو کلونو راهیسې د جبري بې درکیو پېښې راپور کېږي، چې پکې تر ډېره بلوڅان او پښتانه شامل دي۔ د پاکستان د بشري حقونو کمېشن، پښتانه او بلوڅ ملتپاله سیاستوال، او د بشري حقونو فعالان پر امنیتي او استخباراتي ادارو د خلکو د جبري ورکولو تورونه لګوي۔

خو د پاکستان پوځ دغه تورونه ردوي او وايي چې ځینې هغه کسان چې بې درکه بلل کېږي، له وسلوالو ډلو سره یوځای شوي دي او ځینې نور د عملیاتو او نښتو پر مهال وژل شوي دي۔

بلخوا، د پاکستان د قانوني چارو وزیر په ۲۰۲۴ز کال کې منلې وه چې په جبري بې درکیو کې د دولتي ادارو ښکېلتیا په بشپړ ډول نه شي رد کېدای، خو دا یې هم ویلي وو چې تر اوسه یې په دې اړه کره شواهد نه دي ترلاسه کړي۔

د جبري بې درکیو د پلټنو سرکاري کمېشن د تېر کال په سېپټېمبر کې ویلي وو چې له ۲۰۱۱ز کال راهیسې یې د ۱۰،۶۳۶ کسانو د بې درکه کېدو قضیې ثبت کړې دي، چې له ډلې یې ۸،۹۸۶ قضیې هوارې شوې دي۔

Curfew shuts Wana market, thousands stranded as security tightensWANA, Jan 15  – Security authorities imposed a sudden 2...
15/01/2026

Curfew shuts Wana market, thousands stranded as security tightens

WANA, Jan 15 – Security authorities imposed a sudden 24-hour curfew in Wana, the main bazaar of Lower South Waziristan district, on Wednesday citing security concerns, forcing the closure of bazaar main market and leaving residents confined to their homes, local officials and residents said.

The curfew led to the complete shutdown of Wana Bazaar, which comprises more than 25,000 shops, paralysing commercial activity and causing losses worth millions of rupees to traders, according to representatives of local business associations.

All entry and exit points to bazaar were sealed following the curfew order, restricting movement and disrupting access to food supplies, medicines and emergency services.

Residents said patients, students and travellers faced severe difficulties as transport services remained suspended.

Security sources said the curfew was imposed a day after security forces took control of Musa Qila, described as a suspected hideout linked to the commander Mullah Nazir group, prompting heightened security measures in the area. Authorities have not issued an official statement clarifying the duration of the curfew or outlining the next steps.

Political parties and traders in Wana strongly criticised the move, calling it a form of collective punishment. Measures taken in the name of law and order should not come at the cost of ordinary citizens, local political leaders said in a joint statement.

Residents and business groups urged authorities to ease the curfew immediately, reopen roads and restore normal life, warning that prolonged restrictions could further worsen the humanitarian and economic situation in the area.

شمالی وزیرستان نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق، واقعے کی تحقیقات شروع تھانہ میرانشاہ کی حدود میں واقع علاقے م...
12/01/2026

شمالی وزیرستان نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق، واقعے کی تحقیقات شروع

تھانہ میرانشاہ کی حدود میں واقع علاقے مال منڈی سرائے درپہ خیل میں فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ واقعہ آج شام تقریباً سوا چار بجے پیش آیا، جب نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ملک محمد رحیم ولد محمد ہاشم، سکنہ کابل خیل شواہ، جو حالیہ دنوں میں سرائے درپہ خیل میں مقیم تھے، موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔

لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال میرانشاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاہم تاحال فائرنگ کے محرکات اور حملہ آوروں کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

وانا بازار کے قریب دھماکہ، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا سلطان شدید زخمیواناــــ جنوبی وزیرستان وانا بازار کے قریب ...
09/01/2026

وانا بازار کے قریب دھماکہ، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا سلطان شدید زخمی

واناــــ جنوبی وزیرستان وانا بازار کے قریب زور دار دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور جامعہ اشرفیہ کے مہتمم حضرت مولانا سلطان شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد انہیں تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال وانا منتقل کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے وانا بازار کے قریب ہونے والے دھماکے میں مولانا سلطان کو شدید چوٹیں آئیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹرز انہیں طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔

دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی جبکہ سرکاری ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق مولانا سلطان جامعہ اشرفیہ کے مہتمم ہیں اور دھماکے کے وقت وہ مدرسے سے اپنے گھر جا رہے تھے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم اہلِ علاقہ اور مختلف مذہبی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

Unknown attackers blow up ANP leader’s guest house in Tirah ValleyUnknown attackers blew up a guest house belonging to a...
06/01/2026

Unknown attackers blow up ANP leader’s guest house in Tirah Valley

Unknown attackers blew up a guest house belonging to a senior leader of Awami National Party (ANP) in the remote Tirah Valley of Khyber district, police said on Monday, underscoring persistent security challenges in the region.

The explosion targeted a hujra (traditional guest house) owned by ANP district president Abdul Raziq in the Kalana area of Tirah Valley. Police said the blast, caused by explosive material planted by assailants, was powerful enough to reduce the structure to rubble and destroy all valuables inside. No casualties were reported.

Local police officials said Abdul Raziq had been receiving threats from militants for a long time and had left the area about four years ago due to the deteriorating security situation. Despite his absence, his properties have continued to be targeted.

According to local sources, Abdul Raziq’s large residential house was also attacked two years ago and set on fire, raising concerns about repeated assaults on political figures in the area.

Confirming the incident, Abdul Raziq said the guest house and its contents were completely destroyed in the blast. He called on the government and security forces to take immediate and effective action against militants to ensure the safety of civilians and political workers.

Police said an investigation had been launched, while security forces intensified search operations in the surrounding areas. The latest attack has renewed fears among residents and raised fresh questions about law and order in the Tirah Valley, a region that has witnessed years of militant violence despite repeated security operations.

شمالی وزیرستان میرعلی میں امن کے لیے عوامی احتجاج، حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہشمالی وزیرستان میرعلی میں اتمانزئی جرگ...
02/01/2026

شمالی وزیرستان میرعلی میں امن کے لیے عوامی احتجاج، حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

شمالی وزیرستان میرعلی میں اتمانزئی جرگہ اور مقامی آبادی نے ’امن پاڅون‘ کے نام سے ایک بڑی احتجاجی اجتماع منعقد کیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ میرعلی چوک پر ہونے والی اس ریلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں نے شرکت کر کے علاقے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان جاری جھڑپوں کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جہاں بار بار قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور املاک تباہ ہو رہی ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور ریاستی ادارے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور بلاجواز تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

اتمانزئی جرگہ کے ترجمان مفتی بیت اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ علاقے میں پائیدار امن کا قیام ان کی بنیادی اور اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق حکام سے متعدد بار رابطے کیے گئے ہیں، کچھ معاملات میں پیش رفت بھی ہوئی، تاہم مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر عوام اب بھی مطمئن نہیں۔

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما ملک نثار علی خان نے کہا کہ احتجاج کا مقصد تمام فریقین کو یہ پیغام دینا ہے کہ لڑائیوں کا خمیازہ بے گناہ عوام بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی سے دور رہ کر کارروائیاں کی جائیں تاکہ شہری نقصان سے بچ سکیں۔

سرکاری یا عسکری حکام کی جانب سے اس اجتماع کے مطالبات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں حکام یہ موقف دہراتے رہے ہیں کہ علاقے میں امن برقرار رکھنے کے لیے ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جا رہی ہیں تاکہ شہری آبادی متاثر نہ ہو۔

ادھر 2025 کے دوران شمالی وزیرستان میں بدامنی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ٹارگٹ کلنگ، خودکش حملے اور ڈرون حملے شامل تھے۔ مقامی افراد کے مطابق ان واقعات نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا۔ اسی طرح بنوں میں بھی گزشتہ برس کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں پولیس کے مطابق درجنوں اہلکار حملوں میں جان سے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کی گئیں، تاہم علاقے کے عوام اب بھی امن کے عملی قیام کے منتظر ہیں۔

Address

Wana
29540

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tribal View posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share