29/09/2026
انہوں نے یہ گفتگو فروری 2023 میں جرمنی میں منعقدہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر ایک بین الاقوامی خبری ادارے (ڈوئچے ویلے) کو انٹرویو دیتے ہوئے کی تھی۔
اس گفتگو میں آئی ایم ایف کی سربراہ نے واضح کیا تھا کہ ادارے کی جانب سے پاکستان پر غریبوں کو متاثر کرنے والے اقدامات کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاتا، بلکہ آئی ایم ایف یہ چاہتا ہے کہ پاکستان میں امیروں اور صاحبِ ثروت طبقے پر ٹیکس عائد کیا جائے اور اس سے حاصل ہونے والے وسائل سے غریبوں کو سبسڈی اور ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا تھا کہ سبسڈیز کا فائدے مند صرف وہ طبقہ ہونا چاہیے جسے اس کی واقعی ضرورت ہے، نہ کہ امیر طبقہ جو خود اخراجات برداشت کر سکتا ہے۔ تاہم، عملی طور پر پاکستان میں آئی ایم ایف کی مالیاتی شرائط، جیسے کہ گردشی قرضہ کم کرنے اور آمدن بڑھانے کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے، حکومت اکثر بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے اور سبسیڈیز ختم کرتی ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام اور غریب عوام پر بھی پڑتا ہے۔ اس لیے یہ خبر آئی ایم ایف سربراہ کے اصل موقف اور بیان کی ترجمانی کرتی ہے، لیکن عالمی مالیاتی ادارے کی سخت اصلاحاتی شرائط کے پاکستان میں مرتب ہونے والے عملی اثرات اس بیان سے مختلف نظر آتے ہیں۔