Rajput Sulahri

Rajput Sulahri Please Follow me

🤔🤔🤔🤔❓❓❓❓
22/08/2026

🤔🤔🤔🤔❓❓❓❓

22/08/2026

اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی

حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک روز چلتے پھرتے
مدینے میں یہودیوں کے محلے میں پہنچ گئے۔وہاں ایک بڑی تعداد میں یہودی جمع تھے اس روز یہودیوں کا بہت بڑا عالم فنحاص اس اجتماع میں آیا تھا۔
حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے فنحاص سے کہا اے فنحاص ! اللہ سے ڈر اور اسلام قبول کر لے ۔ اللہ کی قسم ! تو خوب جانتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں اور تم یہ بات اپنی تورات اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہو ۔
اس پر فنحاص کہنے لگا : وہ اللہ جو فقیر ہے ، بندوں سے قرض مانگتا ہے اور ہم تو غنی ہیں ۔ غرض فحناص نے یہ جو مذاق کیا تو قرآن کی اس آیت پر اللہ کا مذاق اڑایا ۔

من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا ( سورہ البقرہ ۲۴۵)

صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب دیکھا کہ اللہ کا دشمن میرے رب کا مذاق اڑا رہا ہے تو انہوں نے اس کے منہ پر طمانچہ دے مارا اور کہا : ”

اس رب کی قسم جس کی مٹھی میں ابوبکر کی جان ہے اگر ہمارے اور تمہارے درمیان ( امن کا ) معاہدہ نہ ہوتا تو اے اللہ کے دشمن ! میں تیری گردن اڑا دیتا -“

فنحاص دربار رسالت میں آگیا - اپنا کیس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا - کہنے لگا : ” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! دیکھئے آپ کے ساتھی نے میرے ساتھ اس اور اس طرح ظلم کیا ہے ۔“

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا : ” آپ نے کس وجہ سے اس کے تھپڑمارا ؟تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : ” اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس اللہ کے دشمن نے بڑا بھاری کلمہ بولا -

اس نے کہا اللہ فقیر ہے اور ہم لوگ غنی ہیں - اس نے یہ کہا اور مجھے اپنے اللہ کے لئے غصہ آگیا - چنانچہ میں نے اس کا منہ پیٹ ڈالا - یہ سنتے ہی فنحاص نے انکار کردیا اور کہا : ” میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی -“

اب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی گواہی دینے والا کوئی موجود نہ تھا - یہودی مکر گیا تھا اور باقی سب یہودی بھی اس کی پشت پر تھے - یہ بڑا پریشانی کا سماں تھا - مگراللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی کی عزت وصداقت کا عرش سے اعلان کرتے ہوئے یوں شہادت دی :

( آل عمران : 181)
اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں -

22/08/2026

ایک مرتبہ اللہ نے حضرت عزرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ... اے عزرائیل آج تک جن لوگوں کی روح تو نے قبض کی ان میں سے کسی پر تجھے رحم بھی آیا؟.... عزرائیل نے عرض کیا.:
اے پروردگار تو خوب جانتا ہے کہ روح قبض کرتے وقت ہمیشہ میرا دل دکھتا ہے لیکن تیرے حکم سے سرتابی کی مجال کہاں؟
خدا نے پوچھا... یہ بتا تجھے سب سے زیاد٥ رحم کس پر آیا؟.. الہی ایک موت ایسی ہے جو بھلائے نہیں بھولتی.... اور و٥ غم ایسا ہے جو تنہائی میں بھی میرے ساتھ رہتا ہے..
ایک کشتی مردوں اور عورتوں سے بھری ہوئی سمندر میں سفر کرہی تھی... تو نے حکم دیا اس کشتی کو فنا کردے میں نے کشتی کو پاش پاش کردیا... تو نے فرمایا سب مردوں اور عورتوں کی روحیں قبض کرلو... لیکن ایک عورت اور اس کے نوزائید٥ بچے کو چھوڑ دے...
میں نے اس حکم کی بھی تعمیل کی سب کی جانیں قبض کرلیں ایک بہتے تختے پر ماں اور اس کا بچہ ر٥ گئے... اور پھر و٥ تختہ سمندر کے کنارے پر پہنچ گیا میں اس ماں اور بچے کی جان بچ جانے سے بہت خوش ہوا.. لیکن پھر تیرا حکم آیا اے عزرائیل جلد ماں کی روح قبض کر اور بچے کو اکیلا چھوڑ دے اے باری تعالیٰ تو خوب جانتا ہے یہ حکم پاکر میرا کلیجہ کانپ گیا تھا مجھے اس شیر خوار بچے کو اس کی ماں سے الگ کر کے جس قدر تکلیف پہنچی تھی.. اب اس واقعہ کو ایک مدت بیت چکی ہے.. لیکن و٥ بچہ برابر یاد آتا ہے..
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
کیا تو جانتا ہے کہ و٥ بچہ اب کہاں ہے اور کس حال میں ہے

اللہ نے فرمایا :
اے عزرائیل سن جب تو نے ماں کی روح قبض کی اور بچے کو تنہا چھوڑ دیا تو ہم نے سمندر کی ایک موج کو حکم دیا کہ اس کہ اس بچے کو احتیاط سے ایک ویران جزیرے میں ڈال دے اس جزیرے میں ایک سرسبز اور گھنا جنگل تھا یہاں صاف شفاف میٹھے پانی کے چشمے بہتے تھے اور بے شمار پھل دار درخت تھے اس جزیرے پر ہم نے اپنے فضل و کرم سے محض اس بچے کی خاطر لاکھوں خوش نما اور حسین پرندے بھیجے جو ہر وقت چہچہاتے اور نیا راگ الاپتے تھے ہم نے چنبیلی کے پھولوں اور پتوں کو حکم دیا کہ اس بچے کا بستر تیار کرو تاکہ و٥ اس پر آرام کی نیند سوئے ہم نے اسے ہر خوف اور خطرے سے محفوظ کردیا...
آفتاب کو حکم دیا کہ اپنی تیز دھوپ اس پر نہ ڈال ہوا کو فرمایا اس پر آہستہ آہستہ چل بادلوں کو حکم دیا اس پر مینہ نہ برسانا بجلی کو ہدایت کی کہ خبردار اسے اپنی تیزی دکھا کر مت ڈرا انہی دنوں جنگل میں بھیڑئے کی ماد٥ نے بچے دیئے تھے ہم نے اسے حکم دیا کہ اپنے بچوں کے ساتھ اس انسان کے بچے کو بھی دودھ پلا.. اس کی دیکھ بھال کر اور اسے کوئی کوئی گزند نہ پہنچنے دے...
اے عزرائیل اس نے بھی ہمارے حکم کی تعمیل کی یہاں تک کہ و٥ تنہا اور بظاہر بے یارو مددگار بچہ پرورش پاکر خوب صحت مند اور بہادر ہوگیا ہم نے اس کے پاؤں میں کبھی کانٹا بھی نہ چھبنے دیا دنیا جہان کی نعمتیں اسے عطا کی اور و٥ ان کا شکر بھی ادا کرتا تھا اور اب اے ملک الموت تو جانتا ہے و٥ بچہ کہاں ہے اور کیا کررہا ہے
عزرائیل نے سجدہ کرتے ہوئے عرض کیا.. تجھی کو علم ہے اے میرے پروردگار..
اللہ نے فرمایا :
و٥ بچہ نمرود بن گیا اور اسی نے میرے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ میں جھونکا.. اب و٥ خدائی کا دعویٰ کرکے لوگوں کو میری را٥ سے ہٹاتا ہے اور ان پر تشدد کرتا ہے.

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَآج میرا پیارا خالہ زاد بھائی ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور ح...
11/08/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
آج میرا پیارا خالہ زاد بھائی ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گیا۔ یہ خبر میرے لیے انتہائی افسوسناک اور دل کو توڑ دینے والی ہے۔ 💔
وہ نہایت ہی خوش اخلاق، مخلص، محبت کرنے والے اور عمدہ شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شرافت، خلوص اور اچھے اخلاق کو جتنی سراہا جائے کم ہے۔ ایسے خوبصورت دل اور پیاری شخصیت کے انسان کا دنیا سے چلے جانا ایک بہت بڑا نقصان ہے۔
اللہ تعالیٰ میرے پیارے بھائی کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲
آپ ہمیشہ ہماری یادوں اور دعاؤں میں زندہ رہیں گے۔
اللہ حافظ میرے پیارے بھائی۔ 🥀💔
😭😭😭😢💔💔💔Wasif Wasif Hussain Hussain Wasif #

07/07/2026

😔😔🥺😔😌❤️💟♥️💯

07/07/2026

ایک گاؤں میں ایک باپردہ خاتون رہتی تھیں
جن کی ڈیمانڈ تھی کہ شادی اس سے کریں گی جو انہیں باپردہ رکھے گا
ایک نوجوان اس شرط پر نکاح کے لیے رضامند ہوجاتا ہے
دونوں کی شادی ہوجاتی ہے ۔ وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک بیٹا ہوجاتا ہے ۔
ایک دن شوہر کہتا ہے کہ میں سارا دن کھیتوں میں کام کرتا ہوں ۔ کھانے کے لیے مجھے گھر آنا پڑتا ہے جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے تم مجھے کھانا کھیتوں میں پہنچادیا کرو
بیوی راضی ہوجاتی ہے ۔۔
وقت گذرتے گذرتے ایک اور بیٹا ہوجاتا ہے
جس پر شوہر کہتا ہے کہ اب گذارا مشکل ہے تمہیں میرے ساتھ کھیتوں میں ہاتھ بٹانا پڑے گا
یوں وہ باپردگی سے نیم پردے تک پہنچ جاتی ہے
اور تیسرے بیٹے کی پیدائش پر اس کا شوہر مکمل بے پردگی تک لے آتا ہے
وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک اولاد جوان ہوجاتی ہے
ایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے شوہر ہسنے لگتا ہے
بیوی سبب پوچھتی ہے
تو کہتا ہے کہ بڑا تو پردہ پردہ کرتی تھی آخر کار تیرا پردہ ختم ہوگیا ۔۔ کیا فرق پڑا پردے اور بے پردگی کا
زندگی تو اب بھی ویسے ہی گذر رہی ہے
وہ بولتی ہے کہ تم ساتھ والے کمرے میں چھپ جاؤ میں تمہیں پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوں
شوہر کمرے میں چھپ جاتا ہے
عورت اپنے بال بکھیرے رونا پیٹنا شروع کردیتی ہے
پہلے بڑا بیٹا آتا ہے ۔ رونے کا سبب پوچھتا ہے
کہتی ہے تیرے باپ نے مارا ہے
بڑا بیٹا ماں کو سمجھاتا ہے کہ اگر مارا ہے تو کوئی بات نہیں وہ آپ سے محبت بھی تو کرتے ہیں آپ کا خیال رکھتے ہیں ۔
وہ سمجھا بجھا کر چلا جاتا ہے
عورت پھر سے رونے کی ایکٹنگ کرتی ہے اور منجھلے بیٹے کو بلا کر بتاتی ہے کہ تیرے باپ نے مجھے مارا
منجھلا بیٹا کو غصہ آتا ہے وہ باپ کو برا بھلا کہتے ہوئے ماں کو سمجھا بجھا کر چپ کروا کر چلا جاتا ہے
آخر کار عورت یہی ڈرامہ چھوٹے بیٹے کے سامنے کرتی ہے
چھوٹا بیٹا تو غصہ سے آگ بگولہ ہوجاتا ہے اور زور زور سے گالیاں بکتے ہوئے ڈنڈا اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی باپ کی خبر لیتا ہوں
پھر عورت شوہر کو بلا کر بولتی ہے
کہ پہلا میرے پردے کے وقت پیدا ہوا
تو اس نے تیرا پردہ رکھا
دوسرا نیم پردے کے زمانے میں پیدا ہوا
تو تیری آدھی لاج رکھ لی
جبکہ تیسرا جو مکمل بے پردگی کے زمانے میں ہوا
تو وہ مکمل طور پر تیرا عزت کا پردہ اتارنے گیا ہے
حاصل کلام:
پردہ عورت کا فطری تقاضا ہےخالق کی طرف سے قاعدہ بھی ہے ۔

07/07/2026

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ایک مرتبہ خداوند قدوس کے دربار میں یہ عرض کیا.. "یا اللہ ! تو مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا..؟"

اللہ تعالیٰ نے فرمایا.. "اے ابراہیم ! کیا اس پر تمہارا ایمان نہیں ہے..؟"

آپ نے عرض کیا.. "کیوں نہیں.. میں اس پر ایمان تو رکھتا ہوں لیکن میری تمنا یہ ہے کہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تاکہ میرے دل کو قرار آ جائے.."

اللہ تعالیٰ نے فرمایا.. "تم چار پرندوں کو پالو اور ان کو خوب کھلا پلا کر اچھی طرح ہلا ملا لو.. پھر تم انہیں ذبح کرکے اور ان کا قیمہ بنا کر اپنے گرد و نواح کے چند پہاڑوں پر تھوڑا تھوڑا گوشت رکھ دو.. پھر ان پرندوں کو پکارو تو وہ پرندے زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آ جائیں گے اور تم مردوں کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے.."

چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مرغ ' ایک کبوتر ' ایک گدھ ' ایک مور..... ان چار پرندوں کو پالا اور ایک مدت تک ان چاروں پرندوں کو کھلا پلا کر خوب ہلا ملا لیا.. پھر ان چاروں پرندوں کو ذبح کرکے ان کے سروں کو اپنے پاس رکھ لیا اور ان چاروں کا قیمہ بنا کر تھوڑا تھوڑا گوشت اطراف و جوانب کے پہاڑوں پر رکھ دیا اور دور سے کھڑے ہو کر ان پرندوں کا نام لے کر پکارا..

یایھا الدیک.. اے مرغ....
یایتھا الحمامۃ.. اے کبوتر....
یایھا النسر.. اے گدھ....
یایھا الطاؤس.. اے مور....

آپ کی پکار پر ایک دم پہاڑوں سے گوشت کا قیمہ اڑنا شروع ہو گیا اور ہر پرند کا گوشت پوست ' ہڈی ' پر الگ ہو کر چار پرند تیار ہو گئے اور وہ چاروں پرند بلا سروں کے دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ گئے اور اپنے سروں سے جڑ کر دانہ چگنے لگے اور اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے.. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے مردوں کے زندہ ہونے کا منظر دیکھ لیا اور ان کے دل کو اطمینان و قرار مل گیا..

اس واقعہ کا ذکر خداوند کریم نے قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں ان لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے..

"اور جب عرض کی ابراہیم نے اے رب میرے ! مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جلائے گا.. فرمایا کیا تجھے یقین نہیں.. عرض کی یقیں کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آ جائے.. فرمایا تو اچھا چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلا لے.. پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے.. پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے.. اور جان رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے.. (البقرۃ : ۲۸۶

07/07/2026

مکھی کیوں پیدا کی گئی؟

خراسان کا بادشاہ شکار کھیل کر واپس آنے کے بعد تخت پر بیٹھا تھا٬ تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں٬ بادشاہ کے پاس ایک غلام ہاتھ باندھے مؤدب سے کھڑا تھا٬ بادشاہ کو سخت نیند آئی ہوئی تھی مگر جب بھی اس کی آنکھیں بند ہوتیں تو ایک مکھی آ کر اس کی ناک پر بیٹھ جاتی تھی اور نیند اور بے خیالی کی وجہ سے بادشاہ غصے سے مکھی کو مارنے کی کوشش کرتا لیکن اس کا ہاتھ اپنے ہی چہرے پر پڑتا تھا اور وہ ہڑبڑا کر جاگ جاتا تھا۔

جب دو تین دفعہ ایسا ہواتو بادشاہ نے غلام سے پوچھا‘ تمہیں پتہ ہےکہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے‘ اس کی پیدائش میں اللہ کی کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ غلام نے بادشاہ کا یہ سوال سنا تو اس نے ایسا جواب دیا
جو سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے-

غلام نے جواب دیا‘بادشاہ سلامت! "اللہ نے مکھی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ بادشاہوں اور سلطانوں کو یہ احساس ہوتا رہے کہ وہ خود کو کہیں خدا نہ سمجھ بیٹھیں کیوں کہ وہ خود سے ایک مکھی کو بھی قابو نہیں کرسکتے۔"

Address

Zafarwal
56074

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rajput Sulahri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share