06/05/2026
"وسائل ہمارے، محرومیاں بھی ہماری"
اس تصویر کو غور سے دیکھیے... یہ محض ایک جنازہ نہیں، بلکہ ہمارے نظام، ہماری سیاست اور انسانیت کا جنازہ ہے۔ آج کے اس دور میں بھی، جہاں دنیا ترقی کی بلندیوں کو چھو رہی ہے، میرے بلوچستان کے لوگ ایک میت کو لکڑیوں پر لٹا کر، کندھوں پر اٹھائے پہاڑوں اور ندیوں کے دشوار گزار راستوں سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ یہ وہ زمین ہے جس کے سینے سے نکلنے والی گیس اور کوئلہ پورے ملک کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں، لیکن یہاں کے اپنوں کے لیے نہ پینے کا صاف پانی ہے، نہ تن ڈھانپنے کو کپڑا، نہ پیٹ بھرنے کو روٹی اور نہ علاج کے لیے ہسپتال۔ بے روزگاری اور پسماندگی نے یہاں کے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔
میں پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں—خواہ وہ جمعیت علماء اسلام ہو، پیپلز پارٹی، نون لیگ، جماعت اسلامی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، اے این پی ہو یا کوئی اور—آپ سب سے ایک دردمندانہ سوال کرتا ہوں کہ آپ ووٹ لینے کے لیے تو ہمارے کچے گھروں، دور دراز کے دیہاتوں اور ہر محلے کی گلی تک پہنچ جاتے ہیں، لیکن جب ان غریبوں کو سہولیات دینے اور ان کے مفاد کی بات آتی ہے، تو آپ کو یہ سب نظر کیوں نہیں آتا؟
افسوس کی بات ہے کہ جس صوبے نے ملک کو سب کچھ دیا، اسے ایک ایمبولنس تک میسر نہیں۔ میں اپنی جماعت سمیت تمام سیاسی پارٹیوں سے یہ التجا کرتا ہوں کہ خدارا ان لوگوں پر رحم کریں۔ اگر ہر سیاسی جماعت صرف ایک ضلع کو ایک ایمبولنس بھی دے دے، تو انشاءاللہ چند سالوں میں ہمیں ایسے دلخراش مناظر دوبارہ دیکھنا نہیں پڑیں گے۔ بلوچستان کے عوام کو صرف ووٹ بینک نہ سمجھا جائے، انہیں انسان سمجھ کر ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔