08/06/2026
کل ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کرکے اسے قتل کرنے کی کوشش کی گئی، اور آج ایک اور خاتون ڈاکٹر کو ہراساں کرنے کے لیے اس کی تصویر، شناختی کارڈ، موبائل نمبر اور دیگر ذاتی معلومات سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ نہ صرف خواتین ڈاکٹرز کی پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ انہیں خوفزدہ کرنے اور ان کی آواز دبانے کی ایک منظم کوشش بھی ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ مذکورہ ڈاکٹر نے تیزاب گردی جیسے سنگین جرم پر سوال اٹھانے کی جرات کی۔ ہم پہلے دن سے یہ مؤقف رکھتے آئے ہیں کہ AI اٹینڈنس کے نام پر جمع کیا جانے والا ڈیٹا ڈاکٹرز کی فلاح کے لیے نہیں بلکہ ان کی نگرانی، ہراسانی اور دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے، اور آج کے واقعات ہمارے اس مؤقف کی تصدیق کر رہے ہیں۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ خواتین ڈاکٹرز کو ہراساں کرنے، ان کی ذاتی معلومات افشا کرنے اور ان کی آواز دبانے کی ہر کوشش کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ متعلقہ ادارے فوری طور پر ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کریں، بصورت دیگر یہ خاموشی مزید جرائم اور ہراسگی کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گی