Ilyas Writes

Ilyas Writes قارئین اور ناظرین کا میرے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں -

یہاں ایک خطرناک سوال بھی اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ اگر معاشرے میں ہیرا منڈیاں یا نائٹ کلب بن جائیں، بالغ افراد کے لیے جنسی ...
25/08/2026

یہاں ایک خطرناک سوال بھی اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ اگر معاشرے میں ہیرا منڈیاں یا نائٹ کلب بن جائیں، بالغ افراد کے لیے جنسی تعلقات کا حصول آسان ہوجائے یا جسم فروشی کو قانونی حیثیت دے دی جائے تو کیا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کم ہوسکتی ہے؟

آیت نور کی موت سے آگے ہمارے معاشرے کے لیے بہت بڑا سوال

ضلع ہری پور میں تقریباً پندرہ روز قبل لاپتا ہونے والی ساڑھے چار سالہ بچی آیت نور کا جسد خاکی گزشتہ رات یونیورسٹی ٹاؤن کے ایک کنویں سے برآمد ہونے کی اطلاع نے ہر حساس دل کو غمزدہ کر دیا ہے ۔ ایک معصوم بچی جو چند دن پہلے اپنے گھر والوں کے درمیان تھی، اب دنیا میں نہیں رہی۔ ایسے واقعات میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ ایک خاندان اپنی بچی یا بچے کو تلاش کرتے ہوئے امید اور خوف کے درمیان دن گزارتا ہے اور پھر آخرکار اسے ایسی حالت میں واپس پاتا ہے جس کا تصور بھی والدین کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

آیت نور کیس میں حتمی طور پر یہ کہنا ابھی درست نہیں ہوگا کہ بچی کے ساتھ کیا ہوا، قتل کیسے کیا گیا یا واقعے کے پیچھے اصل مقصد کیا تھا، جب تک پولیس کی تفتیش، فرانزک شواہد اور عدالت کے سامنے پیش ہونے والی معلومات اس کی تصدیق نہ کریں۔ اس لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ باتوں کو حقیقت سمجھنے کے بجائے تفتیشی اداروں اور عدالت کے تصدیق شدہ نتائج کا انتظار ضروری ہے۔ البتہ اگر اغوا، جنسی تشدد یا قتل کے شواہد سامنے آتے ہیں تو یہ صرف ایک عام فوجداری مقدمہ نہیں رہتا، بلکہ بچے کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بن جاتا ہے۔

ایسے کیس میں اصل کارروائی صرف ملزموں کی گرفتاری تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ پولیس کو جائے وقوعہ محفوظ کرنا، دستیاب جسمانی اور ڈیجیٹل شواہد جمع کرنا، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنا، مشتبہ افراد کے رابطوں اور نقل و حرکت کا جائزہ لینا، فرانزک شواہد محفوظ کرنا اور تفتیش کو سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھانا چاہیے۔ خیبر پختونخوا کے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کو قابل گرفتاری، ناقابل ضمانت اور ناقابل راضی نامہ جرائم قرار دیا گیا ہے۔ قانون میں ایسے مقدمات میں ڈی این اے سمیت سائنسی شواہد کے استعمال کی بھی گنجائش موجود ہے۔

اس کے بعد مقدمہ پولیس سے پراسیکیوشن اور عدالت تک پہنچتا ہے۔ خیبر پختونخوا پراسیکیوشن سروس کے مطابق پراسیکیوشن کا بنیادی کردار قابل اعتماد شواہد کی بنیاد پر مقدمہ آگے بڑھانا، مزید تفتیش کی رہنمائی کرنا اور عدالت میں کیس پیش کرنا ہے۔ پاکستان میں جنسی جرائم کے مقدمات کے لیے Anti-Rape (Investigation and Trial) Act, 2021 بھی موجود ہے، جس کا مقصد ایسے مقدمات کی تفتیش اور عدالتی کارروائی کے لیے خصوصی قانونی طریقہ کار فراہم کرنا ہے۔
لیکن آیت نور جیسے واقعات ہمیں ایک اور زیادہ مشکل سوال کے سامنے کھڑا کرتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی آخر کیوں ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب یہ نہیں کہ معاشرے میں جنسی خواہش موجود ہے، اس لیے کوئی شخص بچے کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ سوچ مسئلے کو غلط سمت میں لے جاتی ہے۔

بچے کے ساتھ جنسی زیادتی دراصل جنسی خواہش سے کہیں زیادہ پیچیدہ جرم ہے۔ اس میں طاقت، کنٹرول، موقع، بچے کی کم عمری، اعتماد کا غلط استعمال، مجرمانہ ذہنیت، تربیت کی کمی، نگرانی کی کمزوری اور سزا سے بچ نکلنے کا احساس جیسے عوامل شامل ہوسکتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بچوں کے جنسی استحصال میں جسمانی طاقت ہمیشہ استعمال نہیں ہوتی۔ کئی واقعات میں مجرم بچے کا اعتماد حاصل کرتا ہے، اسے اپنے قریب کرتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اسے استحصال کا نشانہ بناتا ہے۔ بعض صورتوں میں مجرم بچہ یا خاندان جاننے والا شخص بھی ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں بھی مسئلہ صرف اجنبی افراد تک محدود نہیں۔ UNICEF کی پاکستان سے متعلق رپورٹ کے مطابق بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات تمام عمر، جنس اور سماجی طبقات کے بچوں کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ بدنامی کا خوف، خاندان کی عزت کا تصور، نظام انصاف پر عدم اعتماد اور آگاہی کی کمی خاموشی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

یہاں ایک خطرناک سوال بھی اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ اگر معاشرے میں ہیرا منڈیاں یا نائٹ کلب بن جائیں، بالغ افراد کے لیے جنسی تعلقات کا حصول آسان ہوجائے یا جسم فروشی کو قانونی حیثیت دے دی جائے تو کیا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کم ہوسکتی ہے؟

میری رائے میں اس سوال کو بہت احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کے جنسی استحصال کو بالغوں کے درمیان رضامندانہ جنسی تعلقات کی کمی کا نتیجہ سمجھنا سائنسی طور پر درست نہیں۔ ایک بالغ شخص اور بچے کے درمیان بنیادی فرق رضامندی اور تحفظ کا ہے۔ بچہ جنسی تعلق کے لیے قانونی اور ذہنی طور پر باخبر رضامندی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ WHO کے مطابق بچے کا جنسی استحصال اس وقت بھی ہوسکتا ہے جب بچے کو اس سرگرمی کی نوعیت کا مکمل ادراک نہ ہو یا وہ باخبر رضامندی دینے کی نشوونما کے مرحلے میں نہ ہو۔

اس لیے یہ تصور کہ بالغوں کے لیے سیکس آسان کردیا جائے تو بچوں کے ساتھ زیادتی ختم یا نمایاں طور پر کم ہوجائے گی، ایک خطرناک سادہ کاری ہے۔ بچوں کے جنسی جرائم کے کئی محرکات جنسی خواہش سے آگے ہوتے ہیں۔ بعض مجرم طاقت، کنٹرول، استحصال، موقع اور بچے کی کمزور پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ WHO بھی جنسی تشدد کو طاقت اور عدم مساوات کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بالغ افراد کے درمیان رضامندانہ جنسی تعلقات، جسم فروشی یا نائٹ کلب کے بارے میں ہر معاشرے کو ایک ہی قانونی یا اخلاقی پالیسی اپنانی چاہیے۔ یہ الگ سماجی، قانونی اور مذہبی بحث ہے۔ لیکن اسے بچوں کے جنسی استحصال کا براہ راست علاج قرار دینا درست نہیں۔ بالغوں کی جنسی آزادی اور بچوں کا تحفظ دو الگ موضوعات ہیں۔

اصل حل کہیں زیادہ سنجیدہ اور مشکل ہے۔ بچوں کو محفوظ ماحول دینا ہوگا۔ والدین کو بچوں سے عمر کے مطابق جسمانی حدود، اچھے اور برے لمس، اجنبی اور قابل اعتماد افراد کے فرق، دھمکی یا رشوت کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش اور مدد طلب کرنے کے طریقے کے بارے میں بات کرنا ہوگی۔ اسکولوں، مدارس، کھیل کے مراکز اور بچوں سے متعلق اداروں میں واضح حفاظتی نظام ہونا چاہیے۔ بچوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی مناسب جانچ ضروری ہے۔ شکایات کو دبانے کے بجائے فوری رپورٹنگ اور شفاف تفتیش ہونی چاہیے۔

آن لائن دنیا نے مسئلہ مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ بچوں کو صرف سڑک یا محلے کے اجنبی شخص سے خطرہ نہیں ہوتا۔ آن لائن گُرومنگ میں کوئی شخص پہلے بچے سے دوستی کرتا ہے، اعتماد حاصل کرتا ہے، تحائف یا توجہ دیتا ہے اور پھر اسے جنسی استحصال کی طرف لے جانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ WHO نے بھی بچوں کے خلاف آن لائن تشدد کی روک تھام میں صرف اجنبیوں سے خطرے کے تصور پر انحصار کم کرنے اور جاننے والوں اور ہم عمر افراد سے لاحق خطرات پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت بیان کی ہے۔
آیت نور کا کیس بھی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ بچے کی گمشدگی کو کبھی معمولی واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر کوئی بچہ اچانک لاپتا ہوجائے تو پہلے چند گھنٹے انتہائی اہم ہوسکتے ہیں۔ پولیس کو فوری اطلاع، علاقے کی تلاش، سی سی ٹی وی، موبائل اور دیگر دستیاب شواہد کا بروقت تحفظ، گواہوں سے معلومات اور متعلقہ اداروں کے درمیان فوری رابطہ ایسے اقدامات ہیں جن میں تاخیر نقصان بڑھا سکتی ہے۔

اگر تفتیش میں کسی شخص کے خلاف شواہد سامنے آتے ہیں تو اسے قانون کے مطابق گرفتار، تفتیش اور عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ لیکن کسی شخص کو صرف افواہ یا سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر مجرم قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ اس کیس میں اصل کامیابی صرف کسی ایک شخص کی گرفتاری نہیں ہوگی۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ شواہد کے ذریعے حقیقت سامنے آئے، ذمہ دار شخص یا افراد کو قانون کے مطابق سزا ملے، تفتیش میں کوئی پہلو تشنہ نہ رہے اور مستقبل میں کسی دوسرے بچے کو ایسے خطرے سے بچانے کے لیے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے۔

آیت نور واپس نہیں آسکتی۔ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کی موت کو صرف چند دن کی خبر بنا کر بھول جانا بھی ایک اجتماعی ناکامی ہوگی۔ ایک بچے کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں، پولیس، عدالت، اسکول، مدرسہ، محلہ، ریاست اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ UNICEF بھی بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی نظام، متاثرہ بچوں اور خاندانوں کے لیے مدد اور مجرموں کے احتساب پر زور دیتا ہے۔

آیت نور کے خاندان کے لیے شاید اس وقت کوئی الفاظ کافی نہیں۔ ان کے دکھ کا اندازہ باہر بیٹھ کر نہیں لگایا جاسکتا۔ لیکن معاشرے کے طور پر ہم کم از کم اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ اس کیس کی غیر مصدقہ تفصیلات کو پھیلانے کے بجائے حقیقت سامنے آنے کا انتظار کریں، تفتیش پر نظر رکھیں، بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کریں اور یہ سمجھیں کہ بچوں کے خلاف جنسی جرم کو بالغوں کی جنسی خواہش کا مسئلہ سمجھنا بنیادی غلطی ہے۔ یہ بچے کی رضامندی، تحفظ، طاقت کے غلط استعمال، مجرمانہ رویے اور قانون کی عمل داری کا مسئلہ ہے۔

ایک معاشرہ اس وقت محفوظ بنتا ہے جب وہ صرف جرم کے بعد غصہ نہیں کرتا بلکہ جرم سے پہلے بچے کو محفوظ بنانے کا نظام بھی بناتا ہے۔ آیت نور کے لیے سب سے بامعنی انصاف شاید یہی ہوگا کہ اس واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آئے، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملے اور اس کے بعد ہم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ ہمیں خطرے کا اندازہ ہی نہیں تھا۔

نوٹ : یہ مضمون میری ذاتی رائے پر مبنی ہے جسے لکھنے کا مقصد معاشرتی المیے کو ہائی لائٹ کرنا ہے نہ کہ کیس کے حوالے سے کسی قسم کی مداخلت ، اس مضمون کے لئے متعدد مضامین اور بیانات سے حوالہ جات لئے گئے ہیں-
الیاس بابر محمد

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 2026۔ کیا پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مسلم دنیا کے لیے ایک نئی دفاعی حکمت عملی کی بنیاد رکھ د...
07/08/2026

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 2026۔ کیا پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مسلم دنیا کے لیے ایک نئی دفاعی حکمت عملی کی بنیاد رکھ دی؟

7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں ہونے والا پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا مشترکہ دفاعی معاہدہ حالیہ برسوں کی اہم ترین سفارتی اور دفاعی پیش رفتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ، ترک صدر طیب اردگان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دستخط کیے ۔اس معاہدے نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی سفارتی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی تجزیہ کار اسے مسلم دنیا کے تین اہم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک نئی شکل قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کا ایک عملی جواب ہے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ غیر معمولی کشیدگی سے گزر رہا ہے۔ یمن میں حوثی حملوں میں اضافہ، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات، ایران سے متعلق علاقائی تناؤ اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کے خدشات نے سعودی عرب سمیت کئی ممالک کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ انہی حالات کے پیش نظر مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک پر اتفاق کیا۔

معاہدے کی سب سے اہم شق

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس تصور کو اجتماعی دفاع کہا جاتا ہے۔ تاہم معاہدے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے اور اس کا مقصد کسی نئے فوجی بلاک یا جارحانہ اتحاد کی تشکیل نہیں بلکہ مشترکہ سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

تینوں ممالک کیوں قریب آئے؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ان تعلقات نے نئی رفتار اختیار کی ہے۔

پاکستان ایک تجربہ کار فوجی قوت اور جوہری صلاحیت رکھنے والا ملک ہے، جس کی افواج اقوام متحدہ کے امن مشنز سے لے کر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں تک وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔

سعودی عرب خلیجی خطے کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور توانائی کی عالمی منڈی میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ریاض نے اپنی دفاعی صنعت کو مقامی سطح پر فروغ دینے کی حکمت عملی بھی اپنائی ہے۔

ترکی نے دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرون سازی، بکتر بند گاڑیوں، بحری جہازوں اور میزائل نظام کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اسی وجہ سے وہ نہ صرف نیٹو کا اہم رکن ہے بلکہ اپنی دفاعی مصنوعات کئی ممالک کو برآمد بھی کرتا ہے۔

معاہدے کے ممکنہ اہداف

اگرچہ معاہدے کا مکمل متن عوام کے سامنے جاری نہیں کیا گیا، لیکن معتبر میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تعاون کے اہم شعبے درج ذیل ہیں۔

دفاعی منصوبہ بندی میں تعاون۔

انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ۔

مشترکہ فوجی مشقیں۔

دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری۔

جدید فوجی ٹیکنالوجی کی مشترکہ تحقیق۔

دفاعی تربیت اور افرادی قوت کی تیاری۔

یہ تمام شعبے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاہدے کا مقصد صرف ہنگامی حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنا نہیں بلکہ طویل مدت میں دفاعی خود انحصاری اور باہمی تعاون کو فروغ دینا بھی ہے۔

کیا یہ نیٹو جیسا اتحاد ہے؟

یہ سوال سب سے زیادہ پوچھا جا رہا ہے۔ مختصر جواب یہ ہے کہ نہیں۔

نیٹو ایک باضابطہ فوجی اتحاد ہے جس کے تفصیلی قانونی ڈھانچے، مستقل ادارے اور اجتماعی دفاع کے واضح ضابطے موجود ہیں۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس نوعیت کا ادارہ نہیں ہے۔ سعودی عرب نے بھی واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد کسی نئے فوجی بلاک کی تشکیل نہیں بلکہ دفاعی تعاون کو منظم اور مؤثر بنانا ہے۔

بھارت کا ردعمل

بھارت کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ نئی دہلی کے مطابق حکومت اس معاہدے کی تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے علاقائی سلامتی پر ممکنہ اثرات کا مسلسل تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکام نے فی الحال کوئی سخت یا جارحانہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم بھارتی میڈیا اور دفاعی ماہرین نے اس معاہدے کو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

بھارتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون عملی سطح پر مزید مضبوط ہوتا ہے تو اس کے اثرات خطے کے سیکیورٹی ماحول پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے نئی دہلی اس معاہدے کے نفاذ اور مستقبل کی پیش رفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔

ایران کا ردعمل

ایران نے اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اس کی افادیت پر سوال اٹھایا۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام فوجی اتحادوں کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور علاقائی تعاون سے زیادہ مؤثر طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایران اس معاہدے کو اس لیے بھی اہم سمجھ رہا ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ تاہم سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے واضح کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ تینوں ممالک کے مطابق اس معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع، دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی نئے فوجی محاذ کی تشکیل۔

عالمی رائے عامہ

عالمی ماہرین کے مطابق اس معاہدے کی اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی مشترکہ دفاعی منصوبوں، فوجی مشقوں، دفاعی صنعت میں تعاون اور انٹیلی جنس رابطوں کو کس حد تک عملی شکل دیتے ہیں۔ اسی دوران بھارت، ایران اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی اس معاہدے کی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھیں گی کیونکہ اس کے اثرات مستقبل کی علاقائی سیاست اور سلامتی کے توازن پر پڑ سکتے ہیں۔

کیسینڈرا کون تھی ؟یہ ایک یونانی دیو مالائی کردار ہے۔ قدیم شہر ٹرائے کے بادشاہ پرائم کی بیٹی۔ ہومر نے اپنی شہرہ آفاق نظم ...
04/08/2026

کیسینڈرا کون تھی ؟
یہ ایک یونانی دیو مالائی کردار ہے۔ قدیم شہر ٹرائے کے بادشاہ پرائم کی بیٹی۔ ہومر نے اپنی شہرہ آفاق نظم ایلیڈ میں اسے بادشاہ پرائم کی سب سے ٰخوبصورت بیٹی لکھا ہے۔
کیسینڈرا کی کہانی یوں ہے کہ دیوتا اپالو اس کے حسن پر فریفتہ ہو گیا اور محبت پانے کے لیے اسے مستقبل دیکھنے کی صلاحیت تحفے میں دے دی۔ کیسینڈرا نے تحفہ تو لے لیا مگر اپالو کی محبت ٹھکرا دی۔ دیوتا آگ بگولہ ہوا۔ دیا ہوا تحفہ واپس لینا مگر یونانی دیوتاؤں کے بس میں نہیں تھا، سو اس نے بددعا دے ڈالی کہ تم مستقبل بالکل ٹھیک دیکھو گی، تمہاری بات پر مگر کوئی یقین نہیں کرے گا۔
داستانوں کے مطابق اس کے بعد کیسینڈرا کی زندگی عذاب بن گئی۔ آنے والی ہر آفت، ہر تباہی اسے پہلے سے نظر آ جاتی، جب لوگوں کو خبردار کرتی تو سب اسے پاگل اور وہمی سمجھ کر ہنس دیتے۔ سب سے مشہور واقعہ ٹروجن ہارس یعنی لکڑی کے اس عظیم الجثہ گھوڑے کا ہے جو یونانی فوجی ٹرائے کے دروازے پر تحفہ کہہ کر چھوڑ گئے تھے۔
کیسینڈرا چیخ چیخ کر کہتی رہی کہ اس کے پیٹ میں سپاہی بیٹھے ہیں، خدا کے لیے اسے شہر کے اندر مت لاؤ۔ کسی نے ایک نہ سنی۔ ٹرائے والے لکڑی کا وہ گھوڑا اندر لے آئے ۔ آدھی رات کو اس میں سے فوجی نکلے اور قلعہ کا گیٹ کھول دیا، یونانی فوج باہر منتظر تھی، وہ اندر گھس آئی اور ٹرائے کا لازوال شہر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
عامر خوانی کے کالم سے اقتباس

عرب ریجن میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔بحرین کے فرمانروا، شاہ حماد بن عیسیٰ نے ایران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:"ہمیں افسوس ...
01/08/2026

عرب ریجن میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔

بحرین کے فرمانروا، شاہ حماد بن عیسیٰ نے ایران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:

"ہمیں افسوس ہے کہ ایران اس دینی رشتے کو نظر انداز کر رہا ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑنا چاہیے۔ وہ اس حقیقت کو بھی بھلا بیٹھا ہے کہ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نے فارسی قوم کو روحانی، انسانی اور علمی گہرائی عطا کی، جو اس کی تہذیب کے لیے گمراہی کے ادوار کے بعد ایک عظیم نعمت ثابت ہوئی۔"

اس کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان، اسماعیل بقائی، نے کہا:

"ایران ایک قدیم تہذیب رکھنے والی قوم ہے جس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے۔ اس نے اسلام قبول کیا اور بعد کی صدیوں میں اسلامی تہذیب کی تعمیر اور فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا۔ فقہ، حدیث، فلسفہ، طب، ریاضی اور ادب سمیت متعدد شعبوں میں ایران کی خدمات نمایاں ہیں۔ اسلام میں فضیلت کا معیار نہ عربی زبان ہے اور نہ ہی سرزمین وحی سے جغرافیائی تعلق، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 'بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔' (سورۃ الحجرات، آیت 13)

لہٰذا کسی بھی حکمران کو صرف عربی زبان بولنے کی بنیاد پر یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو 'رسالت محمدی' کا نمائندہ قرار دے یا اس دعوے کو اسلام کی واضح تعلیمات پر عمل کرنے کا متبادل بنا لے۔

ایران کی اسلامی جمہوریہ نے سیاسی اختلافات کے باوجود ہمیشہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ حسن تعلقات اور اسلامی اخوت کے اصول پر زور دیا ہے، حتیٰ کہ اس حکومت کے ساتھ بھی جو ایرانی سرزمین کے ایک جدا شدہ حصے پر قائم ایک نئی ریاست پر حکمرانی کر رہی ہے۔

دوسری طرف قرآن کریم واضح طور پر فرماتا ہے: 'اور ظالموں کی طرف ہرگز نہ جھکو۔' (سورۃ ہود، آیت 113) اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'جو شخص کسی ظالم کی مدد کرے، اللہ تعالیٰ اسی ظالم کو اس پر مسلط کر دیتا ہے۔'

لہٰذا جو لوگ 'رسالت محمدی' کا حوالہ دیتے ہیں، انہیں دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنی حکومت کے طرز عمل کو بھی انہی اصولوں پر پرکھنا چاہیے۔ کیا کسی مسلمان ملک کے خلاف فوجی کارروائی کرنے والی طاقتوں کا ساتھ دینا قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہے؟ کیا مسلمانوں کے دشمنوں کو خوش آمدید کہنا اور ایک ہمسایہ مسلمان ملک کے خلاف ان کی فوجی کارروائیوں میں تعاون کرنا اسلامی اخوت اور ہمسائیگی کے حقوق سے مطابقت رکھتا ہے؟ ان سوالات کا جواب قرآن، سنت اور امت مسلمہ کا اجتماعی ضمیر پہلے ہی دے چکا ہے۔"

مصادر پہلے تبصرے میں دیے جائیں گے۔

میری ذاتی رائے میں یہ دونوں بیانات دو مختلف فکری انداز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک بیان اسلامی وحدت اور امت کے تصور پر زور دیتا ہے، جبکہ دوسرا اپنی قدیم قومی شناخت اور تہذیبی کردار کو نمایاں کرتا ہے۔ ساتھ ہی ایرانی بیان میں "ایرانی سرزمین کے ایک جدا شدہ حصے" کا ذکر بحرین پر تاریخی دعوے کی طرف اشارہ سمجھا جا سکتا ہے، جسے بہت سے مبصرین ایک حساس سیاسی نکتہ قرار دیتے ہیں۔

آپ کی نظر میں دونوں بیانات میں سے کون سا موقف اسلام کی تعلیمات سے زیادہ ہم آہنگ ہے؟ اور آپ اس سفارتی تبادلے کو کس
زاویے سے دیکھتے ہیں؟

01/08/2026

امیر بحرین حماد بن عیسیٰ کی ایران سے درخواست گزارانہ اپیل

"اللہ کے رسول ﷺ کے واسطے، ہم پر حملہ نہ کریں۔"
ایران کو نیکی اور احسان کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ حالات درست سمت میں آگے بڑھیں گے اور ہم شریعت کے اصولوں پر قائم رہیں گے۔
حضرت محمد ﷺ نے صدیوں کی تاریکی کے بعد ایران کو روحانی اور انسانی عظمت عطا کی۔ کم از کم اسی احسان کے اعتراف میں بحرین پر حملہ نہ کریں۔ Ilyas Writes

آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق یکم اگست 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں انٹیلی جنس ...
01/08/2026

آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق یکم اگست 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر ایک آپریشن کیا۔ اطلاعات کے مطابق وہاں بھارت کے حمایت یافتہ گروہ "فتنہ الخوارج" سے تعلق رکھنے والے خوارج موجود تھے۔

آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے حمایت یافتہ پانچ خوارج کو ہلاک کر دیا۔

شدید فائرنگ کے تبادلے میں میجر حافظ احسان الٰہی، عمر 34 سال، ساکن ضلع میانوالی، جام شہادت نوش کر گئے۔ وہ ایک بہادر افسر تھے جو اپنے دستے کی قیادت اگلے مورچوں سے کر رہے تھے اور جوانمردی سے لڑتے ہوئے اپنی جان وطن پر قربان کر گئے۔

ہلاک ہونے والے خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ یہ عناصر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد دہشت گرد کارروائیوں کے علاوہ بے گناہ شہریوں کے قتل میں بھی ملوث رہے تھے۔

علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ خارجی کو ختم کیا جا سکے۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے قومی ایکشن پلان کے تحت "عزم استحکام" کے وژن کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اپنی بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔ ہمارے بہادر جوانوں کی یہ عظیم قربانیاں وطن کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

01/08/2026

01/08/2026

کیا آئندہ چند گھنٹوں میں ایران پر بڑا امریکی حملہ ہونے والا ہے؟
"فوراً تیاری کریں اور علاقے سے نکلنے پر غور کریں"۔
امریکی وزارت خارجہ نے خطے میں موجود اپنی سفارت خانوں کے ذریعے امریکی شہریوں کے لیے بیک وقت وسیع پیمانے پر انتباہات جاری کر دیے۔
Ilyas Writes

01/08/2026

Address

Doha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ilyas Writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category