25/08/2026
یہاں ایک خطرناک سوال بھی اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ اگر معاشرے میں ہیرا منڈیاں یا نائٹ کلب بن جائیں، بالغ افراد کے لیے جنسی تعلقات کا حصول آسان ہوجائے یا جسم فروشی کو قانونی حیثیت دے دی جائے تو کیا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کم ہوسکتی ہے؟
آیت نور کی موت سے آگے ہمارے معاشرے کے لیے بہت بڑا سوال
ضلع ہری پور میں تقریباً پندرہ روز قبل لاپتا ہونے والی ساڑھے چار سالہ بچی آیت نور کا جسد خاکی گزشتہ رات یونیورسٹی ٹاؤن کے ایک کنویں سے برآمد ہونے کی اطلاع نے ہر حساس دل کو غمزدہ کر دیا ہے ۔ ایک معصوم بچی جو چند دن پہلے اپنے گھر والوں کے درمیان تھی، اب دنیا میں نہیں رہی۔ ایسے واقعات میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ ایک خاندان اپنی بچی یا بچے کو تلاش کرتے ہوئے امید اور خوف کے درمیان دن گزارتا ہے اور پھر آخرکار اسے ایسی حالت میں واپس پاتا ہے جس کا تصور بھی والدین کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
آیت نور کیس میں حتمی طور پر یہ کہنا ابھی درست نہیں ہوگا کہ بچی کے ساتھ کیا ہوا، قتل کیسے کیا گیا یا واقعے کے پیچھے اصل مقصد کیا تھا، جب تک پولیس کی تفتیش، فرانزک شواہد اور عدالت کے سامنے پیش ہونے والی معلومات اس کی تصدیق نہ کریں۔ اس لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ باتوں کو حقیقت سمجھنے کے بجائے تفتیشی اداروں اور عدالت کے تصدیق شدہ نتائج کا انتظار ضروری ہے۔ البتہ اگر اغوا، جنسی تشدد یا قتل کے شواہد سامنے آتے ہیں تو یہ صرف ایک عام فوجداری مقدمہ نہیں رہتا، بلکہ بچے کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بن جاتا ہے۔
ایسے کیس میں اصل کارروائی صرف ملزموں کی گرفتاری تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ پولیس کو جائے وقوعہ محفوظ کرنا، دستیاب جسمانی اور ڈیجیٹل شواہد جمع کرنا، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنا، مشتبہ افراد کے رابطوں اور نقل و حرکت کا جائزہ لینا، فرانزک شواہد محفوظ کرنا اور تفتیش کو سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھانا چاہیے۔ خیبر پختونخوا کے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کو قابل گرفتاری، ناقابل ضمانت اور ناقابل راضی نامہ جرائم قرار دیا گیا ہے۔ قانون میں ایسے مقدمات میں ڈی این اے سمیت سائنسی شواہد کے استعمال کی بھی گنجائش موجود ہے۔
اس کے بعد مقدمہ پولیس سے پراسیکیوشن اور عدالت تک پہنچتا ہے۔ خیبر پختونخوا پراسیکیوشن سروس کے مطابق پراسیکیوشن کا بنیادی کردار قابل اعتماد شواہد کی بنیاد پر مقدمہ آگے بڑھانا، مزید تفتیش کی رہنمائی کرنا اور عدالت میں کیس پیش کرنا ہے۔ پاکستان میں جنسی جرائم کے مقدمات کے لیے Anti-Rape (Investigation and Trial) Act, 2021 بھی موجود ہے، جس کا مقصد ایسے مقدمات کی تفتیش اور عدالتی کارروائی کے لیے خصوصی قانونی طریقہ کار فراہم کرنا ہے۔
لیکن آیت نور جیسے واقعات ہمیں ایک اور زیادہ مشکل سوال کے سامنے کھڑا کرتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی آخر کیوں ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب یہ نہیں کہ معاشرے میں جنسی خواہش موجود ہے، اس لیے کوئی شخص بچے کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ سوچ مسئلے کو غلط سمت میں لے جاتی ہے۔
بچے کے ساتھ جنسی زیادتی دراصل جنسی خواہش سے کہیں زیادہ پیچیدہ جرم ہے۔ اس میں طاقت، کنٹرول، موقع، بچے کی کم عمری، اعتماد کا غلط استعمال، مجرمانہ ذہنیت، تربیت کی کمی، نگرانی کی کمزوری اور سزا سے بچ نکلنے کا احساس جیسے عوامل شامل ہوسکتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بچوں کے جنسی استحصال میں جسمانی طاقت ہمیشہ استعمال نہیں ہوتی۔ کئی واقعات میں مجرم بچے کا اعتماد حاصل کرتا ہے، اسے اپنے قریب کرتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اسے استحصال کا نشانہ بناتا ہے۔ بعض صورتوں میں مجرم بچہ یا خاندان جاننے والا شخص بھی ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں بھی مسئلہ صرف اجنبی افراد تک محدود نہیں۔ UNICEF کی پاکستان سے متعلق رپورٹ کے مطابق بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات تمام عمر، جنس اور سماجی طبقات کے بچوں کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ بدنامی کا خوف، خاندان کی عزت کا تصور، نظام انصاف پر عدم اعتماد اور آگاہی کی کمی خاموشی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
یہاں ایک خطرناک سوال بھی اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ اگر معاشرے میں ہیرا منڈیاں یا نائٹ کلب بن جائیں، بالغ افراد کے لیے جنسی تعلقات کا حصول آسان ہوجائے یا جسم فروشی کو قانونی حیثیت دے دی جائے تو کیا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کم ہوسکتی ہے؟
میری رائے میں اس سوال کو بہت احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کے جنسی استحصال کو بالغوں کے درمیان رضامندانہ جنسی تعلقات کی کمی کا نتیجہ سمجھنا سائنسی طور پر درست نہیں۔ ایک بالغ شخص اور بچے کے درمیان بنیادی فرق رضامندی اور تحفظ کا ہے۔ بچہ جنسی تعلق کے لیے قانونی اور ذہنی طور پر باخبر رضامندی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ WHO کے مطابق بچے کا جنسی استحصال اس وقت بھی ہوسکتا ہے جب بچے کو اس سرگرمی کی نوعیت کا مکمل ادراک نہ ہو یا وہ باخبر رضامندی دینے کی نشوونما کے مرحلے میں نہ ہو۔
اس لیے یہ تصور کہ بالغوں کے لیے سیکس آسان کردیا جائے تو بچوں کے ساتھ زیادتی ختم یا نمایاں طور پر کم ہوجائے گی، ایک خطرناک سادہ کاری ہے۔ بچوں کے جنسی جرائم کے کئی محرکات جنسی خواہش سے آگے ہوتے ہیں۔ بعض مجرم طاقت، کنٹرول، استحصال، موقع اور بچے کی کمزور پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ WHO بھی جنسی تشدد کو طاقت اور عدم مساوات کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بالغ افراد کے درمیان رضامندانہ جنسی تعلقات، جسم فروشی یا نائٹ کلب کے بارے میں ہر معاشرے کو ایک ہی قانونی یا اخلاقی پالیسی اپنانی چاہیے۔ یہ الگ سماجی، قانونی اور مذہبی بحث ہے۔ لیکن اسے بچوں کے جنسی استحصال کا براہ راست علاج قرار دینا درست نہیں۔ بالغوں کی جنسی آزادی اور بچوں کا تحفظ دو الگ موضوعات ہیں۔
اصل حل کہیں زیادہ سنجیدہ اور مشکل ہے۔ بچوں کو محفوظ ماحول دینا ہوگا۔ والدین کو بچوں سے عمر کے مطابق جسمانی حدود، اچھے اور برے لمس، اجنبی اور قابل اعتماد افراد کے فرق، دھمکی یا رشوت کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش اور مدد طلب کرنے کے طریقے کے بارے میں بات کرنا ہوگی۔ اسکولوں، مدارس، کھیل کے مراکز اور بچوں سے متعلق اداروں میں واضح حفاظتی نظام ہونا چاہیے۔ بچوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی مناسب جانچ ضروری ہے۔ شکایات کو دبانے کے بجائے فوری رپورٹنگ اور شفاف تفتیش ہونی چاہیے۔
آن لائن دنیا نے مسئلہ مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ بچوں کو صرف سڑک یا محلے کے اجنبی شخص سے خطرہ نہیں ہوتا۔ آن لائن گُرومنگ میں کوئی شخص پہلے بچے سے دوستی کرتا ہے، اعتماد حاصل کرتا ہے، تحائف یا توجہ دیتا ہے اور پھر اسے جنسی استحصال کی طرف لے جانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ WHO نے بھی بچوں کے خلاف آن لائن تشدد کی روک تھام میں صرف اجنبیوں سے خطرے کے تصور پر انحصار کم کرنے اور جاننے والوں اور ہم عمر افراد سے لاحق خطرات پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت بیان کی ہے۔
آیت نور کا کیس بھی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ بچے کی گمشدگی کو کبھی معمولی واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر کوئی بچہ اچانک لاپتا ہوجائے تو پہلے چند گھنٹے انتہائی اہم ہوسکتے ہیں۔ پولیس کو فوری اطلاع، علاقے کی تلاش، سی سی ٹی وی، موبائل اور دیگر دستیاب شواہد کا بروقت تحفظ، گواہوں سے معلومات اور متعلقہ اداروں کے درمیان فوری رابطہ ایسے اقدامات ہیں جن میں تاخیر نقصان بڑھا سکتی ہے۔
اگر تفتیش میں کسی شخص کے خلاف شواہد سامنے آتے ہیں تو اسے قانون کے مطابق گرفتار، تفتیش اور عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ لیکن کسی شخص کو صرف افواہ یا سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر مجرم قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ اس کیس میں اصل کامیابی صرف کسی ایک شخص کی گرفتاری نہیں ہوگی۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ شواہد کے ذریعے حقیقت سامنے آئے، ذمہ دار شخص یا افراد کو قانون کے مطابق سزا ملے، تفتیش میں کوئی پہلو تشنہ نہ رہے اور مستقبل میں کسی دوسرے بچے کو ایسے خطرے سے بچانے کے لیے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے۔
آیت نور واپس نہیں آسکتی۔ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کی موت کو صرف چند دن کی خبر بنا کر بھول جانا بھی ایک اجتماعی ناکامی ہوگی۔ ایک بچے کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں، پولیس، عدالت، اسکول، مدرسہ، محلہ، ریاست اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ UNICEF بھی بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی نظام، متاثرہ بچوں اور خاندانوں کے لیے مدد اور مجرموں کے احتساب پر زور دیتا ہے۔
آیت نور کے خاندان کے لیے شاید اس وقت کوئی الفاظ کافی نہیں۔ ان کے دکھ کا اندازہ باہر بیٹھ کر نہیں لگایا جاسکتا۔ لیکن معاشرے کے طور پر ہم کم از کم اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ اس کیس کی غیر مصدقہ تفصیلات کو پھیلانے کے بجائے حقیقت سامنے آنے کا انتظار کریں، تفتیش پر نظر رکھیں، بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط کرنے کا مطالبہ کریں اور یہ سمجھیں کہ بچوں کے خلاف جنسی جرم کو بالغوں کی جنسی خواہش کا مسئلہ سمجھنا بنیادی غلطی ہے۔ یہ بچے کی رضامندی، تحفظ، طاقت کے غلط استعمال، مجرمانہ رویے اور قانون کی عمل داری کا مسئلہ ہے۔
ایک معاشرہ اس وقت محفوظ بنتا ہے جب وہ صرف جرم کے بعد غصہ نہیں کرتا بلکہ جرم سے پہلے بچے کو محفوظ بنانے کا نظام بھی بناتا ہے۔ آیت نور کے لیے سب سے بامعنی انصاف شاید یہی ہوگا کہ اس واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آئے، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملے اور اس کے بعد ہم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ ہمیں خطرے کا اندازہ ہی نہیں تھا۔
نوٹ : یہ مضمون میری ذاتی رائے پر مبنی ہے جسے لکھنے کا مقصد معاشرتی المیے کو ہائی لائٹ کرنا ہے نہ کہ کیس کے حوالے سے کسی قسم کی مداخلت ، اس مضمون کے لئے متعدد مضامین اور بیانات سے حوالہ جات لئے گئے ہیں-
الیاس بابر محمد