LAFZon KI DUNIA

LAFZon KI DUNIA Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from LAFZon KI DUNIA, Digital creator, Qatar industrial area karva, Doha.

"خوش آمدید 'لفظوں کی دنیا' میں۔ یہاں آپ کو ملے گی روزانہ نئی تحریریں، جو دل کو چھو لیں گی۔ موٹیویشن، اسلامی تعلیمات اور بہت کچھ۔ اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور اس خوبصورت سفر میں ہمارے ساتھ شامل ہوں

یاد رکھیں !ساری کی ساری چالاکیاں اور ہوشیاریاں صرف دنیا میں ہی ہیں۔ اِس کو بے وقوف بنا لیا، اس سے جھوٹ بول لیا، اسے دھوک...
31/05/2026

یاد رکھیں !
ساری کی ساری چالاکیاں
اور ہوشیاریاں صرف دنیا میں ہی ہیں۔
اِس کو بے وقوف بنا لیا،
اس سے جھوٹ بول لیا،
اسے دھوکہ دے کر اپنا فائدہ اٹھا لیا،۔۔۔✨
لیکن یاد رکھیں!
جو کچھ آپ کر رہے ہیں وہ ہواؤں میں نہیں اڑ رہا،
بلکہ فرشتے لکھ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔💯

🌸إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ﴾ 🌸
"بے شک آپ کا رب گھات میں ہے (یعنی ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہے)۔" — (القرآن)

31/05/2026

🌼

*غلام کی دعا سے نزولِ رحمت*

کچھ واقعات اگرچہ مکرر بھی آ رہے ہیں، لیکن ان شاء اللہ فائدے سے خالی نہ ہوں گے۔ یہ واقعہ بھی کسی اور کتاب کے حوالے سے اس سے پہلے گزر چکا ہے۔
عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں مکہ مکرمہ میں تھا۔ وہاں بہت بڑا قحط پڑا ہوا تھا۔ لوگ میدانِ عرفات میں نمازِ استسقاء کے لیے جاتے تھے، لیکن قحط کی شدت بڑھتی جاتی تھی۔ ایک ہفتہ اسی حال میں گزر گیا۔

اگلے ہفتے لوگ جمعہ کی نماز کے بعد پھر عرفات گئے۔ وہاں میں نے ایک سیاہ فام، کمزور بدن آدمی کو دیکھا۔ اس نے دو رکعت نماز پڑھی اور اپنے پروردگار سے دعا مانگی، پھر سجدہ کیا اور کہا:
"تیری عزت کی قسم! میں اپنا سر سجدے سے اس وقت تک نہ اٹھاؤں گا جب تک تو اپنے بندوں کو بارانِ رحمت سے سیراب نہ فرما دے۔"

اس کے بعد میں نے ابر کا ایک ٹکڑا دیکھا جو ظاہر ہوا، پھر اس میں اور ٹکڑے مل گئے۔ یہاں تک کہ آسمان اس طرح برسنے لگا گویا مشکوں کے دہانے کھل گئے ہوں۔
اس کے بعد اس سیاہ فام بندے نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور واپس چلا گیا۔ یہ دیکھ کر میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ چلتے چلتے وہ ایک ایسے مکان میں داخل ہوا جس میں ایک غلام فروش رہتا تھا۔

یہ دیکھ کر میں واپس آ گیا۔ صبح کو درہم اور اشرفیاں لے کر اس غلام فروش کے گھر پہنچا اور اس سے کہا:
"مجھے ایک غلام خریدنے کی ضرورت ہے۔"
چنانچہ سوداگر نے تقریباً تمام غلام میرے سامنے پیش کیے۔ میں نے اس سے پوچھا:
"ان غلاموں کے علاوہ کوئی اور غلام بھی باقی ہے؟"
اس نے کہا:
"ہاں، ایک غلام اور بھی ہے، مگر وہ منحوس ہے۔ کسی سے بات بھی نہیں کرتا۔"

میں نے کہا:
"اسے بھی دکھاؤ۔"
چنانچہ اس نے وہی غلام پیش کیا جسے میں نے عرفات میں دیکھا تھا۔
میں نے پوچھا:
"تم نے اسے کتنے میں خریدا ہے؟"
اس نے جواب دیا:
"میں نے اسے بیس اشرفیوں میں خریدا ہے، لیکن تمہیں دس اشرفیوں میں دے دوں گا۔"

عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا:
"نہیں، بلکہ میں تمہیں ستائیس اشرفیاں دوں گا۔"
اس کے بعد میں نے اس غلام کا ہاتھ پکڑا اور واپس آ گیا۔

غلام نے مجھ سے کہا:
"اے میرے آقا! آپ نے مجھے کیوں خریدا ہے؟ میں تو آپ کی خدمت کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔"
میں نے کہا:
"میں نے تمہیں اس لیے خریدا ہے کہ تم میرے مالک بنو اور میں تمہارا خادم بنوں۔"
اس نے حیرت سے پوچھا:
"آپ یہ کیوں کہتے ہیں؟"
میں نے جواب دیا:
"کل میں نے تمہیں دیکھا تھا کہ تم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس نے تمہاری دعا قبول فرما لی، اس لیے میں نے اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارا مقام پہچان لیا۔"
اس نے کہا:
"کیا واقعی آپ نے ایسا دیکھا؟"
میں نے کہا:
"ہاں!"
اس نے پوچھا:
"کیا آپ مجھے آزاد کرتے ہیں؟"
میں نے کہا:
"تم محض رضائے الٰہی کے لیے آزاد ہو۔"

اس کے بعد میں نے ایک غیبی آواز سنی:
"اے ابن المبارک! تجھے خوش خبری ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تیری مغفرت فرما دی۔"

پھر غلام نے کامل وضو کیا، دو رکعت نماز پڑھی اور کہا:
"اس جھوٹے آقا (دنیاوی مالک) کی آزادی پر تو اللہ کا شکر ادا کر سکتا ہوں، مگر مولائے اکبر کی آزادی پر کس طرح شکر ادا کروں؟"

اس کے بعد اس نے دوبارہ وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر کہا:
اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي عَبَدْتُكَ ثَلَاثِينَ سَنَةً، وَإِنَّ الْعَهْدَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَنْ لَا تَكْشِفَ سِتْرِي، فَقَدْ كَشَفْتَهُ، فَالْحِقْنِي بِكَ.

"اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ میں نے تیس برس تیری عبادت کی۔ میرے اور تیرے درمیان یہ عہد تھا کہ تو میرا پردہ فاش نہ کرے گا، مگر اب تو نے اسے ظاہر کر دیا ہے، لہٰذا اب مجھے اپنے پاس بلا لے۔"
اس کے بعد وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ جب دیکھا گیا تو اس کی روح پرواز کر چکی تھی۔
عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے معمولی سا کفن دیا، نمازِ جنازہ پڑھی اور دفن کر دیا۔
جب میں سویا تو خواب میں ایک نہایت حسین و جمیل بزرگ کو دیکھا اور ان کے ساتھ ایک اور بزرگ بھی تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔
ان میں سے ایک نے فرمایا:
"اے ابن المبارک! کیا تجھے اللہ تعالیٰ سے شرم نہ آئی؟"
پھر وہ آگے بڑھ گئے۔

میں نے پوچھا:
"آپ کون ہیں؟"
انہوں نے فرمایا:
"میں محمد رسول اللہ ﷺ ہوں اور یہ میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔"
میں نے عرض کیا:
"میں اللہ تعالیٰ سے کیوں شرم کروں، حالانکہ میں کثرت سے نماز پڑھتا ہوں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ کے اولیاء میں سے ایک ولی فوت ہو گیا اور تم نے اسے اچھا کفن نہ دیا۔"
صبح ہوئی تو میں نے اس غلام کی قبر کھولی، اسے نہایت عمدہ کفن پہنایا، دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھی اور پھر دفن کر دیا۔

اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔
ابوالقاسم حکیم سے پوچھا گیا:
"ایک گناہ گار شخص جس نے اپنے گناہوں سے توبہ کر لی ہو اور ایک کافر جو اسلام لے آیا ہو، ان دونوں میں کون افضل ہے؟"
انہوں نے جواب دیا:
"جو گناہ گار اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے وہ افضل ہے، کیونکہ کافر حالتِ کفر میں اجنبی تھا، جبکہ گناہ گار اپنے گناہ کی حالت میں بھی اپنے رب کو پہچاننے والا تھا۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ کافر جب اسلام لاتا ہے تو اجنبیوں کے درجے سے نکل کر عارفین کے درجے میں داخل ہوتا ہے، جبکہ توبہ کرنے والا گناہ گار عارفین کے درجے سے بڑھ کر محبوبین کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔"
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاللَّهُ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ
"اور اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔"
(واللہ أعلم بالصواب)
(نوادر العلیوبی)
🌹🌸🌼♥️🤲

31/05/2026

۔ *اَلسَّـلاَمُ عَلَيكُـم وَرَحمَةُاللهِ وَبَرَكـَاتُهُ🌹*
۔ *︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*
۔ *📚📜 خوبصورت بات ​ 📜📚​*
۔ *︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘*

*✍️ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:*
*"جس شخص کے سینے میں قرآنِ کریم کا کچھ بھی حصہ نہ ہو، وہ اجڑے ہوئے گھر کی مانند ہے۔"*

*(سنن الترمذی، رقم: 2913) ۔!!!🌴*

*☚ خــوش رہیں، خــوشیاں بانٹیں ۔🌱*

*_مثبت لفظ، مثبت جملہ، مثبت سوچ شئیر کریں... آپ کا دل سے نکلا ہوا ایک لفظ، ایک جملہ کسی کے بھی دل کی دنیا میں اتر جائے اور آپ کے لئے صدقہ جاریہ بن جائے...!!!_*

31/05/2026

🌹

*حکایات درودِ شریف (حصہ ہشتم )*

41. علامہ سخاوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مجھ سے شیخ احمد بن رسلان کے شاگردوں میں سے ایک معتمد شخص نے کہا کہ اُن کو نبی کریم ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی اور حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں یہ کتاب "القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع" (جو حضور اقدس ﷺ پر درود شریف کے بیان میں علامہ سخاوی کی مشہور تالیف ہے اور اس رسالہ کے اکثر مضامین اسی سے لیے گئے ہیں) پیش کی گئی۔ حضور اقدس ﷺ نے اس کو قبول فرمایا۔

یہ بہت طویل خواب ہے جس کی وجہ سے مجھے انتہائی مسرت ہوتی ہے اور میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے پاک رسول ﷺ کی طرف سے اس کی قبولیت کی امید رکھتا ہوں، اور ان شاء اللہ دارین میں زیادہ سے زیادہ ثواب کا امیدوار ہوں۔

پس تو بھی، اے مخاطب! اپنے پاک نبی ﷺ کا ذکر خوبیوں کے ساتھ کرتا رہا کر اور دل و زبان سے حضور اقدس ﷺ پر کثرت سے درود بھیجتا رہا کر، اس لیے کہ تیرا درود حضور اقدس ﷺ کے پاس، حضور کی قبرِ اطہر میں پہنچتا ہے اور تیرا نام حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ (بدیع)
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا كَثِيرًا كَثِيرًا، كُلَّمَا ذَكَرَهُ الذَّاكِرُونَ وَكُلَّمَا غَفَلَ عَنْ ذِكْرِهِ الْغَافِلُونَ.

42. علامہ سخاوی رحمہ اللہ تعالیٰ ابو بکر بن محمد سے نقل کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو بکر بن مجاہد کے پاس تھا کہ اتنے میں شیخ المشائخ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ آئے۔ اُن کو دیکھ کر ابو بکر بن مجاہد کھڑے ہو گئے، ان سے معانقہ کیا اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ میرے سردار! آپ شبلی کے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہیں، حالانکہ آپ اور سارے علماءِ بغداد یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ پاگل ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے وہی کیا جو حضورِ اقدس ﷺ کو کرتے دیکھا۔

پھر انہوں نے اپنا خواب بتایا کہ مجھے حضورِ اقدس ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی کہ حضور ﷺ کی خدمت میں شبلی حاضر ہوئے، تو حضورِ اقدس ﷺ کھڑے ہو گئے اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا۔ میرے استفسار پر حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ہر نماز کے بعد لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ آخرِ سورت تک پڑھتا ہے اور اس کے بعد مجھ پر درود پڑھتا ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ جب بھی فرض نماز پڑھتا ہے، اُس کے بعد یہ آیتِ شریفہ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ پڑھتا ہے اور اس کے بعد تین مرتبہ:
صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ
پڑھتا ہے۔
ابو بکر کہتے ہیں کہ اس خواب کے بعد جب شبلی آئے تو میں نے اُن سے پوچھا کہ نماز کے بعد کیا پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے یہی بتایا۔

ایک اور صاحب سے اسی نوع کا ایک قصہ نقل کیا گیا ہے۔ ابوالقاسم حفّاظ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت شبلی ابو بکر بن مجاہد کی مسجد میں گئے۔ ابو بکر اُن کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ ابو بکر کے شاگردوں میں اس کا چرچا ہوا۔ انہوں نے اُستاد سے عرض کیا کہ آپ کی خدمت میں وزیرِ اعظم آئے، اُن کے لیے تو آپ کھڑے ہوئے نہیں، مگر شبلی کے لیے آپ کھڑے ہو گئے۔

انہوں نے فرمایا کہ میں ایسے شخص کے لیے کیوں نہ کھڑا ہوں جس کی تعظیم حضورِ اقدس ﷺ خود کرتے ہوں؟
اس کے بعد اُستاد نے اپنا ایک خواب بیان کیا اور یہ کہا کہ رات میں نے حضورِ اقدس ﷺ کی خواب میں زیارت کی تھی۔ حضورِ اقدس ﷺ نے خواب میں ارشاد فرمایا تھا کہ:
"کل تیرے پاس ایک جنتی شخص آئے گا، تو اس کا کام کرنا۔"
ابو بکر کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے دو ایک دن کے بعد پھر حضورِ اقدس ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی۔ حضورِ اقدس ﷺ نے خواب میں ارشاد فرمایا:

"اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تمہارا بھی اکرام فرمائے، جیسا کہ تم نے ایک جنتی آدمی کا اکرام کیا۔"
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اس کا یہ مرتبہ کس وجہ سے ہے؟
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"یہ پانچوں نمازوں کے بعد یہ آیت پڑھتا ہے: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ... الآیۃ، اور اسی برس سے اس کا معمول ہے۔"
(بدیع)
🌸🌼🌹♥️🤲

31/05/2026

🌼

*بتوں کی بے بسی*

یثرب (مدینہ منورہ) میں اسلام کی روشنی ابھی نئی نئی تھی، اور اس سے پہلے وہاں بت پرستی کا دور دورہ تھا۔ عمرو بن جموح بن مسلمہ اپنے قبیلے کے ایک سردار تھے۔ ان کے ایک بت کا نام "مُناۃ" تھا، جو نہایت قیمتی لکڑی سے تراشا گیا تھا۔ ماہر کاریگروں نے اس کی خوبصورت تراش خراش کی تھی اور اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی تھی۔

عمرو اسے روزانہ خوشبو لگاتے، سنوارتے، صاف کرتے، صبح و شام اس کی زیارت کرتے اور اس پر اپنا مال و دولت نچھاور کرتے تھے۔ وہ اس کی محبت میں مکمل طور پر ڈوبے ہوئے تھے۔

ایک دن عمرو بن جموح مُناۃ کے سامنے نہایت عاجزی اور انکساری سے کھڑے ہوئے۔ پہلے انہوں نے اس کی خوب تعریف کی اور اس کے "فضائل" بیان کیے، پھر کہنے لگے:

"اے مُناۃ! تمہیں تو علم ہی ہے کہ ہمارے شہر میں ایک نئے دین کا داعی آیا ہے جس نے اسلام کی تبلیغ شروع کر دی ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ ہمیں تم سے ہٹا دے اور ہمارے دلوں سے تمہاری محبت ختم کر دے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس سے دو دو ہاتھ کروں اور صاف بات کروں، لیکن میں نے مناسب سمجھا کہ پہلے تم سے مشورہ کر لوں۔ تم مجھے بتاؤ کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟"

مناۃ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ عمرو نے پھر عاجزی سے کہا:

"لگتا ہے تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو۔ اگر میں نے کوئی غلط بات کہہ دی ہے تو معاف کر دو۔ اگر تم ناراض ہو تو میں چند دن بعد دوبارہ آؤں گا تاکہ تمہارا غصہ ٹھنڈا ہو جائے۔"

ادھر عمرو بن جموح کے بیٹے معاذ بن عمرو پہلے ہی اسلام قبول کر چکے تھے۔ انہیں اپنے والد کی بت پرستی کا علم تھا۔ انہوں نے اپنے قریبی دوست معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں مشورہ کیا۔ یہ دونوں بنو سلمہ کے نوجوان تھے۔

دونوں نے ایک منصوبہ بنایا۔ رات کے وقت جب عمرو سو گئے، تو وہ دونوں مُناۃ کے پاس گئے، اسے اٹھایا اور کندھوں پر رکھ کر بنو سلمہ کے ایک بے آباد کنویں میں پھینک دیا، جہاں قبیلے کے لوگ گندگی پھینکا کرتے تھے۔

عمرو اپنے پیارے بت کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ وہ غصے سے کانپ رہا تھا، بڑبڑا رہا تھا اور اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے منات کو ڈھونڈ رہا تھا۔ دائیں بائیں دیکھا مگر منات کہیں نظر نہ آیا۔ آخرکار وہ دیوانہ وار آگے بڑھا اور جب سامنے دیکھا تو منات کو گندگی کے کنویں میں الٹا پڑا ہوا پایا۔ اس نے جلدی سے اسے نکالا، دھویا، خوشبو لگائی اور دوبارہ اسی جگہ پر رکھ دیا۔

اگلی رات بھی حضرت معاذ بن عمرو اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنے دیگر نوجوان ساتھیوں کے ساتھ مل کر وہی عمل دہراتے ہیں۔ صبح سویرے عمرو حسبِ عادت پھر منات کی پوجا اور سلام کے لیے آیا، مگر اس بار بھی منات اپنی جگہ موجود نہ تھا۔

وہ فوراً کنویں کی طرف دوڑا اور دیکھا کہ اس کا پیارا منات گندگی کے ڈھیر میں دبا ہوا ہے۔ اسے دیکھ کر اسے کچھ دکھ اور کراہت ضرور محسوس ہوئی، لیکن پھر بھی وہ اسے اپنا معبود سمجھتا تھا۔ اس کے دل میں اس کے لیے احترام اور محبت موجود تھی۔ اس نے گندگی کے ڈھیر سے اسے نکالا، دھویا، خوشبو لگائی اور دوبارہ مقررہ جگہ پر رکھ دیا۔

اس بار اس نے منات کے گلے میں ایک تلوار بھی لٹکا دی اور کہا:
"اے منات! اگر اب کوئی تمہارے پاس آئے اور تمہارے ساتھ برا سلوک کرے تو اس تلوار سے اپنی حفاظت کرنا۔"

اگلے دن نوجوانوں نے ایک اور منصوبہ بنایا۔ انہوں نے منات کو اٹھایا، ایک مردہ کتے کے ساتھ اسے رسی سے باندھا، تلوار کو الگ کر دیا اور پھر اسے گندے کنویں میں پھینک دیا۔
اگلی صبح بوڑھا عمرو حسبِ معمول اٹھا اور سیدھا منات کے کمرے میں گیا، مگر وہ جگہ خالی تھی۔

وہ فوراً کنویں کی طرف گیا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ اس کا منات کتے کے ساتھ بندھا ہوا، گندگی میں لت پت پڑا ہے، اور تلوار بھی غائب ہے۔ اب عمرو کی عقل ٹھکانے آ چکی تھی۔
جب اس نے اپنے معبود کو اس حال میں دیکھا تو پکار اٹھا:
"وَاللَّهِ لَوْ كُنْتَ إِنَّهَا لَمْ تَكُنْ أَنْتَ وَكَلِّبٌ وَسَطَ بِئْرٍ فِي قَرَنَ"
(اللہ کی قسم! اگر تم واقعی معبود ہوتے تو تم اور کتا اس گندے کنویں میں کبھی اکٹھے نہ ہوتے۔)

اب عمرو غفلت کی نیند سے بیدار ہو چکا تھا۔ ایمان کی روشنی اس کے دل میں اتر چکی تھی اور حقیقت اس کے سامنے واضح ہو گئی تھی۔ اس نے اپنے بچوں کے ساتھ اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ پھر وہ منات کے پاس گیا اور اسے اپنے قدموں سے روند کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ وہ کتنی بڑی گمراہی میں تھا کہ ایک لکڑی کے بت کی عبادت کرتا رہا اور اپنی زندگی اندھیروں میں گزار دی۔ اب وہ صراطِ مستقیم کا راہی بن چکا تھا، اسلام کا مددگار اور سچا پیروکار۔ اس کے سامنے ماضی کی تلافی کا واحد راستہ یہ تھا کہ وہ اسلام پر ثابت قدم رہے۔
عمرو نے اپنی اولاد، اپنا مال اور اپنی جان اسلام کے لیے وقف کر دی۔

(اسد الغابہ / 195، سیر اعلام النبلاء / 10:253)
🤲🌼🌹♥️🌸

*"بکریاں رات کو فورا سو جاتی ھیں اور فجر سے پہلے پہلے  اٹھ جاتی ھیں**یہ نزولِ رحمت کا وقت ھوتا ھے**اسی لئے بکریوں  میں ب...
29/05/2026

*"بکریاں رات کو فورا سو جاتی ھیں اور فجر سے پہلے پہلے اٹھ جاتی ھیں*
*یہ نزولِ رحمت کا وقت ھوتا ھے*
*اسی لئے بکریوں میں برکت ہوتی ہے*
*اور کتے رات بھر بھونکتے رہتے ھیں*
*اور فجر کے قریب سو جاتے ھیں*
*اسی لئے رحمت و برکت سے محروم ھوتے ھیں"*
*پس غور و فکر کا مقام ھے*
*آج ھمارا بھی یہی حال ھے*
*ھم اپنی راتوں کو فضولیات میں گزارتے ھیں*
*اور صبح بوقتِ نزولِ رحمت سو جاتے ھیں*
*اسی وجہ سے آج نہ ھی ھمارے مال میں اور نہ ھی ھماری اولاد میں اور نہ ھی کسی دوسری چیز میں برکت ھے.*
*حضرات سوچیئے*
*ذرا نہیں.پورا سوچیئے*

29/05/2026

🌹

*حکایات درودِ شریف ( حصہ ششم )*

37. ابو حفص سمرقندی اپنی کتاب رونق المجالس میں لکھتے ہیں کہ بلخ میں ایک تاجر تھا جو بہت زیادہ مالدار تھا۔ اُس کا انتقال ہوا۔ اُس کے دو بیٹے تھے۔ میراث میں اُس کا مال آدھا آدھا تقسیم ہوگیا، لیکن ترکے میں حضور اقدس ﷺ کے تین موئے مبارک بھی موجود تھے۔
ایک ایک موئے مبارک دونوں بھائیوں نے لے لیا۔ تیسرے موئے مبارک کے متعلق بڑے بھائی نے کہا کہ اس کو آدھا آدھا کر لیتے ہیں۔ چھوٹے بھائی نے کہا: ہرگز نہیں، خدا کی قسم! حضور اقدس ﷺ کا موئے مبارک نہیں کاٹا جا سکتا۔

بڑے بھائی نے کہا: کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ یہ تینوں موئے مبارک تو لے لے اور یہ سارا مال میرے حصے میں آ جائے؟
چھوٹا بھائی خوشی سے راضی ہو گیا۔ چنانچہ بڑے بھائی نے سارا مال لے لیا اور چھوٹے بھائی نے تینوں موئے مبارک لے لیے۔
وہ اُن موئے مبارک کو ہر وقت اپنی جیب میں رکھتا، بار بار نکالتا، اُن کی زیارت کرتا اور درود شریف پڑھتا رہتا تھا۔
تھوڑا ہی زمانہ گزرا تھا کہ بڑے بھائی کا سارا مال ختم ہو گیا اور چھوٹا بھائی بہت زیادہ مالدار ہو گیا۔
جب اس چھوٹے بھائی کی وفات ہوئی تو بعض صالحین نے خواب میں حضور اقدس ﷺ کی زیارت کی۔ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جس کسی کو کوئی ضرورت ہو، وہ اس کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرے۔"
(بدیع)

نزہۃ المجالس میں بھی یہ قصہ مختصراً نقل کیا گیا ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ بڑا بھائی، جس نے سارا مال لے لیا تھا، بعد میں فقیر ہو گیا۔ اُس نے خواب میں حضور اقدس ﷺ کی زیارت کی اور اپنے فقر و فاقہ کی شکایت کی۔
حضور اقدس ﷺ نے خواب میں ارشاد فرمایا:
"اے محروم! تو نے میرے بالوں سے بے رغبتی کی، جبکہ تیرے بھائی نے اُنہیں اختیار کر لیا، اور وہ جب بھی اُنہیں دیکھتا تھا مجھ پر درود شریف بھیجتا تھا۔ اللہ جل شانہٗ نے اُسے دنیا و آخرت میں سعادت عطا فرما دی۔"
جب اُس کی آنکھ کھلی تو وہ آ کر اپنے چھوٹے بھائی کے خادموں میں شامل ہو گیا۔
فقط

38. ایک عورت حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس آئی اور عرض کیا:
"میری لڑکی کا انتقال ہو گیا ہے، میری یہ تمنا ہے کہ میں اسے خواب میں دیکھوں۔"

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:
"عشاء کی نماز پڑھ کر چار رکعت نفل نماز پڑھو، اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد اَلْهٰكُمُ التَّكَاثُرُ پڑھو، پھر لیٹ جاؤ اور سونے تک نبی کریم ﷺ پر درود شریف پڑھتی رہو۔"
اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ اس نے خواب میں اپنی لڑکی کو دیکھا کہ وہ نہایت سخت عذاب میں مبتلا ہے۔ اس پر تارکول کا لباس ہے، اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور اس کے پاؤں آگ کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

صبح وہ پھر حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس گئی۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا:
"اس کی طرف سے صدقہ کرو، شاید اللہ جل شانہٗ اس کی وجہ سے تمہاری لڑکی کو معاف فرما دے۔"
اگلے دن حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے خواب میں دیکھا کہ جنت کا ایک باغ ہے اور اس میں ایک بہت اونچا تخت ہے، جس پر ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی بیٹھی ہے۔ اس کے سر پر نور کا تاج ہے۔
وہ کہنے لگی:
"حسن! کیا آپ نے مجھے پہچانا؟"
میں نے کہا:
"نہیں، میں نے تو نہیں پہچانا۔"
وہ کہنے لگی:
"میں وہی لڑکی ہوں جس کی ماں کو آپ نے درود شریف پڑھنے کا حکم دیا تھا۔"
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:
"تیری ماں نے تو تیری حالت اس کے بالکل برعکس بیان کی تھی جو میں اب دیکھ رہا ہوں۔"
اس نے کہا:
"میری حالت وہی تھی جو میری ماں نے بیان کی تھی۔"
میں نے پوچھا:
"پھر یہ مرتبہ کیسے حاصل ہو گیا؟"
اس نے کہا:
"ہم ستر ہزار آدمی اسی عذاب میں مبتلا تھے۔ صلحاء میں سے ایک بزرگ کا ہمارے قبرستان پر گزر ہوا۔ انہوں نے ایک مرتبہ درود شریف پڑھ کر اس کا ثواب ہم سب کو پہنچا دیا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا درود اس قدر مقبول ہوا کہ اس کی برکت سے ہم سب کو عذاب سے نجات مل گئی، اور انہی بزرگ کی برکت سے یہ مرتبہ نصیب ہوا۔"
(بدیع)

روض الفائق میں اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ مذکور ہے:
ایک عورت کا بیٹا بہت گناہ گار تھا۔ اس کی ماں اسے بار بار نصیحت کرتی مگر وہ نصیحت قبول نہیں کرتا تھا۔ اسی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا۔
اس کی ماں کو بہت رنج تھا کہ وہ بغیر توبہ کے دنیا سے گیا۔ اسے تمنا تھی کہ کسی طرح خواب میں اپنے بیٹے کو دیکھے۔

چنانچہ اس نے خواب میں اسے دیکھا تو وہ عذاب میں مبتلا تھا۔ اس سے ماں کا غم اور بڑھ گیا۔
کچھ عرصے بعد اس نے دوبارہ خواب میں اپنے بیٹے کو دیکھا تو وہ نہایت خوش و خرم اور اچھی حالت میں تھا۔
ماں نے پوچھا:
"یہ کیا ہو گیا؟"
اس نے جواب دیا:
"ایک بہت بڑا گناہ گار شخص اس قبرستان سے گزرا۔ قبروں کو دیکھ کر اسے عبرت ہوئی، وہ اپنی حالت پر رویا اور سچے دل سے توبہ کی۔ پھر اس نے کچھ قرآنِ کریم پڑھا اور بیس مرتبہ درود شریف پڑھ کر اس کا ثواب قبرستان والوں کو بخش دیا۔ مجھے جو حصہ ملا، اس کا یہ اثر ہے جو تم دیکھ رہی ہو۔"
میری اماں! درود شریف دلوں کا نور، گناہوں کا کفارہ اور زندوں اور مردوں دونوں کے لیے رحمت ہے۔

39. حضرت کعب الاحبار، جو تورات کے بڑے عالم تھے، فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہٗ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی:
"اے موسیٰ! اگر دنیا میں ایسے لوگ نہ ہوتے جو میری حمد و ثنا کرتے رہتے ہیں تو میں آسمان سے ایک قطرہ پانی بھی نہ برساتا اور زمین سے ایک دانہ بھی نہ اگاتا۔"

مزید بہت سی نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا:
"اے موسیٰ! اگر تو چاہتا ہے کہ میں تجھ سے اس سے بھی زیادہ قریب ہو جاؤں جتنا تیری زبان سے تیرا کلام، تیرے دل سے اس کے خیالات، تیرے بدن سے اس کی روح اور تیری آنکھ سے اس کی روشنی قریب ہے، تو..."
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:
"یا اللہ! ضرور ارشاد فرمائیے۔"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے درود پڑھا کر۔"
(بدیع)
🌸🌹🌼🤲♥️

29/05/2026

🌸

*مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی*

روم کے ایک جنگجو بہادر نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسلمانوں کی ایک جماعت کو قید کر لیا اور شاہِ روم کے سامنے عرض کیا:

"مسلمانوں میں ایک شخص نہایت قوی اور رعب دار ہے، لوگ اس کی صورت دیکھ کر ڈر جاتے ہیں۔"
شاہِ روم نے اسے دیکھنے کے لیے طلب کیا۔ اس کے سامنے ایک لمبی زنجیر لگی رہتی تھی، جس کی وجہ سے کوئی شخص جھکے بغیر اس کے پاس نہیں جا سکتا تھا۔

جب اس مسلمان مرد نے زنجیر دیکھی تو شاہِ روم کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔ شاہِ روم نے زنجیر اٹھانے کا حکم دیا تاکہ وہ اس کے پاس آ سکے۔
جب مسلمان اس کے پاس پہنچا تو دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد شاہِ روم نے کہا:

"تم ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ، میں اپنی انگوٹھی تمہارے ہاتھ میں پہنا دوں گا اور ولایتِ روم تمہیں عطا کر دوں گا۔"
مسلمان نے جواب دیا:
"دنیا کا کتنا حصہ تیرے قبضے میں ہے؟"
شاہِ روم نے کہا:
"تہائی یا چوتھائی۔"
مسلمان نے کہا:
"اگر پوری دنیا تیرے قبضے میں ہوتی، اور وہ سونے اور جواہرات سے بھری ہوتی، اور تو اسے مجھے ایک دن کیمض اذان نہ کہنے کے بدلے میں دے دیتا، تب بھی میں اسے قبول نہ کرتا۔"
شاہِ روم نے پوچھا:
"اذان کیا چیز ہے؟"
مسلمان نے کہا:
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ

شاہِ روم نے کہا:
"بے شک اس کے دل میں محمد ﷺ کی محبت راسخ ہو چکی ہے، اس لیے اس کا اپنے دین سے پھر جانا ناممکن ہے۔"

پھر اس نے حکم دیا کہ ایک دیگ آگ پر رکھی جائے اور اس میں پانی بھرا جائے۔ جب پانی خوب جوش مارنے لگا تو حکم دیا کہ اس مسلمان کو اس میں ڈال دو۔
چنانچہ اسے دیگ میں ڈال دیا گیا۔ اس نے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کہا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ایک طرف سے داخل ہو کر دوسری طرف سے صحیح سلامت نکل آیا۔
لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔
اس کے بعد شاہِ روم نے حکم دیا کہ اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں قید کر دیا جائے اور چالیس دن تک اس کے سامنے صرف سور کا گوشت اور شراب رکھی جائے۔
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔

جب چالیس دن پورے ہوئے تو دروازہ کھولا گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ جو کچھ اس کے سامنے رکھا گیا تھا، سب ویسا ہی موجود ہے۔ اس نے اس میں سے کچھ بھی استعمال نہیں کیا تھا۔
لوگوں نے پوچھا:
"تم نے اس میں سے کچھ کیوں نہیں کھایا؟ حالانکہ دینِ اسلام میں شدید مجبوری کے وقت اس کی اجازت ہے۔"
اس مسلمان نے جواب دیا:
"اگر میں اس میں سے کھاتا تو تم خوش ہوتے، اور مجھے تمہیں غصہ دلانا منظور تھا۔"
پھر بادشاہ نے کہا:
"اگر تم مجھے سجدہ کر لو تو میں تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو آزاد کر دوں گا۔"

مسلمان نے جواب دیا:
"دینِ محمدی ﷺ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔"
شاہِ روم نے کہا:
"اچھا، میری پیشانی کو بوسہ دے دو۔"
مسلمان نے جواب دیا:
"ہاں، ایک شرط کے ساتھ۔"
بادشاہ نے کہا:
"جس طرح چاہو۔"
چنانچہ اس مسلمان نے اپنی آستین بادشاہ کی پیشانی پر رکھ دی اور آستین کے اوپر سے بوسہ دیا، اور نیت یہ کی کہ میں اپنی آستین کو بوسہ دے رہا ہوں۔

اس کے بعد شاہِ روم نے اسے اور اس کے تمام ساتھی قیدیوں کو رہا کر دیا اور بہت سا مال و زر بھی عطا کیا۔
پھر اس نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا:
"اگر یہ شخص ہمارے شہر میں ہمارے دین پر ہوتا تو ہم اس کی عبادت نہ سہی، لیکن اس کی عظمت و بزرگی کا اعتقاد ضرور رکھتے۔"
جب وہ مسلمان عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا:
"اس مال کو صرف اپنے لیے مخصوص نہ کرو بلکہ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لوگوں کو بھی شریک کرو۔"
چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔
(نوادر القلوبی)
🌹🌸♥️🤲🌼

28/05/2026

سونے کی سنتیں 🌙

🌸 سونے سے پہلے وضو کرنا سنت ہے۔
نبی کریم ﷺ اکثر باوضو سوتے تھے۔

🍁 سونے سے پہلے بستر جھاڑ لینا سنت ہے۔

> بِسْمِ اللَّهِ

پڑھ کر بستر جھاڑیں۔

🤍 دائیں کروٹ پر سونا سنت ہے۔
اور دایاں ہاتھ گال کے نیچے رکھنا بھی سنت ہے۔

✨ سونے سے پہلے یہ دعا پڑھیں:

> اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا
“اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ مرتا اور جیتا ہوں۔”

🕊️ آیت الکرسی پڑھ کر سونا سنت ہے۔
اس سے اللہ کی حفاظت نصیب ہوتی ہے۔

📖 سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر ہاتھوں پر دم کرکے پورے جسم پر پھیرنا سنت ہے۔

🌸 سونے سے پہلے تسبیحات پڑھنا:

> سُبْحَانَ اللَّهِ 33 بار
الْحَمْدُ لِلَّهِ 33 بار
اللَّهُ أَكْبَرُ 34 بار

🤲 سونے سے پہلے معافی مانگنا اور دل صاف کرکے سونا بہت بڑی نیکی ہے۔

🍁 پیٹ کے بل سونا منع ہے، کیونکہ یہ طریقہ اللہ کو ناپسند ہے۔

✨ جلدی سونا اور فجر کیلئے جلدی اٹھنا بھی سنتِ مبارکہ ہے۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

28/05/2026

🌹

*حکایات درودِ شریف ( حصہ پنجم )*

32. ابو القاسم مروزی کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد رحمہ اللہ تعالیٰ رات میں حدیث کی کتاب کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔ خواب میں یہ دیکھا گیا کہ جس جگہ ہم مقابلہ کیا کرتے تھے اُس جگہ ایک نور کا ستون ہے جو اتنا اونچا ہے کہ آسمان تک پہنچ گیا۔ کسی نے پوچھا: یہ ستون کیسا ہے؟ تو بتایا گیا کہ یہ اُس درود شریف کا نور ہے جسے یہ دونوں کتاب کے مقابلہ کے وقت پڑھا کرتے تھے۔
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَّفَ وَكَرَّمَ
(بدیع)

33. ابو اسحاق نہشل کہتے ہیں کہ میں حدیث کی کتاب لکھا کرتا تھا اور اس میں حضور نبی کریم ﷺ کا پاک نام اس طرح لکھا کرتا تھا:
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا
میں نے خواب میں دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے میری لکھی ہوئی کتاب ملاحظہ فرمائی اور ملاحظہ فرما کر ارشاد فرمایا: “یہ عمدہ ہے۔”
(بظاہر لفظ “تسلیماً” کے اضافہ کی طرف اشارہ ہے۔)
(بدیع)

34. علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے اور بھی بہت سے حضرات کے اس قسم کے خواب نقل فرمائے ہیں کہ اُنہیں وفات کے بعد نہایت اچھی حالت میں دیکھا گیا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ یہ اعزاز کس وجہ سے ملا تو انہوں نے بتایا کہ ہر حدیث میں حضور اقدس ﷺ کے پاک نام کے ساتھ درود شریف لکھنے کی وجہ سے۔
(بدیع)

35. حسن بن موسیٰ الحضرمی، جو ابن عجینہ کے نام سے مشہور ہیں، کہتے ہیں کہ میں حدیثِ پاک نقل کیا کرتا تھا اور جلدی کی وجہ سے حضور اقدس ﷺ کے پاک نام پر درود شریف لکھنے میں کوتاہی ہو جاتی تھی۔ میں نے خواب میں حضور اقدس ﷺ کی زیارت کی۔ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: “جب تو حدیث لکھتا ہے تو مجھ پر درود کیوں نہیں لکھتا، جیسا کہ ابو عمرو طبری لکھتے ہیں؟”

میری آنکھ کھلی تو مجھ پر بڑی گھبراہٹ سوار تھی۔ میں نے اسی وقت عہد کر لیا کہ آئندہ جب بھی کوئی حدیث لکھوں گا تو صلی اللہ علیہ وسلم ضرور لکھوں گا۔
(بدیع)

36. ابو علی حسن بن علی عطار کہتے ہیں کہ مجھے ابو طاہر نے حدیثِ پاک کے چند اجزاء لکھ کر دیے۔ میں نے ان میں دیکھا کہ جہاں بھی نبی کریم ﷺ کا پاک نام آتا، وہ حضور اقدس ﷺ کے نامِ مبارک کے بعد
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا كَثِيرًا كَثِيرًا
لکھتے تھے۔

میں نے پوچھا: آپ اس طرح کیوں لکھتے ہیں؟
انہوں نے کہا: میں اپنی نو عمری میں حدیثِ پاک لکھا کرتا تھا اور حضور اقدس ﷺ کے پاک نام پر درود شریف نہیں لکھا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے خواب میں حضور اقدس ﷺ کی زیارت کی۔ میں حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا، مگر حضور اقدس ﷺ نے منہ پھیر لیا۔ میں دوسری جانب حاضر ہو کر سلام عرض کیا، حضور ﷺ نے اُدھر سے بھی منہ پھیر لیا۔ پھر تیسری مرتبہ حاضر ہو کر عرض کیا: “یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھ سے روگردانی کیوں فرما رہے ہیں؟”

حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: “اس لیے کہ جب تو اپنی کتاب میں میرا نام لکھتا ہے تو مجھ پر درود نہیں بھیجتا۔”
اُس وقت سے میرا یہ معمول ہو گیا کہ جب بھی حضور اقدس ﷺ کا پاک نام لکھتا ہوں تو
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا كَثِيرًا كَثِيرًا كَثِيرًا
ضرور لکھتا ہوں۔
(بدیع)

🌸♥️🌹🤲🌼

Address

Qatar Industrial Area Karva
Doha
99999

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LAFZon KI DUNIA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share