18/04/2026
🚨 عوامی مسائل یا ذاتی مفادات؟ حقیقت سامنے آنی چاہیے 🚨
عثمان والا مین بازار میں اکرم شاہ عرف گڈی شاہ کے حوالے سے مختلف شکایات سامنے آ رہی ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہےاکرم شاہ عثمان والا میں ایک ڈیجیٹل بته مافيه بن گیا ہے جوکہ سو سو روپے تک لوگو سے لینے تک کی کوشش کرتا ہے
❗ عوامی شکایات کے مطابق:
➡️ ریلوے کی دکانیں بہت کم کرائے پر لے کر آگے بہت زیادہ کرائے پر دی جا رہی ہیں
➡️ سڑک پر کھڑے ریڑھی بانوں، رکشہ ڈرائیور گدھا ریڑھی اور فروٹ فروشوں سے روزانہ رقم لینے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، حالانکہ وہ جگہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں
➡️ دکانوں کی “پگڑی” کے نام پر آٹھ سے دس لاکھ روپے وصول کیے رہے ہیں، جو غریب دکانداروں پر بہت بڑا بوجھ ہے
➡️ کچھ افراد کی جانب سے یہ بھی شکایت کی گئی ہے کہ لوگوں کے ساتھ رویہ سخت اور نامناسب رکھا جاتا ہے
📉 اس صورتحال نے غریب محنت کش طبقے کو شدید متاثر کیا ہے، جو پہلے ہی مشکل حالات میں اپنی روزی کما رہا ہے۔
🚨 مزید یہ کہ جمعہ بازار کے حوالے سے بھی اہم باتیں سامنے آئی ہیں:
❗ جمعہ بازار کی انتظامیہ کے ساتھ شراکت داری (50%) کی ڈیل کرنے کی کوشش کی گئی
❗ جب بات نہ بنی تو اب اسی بازار کی مخالفت کی جا رہی ہے
❗ وہ بازار جہاں غریب عوام کو سستی اشیاء ملتی ہیں، اسے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
❗ ساتھ ہی مین بازار میں خود کو دکانداروں کا نمائندہ ظاہر کیا جا رہا ہے،
جبکہ عوامی رائے کے مطابق دکاندار بھی مختلف مالی دباؤ اور بلیک ملینگ مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اگر دو کاندار اکرم شاہ عرف گڈی شاہ کے ساتھ اححتاج میں شامل نہیں ہوتے تو ریلوے کی دوکانیں خالی کروانے کی دھمکی دی جاتی ہے
👉 سوال یہ ہے:
کیا عوامی جگہوں اور غریبوں کے روزگار پر کسی ایک فرد کا اختیار ہونا چاہیے؟
کیا ایسے اقدامات غریب کے حق میں ہیں یا اس کے خلاف؟
✊ عوام اور متعلقہ اداروں سے اپیل:
✔️ ان معاملات کی شفاف انکوائری کی جائے
✔️ غریب ریڑھی بانوں اور چھوٹے دکانداروں کو تحفظ دیا جائے
✔️ جمعہ بازار جیسے عوامی ریلیف کے نظام کو جاری رکھا جائے
⚠️ یاد رکھیں:
عوامی حق کسی ایک شخص کی ملکیت نہیں — اس کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔