12/03/2026
کیا آپ جانتے ہیں:
“اللهم إنك عفو تحب العفو فاعفُ عنا”
کا کیا مطلب ہے؟
🌙 رمضان کے آخری دن کے سورج
غروب ہونے تک اس دعا کو کثرت سے پڑھیں:
“اللهم إنك عفو تحب العفو فاعفُ عنا”
ترجمہ: اے اللہ! بے شک تو بہت معاف کرنے والا ہے،
معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس ہمیں بھی معاف فرما دے۔
⏳ ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں اور اس دعا کو بار بار پڑھتے رہیں۔
کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کر دیا تو آپ کامیاب ہوگئے، نجات پا گئے اور حقیقی سعادت حاصل کر لی۔
🌙 امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اگر تم دعا کرنا چاہو مگر وقت کم ہو اور دل میں بہت سی حاجتیں جمع ہوں تو اپنی ساری دعا کو اس ایک دعا میں جمع کر دو کہ اللہ تمہیں معاف کر دے۔
کیونکہ اگر اللہ تمہیں معاف کر دے گا تو تمہاری حاجتیں بغیر مانگے بھی پوری ہو جائیں گی۔
🌙 اس دعا کے معنی کو محسوس کریں، کیونکہ عفو (معافی) کے کئی پہلو ہیں:
◀️ بدن کا عفو: ہر بیماری اور تکلیف سے شفا ملنا۔
◀️ دین کا عفو: نیکی، عبادت اور اطاعت کی توفیق ملنا۔
◀️ اللہ (الدیّان) کا عفو: گناہوں کو مٹا دینا، معاف کر دینا اور ان پر سزا نہ دینا۔
🌙 لغت میں “عفو” کا ایک معنی زیادتی اور کثرت بھی ہے۔
جیسے قرآن میں ہے:
“يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ”
یعنی: لوگ پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے جو ضرورت سے زیادہ ہو۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ بندے کو اس کی مانگی ہوئی چیز سے زیادہ عطا کر دیتا ہے۔
🌙 مغفرت اور عفو میں فرق
◀️ مغفرت: اللہ گناہ کو معاف کر دیتا ہے لیکن وہ گناہ نامۂ اعمال میں درج رہتا ہے۔
◀️ عفو: اللہ گناہ کو معاف کرنے کے ساتھ نامۂ اعمال سے مٹا بھی دیتا ہے۔
🌙 اسی دعا کی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دی تھی کہ رمضان میں شبِ قدر میں اسے کثرت سے پڑھا کریں۔
لہٰذا اس دعا کو زیادہ سے زیادہ پڑھیں اور اپنے عزیزوں کو بھی یاد دلائیں۔
اللهم إنك عفو تحب العفو فاعفُ عنا
اور اگر آپ اس پیغام کو آگے پھیلانے کا ارادہ کریں تو نیت خیر کی رکھیں، شاید اللہ اسی کے ذریعے دنیا و آخرت کی کوئی بڑی پریشانی دور فرما دے۔
یاد رکھیں: نیکی کو کبھی حقیر نہ سمجھیں، آپ نہیں جانتے کون سا عمل آپ کو جنت میں داخل کر دے۔