Hafiz Muhammad Ibrahim

Hafiz Muhammad Ibrahim Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hafiz Muhammad Ibrahim, Digital creator, al khobar, Dammam.

Messages that connect hearts, awaken souls, and refresh faith.Videos and posts inspired by the Quran, Hadith,and the Seerah,crafted with love,sincerity, and devotion.Speaking the language of the heart, sharing the words of Deen.

27/01/2026
دیکھیں اور پڑھیں دین میں کتنی آسانی ہے
09/12/2025

دیکھیں اور پڑھیں دین میں کتنی آسانی ہے

03/12/2025

#بدلدونظام

اندھیروں سے روشنی تکرات کے پچھلے پہر کی خاموشی میں جب ہر طرف سناٹا بکھرا ہوا تھا، گاؤں کے ایک پرانے کچے گھر میں ایک ننھا...
03/12/2025

اندھیروں سے روشنی تک

رات کے پچھلے پہر کی خاموشی میں جب ہر طرف سناٹا بکھرا ہوا تھا، گاؤں کے ایک پرانے کچے گھر میں ایک ننھا سا بچہ پریشانی سے ماں کے چہرے کو تک رہا تھا۔ اس کی سانسیں رکی رکی تھیں، اور ہاتھ کی مضبوط گرفت آہستہ آہستہ ڈھیلی پڑ رہی تھی۔ عدیل صرف سات سال کا تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کا بچپن ابھی ابھی ہمیشہ کے لیے بدلنے والا ہے۔ ماں کے جانے کے بعد ابھی آنسو خشک بھی نہ ہوئے تھے کہ چند ہفتوں بعد باپ بھی بیماری کے ہاتھوں ہار گیا۔ یوں عدیل، اس کی پانچ بہنیں اور دو چھوٹے بھائی ایک ہی لمحے میں یتیم اور بے آسرا ہوگئے۔

گھر میں غریبی پہلے ہی بسیرا کیے بیٹھی تھی۔ کھانا ایک وقت پورا ہوتا تو دوسرے میں فکر ہوتی۔ ماں باپ کے بعد جب رشتے داروں نے حالات دیکھے تو ایک ایک کرکے سب ہاتھ جھاڑ کر الگ ہوگئے۔ کچھ نے کہا، "ہماری بھی مجبوریاں ہیں"، کچھ خاموش رہے، اور کچھ نے تو راستہ بدل کر سلام تک چھوڑ دیا۔ عدیل ہر گزرتے دن کے ساتھ یہی سیکھ رہا تھا کہ رشتے غربت میں اکثر مر جاتے ہیں۔

لیکن عدیل کی آنکھوں میں آنسو کے ساتھ ساتھ ایک عزم بھی پلنے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ ٹوٹ گیا تو پورا گھر ٹوٹ جائے گا۔ اس نے اپنی عمر سے بہت بڑی ذمہ داریاں اٹھا لیں۔ پہلے پہل وہ مدرسے کے صحن میں جھاڑو دیتا، گاؤں کی مسجد میں پانی بھرتا، کبھی کسی کے کھیت میں مزدوری کرتا، تو کبھی بازار میں تھڑا لگا کر مصلّے بیچتا۔

گاؤں والے اسے ترس بھری نظروں سے دیکھتے مگر عدیل کو کسی کے ترس کی ضرورت نہ تھی۔ اسے موقع چاہیے تھا… اور محنت کا موقع اسے مل ہی جاتا تھا۔

بہنوں کی محبت اور عدیل کی خاموش جدوجہد

گھر میں بہنیں عدیل کے لیے ماں کی جگہ تھیں۔ وہ اس کی تھکی آنکھیں دیکھ کر اکثر چپکے سے رو لیتی تھیں۔ لیکن عدیل انہیں پتا نہیں چلنے دیتا تھا کہ وہ خود بھی راتوں کو تھک کر سسکتا ہے۔ اس کے دل میں ایک ہی خوف تھا—
"اگر میں رک گیا تو میری بہنوں کے نصیب رک جائیں گے۔"

وہ دن کو مزدوری کرتا، شام کو بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا، رات کو کسی دکان کا حساب کتاب کر دیتا۔ تھوڑا بہت جو پیسہ آتا، اسے احتیاط سے جمع کرتا۔ سالہا سال کی محنت، قربانی اور بھوک پیاس نے آخرکار رنگ دکھانا شروع کیا۔

عدیل نے سب سے بڑی بہن کی شادی کی۔ دن بھر کی دوڑ دھوپ، ادھار، مانگے ہوئے پیسے، اور اپنی محنت کی کمائی… سب مل کر ایک بہن کو رخصت کر گئے۔ اس رات عدیل نے پہلی بار سکھ کی سانس لی، لیکن اگلے ہی لمحے اسے یاد آیا کہ ابھی چار بہنیں باقی ہیں۔

وقت بڑھا، ذمہ داری بڑھتی گئی، اور ساتھ ہی عدیل کی ہمت بھی۔ وہ شہر آیا۔ اینٹوں کے بھٹّے میں مزدوری کی، ہوٹل میں برتن دھوئے، ٹفن ڈلیوری کی، اور کبھی دن بھر کی مشقت کے بعد دہکتا ہوا تندور بھی سنبھالا۔

شہر کے اس شور میں عدیل کا ایک ہی ساتھی تھا—اس کا چھوٹا بھائی، زبیر۔ وہ دونوں ایک ہی بستر پر سوتے، ایک ہی پلیٹ میں کھاتے، اور ایک ہی خواب دیکھتے:
"ایک دن ہمارا اپنا گھر ہو گا، اپنی عزت ہو گی، اور سب بہنیں سکون سے رہیں گی۔"

عدیل نے زبیر کو پڑھنے پر مجبور کیا۔ خود بھوکا رہ گیا، مگر بھائی کے لیے کتابیں خریدیں۔ زبیر نے بھی کبھی عدیل کو مایوس نہیں کیا۔ وہ دن رات پڑھتا رہا۔

شہر میں کافی سال گزارنے کے بعد عدیل کو ایک دکان دار نے اپنی لکڑی کی ورکشاپ میں کام پر رکھ لیا۔ عدیل نے محنت سے کام کیا، نئی چیزیں سیکھیں، کاروبار کے اتار چڑھاؤ کو سمجھا۔ کچھ ہی سالوں میں اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اگر ہمت ہو تو لکڑی کا کام کمائی دیتا ہے۔

عدیل نے تھوڑی تھوڑی بچت کرکے پرانی مشین خریدی۔ ایک چھوٹی سی ورکشاپ کھولی، جو صرف ایک کمرے جتنی تھی۔ لیکن عدیل کے دل میں وہ کمرہ کسی فیکٹری سے کم نہ تھا۔

زبیر نے تعلیم مکمل کی اور ایک اچھی نوکری پر لگ گیا۔ دونوں بھائیوں نے تن تنہا وہ کر دکھایا جو ایک پورا خاندان بھی مشکل سے کرتا ہے۔

بہنوں کی رخصتی — خواب پورے ہونے لگے

عدل اور زبیر محبت کے ساتھ دونوں بھائیوں نے مل کر تین بہنوں کی شادی کی۔ ہر شادی میں عدیل کے دل پر بوجھ کم ہوتا گیا۔ جب پانچویں اور آخری بہن کی شادی ہوئی، تو عدیل پہلی بار برسوں کے بعد ہنسا۔ وہ ہنسی بھی آنسؤں میں بھیگی ہوئی تھی۔

اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:
"امی ابو… میں نے آپ کا گھر ٹوٹنے نہیں دیا۔"

سالوں کی محنت نے عدیل کی ورکشاپ کو فیکٹری بنا دیا۔ لوگ اس کا نام عزت سے لیتے تھے۔ اس کے بنائے ہوئے فرنیچر شہر بھر میں مشہور ہونے لگے۔ زبیر کی کمائی بھی ساتھ شامل ہوئی تو انہوں نے دوسرا بڑا یونٹ کھول لیا۔

چند سالوں میں عدیل وہ بن گیا جو کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچ سکتا تھا۔ اس کا اپنا گھر، اپنی گاڑی، عزت، اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا خاندان…
جو غریبی، ٹوٹ پھوٹ، اور تکلیفوں سے گزر کر مضبوط ہوا تھا۔

لیکن عدیل کبھی نہیں بھولا…

وہ جب بھی اپنے دفتر کی شیشے والی کرسی پر بیٹھتا، اسے وہ کچے گھر کی ٹوٹی چارپائی یاد آتی۔
جب بھی اعلیٰ درجے کا کھانا سامنے آتا، اسے وہ دن یاد آتے جب وہ بہنوں کے لیے اپنی بھوک چھپا لیتا تھا۔
جب بھی لوگ کہتے: "عدیل صاحب بڑے نصیب والے ہیں"، وہ صرف مسکرا دیتا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ نصیب اتنی آسانی سے نہیں بنتا، بلکہ خون، آنسو اور قربانی سے بنتا ہے۔

ایک دن زبیر نے کہا:
"بھائی، اب ہم کامیاب ہیں، اب تو تھوڑا آرام کرو۔"

عدیل نے مسکرا کر جواب دیا:
"آرام تو اس دن ہی کر لیا تھا جب آخری بہن کو خوش رخصت کیا تھا۔ اب محنت میرا شوق بن چکی ہے، مجبوری نہیں۔"

عدیل نے اپنی فیکٹری میں غریب بچوں کے لیے اسکالرشپ رکھی، مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیم کا بندوبست کیا، اور بیواؤں کے گھروں میں راشن پہنچانا شروع کیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ غریبی کی چنگاری صرف وہی بجھا سکتا ہے جو جل کر خود راکھ ہو چکا ہو۔

کئی سال بعد، گاؤں میں وہی پرانا کچا گھر اب اینٹوں کا پختہ مکان بن چکا تھا۔ گاؤں کے لوگ، جو پہلے راستہ بدل لیتے تھے، اب عدیل کو دیکھ کر کہتے:
"یہ ہے وہ لڑکا جس نے اپنی قسمت خود لکھی ہے۔"

عدیل کے چہرے پر ہمیشہ ایک پرسکون مسکراہٹ رہتی۔ شاید اس لیے کہ وہ جانتا تھا:
غربت نے اسے توڑا نہیں، بلکہ بنایا تھا۔
یتیمی نے اسے کمزور نہیں کیا، بلکہ مضبوط کیا تھا۔
اور لوگوں کی بے رخی نے اسے تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ خدا کے قریب کر دیا تھا۔

اس کی زندگی ایک پیغام بن چکی تھی:
"جس کے دل میں سچائی، ہمت اور محنت ہو، دنیا بھی اس کے آگے سر جھکا دیتی ہے۔"


30/09/2025

فلسطینیوں کے ساتھ غداری نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور جنرل عاصم منیر کو بہت مہنگی پڑے گی۔
جنرل عاصم منیر ہوں یا شہباز شریف تاریخ کا یہ سبق یاد رکھیں!
امریکہ نے کبھی یاسر عرفات کو “امن کا سفیر”، صدام حسین کو “خطے کا توازن”، اور حسنی مبارک کو “مشرقِ وسطیٰ کا ستون” بنا کر پیش کیا۔ دنیا نے ان کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں، ان کے بیانات کو سراہا، اور ان کے دور کو “تاریخی” کہا۔
مگر وقت بدلنے پر سب سے پہلے امریکہ نے ان کی کرسی چھینی، انہیں ذلت دی، اپنے ہاتھوں سے پھانسی کے پھندے تک پہنچایا اور انہیں تاریخ کے کچرے دان میں پھینک دیا۔
صحافی سید طلعت حسین نے کو چند الفاظ میں بڑی واضح شکل میں بیان کر دیا ہے:
“نہ کوئی فلسطینی ریاست، نہ غزّہ میں فلسطینی اتھارٹی۔ حماس تمام قیدی رہا کرنے کے بعد تاریخ کے کچرے دان میں ڈال دیا جائے گا۔ نیتن یاہو 64 ہزار فلسطینیوں کو قتل کرنے کے بعد ‘امن کا پیامبر’ بنے گا اور ٹرمپ غزّہ کو ایک رِئیل اسٹیٹ کی سونے کی کان کے طور پر چلائے گا۔ ایک ایسی زمین پر جسے تازہ خون نے تر کیا ہے۔”
اس منصوبے پر عمل درآمد کروانے اور نگرانی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی نگرانی میں ’’امن بورڈ‘‘ بنایا جائے گا، جس میں برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہے، جس نے جھوٹ کی بنیاد پر عراق میں جنگ مسلَّط کی اور لاکھوں مسلمانوں کو قتل کروایا۔
پہلے دن سے ان تمام منصوبوں کو عرب دنیا کی طرف سے مکمل حمایت حاصل ہے۔ ہم نے ایک سے زائد بار کہا کہ فلسطینیوں کے قتلِ عام کے اصل مجرم عرب دنیا ہے۔ فلسطینیوں کی نسل کشی عرب دنیا کی ایما پر ہوئی ہے، ورنہ کسی اور میں یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کر سکے۔
ھے جُرم ضعیفی کی سزا مرگ ِ مفاجات
(حسین اصغر)

یہ ایک نہایت عجیب داستان ہے، دل کو چھونے والی!!ڈاکٹر محمد خانی رقم طراز ہیں:ایک مرتبہ میں اپنی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا کہ...
25/09/2025

یہ ایک نہایت عجیب داستان ہے، دل کو چھونے والی!!
ڈاکٹر محمد خانی رقم طراز ہیں:
ایک مرتبہ میں اپنی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا کہ یکایک ایک دبلا پتلا سا لڑکا قریب آیا۔ عمر بمشکل سولہ برس ہوگی۔ نہ جانے کیسی معصومیت چہرے پر بکھری ہوئی تھی۔ اس نے جھجکتے ہوئے کہا:
"کیا میں آپ کے گاڑی کا شیشہ صاف کر دوں؟"
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس نے ایسا دل لگا کر شیشہ صاف کیا کہ گاڑی کی آب و تاب نکھر آئی۔ میں نے بیس ڈالر اس کے ہاتھ پر رکھے تو وہ چونک کر بولا:
"کیا آپ امریکہ سے آئے ہیں؟"
میں نے کہا: "ہاں۔"
اس نے تپاک سے کہا: "کیا میں صفائی کی اجرت کے بجائے آپ سے امریکی جامعات کے بارے میں کچھ سوال کر سکتا ہوں؟"
اس کی گفتگو میں ایسی شائستگی اور وقار تھا کہ میرا دل مچل اٹھا۔ میں نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور بات چیت شروع کی۔
"تمہاری عمر کتنی ہے؟"
"سولہ برس۔"
"یعنی سیکنڈ ایئر میں ہو؟"
"جی نہیں، میں نے گریجویشن مکمل کر لی ہے۔"
"یہ کیسے ممکن ہوا؟"
"امتحانات میں غیر معمولی کارکردگی کے باعث مجھے کئی جماعتیں آگے بڑھا دیا گیا۔"
میں دم بخود رہ گیا۔ پوچھا:
"پھر تم یہاں مزدوری کیوں کرتے ہو؟"
وہ کچھ دیر خاموشی کے بعد گویا ہوا:
"میرے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب میں دو برس کا تھا۔ میری ماں ایک گھر میں کھانا پکاتی ہیں اور میں اور میری بہن بھی محنت مزدوری کرتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ امریکی جامعات میں ذہین طلبہ کو وظائف ملتے ہیں۔ میری آرزو ہے کہ میں بھی ان میں جگہ پاؤں۔"
میں نے پوچھا: "کیا کوئی تمہارا ہاتھ بٹانے والا ہے؟"
وہ آہستگی سے مسکرایا: "میرے پاس میرے سوا کوئی نہیں۔"
میرا دل بھر آیا۔ کہا: "چلو کھانا کھاتے ہیں۔"
اس نے شرط رکھی: "لیکن اس سے پہلے مجھے آپ کے گاڑی کا پچھلا شیشہ صاف کرنے دیجیے۔"
میں نے ہنستے ہوئے اجازت دی۔
ریستوران پہنچ کر بھی اس کی عظمتِ نفس دیکھنے کے لائق تھی۔ اپنے لیے کچھ نہ مانگا بلکہ کہا کہ کھانا پیک کر دیا جائے تاکہ وہ ماں اور بہن کو دے سکے۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کی انگریزی بے حد شاندار ہے اور اس میں غیر معمولی صلاحیتیں موجود ہیں۔
ہم نے طے کیا کہ وہ اپنے کاغذات لائے گا اور میں اپنی استطاعت کے مطابق اس کی مدد کروں گا۔ چند ماہ کی کوششوں کے بعد اسے امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ دلوا دیا۔ دو دن بعد اس کی آواز فون پر گونجی:
"واللہ! ہم سب گھر میں خوشی کے آنسو رو رہے ہیں۔"
محض دو برس گزرے تھے کہ نیویارک ٹائمز نے اسے دنیا کے کم عمر ترین ماہرِ ٹیکنالوجی قرار دے کر اس پر رپورٹ شائع کی۔ یہ خبر پڑھ کر میں اور میرے اہلِ خانہ اشکبار خوشی میں ڈوب گئے۔ میری اہلیہ نے اس کی ماں اور بہن کے ویزے بھی دلوائے۔ جب یہ نوجوان اپنی ماں اور بہن کو اچانک امریکہ میں اپنے سامنے دیکھتا ہے تو خوشی کے بوجھ تلے نہ بول سکا نہ رو سکا۔
کچھ عرصے بعد ایک دن میں اور میرا خاندان گھر کے اندر تھے کہ اچانک باہر نگاہ گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہی نوجوان میری گاڑی دھو رہا ہے! میں تیزی سے باہر نکلا اور حیرت سے پوچھا:
"یہ کیا کر رہے ہو؟"
وہ سر جھکا کر مسکرایا اور بولا:
"مجھے کرنے دیجیے تاکہ میں یہ نہ بھولوں کہ میں کیا تھا اور آپ نے مجھے کیا بنایا۔"
یہ فلسطین کا باہمت فرزند فرید عبدالعالی ہے، جو آج ہارورڈ یونیورسٹی جیسے عظیم ادارے کا نامور استاد اور مایہ ناز سائنس دان ہے۔
یہ سچی داستان عرب سوشل پر وائرل ہے۔ اس کہانی میں سبق یہ پنہان ہے کہ غربت اور محرومی اگرچہ انسان کے قدم روک سکتی ہے، مگر ارادے، حوصلے اور شرافت کے سامنے دنیا کی کوئی دیوار زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔
(ضیاء چترالی)




Address

Al Khobar
Dammam
32210

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Muhammad Ibrahim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share