18/06/2026
میں جتنی دفعہ ٹیکسی میں بیٹھا ، ہر ڈرائیور مجھ سے یہ سوال ضرور کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کیا تم مسلمان ہو؟۔۔۔۔۔۔۔
یہ سوال اکثر دیسی لوگوں کیلئے عجیب ہوتا ہوگا ۔۔۔ میرے لئے بھی تھا ۔۔
مگر اس سوال کا جواب مختلف تھا ۔۔۔۔۔۔ یہ مجھے ایک ازبک عورت نے دوسری ازبک عورت سے جھگڑا کرتے ہوئے سکھایا ۔۔۔؟
جب آپ ازبکستان آتے ہو تو آپ کا ذہن بطور مسلمان بہت ساری باتیں Comprehend نہیں کر سکتا۔۔۔۔ ہمیشہ یہ سوال ذہن میں ضرور آتا ہے کہ یہ کیسے مسلمان ہیں۔۔۔؟ میرے زہن میں بھی آتا تھا مگر اب نہیں آتا کیونکہ اس کا جواب مجھے مل چکا ہے۔
آپ اکثر جب ٹیکسی میں بیٹھتے ہو تو آپ سے ڈرائیور یہ سوال ضرور پوچھتا ہے کہ "کہاں سے ہو"؟۔۔۔۔
پاکستان سے۔۔۔۔۔
مسلمان ہو ۔۔۔۔۔؟
جی ہاں ۔۔۔ الحمد اللہ۔۔۔۔
الحمد اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر Deep Down اس سوال کا ایک مقصد ہوتا ہے۔۔۔۔ جو ہمیں جو برصغیر پاک و ہند سے تعلق رکھتے ہیں انہیں سمجھ نہیں آتا۔۔۔۔ اور مجھ سمیت بہت سے لوگ اس سوال پر ہنستے بھی ہیں دل میں کہ '' تم کیسے یہ سوال پوچھ سکتے ہو۔۔۔"؟
جی ہاں۔۔۔۔ تم ازبک لوگ کیسے یہ سوال پوچھ سکتے ہو؟۔۔۔۔۔
تمہارے ہاں ۔۔۔۔ مسجدیں فاصلوں پر ہیں، ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔۔۔۔۔۔۔۔
آذان کی آواز تک نہیں سنائی دیتی۔۔۔۔۔۔
تمہاری عورتیں حجاب نہیں کرتی بلکہ بازاروں میں، دفتروں میں ، مردوں کی طرح کام کرتی ہیں۔۔۔۔ بس میں مردوں کے ساتھ بیٹھ کر سفر کرتی ہیں ۔۔۔
تمہارے مردوں کے چہروں پر داڑھیاں نہیں۔۔۔ ہاتھوں میں تسبیحاں نہیں۔۔۔۔۔ ویسٹرن ڈریس میں ملبوس مرد۔۔۔۔۔۔۔ قرآن دیکھ کر تمہیں پڑھنا نہیں آتا
نماز وں کی تمہیں پرواہ نہیں ۔۔۔۔۔۔ رمضان کب آیا کب گیا کوئی اہتمام نہیں۔۔۔۔ کس نے روزے رکھے ، کس نے کھائے کسی کے کانوں سے جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔۔۔
تمہار ے ہاں ، شراب پر کوئی پابندی نہیں ۔۔۔۔۔ ہر جگہ شراب کی دکانیں موجود ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔
کب محرم آیا، کب شب قدر آئی گزر گئی، کب عید آئی گزر گئی ، قربانی آئی گزر گئی۔۔۔۔ نہ کوئی عبادت، نہ کوئی اہتمام، نہ ہی کوئی عقیدت و احترام اور تم ہم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
پنج وقتہ پکے نمازیوں سے، تہجد گزاروں سے، تسبیح ہاتھ میں پکڑی اور چہرے پر سنت رسول سجائے مسلمانوں سے۔۔۔۔
رمضان ، حج و قربانی کا اہتمام و احترام کرنے والےمسلمانوں سے۔۔۔۔۔۔
اپنی عورتوں کو گھروں میں عزت سے رکھنے والے، انہیں شریعی لباس پہنانے والے مسلمانوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسجدیں ہر وقت بھرنے والے مسلمانوں سے۔۔۔۔۔۔
تلاوت اور ختم القرآن کرنے والے۔۔۔۔۔ ہر گھر سے ایک نہ ایک بچے کو حفظ کروانے والے مسلمانوں سے۔۔۔
باقاعدہ حج و عمرے کرنے والے مسلمانوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔زکوۃ و صدقات دینے والے مسلمانوں سے۔۔۔۔۔
یہ پوچھتے ہو کہ ہم مسلمان ہیں۔۔۔۔۔۔؟
پچھلے تقریبا دس ماہ سے یہاں رہنے ، یہاں کام کرنے اور لوگوں کے ساتھ سفر کرنے ۔۔۔۔۔ ان کے ساتھ روز مرہ زندگی گزارنے کے بعد آہستہ آہستہ مجھے اس سوال کی گہرائی سمجھ آنے لگی۔ مگر چند دن قبل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بلڈنگ کی لفٹ کے باہر دو ازبک عورتیں کسی معاملے پر " آپ میں الجھ پڑی۔۔۔۔۔۔ اور ایک عورت نے دوسری سے کہا کہ " تم نے اس معاملے پر بد دیانتی سے کام لیا ہے''۔۔۔۔۔ '' ہم مسلمان ہیں''۔۔۔ ''ہم مسلمان ہیں ''۔۔۔۔
اس عورت کے یہ الفاظ ادا کرنے تھے کہ میرے اندر ایک Vibration کی سی کیفیت محسوس ہوئی اور ساتھ ہی میرے ذہن میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ہر بار پوچھے گئے یہ الفاظ دوڑنے لگے۔۔۔۔۔۔'' تم مسلمان ہو ''۔۔۔۔۔۔؟
میں اپنی عقل پر ماتم کرنے لگا اور مجھے احساس ہوا کہ میں تو اس سوال کو سمجھ ہی نہیں سکا تھا کہ جب یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ تم مسلمان ہو ۔۔۔؟
تو درحقیقت وہ یہ نہیں پوچھ رہے ہوتے کہ تمہارا نام کیا ہے، تمہارا مذہب کیا ہے، تم مسجد جاتے ہو یا نہیں، تمہاری داڑھی کتنی لمبی ہے، یا تم کتنے روزے رکھتے ہو۔
وہ شاید یہ پوچھ رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔
کیا تم امانت دار ہو؟۔۔۔۔۔
کیا تم دوسروں کا حق ادا کرتے ہو؟۔۔۔۔۔
کیا تم تنہائی میں بھی وہی انسان ہوتے ہو جو لوگوں کے سامنے نظر آتے ہو؟۔۔۔۔۔۔
کیا تم دوسروں کے ساتھ وہی معاملہ کرتے ہو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو؟۔۔۔۔۔۔
کیا تمہارا حسن و اخلاق بہترین ہے۔۔۔۔؟
تم جھوٹ تو نہیں بولتے۔۔۔۔؟
تم دوسروں کی زندگیوں اور معاملات پر نظر تو نہیں رکھتے۔۔۔۔۔؟
کیونکہ جب آپ یہاں ٹیکسی میں بیٹھتے ہیں تو ڈرائیور آپ سے ایک روپیہ بھی زائد وصول نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ کا موبائل یا کوئی قیمتی چیز گاڑی میں رہ جائے تو وہ اسے اپنی امانت سمجھ کر واپس پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔
لوگ قانون کی موجودگی میں ہی نہیں بلکہ تنہائی میں بھی دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۔۔۔ آپ چھوٹی سے چھوٹی اور قیمتی سے قیمتی چیز کسی Public Place پر چھوڑ کر جائیں اور دوسرے دن آ کر اٹھا کر لیجائیں کوئی پرواہ تک نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔
کوئی آپ کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔
یہاں انسان کی قدر اس کی برادری، قبیلے، ذات یا خاندانی لقب سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور رویے سے کی جاتی ہے۔
کسی کو دوسرے کی ذاتی زندگی سے کوئی لین دین نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر انسان دوسرے کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کو اخلاقی جرم سمجھتا ہے۔۔۔۔۔
لوگ مسکرا کر ملتے ہیں، احترام سے بات کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی دوسروں کی سہولت کا خیال رکھتے ہیں۔
تب مجھے احساس ہوا کہ شاید ان کے نزدیک "تم مسلمان ہو؟" صرف ایک مذہبی شناخت کا سوال نہیں تھا، بلکہ کردار، امانت، دیانت اور حقوق العباد کا سوال تھا۔
#ابوخلیفہ