16/05/2026
واقعۂ قربانی
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو خواب میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کا حکم دیا۔
یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی۔
حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے سے فرمایا:
“اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں، تمہاری کیا رائے ہے؟”
حضرت اسماعیلؑ نے جواب دیا:
“ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے وہ کر دیجیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”
جب دونوں اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کی جگہ جنت سے ایک دنبہ بھیج دیا، اور قربانی قبول فرما لی۔
یہی واقعہ آج عیدالاضحیٰ اور قربانی کی اصل بنیاد ہے۔
یہ جگہ کہاں ہے؟
عام طور پر لوگ اس واقعے کو منیٰ (مکہ مکرمہ) سے جوڑتے ہیں، جہاں آج بھی:
* قربانی ہوتی ہے
* حجاج رمی کرتے ہیں
* اور حضرت ابراہیمؑ کی سنت یاد کی جاتی ہے۔
پہاڑی علاقوں میں بعض چھوٹے تاریخی نشانات یا یادگاریں بھی موجود ہیں جنہیں مقامی لوگ اس واقعے سے منسوب کرتے ہیں۔
قرآن میں ذکر
یہ واقعہ سورۃ الصافات میں آیا ہے:
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ
“پھر جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا…”
(سورۃ الصافات 37:103)
اس واقعے سے سبق
* اللہ کے حکم کے سامنے مکمل اطاعت
* صبر اور قربانی
* ایمان کی مضبوطی
* والد اور بیٹے کی بہترین مثال
جزاک اللہ خ