XOHAD

XOHAD BEINGHUMAN✨

05/11/2025

View✨❤️

゚viralfbreelsfypシ゚viral ゚

09/08/2025

"The call that wakes hearts, not just eyes. Fajr Azan from Masjid Al Haram 🌙🕋

07/08/2025

"You won’t believe this place until you see it with your own eyes… 😱✨
A moment that gave me chills — watch till the end.
"

ATKT'ingلے آئی آج زندگی _ کن پستیوں میں تُو مجھےیاروں نے لا مغالطہ ____ ٹھہرا دیا عدُو مجھےعرش سے سیدھا فرش پر چہرے کے ب...
01/12/2023

ATKT'ing
لے آئی آج زندگی _ کن پستیوں میں تُو مجھے
یاروں نے لا مغالطہ ____ ٹھہرا دیا عدُو مجھے

عرش سے سیدھا فرش پر چہرے کے بَل گِرا ہوں میں
پٹخے گی اور کتنی بار _ ایک ہی جستجُو مجھے

میرا چراغ ہائے دل _ جلنے سے پہلے بُجھ گیا
جل گیا خواب آنکھ میں _ جس کی تھی آرزو مجھے

آپ ہی اپنا چارہ ساز _ آپ ہی اپنا غم شناس
مجھ سوا جانتا ہے کون _ پیش ہے جو رفُو مجھے

"جس کو ہمارے نام کے حرف بھی یاد تک نہیں
حرف بہ حرف یاد ہے اُس کا ہر اِک عضو مجھے"

صحنِ خیال سے یہ کون _ توڑ کے لے گیا اُسے
کھِلنے سے جس گلاب کے _ ملتی رہی نمُو مجھے

پوچھیے مت کہ کون ہے _ میرا شریکِ لا شریک
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھیے بس کبھُو مجھے

غار میں سو گیا ہوں میں _ پتھر کا ہو گیا ہوں میں
موت سے زندگی نکال _ ہاتھ بڑھا کے چھُو مجھے

جانیے کتنا محترم ہو گا وہ میرے واسطے
جس کی تلاش کے لیے سونا ہے با وضو مجھے

آپ زوھاد جائیے ___ ڈھونڈیے لا مکان میں
میرا خدا تو ہر گھڑی دِکھتا ہے چار سُو مجھے
🖤🔥
زوھاد

عام سی شام ہو لیکن اس شام کے راستے میرے گھر جا رکیںگھر کی دہلیز پر میری ماں مسکراتے ہوئے میرے گزرے دنوں کی تھکن چوم لے ش...
01/03/2022

عام سی شام ہو
لیکن اس شام کے راستے میرے گھر جا رکیں
گھر کی دہلیز پر
میری ماں
مسکراتے ہوئے میرے گزرے دنوں کی تھکن چوم لے
شام کی سرحدوں سے مؤذن پکارے تو
سب بھائی بہنوں کی چپ میں مِری چپ بھی ہو
شام کی سیج پر باپ کے جسم سے میرے بازو اگیں
جب منڈیروں پہ رکھے دیے جگمگانے لگیں
ٹوٹتے فرش پر میرا بھی عکس ہو
میرا بھی نام ہو
عام سی شام ہو
🖤🔥
جاوید انور

تماشا آخری سانسوں پہ ہے ادھڑتے جا رہے ہیںجسم شاہی پتلیوں کےتماشا گر کی ڈوریجو کبھی مدھم ہوا کرتی تھی اب ہلتی ہوئی مجمعے ...
28/02/2022

تماشا آخری سانسوں پہ ہے

ادھڑتے جا رہے ہیں
جسم شاہی پتلیوں کے
تماشا گر کی ڈوری
جو کبھی
مدھم ہوا کرتی تھی اب ہلتی ہوئی
مجمعے کے پچھلے دائرے تک بھی
نظر آنے لگی ہے
یہ نوٹنکی
کلاکاروں کے بدلاؤ سے بھی
زندہ نہیں ہوگی
سپیکر سے جو آتی ہے
معاون گیت کی آواز
بے تاثیریت کی موت مرنے کے دہانے پر کھڑی ہے
تماشا گاہ کی چھت
عارضی بانسوں پہ ہے
تماشا آخری سانسوں پہ ہے
🖤🔥
اظہر فراغ

06/10/2021

حَسن کُوزہ گر

جہاں زاد، نیچے گلی میں ترے در کے آگے
یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں
تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف
کی دکّان پر میں نے دیکھا
تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی
تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں
جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!
یہ وہ دور تھا جس میں میں نے
کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب
پلٹ کر نہ دیکھا
وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے
گل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاں
وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے
"حسن کوزہ گر اب کہاں ہے
وہ ہم سے خود اپنے عمل سے
خداوند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!"
جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزرا
کہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے
تغاروں میں مٹی
کبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میں
سنگ بستہ پڑی تھی
صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں
مری ہیچ مایہ معیشت کے، اظہار فن کے سہارے
شکستہ پڑے تھے
میں خود، میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہ
سرِ چاک ژولیدہ مو، سر بہ زانو
کسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کے
گِل و لاسے خوابوں کے سیّال کوزے بناتا رہا تھا
جہاں زاد، نو سال پہلے
تو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھی
کہ میں نے، حسن کوزہ گر نے
تری قاف کی سی افق تاب آنکھوں
میں دیکھی ہے وہ تابناکی
کہ جس سے مرے جسم و جاں، ابرو مہتاب کا
رہگزر بن گئے تھے
جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات
وہ رود دجلہ کا ساحل
وہ کشتی وہ ملّاح کی بند آنکھیں
کسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیے
ایک ہی رات وہ کہربا تھی
کہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اسکا وجود۔۔
اس کی جاں اس کا پیکر
مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا
حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!

جہاں زاد اس دور میں روز، ہر روز
وہ سوختہ بخت آ کر
مجھے دیکھتی چاک پر پا بہ گِل سر بزانو
تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی
(وہی چاک جو سالہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا!)
وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتی
"حسن کوزہ گر ہوش میں آ
حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر
یہ بچّوں کے تنّور کیونکر بھریں گے
حسن، اے محبّت کے مارے
محبّت امیروں کی بازی،
حسن، اپنے دیوار و در پر نظر کر"

مرے کان میں یہ نوائے حزیں یوں تھی جیسے
کسی ڈوبتے شخص کو زیرِگرداب کوئی پکارے!
وہ اشکوں کے انبار پھولوں کے انبار تھے ہاں
مگر میں حسن کوزہ گر شہرِ اوہام کے اُن
خرابوں کا مجذوب تھا جن
میں کوئی صدا کوئی جنبش
کسی مرغ پرّاں کا سایہ
کسی زندگی کا نشاں تک نہیں تھا!

جہاں زاد، میں آج تیری گلی میں
یہاں رات کی سرد گوں تیرگی میں
ترے در کے آگے کھڑا ہوں
سر و مو پریشاں
دریچے سے وہ قاف کی سی طلسمی نگاہیں
مجھے آج پھر جھانکتی ہیں
زمانہ، جہاں زاد وہ چاک ہےجس پہ مینا و جام و سبو
اور فانوس و گلداں
کے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساں
میں انساں ہوں لیکن
یہ نو سال جو غم کے قالب میں گزرے!
حسن کوزہ گر آج اک تودہ خاک ہےجس
میں نم کا اثر تک نہیں ہے
جہاں زاد بازار میں صبح عطّار یوسف
کی دکّان پر تیری آنکھیں
پھر اک بار کچھ کہہ گئی ہیں
ان آنکھوں کی تابندہ شوخی
سے اٹھی ہے پھر تودۂ خاک میں نم کی ہلکی سی لرزش
یہی شاید اس خاک کو گِل بنا دے!

تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن
تو چاہے تو بن جاؤں میں پھر
وہی کوزہ گر جس کے کوزے
تھے ہر کاخ و کو اور ہرشہر و قریہ کی نازش
تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاں
تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن
تو چاہے تو میں پھر پلٹ جاؤں ان اپنے مہجور کوزوں کی جانب
گِل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب
معیشت کے اظہارِ فن کے سہاروں کی جانب
کہ میں اس گل و لا سے ، اس رنگ و روغن
سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے
دلوں کے خرابے ہوں روشن!
🖤🔥
ن م راشد

Address

Ghaza Street
Mecca
21955

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when XOHAD posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share