Asad Ullah

Asad Ullah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Asad Ullah, Digital creator, Mecca.

"جنت المعلیٰ،حضرت قاسمؓ اور حضرت خدیجہؓ کی آخری آرام گاہ"مسجد الحرام سے چند منٹ کے فاصلے پر واقع جنت المعلیٰ قبرستان صرف...
16/09/2026

"جنت المعلیٰ،حضرت قاسمؓ اور حضرت خدیجہؓ کی آخری آرام گاہ"

مسجد الحرام سے چند منٹ کے فاصلے پر واقع جنت المعلیٰ قبرستان صرف ایک قبرستان نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جہاں خاندانِ نبوت کی جلیل القدر ہستیاں مدفون ہیں۔

بہت سے زائرین اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ یہاں رسول الله ﷺ کے سب سے بڑے صاحبزادے حضرت قاسم اپنی والدہ حضرت خدیجہ الکبریٰ (رضی الله عنہا) کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔

حضرت قاسم، رسول الله ﷺ اور حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کی پہلی اولاد تھے۔ آپ کی پیدائش پر ہی نبی کریم ﷺ نے اپنی کنیت "ابوالقاسم" (قاسم کے والد) رکھی، جو آپ ﷺ کو نہایت عزیز تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق حضرت قاسم کا انتقال دو یا تین برس کی عمر میں ہو گیا تھا

جنت المعلیٰ کی زیارت کرنے والے اکثر لوگ یہ جان کر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ حضرت قاسم اپنی والدہ حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے قریب ہی مدفون ہیں۔ بعض تاریخی نقشوں اور کتب کے مطابق ان کی قبر مبارک حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے قدموں کی جانب بتائی جاتی ہے، جو ان دونوں ہستیوں کے گہرے رشتے کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ قبرستان اسلام سے قبل بھی مکہ کا مرکزی قبرستان تھا اور یہاں کئی اہم ہستیاں مدفون ہیں، جن میں نبی کریم ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب جنہوں نے آپ ﷺ کی پرورش کی۔ حضرت ابوطالب، آپ ﷺ کے شفیق چچا شامل ہیں

1925 تک ان قبور پر خوبصورت گنبد اور مزارات موجود تھے لیکن بعد میں انہیں سادہ کر دیا گیا۔ آج یہ قبریں بغیر کسی نام کی تختی کے سادہ مستطیل صورت میں موجود ہیں، جو انسان کو دنیا کی فانی حقیقت کی یاد دلاتی ہیں۔

جبل ابو قبیس، Jabal Abu Qubais مکہ مکرمہ کے قدیم اور تاریخی پہاڑوں میں شمار ہوتا ہے، جو Kaaba کے مشرق میں واقع ہے اور اس...
16/09/2026

جبل ابو قبیس، Jabal Abu Qubais مکہ مکرمہ کے قدیم اور تاریخی پہاڑوں میں شمار ہوتا ہے، جو Kaaba کے مشرق میں واقع ہے اور اسلامی روایات میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

بعض روایات کے مطابق واقعہ Shaq al-Qamar کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے اسی مقام کے قریب لوگوں کو چاند کے دو حصے ہونے کا معجزہ دکھایا، جسے قریش نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

بعض روایات میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ طوفانِ نوح کے دوران حجر اسود Black Stone کو محفوظ رکھنے کے لیے اسی پہاڑ پر رکھا گیا، جبکہ کچھ تاریخی اقوال کے مطابق Masjid al-Haram اور خانہ کعبہ کی تعمیر و مرمت میں بھی اس پہاڑ کے پتھر استعمال ہوئے۔

مصلّٰی جبرائیلؑ خانۂ کعبہ کے قریب واقع ایک تاریخی مقام ہے، جسے اسلامی روایات میں خاص اہمیت حاصل ہے۔معروف روایات کے مطابق...
15/09/2026

مصلّٰی جبرائیلؑ خانۂ کعبہ کے قریب واقع ایک تاریخی مقام ہے، جسے اسلامی روایات میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

معروف روایات کے مطابق واقعۂ معراج کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام یہاں تشریف لائے اور رسول الله ﷺ کو پانچ وقت کی نمازوں کے اوقات کی عملی تعلیم دی۔

احادیث میں مذکور ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دو دن تک رسول الله ﷺ کی امامت فرمائی۔ پہلے دن ہر نماز اس کے ابتدائی وقت میں اور دوسرے دن آخری وقت میں ادا کروائی، پھر فرمایا:

"اے محمد ﷺ! نماز کا وقت ان دونوں حدوں کے درمیان ہے، اور یہی آپ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کا طریقہ رہا ہے۔"

(سنن ابی داؤد، سنن الترمذی)

اسی نسبت سے یہ مقام "مصلّٰی جبرائیل" کے نام سے معروف ہوا اور اسلامی تاریخ میں ایک اہم یادگار سمجھا جاتا ہے۔

مکہ مکرمہ میں زیارات کے دوران ہمارے ٹیکسی والے بھائی نے ہمیں بتایا کہ یہ مقامِ اسماعیل ہے۔وہ مقام جہاں پر حضرت ابراہیم ع...
15/09/2026

مکہ مکرمہ میں زیارات کے دوران ہمارے ٹیکسی والے بھائی نے ہمیں بتایا کہ یہ مقامِ اسماعیل ہے۔

وہ مقام جہاں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام الله کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے والے تھے کہ الله تعالیٰ نے اُن کی جگہ ایک مینڈھا بھیجا تھا۔

یہ مقام منیٰ کی خیمہ بستی کے قریب واقع ہے۔ تاہم میں نے اس کے بارے میں بہت سرچ کیا لیکن مجھے کوئی مستند روایات نہیں مل سکی کہ یہ وہی مقام ہے یا نہیں۔

آپ میں سے کون کون اس مقام کی زیارت کر چکا ہے

مسجد شجرہ درخت والی مسجد​🌴 مسجد شجرہ مسجد جن کے مقابل واقع ہے اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ مسجد اسی جگہ پر بنائی گئی ہے...
14/09/2026

مسجد شجرہ درخت والی مسجد

​🌴 مسجد شجرہ مسجد جن کے مقابل واقع ہے اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ مسجد اسی جگہ پر بنائی گئی ہے جہاں ایک درخت حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوا تھا

​حضرت عمر سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول الله ﷺ حجون میں تھے کہ مشرکین نے آپ کی دعوت کو جھٹلایا تو آپ ﷺ نے دعا کی اے الله آج مجھے کوئی نشانی دکھا دیجیے کہ پھر مجھے کسی کے جھٹلانے کی پروا نہ ہو

الله تعالیٰ نے آپ ﷺ سے فرمایا کہ درخت کو اپنے پاس بلائیے تو وہ درخت چل کر آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا آپ ﷺ نے اس کو واپس جانے کا حکم دیا تو وہ اپنی جگہ واپس چلا گیا

رسول الله ﷺ نے فرمایا آج کے بعد مجھے پروا نہیں کہ میری قوم مجھے جھٹلائے

میزابِ رحمت — خانۂ کعبہ سے حطیم کی جانب بہنے والا پرنالہ خانۂ کعبہ کی چھت سے باہر کی جانب نکلا ہوا سنہری رنگ کا یہ پرن...
14/09/2026

میزابِ رحمت — خانۂ کعبہ سے حطیم کی جانب بہنے والا پرنالہ

خانۂ کعبہ کی چھت سے باہر کی جانب نکلا ہوا سنہری رنگ کا یہ پرنالہ میزابِ رحمت کہلاتا ہے۔

یہ خانۂ کعبہ کی شمالی سمت، حِجرِ اسماعیلؑ (حطیم) کی جانب نصب ہے اور کعبہ کی چھت پر جمع ہونے والا بارش کا پانی اسی کے ذریعے حطیم کی طرف گرتا ہے۔

میزابِ رحمت کو دیکھ کر الله تعالیٰ کی رحمت اور خانۂ کعبہ کی عظمت کا احساس تازہ ہو جاتا ہے۔

حِجرِ اسماعیلؑ بھی مسجدِ حرام کے مقدس حصوں میں شمار ہوتا ہے، اور حرم میں عبادت، نماز، ذکر اور دعا کی سعادت حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔

میزابِ رحمت کے نیچے دعا کے بارے میں ایک اہم وضاحت:

زائرین میں یہ بات مشہور ہے کہ میزابِ رحمت کے نیچے، حطیم میں کھڑے ہو کر دعا کرنا خصوصی فضیلت رکھتا ہے۔

تاہم اس مخصوص مقام پر دعا کرنے کے بارے میں کوئی ایسی صحیح اور صریح حدیث ثابت نہیں جس کی بنیاد پر یہ قطعی طور پر کہا جا سکے کہ میزابِ رحمت کے نیچے دعا لازماً زیادہ قبول ہوتی ہے۔

اس لیے اس عمل کو ایک مشہور عوامی یا تاریخی روایت کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط ہے، جبکہ اسے یقینی طور پر مسنون یا دعا کی قبولیت کے لیے مخصوص مقام قرار نہیں دینا چاہیے۔

البتہ الله تعالیٰ سے دعا کرنا ہر جگہ جائز ہے اور حرمِ مکی میں عبادت و دعا کی سعادت یقیناً ایک عظیم نعمت ہے۔

اے الله ! ہمیں بار بار اپنے مقدس گھر کی حاضری نصیب فرما، ہماری دعاؤں کو اپنی حکمت اور رحمت کے مطابق قبول فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرما۔ آمین۔

صفہ اور مروہ کے درمیان موجود یہ سبز روشنیوں والی جگہ وہ جگہ ہے جہاں پر حضرتِ ہاجرہ سلام الله عليها اپنے ننھے پیاسے بیٹے ...
14/09/2026

صفہ اور مروہ کے درمیان موجود یہ سبز روشنیوں والی جگہ وہ جگہ ہے جہاں پر حضرتِ ہاجرہ سلام الله عليها اپنے ننھے پیاسے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں سخت پریشانی میں بھاگی تھیں

الله تعالیٰ نے ان کی یہ ادا دیکھ کر زم زم کا وہ مبارک چشمہ جاری کیا جو آج بھی کروڑوں مسلمانوں کی پیاس بھجا رہا ہے اور آج حج اور عمرہ کے دوران سعیِ کرتے ہوئے ہر مرد پر لازم ہے کہ وہ بھی اس بابرکت مقام پر بھاگتا ہوا جائے۔

عورتیں بھی احترام کے طور پر اپنی رفتار بڑھا سکتی ہیں۔ آج بھی جب اس مقام سے گزرتے ہیں تو دل پر ایک ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے جو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
یہ معلومات اگر اچھی لگے تو دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کریں۔

🕋 رُکنِ یمانی — کعبہ کا وہ مقدس کونا جہاں ایک عظیم سنت زندہ ہےخانۂ کعبہ کے چار کونوں میں سے ایک رُکنِ یمانی (الركن اليم...
14/09/2026

🕋 رُکنِ یمانی — کعبہ کا وہ مقدس کونا جہاں ایک عظیم سنت زندہ ہے

خانۂ کعبہ کے چار کونوں میں سے ایک رُکنِ یمانی (الركن اليماني) ہے، جسے یہ نام اس لیے دیا گیا کہ یہ یمن کی سمت واقع ہے۔

یہ کعبہ کا وہ کونہ ہے جو حجرِ اسود سے پہلے آتا ہے۔ طواف کرتے ہوئے ترتیب یوں بنتی ہے:
حجرِ اسود → رُکنِ عراقی → رُکنِ شامی → رُکنِ یمانی → حجرِ اسود

رُکنِ یمانی کی سنت
حضرت عبدالله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو کعبہ کے صرف دو یمانی کونوں کو چھوتے دیکھا۔
📖 صحیح مسلم: 1267a

اسی لیے طواف کے دوران اگر آسانی سے ممکن ہو تو رُکنِ یمانی کو ہاتھ سے چھونا سنت ہے۔

❤️ رُکنِ یمانی سے حجرِ اسود تک ایک خوبصورت دعا
طواف میں رُکنِ یمانی سے حجرِ اسود کے درمیان یہ قرآنی دعا پڑھنا بہت خوبصورت عمل ہے:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔"
📖 سورۃ البقرۃ: 201

حضرت علیؓ کی ولادت اور رُکنِ یمانی
رُکنِ یمانی کے ساتھ ایک بہت مشہور تاریخی روایت حضرت علی بن ابی طالبؓ کی ولادت کے حوالے سے بھی بیان کی جاتی ہے۔

مشہور روایت کے مطابق حضرت علیؓ کی والدہ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ کعبہ کے قریب آئیں تو کعبہ کی دیوار ان کے لیے کھل گئی، وہ اندر داخل ہوئیں اور کچھ عرصے بعد اپنے نومولود بیٹے حضرت علیؓ کو لے کر باہر آئیں۔

بعض روایات میں اس جگہ کو رُکنِ یمانی کے قریب بتایا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ رُکنِ یمانی کے ساتھ حضرت علیؓ کی ولادت کا یہ واقعہ بہت مشہور ہے۔

البتہ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ حضرت علیؓ کی ولادت کے لیے دیوار کے رُکنِ یمانی سے کھلنے کا واقعہ صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی صحیح حدیث سے ثابت نہیں؛ یہ تاریخی روایات میں منقول ایک مشہور واقعہ ہے، جس کی صحت کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ والله سبحانہ اعلم

رُکنِ یمانی صرف ایک کونہ نہیں…
یہ وہ مقام ہے جہاں آج بھی لاکھوں مسلمان طواف کرتے ہوئے رسول الله ﷺ کی سنت کو زندہ کرتے ہیں۔
کبھی موقع ملے تو رُکنِ یمانی کے قریب سے گزرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں:
یہ وہی بیت الله ہے جس کے گرد انبیاء، صحابہؓ اور صالحین نے طواف کیا… اور آج الله نے ہمیں بھی اس کے گرد چلنے کا موقع عطا فرمایا۔

**وضاحت:**
یہ تحریر قرآن و حدیث اور معتبر تاریخی روایات کی روشنی میں معلوماتی مقصد کے لیے پیش کی گئی ہے۔ تاریخی واقعات کی بعض جزئیات کے بارے میں اہلِ علم اور مؤرخین کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں، لہٰذا انہیں تاریخی روایت کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔

تحریر پسند آئے تو اپنے دوست احباب کے ساتھ بھی شیئر کیجیے۔

Address

Mecca

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asad Ullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Asad Ullah:

Shortcuts

Share