14/06/2024
انسان کے پاس جو کچھ ہے اسی پرصابر و قانع رہ کر دوسروں سے بے نیاز رہنا اور ان سے کچھ نہ طلب کرنا درحقیقت یہی نفس کی مالداری ہے یعنی بندہ اللہ کی تقسیم پر راضی رہے۔
اس بات کی مزید وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے، آپ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
اے ابوذر! کیا تو خیال کرتا ہے کہ مال کی کثرت امیری ہے؟
میں نے کہا:
ہاں۔
آپ نے فرمایا:
”کیا تو سمجھتا ہے کہ مال کی قلت ناداری ہے؟“ میں نے عرض کی:
جی ہاں۔
آپ نے فرمایا:
امیری تو دل کی مال داری ہے اور فقیری تو دل کی ناداری ہے۔
(الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان: 396/2)