19/05/2026
میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں اور اس وقت کینیڈا میں رہتی ہوں۔ میں ایک خوشحال زمیندار خاندان سے تعلق رکھتی ہوں، مگر میری زندگی کا سب سے بڑا دکھ یہ تھا کہ میرے والدین بچپن ہی میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ میرے چچا اور چچی نے مجھے اپنی اولاد کی طرح پالا، میری تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی، مگر کم عمری میں میں دوسروں کی باتوں میں آتی رہی۔
جب بھی چچا یا چچی مجھے ڈانٹتے، کچھ لوگ میرے کان بھرتے کہ "تم یتیم ہو، تم پر ظلم ہو رہا ہے۔" رفتہ رفتہ میرے دل میں یہ احساس بیٹھ گیا کہ شاید میرے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ کالج مکمل کرتے ہی میں نے ضد کی کہ مجھے کینیڈا جانا ہے۔ میرے چچا اس فیصلے سے خوش نہیں تھے، مگر میری ضد اور جذباتی دباؤ کے آگے انہوں نے ہامی بھر لی۔
کینیڈا آ کر زندگی نے بہت کچھ سکھایا۔ کچھ اچھے لوگ ملے، کچھ ایسے بھی جنہوں نے میری تنہائی اور بے سہارگی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ایک شخص نے محبت کے بڑے دعوے کیے، مگر جب اپنی والدہ سے ملوایا تو انہوں نے کہا:
"میں نے اپنے گھر میں یتیم خانہ نہیں کھولا۔"
یہ جملہ میرے دل پر گہرے زخم کی طرح ثبت ہو گیا۔
بعد میں ایک اور اچھا رشتہ ملا۔ شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں، مگر ایک دن اس نے غصے میں کہا:
"یہاں اپنا کمانا پڑتا ہے، کسی کا باپ یہاں کچھ چھوڑ کر نہیں گیا۔"
یہ سن کر میں نے فوراً اس رشتے سے انکار کر دیا۔
اگرچہ مجھے کینیڈا میں اچھی ملازمت مل گئی تھی، لیکن والدین کی کمی ہر لمحہ محسوس ہوتی تھی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ میں اچھی آمدنی کے باوجود اپنے چچا سے ہر ماہ مالی مدد وصول کرتی رہی، مگر ان سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔
پھر آیا۔ نانی جان کی طبیعت خراب ہوئی تو میں پاکستان گئی۔ بہت عرصے بعد چچا سے ملاقات ہوئی۔ ان کے چہرے میں مجھے اپنے والد کی جھلک نظر آ رہی تھی۔
ایک دن چچا مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ شہر کے ایک خوبصورت علاقے میں ایک گھر کے سامنے گاڑی روکی۔ دروازے پر میرے والد کا نام لکھا ہوا تھا۔
چچا نے کہا:
"بیٹا، یہ گھر تمہارا ہے۔ جائیداد میں تمہارا جو حصہ بنتا تھا، میں نے اس سے تمہارے لیے یہ گھر بنوایا ہے تاکہ تم اپنی نئی زندگی خوشی سے گزار سکو۔"
میرے قدم لڑکھڑا گئے، آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
گھر واپس آئے تو چچی نے میری والدہ کے تمام زیورات میرے حوالے کر دیے۔ بعد میں اس گھر کی رجسٹری بھی میرے نام کروا دی گئی۔ وہ خود اپنے پرانے گھر میں رہتے رہے، مگر میرے لیے ہر ممکن آسائش فراہم کر دی۔
اس دن مجھے احساس ہوا کہ دنیا کی باتیں ہمیشہ سچ نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات جنہیں ہم اپنا دشمن سمجھتے ہیں، وہی حقیقت میں ہماری زندگی کے سب سے بڑے محسن ہوتے ہیں۔
میں واپس کینیڈا آ گئی، مگر اب روزانہ اپنے چچا سے بات کرتی ہوں۔ آج میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں:
"پیدا کرنے والے سے زیادہ پالنے والا عظیم ہو سکتا ہے۔"
میرے چچا اور چچی نے مجھے محبت، تحفظ، تعلیم اور شناخت دی۔ اگر انہوں نے کبھی ڈانٹا بھی، تو وہ میری بھلائی کے لیے تھا۔
میں ان تمام بچوں اور نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں جو والدین کی محبت سے محروم ہیں:
اگر کوئی شخص آپ کی پرورش کر رہا ہے، آپ کی تعلیم، تربیت اور مستقبل کے لیے قربانیاں دے رہا ہے، تو اس کی ڈانٹ کو ظلم نہ سمجھیں۔ دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنے محسنوں سے دور نہ ہوں۔
والدین نہ ہوں تو خاندان ہی انسان کی پہچان ہوتا ہے۔
اور اگر ہم خود کو مکمل طور پر آزاد اور بے نیاز سمجھنے لگیں، تو اس آزادی کی قیمت بھی ہمیں خود ہی ادا کرنی پڑتی ہے۔
🤔