LifeXplorer

LifeXplorer سفر، وسعت، خاموشی، بادل، پانی، کونپل، تتلی، جگنو، پرندے اور خوبصورت 💕، خوبصورت خد و خال، شاعری، سر سنگیت، مکالمہ، شائستگی۔۔۔۔۔ کی کھوج لگائیں گے۔۔۔۔۔۔ مل کر
(1)

04/08/2026

ہیڈ تاتڑ
جہاں دریائے سندھ کے پانی کی خوبصورتی اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔

ضلع لیہ کی تحصیل فتح پور کے قریب واقع ہیڈ تاتڑ ایک ایسا دلکش مقام ہے۔ جہاں قدرت کی خوبصورتی اور آبی نظام کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔

اس ہیڈ سے تقریباً سات چھوٹی بڑی نہریں چاروں سمتوں میں نکلتی ہیں، جو دور دور تک پھیلے کھیتوں کو سیراب کرتی ہیں۔ ان نہروں کا جال اور ان میں بہتا ہوا پانی ایک ایسا خوبصورت منظر پیش کرتا ہے جو ہر آنے والے کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔

ہیڈ تاتڑ پر دریائے سندھ کا پانی اپنی منفرد شفافیت کی وجہ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں پانی عام طور پر گدلا دکھائی نہیں دیتا بلکہ سبزی مائل، صاف اور شفاف نظر آتا ہے، جو سورج کی روشنی میں نہایت دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ بہتے ہوئے پانی کی آواز، ٹھنڈی ہوا اور اردگرد کی قدرتی خوبصورتی اس مقام کو سکون اور تازگی کا احساس بخشتی ہے۔

یہ مقام نہ صرف آبپاشی کے نظام کے لیے اہم ہے بلکہ فطرت سے محبت کرنے والوں، فوٹوگرافرز اور سیاحوں کے لیے بھی ایک بہترین منزل ہے۔ اگر آپ کبھی ضلع لیہ یا فتح پور کے اطراف جائیں تو ہیڈ تاتڑ کی سیر ضرور کریں۔

نوٹ: قدرتی مناظر اور پانی کی شفافیت موسم، بارشوں اور دریائے سندھ کے بہاؤ کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

ویڈیو و مشاہدات: Aziz Ahmed
page: LifeXplorer

چہلم شہدائے کربلا آج 20 صفر…  اربعین صرف چالیس دن کا اختتام نہیں…  یہ اعلان ہے کہ:  ظلم کتنا بھی طاقتور ہو، حق کبھی نہیں...
04/08/2026

چہلم شہدائے کربلا

آج 20 صفر…
اربعین صرف چالیس دن کا اختتام نہیں…
یہ اعلان ہے کہ:
ظلم کتنا بھی طاقتور ہو، حق کبھی نہیں مرتا۔

امام حسینؑ نے کربلا میں صرف اپنا خون نہیں دیا…
انہوں نے انسانیت کو ایک سبق دیا:
“مرنا شرف کے ساتھ بہتر ہے بجائے اس کے کہ ذلت کی زندگی گزاری جائے۔”

آج کا یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
ہر دور میں یزید ہوتے ہیں…
اور ہر دور میں حسینؑ کا راستہ چننے والے بھی۔

اللّٰہ ہمیں کربلا کے پیغام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللّٰہ پاک ہمیں حق کی پہچان، حق کا ساتھ۔۔۔۔۔۔ حق بولنے اور حق بات سننے کا بھی حوصلہ عطا فرمائے۔۔۔۔





ازبکستان: امام بخاریؒ میموریل کمپلیکس نئی شان کے ساتھ زائرین کے لیے دوبارہ کھول دیا گیاازبکستان کے تاریخی شہر سمرقند سے ...
28/07/2026

ازبکستان: امام بخاریؒ میموریل کمپلیکس نئی شان کے ساتھ زائرین کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا

ازبکستان کے تاریخی شہر سمرقند سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ضلع پایاریق کے گاؤں خرتنگ (Hartang) میں واقع حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کے میموریل کمپلیکس کی تاریخی و جدید طرز پر تعمیرِ نو، توسیع اور تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد اسے زائرین اور عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

یہ عظیم کمپلیکس عالمِ اسلام کی اہم علمی اور روحانی یادگاروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں مشہور مجموعۂ احادیث صحیح بخاری کے مصنف، امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ آسودۂ خاک ہیں۔ ازبکستان کی حکومت نے اس منصوبے کے ذریعے اس تاریخی مقام کو جدید سہولیات سے آراستہ کرتے ہوئے اس کی اصل اسلامی اور وسط ایشیائی طرزِ تعمیر کو بھی برقرار رکھا ہے۔

توسیعی منصوبے کے تحت مزار سے ملحقہ جامع مسجد کو نئے انداز میں تعمیر کیا گیا ہے، جہاں ایک وقت میں 10 ہزار سے زائد نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد میں سنگِ مرمر، تقریباً 75 میٹر بلند میناروں اور وسط ایشیا کے روایتی نیلے گنبدوں کا استعمال کیا گیا ہے، جو اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

کمپلیکس کے مرکزی حصے میں واقع حضرت امام بخاریؒ کے مزار پر تقریباً 17 میٹر بلند گنبد تعمیر کیا گیا ہے، جبکہ اندرونی حصے کو ہلکے نیلے اونکس (Onyx)، نفیس اسلامی طرز کی ٹائلز اور خوبصورت خطاطی سے مزین کیا گیا ہے۔

اس منصوبے میں ایک جدید میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں حضرت امام بخاریؒ کی حیات، علمی اسفار، احادیثِ نبوی ﷺ کی جمع و تدوین اور اسلامی علوم کے لیے ان کی بے مثال خدمات کو جدید اور معلوماتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ زائرین کے لیے وسیع صحن، آرام گاہیں، رہائشی سہولیات اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر بھی تعمیر کیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے مہمان بہتر انداز میں اس تاریخی مقام کی زیارت کر سکیں۔

📌 ڈسکلیمر: یہ پوسٹ مستند اور عوامی طور پر دستیاب تاریخی و سرکاری معلومات کی بنیاد پر صرف معلوماتی مقصد کے لیے تیار کی گئی ہے۔ منصوبے سے متعلق بعض انتظامی یا تکنیکی تفصیلات وقت کے ساتھ سرکاری ذرائع کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہیں۔

🕊️ ایک قبر جس کے جنازے نے برصغیر کی تاریخ میں نئی داستان رقم کر دیلاہور کے تاریخی میانی صاحب قبرستان میں واقع غازی علم ا...
16/07/2026

🕊️ ایک قبر جس کے جنازے نے برصغیر کی تاریخ میں نئی داستان رقم کر دی

لاہور کے تاریخی میانی صاحب قبرستان میں واقع غازی علم الدین شہیدؒ کا مزار اُن تاریخی مقامات میں شامل ہے جہاں صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ برصغیر کی ایک اہم تاریخی یاد محفوظ ہے۔ تقریباً ایک صدی گزرنے کے باوجود یہ مقام آج بھی تاریخ کے طالب علموں، محققین اور زائرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

1929ء میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران پیش آنے والا ایک مقدمہ پورے برصغیر میں موضوعِ بحث بن گیا۔ اسی مقدمے کے نتیجے میں غازی علم الدین شہ یدؒ کو 31 اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں سزائے م وت دی گئی۔ ابتدائی طور پر ان کی تدفین جیل کے احاطے میں کی گئی، لیکن عوامی مطالبے کے بعد ان کی میت لاہور منتقل کی گئی۔

14 نومبر 1929ء کو جب انہیں دوبارہ میانی صاحب قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا تو مختلف تاریخی روایات کے مطابق ان کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس واقعے نے اس دور کی عوامی فضا اور جذبات کو نمایاں انداز میں تاریخ کا حصہ بنا دیا۔

آج مزار کا پرسکون ماحول ماضی کے ایک اہم تاریخی باب کی یاد دلاتا ہے۔ یہاں آنے والے لوگ فاتحہ خوانی کے ساتھ ساتھ اس دور کی تاریخ کو بھی یاد کرتے ہیں، جبکہ محققین اسے برطانوی دور کے اہم تاریخی مقامات میں شمار کرتے ہیں۔

وقت گزرنے کے باوجود یہ مزار لاہور کے تاریخی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے، جو آنے والی نسلوں کو برصغیر کی تاریخ کے ایک نمایاں واقعے کی یاد دلاتا رہے گا۔

📌 ڈسکلیمر:
یہ تحریر دستیاب تاریخی ریکارڈ اور معروف تاریخی مصادر کی بنیاد پر صرف معلوماتی اور دستاویزی مقصد کے لیے تیار کی گئی ہے۔ مختلف تاریخی کتب اور روایات میں بعض واقعات، اعداد و شمار یا تفصیلات میں معمولی اختلاف موجود ہو سکتا ہے۔ اس پوسٹ کا مقصد صرف تاریخی معلومات کو غیر جانب دار انداز میں پیش کرنا ہے۔





🕋 حجرِ اسود — جنت سے آنے والا مبارک پتھرخانۂ کعبہ کے مشرقی کونے میں نصب حجرِ اسود اسلامی شعائر کی اہم ترین نشانیوں میں ...
16/07/2026

🕋 حجرِ اسود — جنت سے آنے والا مبارک پتھر

خانۂ کعبہ کے مشرقی کونے میں نصب حجرِ اسود اسلامی شعائر کی اہم ترین نشانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیت اللہ کی تعمیر کے دوران اس مبارک پتھر کو اسی مقام پر نصب فرمایا، جہاں یہ آج بھی موجود ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "حجرِ اسود جنت سے نازل ہوا تھا۔ وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، پھر بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔"

📚 جامع الترمذی: 877

اسلامی تاریخ میں 317 ہجری کا سال ایک اہم واقعے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جب قرامطہ نے مکہ مکرمہ پر حملہ کر کے حجرِ اسود کو خانۂ کعبہ سے نکال لیا۔ کئی برس بعد یہ دوبارہ بیت اللہ میں نصب کیا گیا۔ وقت کے ساتھ اس کے ٹوٹے ہوئے حصوں کو محفوظ انداز میں جوڑ کر موجودہ شکل دی گئی، جبکہ اس واقعے کی بعض تاریخی تفصیلات کے بارے میں مؤرخین کے درمیان مختلف آراء بھی موجود ہیں۔

حجرِ اسود کا استلام، یعنی اسے بوسہ دینا، ہاتھ لگانا یا دور سے اشارہ کرنا، رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مشہور ارشاد اس حوالے سے اسلامی عقیدے کی بہترین وضاحت کرتا ہے:

> "میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔"

📚 صحیح البخاری: 1597

اگر ہجوم کی وجہ سے حجرِ اسود تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو دور سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے "اللہ اکبر" کہنا بھی سنت ہے۔

📚 صحیح البخاری: 1613

مسلمان حجرِ اسود کی عبادت نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی میں اس کا استلام کرتے ہیں۔ اسی لیے شریعت یہ بھی تعلیم دیتی ہے کہ دوسروں کو تکلیف پہنچا کر یا دھکم پیل کر کے حجرِ اسود تک پہنچنے کی کوشش نہ کی جائے۔

رسول اللہ ﷺ نے حجرِ اسود کی ایک عظیم فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

> "قیامت کے دن حجرِ اسود کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور ایک زبان ہوگی جس سے وہ بولے گا، اور وہ اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ اس کا استلام کیا ہوگا۔"

📚 جامع الترمذی: 961



وضاحت:
یہ تحریر قرآنِ کریم، مستند احادیث اور معتبر تاریخی مصادر کی روشنی میں معلوماتی و دستاویزی انداز میں پیش کی گئی ہے۔ تاریخی واقعات، خصوصاً قرامطہ کے حملے اور حجرِ اسود کی واپسی سے متعلق بعض جزئیات پر مؤرخین کے درمیان اختلافِ رائے موجود ہے، اس لیے ایسی تفصیلات کو تاریخی روایت کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔

ذوالفقار — اسلامی تاریخ کی ایک عظیم اور پراسرار تلوارذوالفقار اسلامی تاریخ کی معروف ترین تلواروں میں شمار ہوتی ہے، جس کا...
16/07/2026

ذوالفقار — اسلامی تاریخ کی ایک عظیم اور پراسرار تلوار

ذوالفقار اسلامی تاریخ کی معروف ترین تلواروں میں شمار ہوتی ہے، جس کا ذکر سیرتِ نبوی ﷺ، تاریخی روایات اور اسلامی مصادر میں ملتا ہے۔ مستند روایات کے مطابق غزوۂ بدر کے بعد یہ تلوار رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور بعد ازاں آپ ﷺ نے اسے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام کے دفاع میں متعدد اہم معرکوں میں اسی تلوار کے ساتھ بہادری اور استقامت کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث ذوالفقار شجاعت، عدل اور حق کی سربلندی کی علامت بن گئی۔ البتہ مشہور جملہ "لَا فَتَىٰ إِلَّا عَلِيٌّ وَلَا سَيْفَ إِلَّا ذُوالْفِقَارِ" اگرچہ عوام میں بہت معروف ہے، لیکن محدثین کی ایک بڑی تعداد اسے سند کے اعتبار سے مضبوط روایت قرار نہیں دیتی۔

بعض تاریخی روایات کے مطابق ذوالفقار بعد میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچی، جبکہ واقعۂ کربلا کے تناظر میں بھی اس کا ذکر بعض تاریخی کتب میں ملتا ہے۔ تاہم ان روایات کی تاریخی حیثیت کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

آج سوشل میڈیا پر نظر آنے والی دو دھاری (Split-Blade) ذوالفقار کی تصاویر زیادہ تر علامتی یا بعد کے ادوار میں تیار کی گئی نقل (Replica) ہیں۔ مستند تاریخی شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اصل ذوالفقار کی شکل موجودہ مشہور دو دھاری ڈیزائن جیسی تھی۔

اسی طرح اصل ذوالفقار آج کہاں موجود ہے، اس بارے میں بھی کوئی متفقہ اور قابلِ اعتماد تاریخی ثبوت موجود نہیں۔ مختلف روایات اور دعوے ضرور ملتے ہیں، مگر ان میں سے کسی ایک کی آزادانہ تاریخی تصدیق دستیاب نہیں۔

ذوالفقار مسلمانوں کے لیے محض ایک تلوار نہیں، بلکہ حق، عدل، بہادری، قربانی اور دینِ اسلام کے دفاع کی ایک عظیم تاریخی علامت کی حیثیت رکھتی ہے۔



ڈسکلیمر: یہ تحریر مستند اسلامی تاریخی روایات اور معروف علمی مصادر کی روشنی میں معلوماتی مقصد کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ذوالفقار کی اصل شکل، موجودہ مقام اور اس سے متعلق بعض روایات کے بارے میں اہلِ علم اور مؤرخین کے درمیان اختلافِ رائے موجود ہے، اس لیے انہیں قطعی تاریخی حقیقت کے بجائے تاریخی روایات کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔

🕋 ایک صدی قبل کا مسجد الحرام — وقت کی آنکھ سے محفوظ ایک نایاب منظرآج جب مسجد الحرام اپنی وسیع توسیعات اور جدید سہولیات ک...
16/07/2026

🕋 ایک صدی قبل کا مسجد الحرام — وقت کی آنکھ سے محفوظ ایک نایاب منظر

آج جب مسجد الحرام اپنی وسیع توسیعات اور جدید سہولیات کے ساتھ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین کا استقبال کرتی ہے، تو ایک صدی پرانی یہ تاریخی تصویر ہمیں اُس دور میں لے جاتی ہے جب حرمِ مکی کی فضا بالکل مختلف تھی، مگر بیت اللہ سے وابستہ محبت اور عقیدت وہی تھی جو آج ہے۔

بلیک اینڈ وائٹ میں محفوظ اس نادر منظر میں خانۂ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہوئے زائرین، قدیم صحنِ حرم اور اُس زمانے کی تاریخی عمارتیں واضح دکھائی دیتی ہیں۔ یہ تصویر نہ صرف ایک روحانی کیفیت کا عکس ہے بلکہ مکہ مکرمہ کی شہری اور تعمیراتی تاریخ کا بھی ایک اہم ریکارڈ سمجھی جاتی ہے۔

تاریخی دستاویزات کے مطابق یہ تصویر تقریباً 1910ء میں لی گئی، جب مکہ مکرمہ خلافتِ عثمانیہ کے زیرِ انتظام تھا۔ اس نادر تصویر کو American Colony (Jerusalem) Photo Department نے محفوظ کیا، جبکہ اس کا اصل Glass Negative بعد ازاں امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں واقع Library of Congress کے Matson Collection کا حصہ بنا، جہاں یہ آج بھی محققین اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک قیمتی تاریخی اثاثہ ہے۔

گزشتہ سو برسوں میں مسجد الحرام کی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں آئیں، متعدد توسیعی منصوبے مکمل ہوئے اور زائرین کے لیے جدید سہولیات فراہم کی گئیں، لیکن ایک حقیقت کبھی نہیں بدلی؛ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل آج بھی اسی بیت اللہ کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، جہاں ہر نسل نے عقیدت، عاجزی اور محبت کے ساتھ طواف کیا۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں بھی بار بار اپنے مقدس گھر کی حاضری، قبول حج و عمرہ اور اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازے۔ آمین۔

📌 ڈسکلیمر:
اس پوسٹ میں بیان کی گئی معلومات تاریخی آرکائیوز اور دستیاب دستاویزی ریکارڈ کی روشنی میں پیش کی گئی ہیں۔ قدیم تصاویر کی تاریخ یا تفصیلات مختلف تاریخی ذرائع میں معمولی فرق کے ساتھ بیان ہو سکتی ہیں، اس پوسٹ کا مقصد صرف تاریخی آگاہی اور ورثے کی دستاویزی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

گاؤں کی مٹی سے بنی سادہ مگر روح پرور مسجددیہات کی خاموش فضاؤں میں مٹی سے بنی یہ سادہ سی مسجد اپنے اندر محبت، خلوص اور رو...
14/07/2026

گاؤں کی مٹی سے بنی سادہ مگر روح پرور مسجد

دیہات کی خاموش فضاؤں میں مٹی سے بنی یہ سادہ سی مسجد اپنے اندر محبت، خلوص اور روحانیت کی ایک منفرد داستان سموئے ہوئے ہے۔ نہ بلند مینار، نہ شاندار سنگِ مرمر، بلکہ کچی مٹی کی دیواریں، سادہ صحن اور اذان کی دلنشین آواز ہی اس کی اصل پہچان ہیں۔

ایسی مساجد صرف عبادت گاہیں نہیں ہوتیں بلکہ گاؤں کی سماجی اور روحانی زندگی کا مرکز بھی ہوتی ہیں۔ یہاں بچے قرآنِ مجید پڑھتے ہیں، بزرگ نماز ادا کرتے ہیں اور اہلِ علاقہ خوشی و غم کے ہر موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

وقت کے ساتھ جدید عمارتیں ضرور تعمیر ہو گئی ہیں، مگر مٹی سے بنی یہ قدیم مساجد آج بھی ہماری دیہی تہذیب، سادگی اور دینی وابستگی کی خوبصورت یادگار ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ عبادت کی اصل خوبصورتی عمارت کی شان میں نہیں بلکہ دل کے اخلاص میں ہوتی ہے۔

🎥 روضۂ امام رضاؑ کے دارالذکر ہال سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری آرام گاہ کی پہلی آفیشل فوٹیج جاریایرانی سرکاری میڈیا ن...
10/07/2026

🎥 روضۂ امام رضاؑ کے دارالذکر ہال سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری آرام گاہ کی پہلی آفیشل فوٹیج جاری

ایرانی سرکاری میڈیا نے مشہد میں واقع روضۂ امام رضا علیہ السلام کے "دارالذکر" ہال سے اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری آرام گاہ کی پہلی سرکاری ویڈیو جاری کر دی ہے۔

سرکاری اطلاعات کے مطابق 9 جولائی 2026 کو مشہد میں لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں نمازِ جنازہ اور تدفین کی رسومات ادا کی گئیں، جبکہ 10 جولائی 2026 کی صبح اس مقام کی پہلی آفیشل فوٹیج عوام کے لیے جاری کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق دارالذکر ہال میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ان کے خاندان کے وہ افراد بھی سپردِ خاک کیے گئے جو فروری 2026 میں تہران میں ہونے والے فضائی حم لے میں جاں ب حق ہوئے تھے۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے، تاہم اس حوالے سے یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق متعدد جعلی اور مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیوز بھی وائرل ہوئی تھیں، جنہیں مختلف فیکٹ چیک اداروں نے غلط قرار دیا تھا۔



دستبرداری: یہ پوسٹ دستیاب سرکاری اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث اگر متعلقہ حکام نئی یا مختلف معلومات جاری کریں تو انہیں ترجیح حاصل ہوگی۔

لاہور پولیس کے سابق ایس ایس پی عمر ورک نے اپنی 39 سالہ ملازمت کے بارے میں ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے کہا:"اگر میں نے...
09/07/2026

لاہور پولیس کے سابق ایس ایس پی عمر ورک نے اپنی 39 سالہ ملازمت کے بارے میں ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے کہا:

"اگر میں نے اپنی پوری ملازمت میں ایک روپیہ بھی رشوت لی ہو تو مجھے نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب نہ ہو۔"

ان کا کہنا تھا کہ پولیس سروس میں شمولیت کے پہلے دن ہی انہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ کبھی ظلم کا ساتھ نہیں دیں گے اور ہر حال میں مظلوم کی مدد کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اغوا برائے تاوان کے اہم مقدمے میں دن رات محنت کرکے چند ہی روز میں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

عمر ورک کے مطابق ملازمت کے دوران ان پر کرپشن کے الزامات بھی لگے، مگر انہوں نے عدالت میں پُراعتماد انداز میں کہا کہ اگر ان پر لگایا گیا کوئی بھی الزام درست ہے تو اس کا ثبوت پیش کیا جائے، کیونکہ دنیا میں بے گناہ لوگوں پر بھی الزامات لگ جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی تنخواہ پر اکتفا کیا، بلکہ کئی مواقع پر ضرورت مند افراد کی مدد اپنی جیب سے بھی کی۔ ان کے مطابق نوکری شروع کرنے سے پہلے ان کے پاس لاہور شیخوپورہ روڈ پر تقریباً پانچ مربع زمین تھی، جو وقت کے ساتھ بڑھنے کے بجائے کم ہو کر تقریباً آدھی رہ گئی۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ سماجی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ایک ایسی فلاحی تنظیم قائم کی ہے جو کسی سے چندہ نہیں لیتی۔ چند دوست مل کر غریب، بے سہارا اور شدید بیمار افراد کو تلاش کرتے ہیں اور اپنی ذاتی استطاعت سے ان کے علاج کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔

ان کے ایک ساتھی پولیس افسر نے بھی گواہی دیتے ہوئے کہا کہ عمر ورک نے اپنی پوری ملازمت میں نہ کبھی رشوت لی، نہ کسی ظالم کا ساتھ دیا اور نہ ہی کسی غیر اخلاقی عمل میں ملوث ہوئے۔

دستبرداری: اس پوسٹ میں شامل معلومات اور دعوے متعلقہ افراد کے بیانات پر مبنی ہیں۔ ان کی آزادانہ یا عدالتی تصدیق اس پوسٹ کا حصہ نہیں۔

Address

Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LifeXplorer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to LifeXplorer:

Shortcuts

Share