05/08/2026
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے افغانستان سے فارغ التحصیل میڈیکل طلبہ کی ڈگریوں کو پاکستان میں تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ ہزاروں طلبہ اور ان کے خاندانوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں وہ طلبہ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جو اپنی میڈیکل تعلیم کے درمیانی یا آخری مراحل میں ہیں اور اپنی تعلیم پر کئی سال، بھاری مالی وسائل اور انتھک محنت صرف کر چکے ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ایسے طلبہ کے مستقبل کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے گا جنہوں نے مروجہ قوانین اور اس وقت کی دستیاب پالیسیوں کے مطابق داخلہ لیا تھا۔ اگر اچانک پالیسی تبدیل کی جاتی ہے تو ان طلبہ کے لیے مناسب عبوری انتظامات (Transitional Arrangements) ناگزیر ہیں تاکہ ان کی محنت، وقت اور سرمایہ ضائع نہ ہو۔
یہ بھی ضروری ہے کہ تمام فیصلے شفاف، منصفانہ اور قومی مفاد کے مطابق ہوں، اور ان سے کسی بھی علاقے، زبان یا قومیت سے تعلق رکھنے والے طلبہ میں امتیازی سلوک کا تاثر پیدا نہ ہو۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاملات میں میرٹ، انصاف اور مساوی مواقع کے اصولوں کو مقدم رکھیں۔
ہم حکومتِ پاکستان، وزارتِ قومی صحت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کی جائے، تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا جائے، اور بالخصوص زیرِ تعلیم طلبہ کے لیے ایسا قابلِ عمل حل پیش کیا جائے جو ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کا تحفظ یقینی بنائے۔
منجانب:
حمزہ کمال
سابق جنرل سیکرٹری
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن، ضلع بٹگرام