Roasting News

Roasting News This is Muzammil Virk. A social & political satirist.

I highlight social issues and challenge cult mindsets that thrive on blind belief, misinformation, and unquestioned authority.
👇 Join my WhatsApp
https://whatsapp.com/channel/0029VbBbZs7EwEjmbPuxUB2h

10/08/2026

Funny moments video 😂

10/08/2026

Funny video 😂😂😂

تحریر: مزمل ورکنیا صوبہ یا اصل اصلاحات؟ پاکستان کی ترقی کا راستہ نقشے سے نہیں، شعور سے نکلتا ہےکیا پاکستان کے مسائل واقع...
10/08/2026

تحریر: مزمل ورک
نیا صوبہ یا اصل اصلاحات؟ پاکستان کی ترقی کا راستہ نقشے سے نہیں، شعور سے نکلتا ہے
کیا پاکستان کے مسائل واقعی نئے صوبے بنانے سے حل ہوجائیں گے، یا ہمیں اس سے کہیں زیادہ بنیادی اور گہری اصلاحات کی ضرورت ہے؟
پاکستان میں جب بھی گورننس، انتظامی مسائل اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کی بات ہوتی ہے تو ایک تجویز فوراً سامنے آتی ہے: نئے صوبے بنائے جائیں۔
یہ تجویز اپنی جگہ قابلِ بحث ہے۔ بڑے انتظامی یونٹس کو تقسیم کرنے سے بعض علاقوں میں انتظامی رسائی بہتر ہوسکتی ہے، حکومتی ادارے عوام کے قریب آسکتے ہیں اور بعض مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا صرف صوبے کی سرحد تبدیل ہوجانے سے ریاست کا رویہ تبدیل ہوجائے گا؟
کیا نیا صوبہ بننے کے بعد سرکاری دفتر میں بیٹھا بابو اچانک فائل کھولتے ہی مسکرا کر آپ کو کرسی کی پیشکش کردے گا؟
کیا پولیس والا گاڑی روکتے ہی "السلام علیکم، کہیے کیسے انا ہوا؟" کہنا شروع کردے گا؟
کیا عام آدمی کو اپنے قانونی حقوق ایسے زبانی یاد ہوجائیں گے جیسے بچپن میں پہاڑے یاد کیے جاتے تھے؟
کیا سرکاری اداروں میں جواب دہی کی وہ شمع جلے گی جو کبھی بجھے ہی نہ؟
کیا کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور "کل آنا، صاحب میٹنگ میں ہیں" والے کلچر کا ہمیشہ کے لیے جنازہ نکل ہوجائے گا؟
اگر ان سوالات کا جواب "نہیں" ہے تو پھر ہمیں صرف انتظامی نقشہ تبدیل کرنے کے بجائے اس نظام کی بنیادوں پر بات کرنا ہوگی جس کے اندر یہ تمام خوبصورت مسائل پروان چڑھتے ہیں۔
اور میرے نزدیک اس بنیاد کا سب سے اہم ستون ہے:
قانونی شعور — ایک ایسا حق جو ہر شہری کو بچپن سے ملنا چاہیے
پاکستان میں ہم بچوں کو ریاضی پڑھاتے ہیں، سائنس پڑھاتے ہیں، تاریخ پڑھاتے ہیں، جغرافیہ پڑھاتے ہیں، مختلف مضامین پڑھاتے ہیں اور امتحانات پاس کرنے کے لیے اتنی موٹی موٹی کتابیں رٹواتے ہیں کہ بچہ خود بھی چلتا پھرتا نصاب بن جاتا ہے۔
لیکن ایک بنیادی سوال پوچھیں:
ہم اپنے بچے کو یہ کب سکھاتے ہیں کہ ریاست کیا ہے اور یہ کس مخلوق کا نام ہے؟
اس کا جواب شاید ہمارے پاس بھی ہو، لیکن ہم بتانا نہیں چاہتے۔
ہم اسے یہ کیوں نہیں سکھاتے کہ پولیس کیا کر سکتی ہے اور کون سا کارنامہ انجام دینے سے اس کی وردی کی عزت برقرار رہتی ہے؟
ایک تھانے کے افسر کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ (سوائے اس کے کہ چائے گرم پی جائے اور بندہ تھکے ہارے انتظار میں بیٹھا رہے۔)
ڈی پی او کا کردار کیا ہے؟
اسسٹنٹ کمشنر کے اختیارات کیا ہیں؟
ڈپٹی کمشنر کس کام کا ذمہ دار ہے؟
عدالت کا دائرۂ اختیار کیا ہے؟
ایک شہری کسی سرکاری افسر سے کس انداز میں بات کرسکتا ہے؟ کیا اس کے لیے بولنے سے پہلے محکمہ انہدام سے اجازت لینی پڑے گی؟
اور اس سے بھی اہم سوال:
اگر کوئی سرکاری اہلکار اپنے اختیار سے چھلانگ لگا کر تجاوز کرے تو ایک عام شہری کیا کرسکتا ہے؟ کیا وہ گھر جا کر تکیے میں منہ دے کر روئے یا سوشل میڈیا پر سٹیٹس لگائے؟
یہ سوالات صرف وکیلوں کی فیس بڑھانے کے لیے نہیں ہونے چاہئیں، یہ ہر پاکستانی شہری کے لیے بنیادی معلومات ہونی چاہئیں، بالکل ویسے ہی جیسے بریانی میں آلو کا ہونا ضروری ہے۔
ہمیں وکیل نہیں، باشعور شہری پیدا کرنے ہیں
یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔
قانونی تعلیم سے میری مراد یہ نہیں کہ ہر بچہ اسکول کے بستے میں تعزیراتِ پاکستان کی وزنی کتاب اٹھا کر گھومے یا اسے قانون کی سینکڑوں دفعات اس طرح رٹوا دی جائیں کہ وہ سوتے میں بھی دفعات سنانے لگے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شہری کو بنیادی آئینی اور قانونی شعور حاصل ہو۔
اسے معلوم ہو کہ:
ریاستی اختیار کیا ہے؟ (کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے بھائی)۔
سرکاری ملازم کی قانونی ذمہ داری کیا ہے؟ (عوام کی خدمت، نہ کہ ان پر بادشاہت کرنا)۔
شہری کا بنیادی حق کیا ہے؟
سرکاری اہلکار کی حدودِ اختیار کہاں ختم ہوتی ہیں؟ (عام طور پر تو وہیں ختم ہوتی ہیں جہاں سے شہری کا سر درد شروع ہوتا ہے)۔
شکایت کہاں درج کی جاسکتی ہے؟
کسی فیصلے کے خلاف اپیل یا قانونی چارہ جوئی کا راستہ کیا ہے؟
پولیس، انتظامیہ اور عدالت میں فرق کیا ہے؟
یہ بنیادی معلومات اگر ایک عام شہری کو اسکول ہی سے ملنا شروع ہوجائیں تو شاید ہمارے معاشرے میں طاقت اور کمزوری کے درمیان موجود وہ طویل اور خوفناک فاصلہ خود بخود کم ہوجائے جو آج کل ایک عام شہری کو دفتر کا دروازہ دیکھ کر ہی پسینے چھڑا دیتا ہے۔
قانون جاننے والا شہری آسانی سے دبایا نہیں جاسکتا
ایک ایسا شخص جو اپنے حقوق سے ناواقف ہو، وہ طاقتور کے سامنے ہمیشہ ایسے کھڑا ہوتا ہے جیسے کٹہرے میں مجرم ہو۔
اسے ڈرانا اور دھمکانا اتنا آسان ہوتا ہے جیسے بچے سے لالی پاپ چھیننا۔
اسے غلط معلومات دینا تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
اسے ایک کھڑکی سے دوسری کھڑکی اور دوسری سے پہلی کھڑکی پر دوڑانا کون سا مشکل کام ہے؟
اسے یہ کہنا اتنا آسان ہے کہ "جاؤ جی، فائل یہاں نہیں، فلاں بابو کے پاس ہے" (حالانکہ وہ بابو چائے پینے کینٹین گیا ہوتا ہے)۔
اسے یہ باور کرانا کہ "آپ کو قانون کا کیا پتا، ہمت کیسے ہوئی آپ کی سوال پوچھنے کی؟" بالکل پانی پینے جتنا عام ہے۔
لیکن اگر یہی شہری بنیادی قانون جانتا ہو، اسے معلوم ہو کہ متعلقہ ادارے کی ذمہ داری کیا ہے اور اسے یہ علم ہو کہ کسی سرکاری فیصلے یا رویے کے خلاف قانونی طور پر کس دروازے پر دستک دینی ہے، تو صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔
پھر وہ افسر سے لڑنے کے لیے بپھر کر نہیں جاتا۔
وہ افسر کو گالی دینے کی حماقت نہیں کرتا۔
وہ غصے میں آ کر قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی غلطی نہیں کرتا۔
بلکہ وہ کاغذ کا ٹکڑا نکال کر قانون کی زبان میں سوال کرتا ہے، اور پھر بڑے بڑے افسروں کے ہاتھ پاؤں پھولنا شروع ہوجاتے ہیں۔
اور یہی ایک مہذب اور زندہ معاشرے کی اصل نشانی ہے۔
چند روز قبل سامنے آنے والی ایک ویڈیو ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے
کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اس طرح وائرل ہوئی جیسے گرمیوں میں گنے کا رس۔ اس ویڈیو میں ایک عام خاتون ایک سرکاری پولیس افسر کے سامنے قانونی نکات کی بنیاد پر اپنا مؤقف بڑی دلیری سے بیان کرتی نظر آئیں۔
اس موقع پر اس افسر کی گفتگو اور لب و لہجے نے ایک بہت بڑا سوال ہمارے پورے نظام کے ماتھے پر سجادیا۔
اگر کوئی شہری کسی سرکاری افسر سے قانون کے دائرے میں رہ کر سوال کررہا ہے تو کیا اسے جواب میں ایسا بھاری بھرکم اور تحکمانہ لہجہ سننا چاہیے جو سن کر کانوں سے دھواں نکلنے لگے؟
اگر شہری کی بات غلط ہے تو اسے پیار سے، قانون کے ضابطے کے مطابق سمجھایا جائے۔ کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا ہے اگر ذرا نرمی سے بات کر لی جائے؟
اگر شہری کا مؤقف درست نہیں تو متعلقہ قانون یا قاعدہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے، نہ کہ رعب جھاڑا جائے۔
اگر شہری کی شکایت کسی دوسرے محکمے کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے تو اسے شائستگی سے درست پتہ بتا دیا جائے۔
لیکن افسوس! ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ سرکاری عہدہ ملنے کا مطلب کسی کو ذلیل کرنے، اس پر رعب ڈالنے یا اسے کیڑے مکوڑے سمجھنے کا لائف ٹائم لائسنس مل گیا ہے۔
یہاں میں کسی ایک افسر کو کٹہرے میں کھڑا کرکے مجرم قرار دینے کی بات نہیں کررہا، کیونکہ ہر واقعے کے اپنے پس منظر ہوتے ہیں۔
میرا سوال اس سے کہیں زیادہ بڑا اور تلخ ہے:
ہم نے اپنے شہریوں کو کبھی یہ کیوں نہیں سکھایا کہ وہ ریاستی اداروں سے اپنے روزمرہ کے معاملات میں قانونی اور مہذب انداز میں گفتگو کیسے کریں؟
اور ہم نے اپنے سرکاری اہلکاروں کے دماغ میں یہ بات کیوں نہیں بٹھائی کہ شہری سے بات کرتے وقت ان کا یہ جو چمکتا ہوا عہدہ ہے، یہ کوئی ذاتی برتری یا جاگیر نہیں ہے، بلکہ ایک کچی پکی آئینی اور انتظامی ذمہ داری ہے جو کسی بھی وقت بدل سکتی ہے؟
ایک شہری کو "سر" کہنے سے پہلے اسے قانون سمجھائیں
ہمارے معاشرے میں اب ایک ایسی انوکھی نفسیات جنم لے چکی ہے کہ بس توبہ بھلا!
ہم بچے کو اسکول جاتے ہی یہ سکھانا شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو بیٹا، فلاں افسر کو دور سے ہی ہاتھ باندھ کر "سر" کہنا ہے، فلاں کو "صاحبِ والا" پکارنا ہے، اور ان کے سامنے تو اتنی اونچی آواز میں بولنا گناہِ کبیرہ ہے کہ فرش ہل جائے۔
عزت اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے، احترام آنکھوں پر، بڑوں کا ادب ہمارا کلچر ہے۔
لیکن ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوال تو کیجیے:
کیا شہری کو صرف سامنے والے کے عہدے کا رعب اور احترام سکھایا جائے یا اس بیچارے کو قانون کا بھی کچھ پتہ بتایا جائے؟
ایک سرکاری افسر کا احترام بلاشبہ اس کے عہدے کی وجہ سے کیا جانا چاہیے، لیکن اس سے یہ توقع بھی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے عہدے کا احترام صرف کرسی پر بیٹھ کر نہیں، بلکہ قانون کی سچی پابندی کرکے دکھائے۔
عوام کسی افسر کے ذاتی ملازم نہیں ہیں کہ جب جی چاہا حکم چلا دیا۔
سرکاری اہلکار کسی پرانے زمانے کے بادشاہ کے دربار کے درباری نہیں ہیں۔
اور عام شہری کسی کی ذاتی جاگیر کی رعایا نہیں ہے۔
یہ دونوں ایک ہی کشتی کے سوار ہیں، جہاں افسر کو طاقت قانون دیتا ہے اور شہری کو حقوق بھی قانون ہی عطا کرتا ہے۔
اصل مسئلہ اسی توازن کے بگڑ جانے کا ہے۔
اگر شہری اپنے حقوق سے پوری طرح آگاہ ہو تو ادارے بھی مجبوری میں ہی سہی، جواب دہ بن جاتے ہیں
دنیا کے ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں میں ریاست صرف اس لیے مضبوط اور مستحکم نہیں ہوتی کہ وہاں بڑے بڑے شیش محل نما دفاتر اور اے سی والے طاقتور افسر بیٹھے ہوتے ہیں۔
ریاست اصل میں اس لیے مضبوط ہوتی ہے کہ وہاں ادارے اندھا دھند نہیں بلکہ قانون کے دائرے میں کام کرتے ہیں، شہری اپنے حقوق کو انگلیوں پر گن سکتے ہیں اور سرکاری بابو اپنے ہر ایک اختیار کے لیے جواب دہ ہوتے ہیں۔
ایک باشعور شہری اچھی طرح جانتا ہے کہ اسے انصاف کے لیے کس دروازے پر دستک دینی ہے۔
ایک باشعور شہری کسی بھی معاملے میں باضابطہ تحریری دستاویز مانگ سکتا ہے۔
ایک باشعور شہری کسی بھی سرکاری فیصلے کی بنیاد پوچھنے کا پورا حق رکھتا ہے۔
ایک باشعور شہری کو یہ فرق معلوم ہوتا ہے کہ پولیس کا ڈنڈا کہاں چلتا ہے، انتظامیہ کا قلم کہاں رکتا ہے اور عدالت کا ترازو کس طرف جھکتا ہے۔
ایک باشعور شہری یہ بھی جانتا ہے کہ ہر سرکاری بابو کی طاقت کی ایک طے شدہ حد ہوتی ہے، جہاں سے قانون کی حدود شروع ہوتی ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر:
وہ یہ بات اچھے سے جانتا ہے کہ اختلاف رائے کوئی بغاوت نہیں ہے، بشرطیکہ وہ اختلاف قانونی حدود اور مہذب لہجے کے اندر ہو۔
یہی وہ شعور ہے جو ہمارے پورے معاشرے کو اندر سے طاقتور اور مضبوط بنائے گا۔
قرآن مجید کی تعلیم: قانون کے بعد کردار کی تعمیر
قانون بلاشبہ شہری کو یہ بتاتا ہے کہ ریاست کے آہنی دائرے میں اس کے حقوق اور فرض کیا ہیں، لیکن اکیلا قانون کبھی کسی معاشرے کو جنت نہیں بنا سکتا؛ معاشرے کو چلانے کے لیے ایک بلند کردار کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
اور یہیں پر قرآن مجید کی لازوال تعلیم کا وہ مقام آتا ہے جو کسی بھی قانون کی کتاب میں نہیں ملتا۔
ہماری نئی نسل کو صرف دنیاوی ڈگریاں دلانے اور رٹا مارنے والی فیکٹریوں کے حوالے کرنا اب کافی نہیں۔
ہمیں انہیں بچپن سے یہ بھی سکھانا ہے کہ دیانت کیا بلا ہے، امانت میں خیانت کا انجام کیا ہوتا ہے، عدل و انصاف کا ترازو کیسے سیدھا رکھا جاتا ہے، ظلم کی سیاہ رات کتنی بھی لمبی ہو سحر ہوتی ہے، اور کسی دوسرے انسان کا حق کھانا کتنی بڑی تباہی ہے۔
قرآن مجید کو صرف طاق پر رکھنے والی یا اسناد میں پڑھنے والی کتاب نہیں، بلکہ انسانی اور اخلاقی اصولوں کے سب سے بڑے سرچشمے کے طور پر ہماری عملی زندگی کا حصہ بننا چاہیے۔
اگر ہمارے ایک چھوٹے سے بچے کو گھر اور اسکول میں یہ سبق ملے کہ جھوٹ، فریب، ظلم اور دوسروں کی حق تلفی سے دور رہنا ہے، تو یہ اس کی شخصیت اور کردار کی سب سے مضبوط بنیاد بن جاتی ہے۔
اور اگر اسی بچے کو ہاتھ میں قانون کی کتاب اور آئین کی بنیادی الف ب بھی آتی ہو، تو ہمارے پاس آنے والے کل میں صرف ڈگری یافتہ لوگ نہیں، بلکہ کچی مٹی سے نکلے ہوئے باشعور، باکردار اور ذمہ دار شہری تیار ہوں گے۔
یہی وہ سنہری امتزاج ہے جس کی ہمیں اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے:
اخلاق + قانون + شعور + ذمہ داری
نئے صوبے ضرور، مگر صرف نقشہ تبدیل کرنا کافی نہیں
اگر انتظامی بنیادوں اور بہتری کے نام پر نئے صوبے بنانا واقعی ناگزیر ہے تو شوق سے بنائیں، اس پر کھل کر بحث کریں۔
لیکن ہمیں یہ کڑوی سچی بات سمجھنی ہوگی کہ نیا صوبہ کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ گھمائی اور مسائل غائب!
اگر نئے صوبے کی حدود میں بھی وہی پرانے، زنگ آلود اسکول ہوں، وہی خستہ حال ادارے ہوں، وہی سست الوجود بابو بیٹھے ہوں، وہی عوام کی بے بسی کا تماشا ہو، وہی قانون کی لاعلمی کا اندھیرا ہو اور وہی جواب دہی سے فرار کا کلچر ہو، تو پھر ہم نے کون سا تیر مار لیا؟ ہم نے تو صرف مسائل کے لیے نئی باؤنڈری وال کھڑی کر دی ہے۔
ہمیں صوبے کی جغرافیہ بدلنے کے ساتھ ساتھ اندر کے انسان اور شہری کو بھی نیا بنانا ہوگا۔
ایسا شہری جو اپنے حقوق کے معاملے میں وکیل جتنا تیز ہو۔
ایسا شہری جو قانون کی عزت کرنا اپنی شان سمجھے۔
ایسا شہری جو اپنے فرائض کو بوجھ نہ سمجھے۔
اور ایسا شہری جو کسی بھی سرکاری عہدے کو دیکھ کر مرعوب ہونے کے بجائے قانون کے دائرے میں رہ کر آنکھ میں آنکھ ڈال کر اپنا حق مانگنا جانتا ہو۔
اصل اصلاحات کہاں سے شروع ہونی چاہئیں؟
اگر ہم دل سے پاکستان کو بدلنا چاہتے ہیں، تو اصلاحات کا آغاز اسلام آباد کے ایوانوں میں نقشے رنگنے سے نہیں ہونا چاہیے۔
اصلاحات کا اصل آغاز اسکول کے اس چھوٹے سے کمرے اور کلاس روم سے ہونا چاہیے جہاں بچے بیٹھتے ہیں۔
انہیں پرائمری کی سطح سے ہی سکھایا جائے کہ ریاست کیا ہے، ادارے کس کھیت کی مولی ہیں، ان کے اختیارات کی حدود کیا ہیں، اور ایک عام شہری ان تک قانونی طریقے سے کیسے رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
انہیں یہ بتایا جائے کہ اگر پولیس والا یا کوئی اور اہلکار ضابطے سے باہر ہو جائے تو درخواست کس دروازے پر دینی ہے، اپنے حق کے لیے کون سا آئینی راستہ اختیار کرنا ہے، اور کسی کی زیادتی پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے قانونی چارہ جوئی کیسے کی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی حقیقی تعلیمات اور اعلیٰ اخلاقی تربیت کو نصاب میں اس طرح اتارا جائے کہ قانون جاننے والا شخص قانون کو ڈنڈا بنانے کے بجائے انصاف کا چراغ بنائے۔
اور دوسری طرف، ہمارے ان سرکاری افسران اور بابوز کی ٹریننگ میں بھی ایک زبردست انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔
انہیں بار بار پیار سے سمجھانا ہوگا کہ:
عہدہ کوئی بادشاہی تاج نہیں، بلکہ ایک امانت ہے۔
وردی اور کرسی رعب جھاڑنے کا ذریعہ نہیں، خدمت کا دوسرا نام ہے۔
سرکاری کرسی عزت کی بھیک مانگنے کی جگہ نہیں، بلکہ جواب دہی کا کٹہرا ہے۔
اور سب سے بڑی بات جو پتھر پر لکیر ہونی چاہیے:
ریاستی اہلکار قانون کے مالک یا خدا نہیں ہوتے، بلکہ قانون کے سب سے پہلے پابند ہوتے ہیں۔
پاکستان کو نئی لکیروں سے زیادہ نئے شعور کی ضرورت ہے
آخر میں بات گھوم پھر کر وہیں آتی ہے جہاں سے ہم نے اس سفر کا آغاز کیا تھا۔
کیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے؟
ہو سکتا ہے، بالکل ہو سکتی ہے۔
کیا بہتر انتظامی تقسیم اور رسائی ضروری ہے؟
اس میں تو کوئی شک ہی نہیں۔
لیکن کیا صرف نئے صوبے ملک کے تمام پرانے اور گھمبیر مسائل ایک رات میں حل کردیں گے؟
ہرگز نہیں، بالکل نہیں۔
پاکستان کو اس وقت جس سب سے بڑی اور فوری اصلاح کی ضرورت ہے وہ ایک بیدار اور باشعور شہری کی تشکیل ہے۔
ایسا شہری جو اپنے حقوق سے پوری طرح واقف ہو، اپنے فرائض کو دل سے سمجھے، قانون کے آگے سر جھکائے اور کسی بھی سرکاری عہدے کو دیکھ کر بلاوجہ خوفزدہ نہ ہو۔
اور ایسا شاندار سرکاری نظام جہاں کسی افسر کو اس لیے سلام نہ کیا جائے کہ اس کے پاس ڈنڈا یا قلم ہے، بلکہ اس لیے عزت دی جائے کہ وہ قانون، انصاف اور عوام کی خدمت کے تقاضے پورے کررہا ہے۔
کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف کاغذ پر سرحدیں یا نقشے بدلنے سے ترقی نہیں کرتی۔
قومیں اس وقت آسمان چھوتی ہیں جب ان کا ہر شہری بیدار، ادارے شفاف اور جواب دہ، قانون فولادی اور کردار بلند ہوجاتا ہے۔
پاکستان کو شاید نئے صوبوں کی ضرورت ہو،
لیکن اس سے کہیں زیادہ ضرورت ایسے باشعور شہریوں کی ہے جو اپنے حق کے لیے بولنا جانتے ہوں۔
کیونکہ:
**نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے نظام نہیں بدلتا؛
نظام تب بدلتا ہے جب شہری قانون سمجھتا ہے اور ریاست قانون کی پابند ہوتی ہے۔**

09/08/2026

Funny video 😂😂

09/08/2026

Viral video 😂

08/08/2026

Funny recap

06/08/2026

Noreen niazi 's statement

06/08/2026

Funny video 😂😂🤣🤣

05/08/2026

Funny memories 🤣🤣🤣🤣

04/08/2026

Funny video 😂😂🤣😂🤣

Address

Riyadh

Telephone

+923217372150

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Roasting News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Roasting News:

Shortcuts

Share