Sajid ali

Sajid ali Dear my name is sajid this page is intertainment and fun and much more if you like content then like and follow page

پہلی سطر: صلاح الدین ایوبی کی قبر جب 600 سال بعد کھولی گئی — کفن میں لپٹی لاش نے سب کو سجدے میں ڈال دیا✦ ✦ قبر کا راز ✦ ...
15/03/2026

پہلی سطر: صلاح الدین ایوبی کی قبر جب 600 سال بعد کھولی گئی — کفن میں لپٹی لاش نے سب کو سجدے میں ڈال دیا

✦ ✦ قبر کا راز ✦ ✦

از: Haqeeat Aur Fasana

---

۱۹۵۰ء کی بات ہے۔ شام کا ملک تہذیب و تمدن کی نئی منزلیں طے کر رہا تھا مگر دمشق کی پرانی بستیوں میں اب بھی وہی کہانیاں گونجا کرتی تھیں جو صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کے گرد گھومتی تھیں۔

قلعہ دمشق کے قریب اموی مسجد کے صحن میں ایک چھوٹا سا مقبرہ تھا۔ پیلے پتھروں سے بنا ہوا، جس پر وقت کی گرد جمی ہوئی تھی۔ اس مقبرے کے اندر کوئی تعمیراتی شاہکار نہیں تھا، نہ سنہری دروازے، نہ قیمتی پتھروں کی جڑاؤ کاری۔ بس ایک سادہ سی قبر، جس پر ہمیشہ تازہ پھول رکھے جاتے۔ اور قبر کے اوپر لکڑی کا ایک پرانا تختہ، جس پر نوشتہ تھا:

"ہذا قبر السلطان الملک الناصر صلاح الدین"

یہاں تک کہ اس قبر کے متولی بھی نہیں جانتے تھے کہ اس مٹی کے نیچے کون سی حقیقت چھپی ہے۔

مگر ۱۹۵۰ء کا وہ دن تھا جب تاریخ کے اوراق پلٹنے والے تھے۔

شام کی حکومت نے قلعہ دمشق کی مرمت کا فیصلہ کیا۔ ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم دمشق پہنچی، جس میں فرانس، برطانیہ اور مصر کے نامور ماہرین شامل تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ موجودہ مقبرہ صلاح الدین ایوبیؒ کا نہیں، بلکہ کسی اور شخص کا ہے۔ اصل قبر کہیں اور ہے۔

"یہ محض ایک علامتی مقبرہ ہے،" فرانسیسی ماہر ڈیوڈ لی کومٹے نے کہا۔ "صلاح الدین جیسی عظیم شخصیت کی تدفین اتنی سادگی سے ممکن نہیں۔"

دمشق کی گلیاں اس بحث سے گرم تھیں۔ بوڑھے کہانی سنانے والے قہوہ خانوں میں بیٹھ کر کہتے کہ "یہ فرنگی پھر مسلمانوں کی تاریخ مٹانے آئے ہیں۔" مگر سائنسی شہادتوں کے سامنے عقیدت بھی خاموش تھی۔

آخرکار فیصلہ ہوا کہ مقبرہ کھولا جائے گا۔

۲۵ نومبر ۱۹۵۰ء۔

صبح کا وقت تھا۔ اموی مسجد کے صحن میں غیر معمولی رونق تھی۔ حکومتی اہلکار، ماہرین آثار، چند نامور صحافی اور وہاں موجود ہر شخص کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ مگر مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع نہیں ہو سکی تھی۔ ان کے دلوں میں دھڑکنے والی عقیدت اس منظر کو برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ کوئی ان کے سلطان کی قبر کو ہاتھ لگائے۔

چنانچہ صرف چند افراد اس کارروائی کے گواہ بنے۔

مقبرے کا دروازہ کھلا۔ اندرونی حصہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا صدیوں سے تھا—سادہ، بے تکلف، دنیا کی کسی بھی شان و شوکت سے عاری۔ فرش پر پرانے قالین بچھے تھے، دیواروں پر قرآنی آیات لکھی تھیں۔ اور بیچوں بیچ وہ قبر جس کے نیچے ایک عظیم سپاٹے کی ہڈیاں ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔

ماہرین نے کام شروع کیا۔ پتھر ہٹائے گئے، مٹی ہٹائی گئی۔ قبر کی گہرائی میں ایک لکڑی کا صندوق ملا، جو مکمل طور پر گل سڑ چکا تھا۔ اس کے نیچے کفن میں لپٹی ہوئی ایک لاش تھی۔

مگر جیسے ہی کفن کا ایک کونا ہٹایا گیا، وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں رک گئیں۔

کفن میں لپٹی لاش بالکل تازہ تھی۔

فرانسیسی ماہر ڈیوڈ لی کومٹے کے ہاتھ کانپنے لگے۔ انہوں نے اپنی عینکیں صاف کیں، پھر دوبارہ دیکھا۔ لاش پر گلنے سڑنے کا کوئی اثر نہیں تھا۔ جلد ابھی تک برقرار تھی، چہرے کے نقوش واضح تھے، داڑھی کے بال موجود تھے۔

"یہ ناممکن ہے!" ان کی آواز قبرستان کی خاموشی میں گونجی۔

ایک مصری ماہر نے آگے بڑھ کر آہستہ سے کفن کو مزید ہٹایا۔ لاش کے سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے—وہی طریقہ جس سے مسلمان میت کو دفناتے ہیں۔ انگلیوں کی پوروں پر مہندی کے نشان تھے، گویا ابھی کل ہی لگائی گئی ہو۔

کمرے میں سناٹا تھا۔ کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔

پھر دمشق کے ایک بزرگ عالم جو وہاں موجود تھے، آگے بڑھے۔ ان کی عمر تقریباً اسی برس تھی، داڑھی سفید، چہرے پر نور تھا۔ انہوں نے کفن کو مکمل طور پر ہٹانے سے منع کر دیا۔

"بس کرو،" ان کی آواز میں عجیب سا وقار تھا۔ "اب تم دیکھ چکے۔ جو دیکھنا تھا۔"

فرانسیسی ماہر نے احتجاج کیا۔ "لیکن ہمیں تحقیق کرنی ہے، کاربن ڈیٹنگ کرنی ہے، یہ ثابت کرنا ہے کہ..."

"کیا ثابت کرنا ہے؟" بزرگ عالم نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔ "تم اس شخص کے بارے میں کیا ثابت کرو گے جس نے خود کہا تھا کہ میری تجہیز و تکفین کے لیے بھی رقم نہیں ہو گی؟"

کمرے میں ایک اور خاموشی چھا گئی۔

پھر بزرگ عالم نے وہ کام کیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔

وہ سجدے میں گر گئے۔

ان کے ماتھے نے اس فرش کو چھوا جہاں سے تھوڑی دیر پہلے مٹی ہٹائی گئی تھی۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ان کے ہونٹوں پر صرف ایک ہی لفظ تھا: "اللہ... اللہ..."

وہاں موجود ہر شخص—مسلمان اور غیر مسلم—دیکھتا رہ گیا۔ پھر ایک ایک کر کے سب کے گھٹنے زمین کو چھونے لگے۔ فرانسیسی ماہر ڈیوڈ نے بھی اپنا سر جھکا لیا۔ وہ سائنسدان تھا، مومن نہیں تھا، مگر اس منظر کی ہیبت اسے سجدے میں نہیں تو کم از کم خاموشی میں ضرور لے آئی۔

کچھ دیر بعد بزرگ عالم اٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ صلاح الدین ایوبیؒ کی وصیت تھی کہ ان کی قبر سادہ ہو، کوئی مزار نہ بنے، کوئی تعمیر نہ ہو۔ مگر وقت کے بادشاہوں نے عقیدت میں یہ مقبرہ بنا دیا۔ شاید اسی لیے اللہ نے اپنے نیک بندے کی حفاظت کا یہ طریقہ چنا۔

کفن کو دوبارہ ٹھیک سے لپیٹا گیا، مٹی ڈالی گئی، پتھر رکھے گئے۔ مگر وہ دن تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف میں لکھا گیا۔

وہاں موجود ایک صحافی نے بعد میں لکھا:

"میں نے اپنی زندگی میں کئی عجائبات دیکھے، کئی دریافتوں کی روداد لکھی، مگر اس دن جو دیکھا، وہ کسی سائنس کی کتاب میں نہیں ملے گا۔ 600 سال گزرنے کے بعد بھی ایک لاش ویسی ہی تازہ تھی جیسے ابھی کل دفنائی گئی ہو۔ اس دن مجھے یقین ہو گیا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس شخص کی عظمت کو نہیں مٹا سکتی جس نے زندگی بھر اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہیں جھکایا، اور جس کی وفات پر اس کا رب خود اس کی حفاظت کا ذریعہ بنا۔"

آج بھی دمشق میں جب کوئی بوڑھا صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کا قصہ سناتا ہے تو وہ اس دن کا ذکر ضرور کرتا ہے جب قبر کھولی گئی۔ اور سننے والوں کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ جاتی ہے۔

کیونکہ کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ثبوتوں سے نہیں، بصیرتوں سے دیکھی جاتی ہیں۔

اور صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کا وہ دن ایک ایسی ہی بصیرت تھی—جو صرف انہیں ملی جنہوں نے آنکھوں سے نہیں، دل سے دیکھا۔

---

خلاصہ: وہ شخص جس نے زندگی بھر دنیا کی شان و شوکت ٹھکرائی، اس کی وفات کے 600 سال بعد بھی اللہ نے اس کی حفاظت کا ایسا انتظام کیا کہ دیکھنے والے سجدے میں گر پڑے۔ سچائی کا کفن کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ 💚🕊️🌙

---

سوال: اگر آپ کو موقع ملے تو صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر پر جا کر کون سی ایک دعا مانگیں گے؟

"اس وقت دنیا میں جو جنگی ماحول اور کشیدگی پیدا ہو رہی ہے، اس کے پیچھے امریکہ کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ امریکہ نے پہلے ...
09/03/2026

"اس وقت دنیا میں جو جنگی ماحول اور کشیدگی پیدا ہو رہی ہے، اس کے پیچھے امریکہ کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ امریکہ نے پہلے بھارت اور !سرا!ئیل کو آگے کر کے پاکستان کو دبانے کی کوشش کی، مگر جب پاکستان کی بہادر افواج نے دشمن کے ہر منصوبے کو ناکام بنا دیا اور بھارت کو سخت جواب ملا تو وہی طاقتیں صلح کی باتیں کرنے لگیں۔اس وقت بھارت اور !سر!ئیل نے افغانستان کو آگے کیا ہوا ہے وہ پاکستان سے جنگ کر رہا ہے لیکن بہادر افواج نے افغانستان کو بھی شکست سے دو چار کیا ہوا ہے۔ جنوبی ایشیا میں اگر کوئی ملک ظلم اور جارحیت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اپنا موقف پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوا تو پھر دنیا بھی محفوظ نہیں رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی طاقت اور اس کی دلیر افواج امریکہ، !سر!ئیل اور ان کے حامیوں کو کھٹکتی ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی بہادر فوج نے ہر آزمائش میں دشمن کو شکست اور قوم کو سرخرو کیا ہے۔" 🇵🇰🔥

01/01/2026

انسان کے اندر دو طاقتیں مسلسل آمنے سامنے رہتی ہیں. نفس جو کہتا ہے. ابھی مزہ لو جو دل چاہے کرو غصہ کرو،
بدلہ لو خواہش پوری کرو.. میں میرا اور ابھی اسی وقت..
روح جو کہتی ہے.
صبر کرو اللہ کو راضی کرو چھوڑ دو، معاف کر دو خاموشی میں سکون ہے آخرت اصل ہے یہی اندرونی جنگ ہے۔
یہ تلواروں کی نہیں، دلوں کی جنگ ہے۔
نفس کی اقسام (قرآن کی روشنی میں) نفسِ امّارہ "نفس برائی کا حکم دیتا ہے" یہ نفس گناہ میں لذت دکھاتا ہے،
توبہ کو ٹالتا ہے، عبادت بھاری لگتی ہے۔ نفسِ لوّامہ.. یہ نفس گناہ پر ملامت کرتا ہے. ضمیر جاگتا ہے آنکھ نم ہوتی ہے دل شرمندہ ہوتا ہے یہ جنگ کا میدان ہے۔ نفسِ مطمئنہ.. "اے اطمینان پانے والے نفس! یہ وہ مقام ہے جہاں نفس روح کے تابع ہو جاتا ہے۔
روح کیا ہے؟ اللہ کی طرف سے امانت ہے گناہ سے گھٹتی ہے ذکر سے زندہ ہوتی ہے خاموشی، سجدے اور آنسوؤں میں طاقت پاتی ہے جب روح مضبوط ہو نفس کمزور پڑ جاتا ہے۔
یہ جنگ کیوں ضروری ہے؟
کیونکہ اگر نفس جیت گیا انسان زمین کا ہو گیا اگر روح جیت گئی انسان اللہ کا ہو گیا اللہ جسم نہیں دیکھتا، نیت اور دل دیکھتا ہے۔
اللہ سے ملانے والا کون؟
سب سے پہلے اللہ خود "جو میری طرف ایک قدم آتا ہے، میں اس کی طرف دس قدم آتا ہوں" یہ قرب کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں۔ قرآن روح کی غذا ہے نفس کو توڑتا ہے
دل کو اللہ سے جوڑتا ہے جو قرآن سے جڑا اللہ سے جڑ گیا۔
ذکر نفس کا زہر ہے روح کی دوا ہے "لا إله إلا الله" یہ نفس کے بت توڑ دیتا ہے۔
آزمائش غم، تکلیف، تنہائی..
یہ سزا نہیں یہ اللہ کی طرف بلاوا ہیں اکثر اللہ درد کے ذریعے قریب کرتا ہے۔ سچی توبہ نفس کو ذلیل کرتی ہے روح کو عزت دیتی ہے ایک آنسو اللہ کو پا لینے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
غلط فہمی فلاں بزرگ اللہ سے ملا دے گا فلاں انسان ہی نجات کا ذریعہ ہے اللہ سے اللہ ہی ملاتا ہے انسان صرف راستہ دکھا سکتا ہے، منزل نہیں۔ جس دن خواہش کے باوجود گناہ چھوڑ دو غصے میں خاموش ہو جاؤ دکھ میں سجدہ کر لو سمجھ لو روح جیت گئی، نفس ہار گیا... یہی اللہ سے ملاقات کا راستہ ہے۔
اللہ دور نہیں ہوتا ہم اپنے نفس کے شور میں اس کی آواز سن نہیں پاتے جب نفس خاموش ہوتا ہے تب اللہ قریب محسوس ہوتا ہے

روضہ رسول ﷺ پر ایک عرب دیہاتی حاضر ہو کر رب سے کچھ یوں دعا کرتا ہے۔۔۔اس کے مانگنے کا انداز دیکھیے، یقین جانیے رب سے مانگ...
17/12/2025

روضہ رسول ﷺ پر ایک عرب دیہاتی حاضر ہو کر رب سے کچھ یوں دعا کرتا ہے۔۔۔
اس کے مانگنے کا انداز دیکھیے،
یقین جانیے رب سے مانگنے کا بھی ایک خاص فن، انداز اور ڈھنگ ہوتا ہے جو کہ اس گاؤں کے رہنے والے عربی سے سیکھنا چاہیے۔

اے اللہ!
یہ آپ کے حبیب ہیں،
میں آپ کا غلام ہوں اور شیطان آپ کا دشمن ہے۔
خدایا اگر تو مجھے بخش دے گا تو تیرا حبیب خوش ہوگا،
تیرا بندہ کامیاب ہوگا اور تیرا دشمن غمگین ہوگا۔۔۔
مولا اگر تو نے میری بخشش نہیں کی تو تیرا حبیب غمگین ہوگا،
تیرا غلام ناکام ہوگا اور تیرا دشمن خوش ہوگا۔۔۔
الہی! تیری شان اس سے بڑی ہے کہ تو اپنے حبیب کو غمگین کردے،
اپنے بندے کو ناکام اور اپنے دشمن کو خوش کردے۔۔۔
میرے پروردگار،
ہم عرب والوں میں ہمارے یہاں جب کوئی سردار فوت ہو جائے تو اس کی قبر پر غلاموں کو آزاد کیا جاتا ہے۔ یہ تو تمام جہانوں کے سردار محمد الرسول اللہ ﷺ کی قبر ہے، پس یہاں مجھ غلام کو جہنم کی آگ سے آزاد فرما دے۔ آمین۔

میں نے یہ دعا سُنی تو دنگ رہ گیا۔
پھر ان سے بات کی، میں نے اپنی عمر بتائی اور ان کی عمر پوچھی تو معلوم ہوا وہ 95 برس کے تھے اور ان کی والدہ کا انتقال 105 برس کی عمر میں ہوا تھا۔

میں نے ذرا ہچکچاہٹ سے پوچھا کہ اچھی صحت کا راز تو بتائیں؟
کہنے لگے بس بیمار نہ پڑو۔

میں نے کہا یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں۔
ہنستے ہوئے کہنے لگے بس کی بات ہے۔

میں نے کہا آپ بتائیں میں ضرور عمل کروں گا۔
میرے قریب آکر آہستہ سے کہنے لگے منہ میں کبھی کوئی چیز بسم اللہ کے بغیر نہ ڈالنا چاہے، پانی کا قطرہ ہو یا چنے کا دانہ۔

میں خاموش سا ہوگیا۔۔۔

پھر کہنے لگے اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بے مقصد اور بلاوجہ نہیں بنائی، ہر چیز میں ایک حکمت ہے اور اس میں فائدے اور نقصان دونوں پوشیدہ ہیں۔ جب ہم کوئی بھی چیز بسم اللہ پڑھ کر منہ میں ڈالتے ہیں تو اللہ اس میں سے نقصان نکال دیتا ہے۔
ہمیشہ بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ پیو اور دل میں بار بار خالق کا شکر ادا کرتے رہو اور جب ختم کر لو تو بھی ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کرو کبھی بیمار نہ پڑو گے۔ ان شاء الله

میری آنکھیں تر ہوچکی تھیں کہ یہ شخص ہمارے عام لوگوں سے کتنا بڑا عالم تھا؟
خیر دیر ہورہی تھی میں سلام کرکے اٹھنے لگا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے۔۔۔

کھانے کے حوالے سے آخری بات بھی سنتے جاؤ،

میں جی کہہ کر پھر بیٹھ گیا۔

کہنے لگے اگر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھا رہے ہو تو کبھی بھول کے بھی پہل نہ کیا کرو چاہے کتنی ہی بھوک لگی ہو۔ پہلے سامنے والی کی پلیٹ میں ڈالو اور وہ جب تک لقمہ اپنے منہ میں نہ رکھ لے تم نہ شروع کیا کرو۔

میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ اس کا فائدہ پوچھوں؟

لیکن وہ خود ہی کہنے لگے یہ تمہارے کھانے کا صدقہ ادا ہوگیا اور ساتھ ہی اللہ بھی راضی ہوا کہ تم نے پہلے اس کے بندے کا خیال کیا۔ یاد رکھو غذا جسم کی اور بسم اللہ روح کی غذا ہے۔ اب بتاؤ کیا تم ایسے کھانے سے بیمار پڑ سکتے ہو؟

میں شرمندگی میں ڈوبا ہوا بے ساختہ ان کے چہرے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر جانے کی اجازت لے کر تیزی سے جانے کے لیے مڑ گیا کہ دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہم اور ہماری اولادیں کتنی محروم ہیں۔ تبھی تو ہمارا معاشرہ ہر برائی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اللہ پاک ہمیں دل و جان سے شاکر بنائے اور دین کا صحیح علم اور اچھی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

‏سال 2000 سے پہلے آنے والی سردیوں کا لوگ شدت سے انتظار کرتے تھے، تب ٹیکنالوجی عام نہیں ہوئی تھی، گھر گھر موبائل نہیں تھے...
14/12/2025

‏سال 2000 سے پہلے آنے والی سردیوں کا لوگ شدت سے انتظار کرتے تھے، تب ٹیکنالوجی عام نہیں ہوئی تھی، گھر گھر موبائل نہیں تھے، انٹر نیٹ ہر کسی کی دسترس میں نہ تھا، اس دور میں سردیاں لوگوں کے مل بیٹھنے کا ذریعہ بھی سمجھی جاتی تھیں، دیہاتوں میں کسی ڈیرے پر رات کے کھانے کے بعد لوگ جمع ہوجاتے تھے، درمیان میں آگ جلائی جاتی تھی، دن بھر کی باتیں ڈسکس کی جاتی تھیں، ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشیاں بانٹی جاتی تھیں، ہر علاقہ میں ایسا ایک ضرور بندہ ہوتا تھا جو پرانے وقتوں کے قصے سنایا کرتا تھا، نوجوان لڑکوں کی ذمہ داری حقہ گرم کرنے اور جلتی آگ میں لکڑیاں ڈالنا تھیں، نوجوان بزرگوں کی محافل میں بیٹھ کر دنیا داری کے تجربات حاصل کرتے تھے، اخلاقیات کا درس اور بزرگوں کی تعظیم سیکھتے تھے۔
اس دور میں سردیوں میں اگر کوئی رشتہ دار آجاتا تو پورا گھر خوشی سے جھوم اٹھتا، رات کھانے کے بعد سب گھر والے ایک کمرے میں جمع ہوجاتے، چائے کے بعد گرم گرم مونگ پھلی کا دور چلتا تھا، مونگ پھلی کے ساتھ گُڑ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے سب میں بانٹے جاتے تھے، بزرگ جوان بچے سب اس محفل کو بہت انجوائے کرتے تھے

ہمارے بھی ایک بزرگ تھے، جو کبھی کبھی ہمارے ننھیال آتے تھے، ان کو گزرے وقت کے بادشاہوں کی لمبی لمبی کہانیاں زبانی یاد ہوا کرتی تھیں, ان کی یہ کہانیاں کئی اقساط پہ محیط ہوا کرتی تھیں، ہم ان کے آنے کا بہت انتظار کرتے تھے، وہ جب کہانی سناتے تو ہمیں یوں لگتا تھا جیسے ہم وہ کہانی سُن نہیں بلکہ دیکھ رہے ہوں، ہمارے وہ بابا اپنے پاس ہر وقت ریوڑیاں اور ٹافیاں رکھتے تھے، ہمیں لکڑی کا گھُگھو گھوڑا بنا دیتے تھے، اس دور میں قیمتی کھلونے اور ویڈیو گیمز لینا ہماری حیثیت سے باہر تھے، سگریٹ کی ڈبیا کو آٹے سے جوڑ کر کاغذی گاڑیاں بنانا ہمارا بہترین مشغلہ تھا۔
آپ سب میرے ہم عُمر یا مجھ سے بڑی عمر کے افراد اس بات کی گواہی دیں گے کہ اس وقت ہمیں ہمارے ماں باپ، نانا، نانی، دادا اور دادی سے ایک خاص قسم کی خوشبو آتی تھی اور وہ اتنی مانوس قسم کی خوشبو تھی کہ آج کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی کبھی پرانے صندوق سے مرحوم بزرگوں کی کوئی چیز نکل آئے تو وہی خوشبو آتی ہے جو ہمیں ہمارے بچپن لے جاتی ہے۔
سردیاں اب بھی آتی ہیں، پہلے جیسے آتی ہیں، مگر اب سردیاں پہلے جیسی سادگی، خلوص اور محبت کے بغیر آتی ہیں، اب مل بیٹھنے کے باوجود بھی ہم تنہاء ہوتے ہیں، دس لوگوں کی محفل میں مکمل خاموشی ہوتی ہے کیوں کہ سب کی نظریں اور دل موبائل پہ مرکوز ہوتے ہیں، رشتوں میں خلوص کی جگہ حسد، بغض اور عناد نے لے لی ہے، اب لکڑیوں کی جگہ دل جلتے ہیں، حقے کاپانی خشک ہوچکا ہے، کیوں کہ بزرگوں کے لئے آگ جلانے والے رزق کی تلاش میں گاؤں چھوڑ کر پردیس میں جا بسے ہیں۔
وہ جن کے دم سے رونقیں تھیں اور جن سے ہمیں محبتوں کا درس ملتا تھا جن کی خوشبو ہماری زندگی تھی وہ گاؤں سے دور شہرِ خموشاں میں جا آباد ہوئے ہیں۔
*سردیاں تو اب بھی آتی ہیں مگر مل بیٹھنے والے بچھڑ گئے۔*
——————


#سانجھاپنجاب

مشہور جنات کی کہانیاں1. مارد (بہت طاقتور جن)عرب روایات میں "مارد" کو سب سے سرکش اور ضدی جن کہا گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ پرا...
14/12/2025

مشہور جنات کی کہانیاں

1. مارد (بہت طاقتور جن)
عرب روایات میں "مارد" کو سب سے سرکش اور ضدی جن کہا گیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں مصر کے ایک علاقے میں مارد جن ایک شخص کے جسم پر قابض ہوا۔
جب اس پر قرآن پڑھا گیا تو وہ چیخنے لگا اور بولا:
“ہم صرف طاقتوروں پر قابض ہوتے ہیں تاکہ ان کا غرور توڑ سکیں۔”
کئی راوی کہتے ہیں کہ یہ جن "مارد" تھے جو عام دم کرنے سے نہیں نکلتے تھے بلکہ کئی دن لگے۔
---
2. عفریت (جادو اور شرارتوں والا جن)
قرآن میں بھی ذکر آیا ہے:
“ایک عفریت جنوں میں سے بولا کہ میں اسے (ملکہ سبا کا تخت) آپ کے پاس لے آؤں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں۔” (النمل: 39)
یعنی عفریت بہت تیز اور چالاک ہوتے ہیں۔
پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں کئی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ عفریت جن لوگوں کو رات کے وقت صحرا میں بھٹکاتے ہیں اور انہیں گمراہ راستے پر ڈال دیتے ہیں۔
---
3. عاشق جن
سب سے زیادہ کہانیاں اسی کے بارے میں ملتی ہیں۔
اکثر عورتوں پر عاشق جن قابض ہو جاتا ہے، خواب میں مرد کی شکل میں آتا ہے یا عورت کو نکاح سے روکتا ہے۔
لاہور میں ایک واقعہ بیان ہوتا ہے کہ ایک لڑکی ہر بار رشتہ آنے پر بے ہوش ہو جاتی تھی۔ دم کرنے پر جن بولا:
“میں اس سے محبت کرتا ہوں، اسے کسی اور کے پاس نہیں جانے دوں گا۔”
---
4. شیطانی جن
یہ وہ ہیں جو انسان کو گناہ کی طرف دھکیلتے ہیں۔
قصے مشہور ہیں کہ نشے یا گانے بجانے کی محفلوں میں اکثر شیطانی جن شامل ہو جاتے ہیں۔
کراچی میں ایک کیس بیان ہوا کہ ایک شخص نشے کی حالت میں اکثر خود کلامی کرتا تھا۔ دم کے دوران پتہ چلا کہ ایک شیطانی جن اس پر ہنسی مذاق کرتا ہے اور اسے مزید بگاڑتا ہے۔
---
5. غول
عرب دیہاتوں میں غول کا ذکر ہے کہ یہ بیابانوں اور ویران جگہوں پر لوگوں کو راستہ بھلا دیتے ہیں۔
پاکستان کے تھر اور چولستان کے لوگ بھی کہتے ہیں کہ رات کو اونٹ یا قافلے کے ساتھ چلتے چلتے انسان کو کوئی اور شکل اختیار کر کے بہکانے آتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ غول اکثر شکل بدل کر انسان کو تنہا کرتا ہے۔
---
یہ سب کہانیاں اور مشاہدات ہیں جو زیادہ تر محدثین یا مفسرین نے بطورِ واقعات یا لوگوں کے بیانات نقل کیے ہیں۔
اصل علم اللہ کے پاس ہے۔

موت کے چھ پردے اور انسان کے آخری لمحاتموت کا سفر ایک لمحے میں مکمل نہیں ہوتا۔ یہ چھ پردوں سے گزرتا ہے، اور ہر پردے میں ا...
13/12/2025

موت کے چھ پردے اور انسان کے آخری لمحات

موت کا سفر ایک لمحے میں مکمل نہیں ہوتا۔ یہ چھ پردوں سے گزرتا ہے، اور ہر پردے میں انسان ایک نئی کیفیت دیکھتا ہے۔ قرآن اور احادیث ان مرحلوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

1) پہلا پردہ – دل کی کیفیت بدلنا
انسان کے دل پر ایک ہیجانی سی کیفیت اترتی ہے۔
نیک لوگوں پر نرمی آتی ہے، دل ہلکا ہوتا ہے۔
گناہوں کے بوجھ والے بے چینی محسوس کرتے ہیں۔
یہ لمحہ بتاتا ہے کہ زندگی کا سفر ختم ہونے کے قریب ہے۔

2) دوسرے پردے کی شروعات – جسم کمزور ہونا
روح آہستہ آہستہ جسم کے نچلے حصے سے کھنچتی ہے۔
پاؤں ٹھنڈے پڑتے ہیں، انگلیاں بے جان ہونے لگتی ہیں۔
انسان دیکھ رہا ہوتا ہے، مگر اپنے بدن کی طاقت واپس نہیں لا پاتا۔

3) تیسرا پردہ – سانس کا بوجھ
جوں جوں روح اوپر کی طرف بڑھتی ہے، سانس بھاری ہوتا جاتا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب انسان سمجھنا شروع کرتا ہے کہ دنیا سے رشتہ ٹوٹ رہا ہے۔
اس وقت انسان کے دل میں ایک آخری پکار جنم لیتی ہے۔

4) چوتھا پردہ – فرشتوں کا ظہور
جب روح گلے تک پہنچتی ہے، دنیا کی حقیقت دھندلی ہونے لگتی ہے۔
پردے ہٹتے ہیں، فرشتوں کی شکلیں سامنے آتی ہیں۔
نیک روح انہیں نور کے ساتھ دیکھتی ہے،
جبکہ بدروح خوف کے ساتھ دیکھتی ہے۔

5) پانچواں پردہ – روح کی گرفت
یہ موت کا اصل وقت ہے۔
روح کو یا تو نرمی سے تھام لیا جاتا ہے
یا سختی سے کھینچا جاتا ہے۔
اسی لمحے انسان پر اس کے انجام کا پہلا منظر کھلتا ہے۔

6) آخری پردہ – دنیا سے جدا ہونا
روح نکلتے ہی انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ اب اپنے جسم کا مالک نہیں۔
وہ چاہتا ہے کہ تھوڑا وقت واپس مل جائے،
تاکہ کچھ اچھے کام کر سکے،
مگر دروازہ بند ہو چکا ہوتا ہے۔
یہی وہ وقت ہے جہاں دنیا ختم اور آخرت شروع ہوتی ہے۔

09/12/2025

07/12/2025

پورن ایڈیکشن  کی تباہ کاریاں ! جب ٹیلی ویژن نہی تھا تو پورنوگریفک مواد رنگین اور سادہ میگزینز کی صورت آیا کرتا تھا پھر س...
06/12/2025

پورن ایڈیکشن کی تباہ کاریاں !
جب ٹیلی ویژن نہی تھا تو پورنوگریفک مواد رنگین
اور سادہ میگزینز کی صورت آیا کرتا تھا پھر سینما پر انگریزی رنگین فلموں کی نمائش شروع ھوئ ، پھر وی سی آر کا زمانہ آیا گلی گلی ویڈیو سینٹرز کھلے P**n movies تک رسائ VCR کے زریعے لوگوں کی ھوئ ، رنگین سیکسی رسالوں سے پورن موویز کا سلسلہ شروع ھوا۔۔۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی تو 1978 کے بعد عام ھوا جو 1990 میں رنگین ٹی وی عام ھوے تو ویڈیو سنٹرز کی دوکانیں ھر گلی محلے بازار کھلیں جہاں چھپ چھپا کر پورن موویز دیکھی یا دکھائ جاتی تھیں یا وی سی آر کرایہ پر لوگ لے کیا کرتے تھے وہ بھی کسی شادی بیاہ پر ۔۔۔پھر ڈی وی ڈی ، اور ڈش انٹینا کا دور آیا ، ویڈیو کیسٹس سے ڈی وی ڈی پلیئر آگیے پورن موویز کو اور زیادہ دیکھا جانے لگا۔۔۔ سن 2000 کے بعد انٹرنیٹ آیا جب کہ 2002/3 میں انٹرنیٹ آیا انٹرنیٹ کیفے کھلے وھاں بھی پاکستانی قوم انٹرنیٹ کیبن کے اندر انٹرنٹ کیفے میں جا کر پورن موویز ھی دیکھا کرتی تھی ۔۔ جہان سے پورن موویز کے منفی اثرات ھمارے معاشرے میں نوٹس کیے جانے لگے۔

آپ کو یاد ھو گا 2003 سے 2007 اسلام آباد انٹرنیٹ کیفے سکینڈلز میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کی CCTV ویڈیو ریکارڈنگ کے ویڈیو سکینڈلز لیک ھوے درجنوں لڑکیوں نے خودکشیاں کر لیں جن کے نازیبا ویڈیوز انٹرنیٹ سکینڈل کی صورت وائرل ھوے یہاں سے پورنوگریفک کانٹینٹ کے منفی اثرات نوٹس کیے جانے لگے۔۔۔ جگہ جگہ ویڈیو سنٹرز کے بعد انٹرنیٹ کیفے کھلنا شروع ھوے جہاں لوگوں کو یاھو چیٹ اور ھلکا پھلکا Yahoo سرچ انجن چلانا آتا تھا لیکن انٹرنیٹ کیفوں پر چیٹنگ اور پورن براؤزنگ کے لیے ویڈیو فلموں کی لت کے شکار نوجوان آتے تھے ۔۔ پورن دیکھنے کے بعد گلے محلوں میں چھوٹے بچے بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے کیسز رپورٹ ھونا شروع ھوے یہ 2000 کے بعد کا زمانہ ھے۔۔۔ انٹرنیٹ کیفے سکینڈل کے بعد جنسی زیادتیوں کے کیسز معاشرے میں سر اٹھانے لگے، مجھے یاد ھے یہ 2002 کا زمانہ تھا جب اسلام آباد انٹرنیٹ کیفے سے CCTV ویڈیو سکینڈلز اے تھے درجنوں لڑکیوں نے خودکشیاں کی تھیں یہ جوڑے نٹ کیفے پر کیںن می آ کر پورن دیکھتے تھے اور ساتھ رومینس بھی کرتے تھے جس کی ریکارڈنگ لیک کی گئ ۔۔

آج بھی آئے روز آپ جنسی زیادتیوں کے کیسز پڑھتے سنتے ھیں ان سب کا سبب پورنوگریفک کانٹینٹ ھے جو انسانی زھن کو تباہ کرتا ھے ، انسان کو جانور بنا دیتا ھے . پورن ایڈیکشن کا سب سے بڑا نقصان زھنی اور دماغی بگاڑ ھے انسانی دماغ کے سامنے والا حصہ متاثر ھوتا ھے فیصلہ سازی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ھو جاتی ھے

جب سے موبائل آیا ھے موبائل انٹرنیٹ بڑھا ھے ھر کسی کی رسائ ھوتی ھے لڑکوں کے ساتھ ساتھ کالجز یونیورسٹیز کی لڑکیاں بھی پورن دیکھتی ھیں پاکستان ٹاپ رینکنگ میں آتا ھے پورنوگریفک content search میں اور دیکھنے والوں میں اس پورن ایڈیکشن کے انسانی زھن پر انتہائ منفی اثرات ھیں جس معاشرے میں ھم رھتے ھیں ۔

میرے پاس جہاں Ma********on Addiction کے کیسز ھوتے ھیں وھاں P**n addiction کے کیسز کے ساتھ ساتھ Unwanted Homosexuality کے کیسز بھی بہت آتے ھیں مشت زنی کی اڈیکشن کا شکار لڑکا یا لڑکی ضرور پورن ایڈیکشن کا شکار ھوتے ھیں یا پورن ایڈیکشن کے شکار ضرور مشت زنی کی لت کا شکار ھوتے ھیں جو S*xual Performance anxiety کے ساتھ ساتھ Guilt کا شکار ھوتے ھیں

احساس گناہ اور پرفامنس انزایٹی پورن دیکھنے والوں کی بڑھتی ھے جو اریکٹائل ڈسفنکشن اور سرت انزل یعنی پری میچور ایجیکولیشن کا سبب بھی بنتی ھے ۔فلمی دنیا اور حقیقت کی دنیا ھمیشہ کچھ اور ھی ھوتی ھے پورن ویڈیو کئ کئ دن کی شوٹنگ کے بعد ایڈٹ کر کہ بناے جاتے ھیں۔۔۔ ایڈیکشن کسی بھی چیز کی ھو ڈوپامین میسر ھوتی ھے addicted person کو اور پورن دیکھنے والا بور ھو جاتا ھے پھر وہ نت نئ کیٹاگری کی تلاش کرتا ھے کچھ عرصہ بعد وہ بھی اسے اچھی نہی لگتی اسے ڈوپامین نہی ملتی پھر وہ نئ کیٹاگری کے پورن دیکھتا ھے ایسا وہ کرتا جاتا ھے اور بے حیائ کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ھے ۔

میرے پاس ھم جنس پرستی کے کئ کیسز اے جس میں پتا چلا کہ مریض پورن دیکھتا تھا اور اس میں بھی Gay S*x ھی صرف دیکھتا تھا اب کچھ کیسز میں موروثی ھوموسیکشویلٹی کے شکار مریض خود سے ھی ایسی کیٹاگری کی تلاش کر لیتے ھیں جب کہ کچھ ایسے سرچ کرتے کرتے دیکھ دیکھ کر بچپن سے انکی S*xuality S*xual attraction ڈیویلپ ھو جاتی ھے تو سب سے پہلے علاج میں میں انکی پورن ایڈیکشن کا علاج کرتا ھوں پھر انکی کونسلنگ اور تھراپی کی جاتی ھے ۔۔۔

کچھ شادی شدہ مرد پورن دیکھتے ھیں اور کچھ ایسے بھی ھوتے ھیں جو میاں بیوی مل کر پورن دیکھتے ھیں یہ مل کر پورن دیکھنے والے آگے چل کر مزید پیچیدہ ازدواجی مسائل اور سوشل ایشوز کا شکار ھوتے ھیں جب وہ مختلف قسم کے سیکس دیکھتے دیکھتے گروپ سیکس تک پہنچتے ھیں اور اسے آگے انکی جو S*xual fainticies جنم لینا شروع کرتی ھیں یہ اس کی تکمیل میں لگ جاتے ھیں ، انکو ڈوپامین نارمل سیکس ، یا عام یا ان مخصوص پورن کی کیٹیگریز سے حاصل نہی ھوتی تو ان کو تسکین مزہ جسے ڈوپامین کہہ سکتے ھیں تب ھی ملتی ھے جو وہ اپنی فینٹسی پر ورک کرتے ھیں ایسے ھی لوگ یا couple اپنی بیویاں بدلتے ھیں ، آپ نے پاکستان میں سنا بھی ھو گا اسلام آباد یا لاھور کراچی ، دوبئ میں ایسے گروپ ھیں ایی کلاس بھی جوڑوں کی رھتی ھے جو آپس میں پارٹنرز بدلتے ھیں یہ وہ ھی لوگ ھوتے ھیں جو بچپن سے پورن ایڈیکشن کا شکار ھوتے ھیں اب ان کی فینٹیسی گروپ سیکس اور اسی طرح دیگر فینٹیسیز کی تکمیل میں تسکین کا حصول ھوتا ھے ۔۔۔ یہ لیول بے غیرتی کا بے حیائ کا انتہا کا لیول ھوتا ھے ۔۔۔ شراب نوشہ ، شیشہ ، آئس کا نشہ آپ کو اسی کلاس میں ملے گا ۔۔۔ میں نے پورن ایڈیکشن کی ابتدا سے انتہا تک کہ ساری تصویر کشی آپ کے سامنے اس لیے کی ھے کہ شروع سے آخر تک یہ انسان سے انسانیت چھین لینے والی لت ھے ، آے دن گلی محلوں شیروں دہاتوں میں تین سال ، پانچ سال سات سالہ بچے بچیوں کی لاشیں کھیتوں سے کوڑے کے ڈھیروں سے مسخ شدہ ملتی ھیں ان کے قاتل انکے عزیزی رشتہ دار محلے دار دوکاندار ھی ھوتے ھیں جو پورن ایڈیکشن کا شکار ھوتے ھیں ۔۔۔

اگر اس کا علاج نہ کروایا جاے تو ایسے لوگ یا ڈپریشن کا شکار ھو جاتے خودکشی کی طرف چلے جاتے کیونکہ انکی ازدواجی زندگی تباہ ھو جاتی ھے فیملی لائف پر لطف نہی رھتی جس کلاس میں یہ اٹھتے بیٹھے وقت گزاری کرتے اس کلاس میں بھی کرائم ریٹ زیادہ ھوتا ھے گویا ھر سطح پر اس کے نقصانات ھی نقصانات ھی ھیں دینی ھوں دنیاوی ھوں جزباتی ھوں روحانی ھوں ۔۔۔

آج کے اس دور میں جہاں انٹرنیٹ کی رسائ بچوں جوانوں بوڑھوں سب کو ھے اگر کسی کو بھی پورن ایڈیکشن ھو گی وہ اس کے کا شکار ھو گیا اسکا من اسکا زھن گندہ آلودہ ھو گیا وہ کسی بھی وقت خود کو کسی کو جنسی جسمانی نقصان پہنچا سکتا ھے۔

اس کا حل یہ ھے کہ خود کو مصروف رکھیں ، تنہا مت رھیں ، بامقصد زندگی گزاریں ، اپنے دوست کامیاب اور زھین نیک و پارسا لوگ رکھیں ، علاج کروائیں ، کونسلنگ کے لیے رابطہ کریں اپنی لائف کو اپنے لائف سٹائل کو بہتر کریں کسی بھی چیز کہ زیادتی زھر کی طرح خطرناک ھوتی ھے ۔ پورنوگریفک مواد ذھنوں کو آلودہ کرتا ھے اس کا شکار مرد یا عورت کا زھن کوڑے کے ڈھیر کی طرح ھوتا ھے لہذا آلودگی زمینی ھو آبی ھو ، فضائ ھو یا زھنی ھو انسانیت کے لیے انسانوں کے لیے انسانوں کے معاشرے کے لیے اور اس انسان کے لیے بھی اتنی ھی خطرناک ھوتی ۔

اگر آپ یا آپ کا کوئ دوست اس قسم کے مسائل شکار ھے تو کسی حکیم و ڈاکٹر یا کسی کلینکل سایکالوجسٹ کی خدمات حاصل کرے ۔
Copied

Address

Riyadh
11564

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sajid ali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share