17/05/2026
“جس کی شادی نہیں ہوتی، اسے خود معلوم ہوتا ہے کہ اس کی عمر بڑھ رہی ہے۔ جس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی، وہ اپنی اس خواہش اور کمی کو دل ہی دل میں محسوس کرتا ہے۔ جس کے پاس روزگار نہیں ہوتا، وہ بخوبی جانتا ہے کہ اسے نوکری اور آمدن کی کتنی ضرورت ہے۔ ہر شخص اپنی حالت، اپنی مجبوریوں اور اپنی خواہشات سے آگاہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے لیے بہتر وقت کا انتظار بھی کرتا ہے اور اللہ سے دعا بھی مانگتا ہے۔ اسے بار بار یاد دلانے، سوال کرنے یا ٹوکنے کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو انسان چپ چاپ خود ہی سہہ رہا ہوتا ہے۔ آپ کے بار بار کے سوال، چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ لگیں، کسی کے دل پر بوجھ بن سکتے ہیں، کسی کی خاموشی کے پیچھے چھپی تکلیف کو اور گہرا کر سکتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ نہ آپ نے اس کی شادی کا خرچ اٹھانا ہے، نہ آپ اس کی اولاد کی ذمہ داری لیں گے، اور نہ ہی آپ اس کے گھر کے مسائل حل کرنے والے ہیں۔ تو پھر کیوں کسی کی زندگی میں بے جا مداخلت کرنا؟ کیوں کسی کے صبر کا امتحان لینا؟ کیوں ایسے سوال پوچھنا جو اس کے زخموں کو تازہ کر دیں؟ ہر انسان اپنی ایک الگ جنگ لڑ رہا ہے، کوئی مالی مشکلات سے گزر رہا ہے، کوئی رشتوں کی کمی سے، اور کوئی اپنی خواہشات کے ادھورے رہ جانے کے درد سے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں، ان کے لیے دعا کریں، ان کا حوصلہ بڑھائیں، نہ کہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکیں۔ خدارا! اس رویے سے باز آئیں۔ خود بھی سکون سے جئ