Voice Of Pakhtoon

Call Website Contact the business

Voice Of Pakhtoon Education , Song , entertainment , News , Sports .

وزیرستان میں بھی دانش سکول بنایا جائےحکومتِ پنجاب میں دانش سکول غریب اور ذہین بچوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ وزیرِ اعظ...
18/10/2026

وزیرستان میں بھی دانش سکول بنایا جائے

حکومتِ پنجاب میں دانش سکول غریب اور ذہین بچوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ وزیرِ اعظم پاکستان بھی اب دوسرے صوبوں میں دانش سکول بنا رہے ہیں، یہ بہت اچھا اقدام ہے۔

ہماری وزیرِ اعظم پاکستان میاں شہباز شریف صاحب سے گزارش ہے کہ ایک دانش سکول شمالی وزیرستان میں بھی بنایا جائے۔

یہاں ہزاروں ذہین بچے ہیں جو اچھے سکول نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگر وزیرستان میں دانش سکول بن جائے تو ہمارے غریب گھرانوں کے بچوں کو بھی مفت اور معیاری تعلیم مل سکے گی۔

وزیرستان کے بچے بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے لاہور اور اسلام آباد کے۔

خدارا وزیرستان کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جائے۔


ہمارا وزیرستان ٹیلنٹ سے بھرا ہے لیکن تعلیم اور جدید ہنر کی کمی کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔اب ہم نے قسم کھائی ہے کہ ہم...
13/09/2026

ہمارا وزیرستان ٹیلنٹ سے بھرا ہے لیکن تعلیم اور جدید ہنر کی کمی کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔

اب ہم نے قسم کھائی ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو آگے لے کر جائیں گے۔

ہم کیا دیں گے:
1. تعلیم کی طرف رہنمائی- کیریئر کونسلنگ، اسکالرشپ کی معلومات
2. سائبر سیکیورٹی کی مکمل گائیڈ لائن - زیرو سے ایکسپرٹ تک کا روڈ میپ
3. فری سپورٹ - جو بھی سوال ہو ہم جواب دیں گے
4. انشاءاللہ کورس بھی- جلد ہی ہم اپنے لوگوں کے لیے سائبر سیکیورٹی کا کورس بھی شروع کریں گے

یہ موقع کس کے لیے ہے؟
ہر اس نوجوان کے لیے جو پڑھنا چاہتا ہے، سیکھنا چاہتا ہے اور وزیرستان کا نام روشن کرنا چاہتا ہے۔

تعلیم + سکل = کامیابی

آئیں مل کر وزیرستان کو ڈیجیٹل دنیا میں آگے لے جائیں!

👇 سائبر سیکیورٹی میں دلچسپی رکھنے والے سٹوڈنٹس ابھی گروپ جوائن کریں 👇
WhatsApp Group Join https://chat.whatsapp.com/GSV4HjYeKhAIu99U11iBQD?s=cl&p=a&mlu=4&ilr=4

اس پیغام کو آگے شیئر کریں۔ شاید کسی کا مستقبل بدل جائے ❤️



وزیرستان کی پکار: وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے اپیل! 🎓🇵🇰ہم **وزیراعظم پاکستان** اور **وزیر اعلیٰ خیبر...
13/09/2026

وزیرستان کی پکار: وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے اپیل! 🎓🇵🇰
ہم **وزیراعظم پاکستان** اور **وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا** سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیرستان کے غیور نوجوانوں کے مستقبل پر توجہ دی جائے اور یہاں **"پیر روشن یونیورسٹی وزیرستان"** کا قیام فوری عمل میں لایا جائے۔
دہائیوں سے بدامنی اور پسماندگی کا شکار رہنے والے اس خطے کی سب سے بڑی اور بنیادی ضرورت اب اعلیٰ تعلیم ہے۔ ہمارے ہزاروں قابل طلبہ اور طالبات صرف اس وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ انہیں دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس کے اخراجات غریب قبائلی عوام برداشت نہیں کر سکتے۔
جناب وزیراعظم اور جناب وزیراعلیٰ صاحب! وزیرستان کے نوجوانوں کو بندوق کے بجائے قلم اور کتاب کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ آپ اس دیرینہ مطالبے کو پورا کر کے وزیرستان کی دھرتی کو علم کی روشنی سے منور کریں گے۔
نوجوانو! اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہماری یہ آواز اسلام آباد اور پشاور کے ایوانوں تک پہنچے! 📢👇

Mian Shehbaz Sharif
Muhammad Sohail Afridi
MNA Mufti Misbahuddin
Manzoor Ahmad Pashteen
Muhammad Iqbal Wazir
Mohsin Dawar
Maryam Nawaz Sharif
𝐍ek Muhammad Khan
Hayat Preghal
fans

ہمارے وزیرستان کے نوجوان تعلیم میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے ذریعے آگے بڑھیں۔اسی لیے ہم ب...
12/09/2026

ہمارے وزیرستان کے نوجوان تعلیم میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے ذریعے آگے بڑھیں۔

اسی لیے ہم بنا رہے ہیں *"وزیرستان سائبر سیکیورٹی لرننگ لنک"*
مقصد: اپنے بھائیوں اور بہنوں کو سائبر سیکیورٹی سکھانا تاکہ وہ اپنا مستقبل محفوظ بنائیں اور ملک کا نام روشن کریں۔

آج کے دور میں سائبر سیکیورٹی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ بینک، کمپنیاں اور حکومت سب کو ماہرین چاہیے۔
آئیں مل کر سیکھیں، آگے بڑھیں اور وزیرستان کا نام روشن کریں
نیچے واٹساپ گروپ کی لینک دیا ہے اس گروپ کو جوائن کریں ۔https://chat.whatsapp.com/GSV4HjYeKhAIu99U11iBQD?s=cl&p=a&mlu=4&ilr=4

21/08/2026

21اگست 1961ء یوم وفات
سید عطاء اللہ شاہ بخاری رح
میرا ایک ہی نصب العین ہے اور وہ یہ کہ
برطانوی سامراج کی لاش کو کفنانا یا دفنانا.

ترک اقوام کی تاریخ صرف موجودہ جمہوریہ ترکی تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں وسطی اور اندرونی ایشیا کی قدیم تاریخ میں پیوست ...
16/08/2026

ترک اقوام کی تاریخ صرف موجودہ جمہوریہ ترکی تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں وسطی اور اندرونی ایشیا کی قدیم تاریخ میں پیوست ہیں۔ جدید ترکی کی ریاست 1923ء میں قائم ہوئی، جبکہ اناطولیہ اس سے ہزاروں سال پہلے مختلف اقوام اور تہذیبوں کا مسکن رہا۔ یہاں حِتّی، یونانی، آرمینی، رومی، بازنطینی اور دیگر اقوام مختلف ادوار میں آباد رہیں۔

قدیم ترک اقوام کا ابتدائی تاریخی مرکز وسطی و اندرونی ایشیا کے وسیع میدان تھے۔ چھٹی صدی عیسوی میں گوک ترک (Göktürk) سلطنت ایک بڑی ترک سیاسی طاقت کے طور پر ابھری۔ اسی دور کے حوالے سے “Türk” نام کے واضح تاریخی شواہد بھی سامنے آتے ہیں۔ بعد کی صدیوں میں مختلف ترک قبائل وسطی ایشیا سے مغرب، جنوب اور مشرق کی طرف پھیلتے گئے۔

“ترک” صرف موجودہ ترکی کے باشندوں کا نام نہیں۔ ترک اقوام ایک وسیع لسانی و تاریخی خاندان ہیں جن میں ترک، آذربائیجانی، ترکمان، ازبک، قازق، قرغیز اور اویغور سمیت متعدد اقوام شامل ہیں۔ ان کی زبانیں Turkic language family سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ ایک ہی زبان کے محض مختلف لہجے نہیں بلکہ الگ الگ، اگرچہ باہم متعلق، زبانیں ہیں۔

ترکوں کے نسب کے متعلق قدیم مسلم تاریخی اور نسبی روایات میں انہیں حضرت نوحؑ کے بیٹے یافث کی اولاد سے منسوب کیا گیا ہے۔

مسلم فتوحات کے بعد مسلمانوں کا وسطی ایشیا کی ترک اقوام سے رابطہ بڑھنا شروع ہوا۔ ساتویں اور آٹھویں صدی میں عمسلم افواج ایران سے آگے ماوراءالنہر کی جانب پہنچیں۔ اموی دور میں قتیبہ بن مسلم کی مہمات کے نتیجے میں بخارا، سمرقند اور وسطی ایشیا کے دوسرے علاقوں میں مسلم سیاسی اثر مضبوط ہوا۔ تاہم ترک اقوام کا اسلام قبول کرنا کسی ایک جنگ یا ایک حکمران کے زمانے میں مکمل نہیں ہوا؛ یہ کئی صدیوں پر محیط ایک تدریجی عمل تھا۔

عباسی دور میں ترک فوجیوں کا کردار غیر معمولی طور پر بڑھ گیا۔ خاص طور پر خلیفہ المعتصم باللہ (833–842ء) نے ترک سپاہیوں اور فوجی غلاموں کو اپنی فوج میں نمایاں مقام دیا۔ ان کے لیے سامرّا میں ایک نیا فوجی اور انتظامی مرکز قائم کیا گیا۔ آنے والی دہائیوں میں بعض ترک فوجی کمانڈروں کا اثر اس قدر بڑھ گیا کہ وہ عباسی خلافت کی داخلی سیاست اور خلفاء کے انتخاب و معزولی تک میں اثرانداز ہونے لگے جس نے عباسی خلافت کو کمزور کیا۔

ترک اقوام میں اسلام کے پھیلاؤ کا ایک اہم مرحلہ قراخانی سلطنت کے دور میں آیا۔ دسویں صدی کے حکمران ستوق بغرا خان کو اسلام قبول کرنے والے اولین اہم قراخانی حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے بعد قراخانی حکمرانوں اور رعایا میں اسلام تیزی سے پھیلا اور قراخانی ریاست وسطی ایشیا کی اولین بڑی مسلم ترک سلطنتوں میں شمار ہونے لگی۔ بعض قدیم روایات میں ایک ہی وقت میں بہت بڑی تعداد میں ترک خاندانوں کے مسلمان ہونے کا ذکر ملتا ہے۔

گیارہویں صدی میں سلجوقی ترک ایک عظیم سیاسی اور فوجی طاقت بن کر ابھرے۔ انہوں نے ایران، عراق اور آس پاس کے وسیع علاقوں پر اقتدار قائم کیا اور بغداد میں عباسی خلیفہ کی سیاسی و عسکری حمایت بھی کی۔ اسی سلجوقی توسیع نے ترک اقوام کو اناطولیہ کی تاریخ میں فیصلہ کن مقام تک پہنچایا۔

اس سلسلے کا سب سے مشہور واقعہ 1071ء کی جنگِ ملازکرد (Manzikert) ہے، جس میں سلجوق سلطان الپ ارسلان نے بازنطینی شہنشاہ رومانوس چہارم کی فوج کو شکست دی۔ یہ جنگ اناطولیہ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ترکمان قبائل کی اناطولیہ میں نقل مکانی اور آبادکاری میں تیزی آئی اور رفتہ رفتہ مختلف ترک ریاستیں قائم ہونے لگیں۔

اناطولیہ کا ترک اور مسلم اکثریتی خطہ بننا کئی صدیوں پر محیط تاریخی عمل تھا۔ پہلے سلطنتِ سلجوقِ روم ابھری، پھر مختلف ترک بیلیک قائم ہوئے، اور انہی میں سے عثمانی خاندان نے ترقی کرکے عظیم سلطنتِ عثمانیہ قائم کی۔ عثمانی سلطنت نے کئی صدیوں تک اناطولیہ سمیت وسیع علاقوں پر حکومت کی، یہاں تک کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد اس کا خاتمہ ہوا اور 1923ء میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں جمہوریہ ترکی قائم ہوئی۔

یوں موجودہ ترکی کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے 1923ء یا سلطنتِ عثمانیہ سے بہت پیچھے وسطی ایشیا تک جانا پڑتا ہے۔ ترک اقوام وسطی و اندرونی ایشیا سے نکل کر مختلف علاقوں میں پھیلیں، ان میں اسلام بتدریج فروغ پایا، انہوں نے اسلامی دنیا کی فوجی اور سیاسی تاریخ میں اہم مقام حاصل کیا، اور بالآخر سلجوقیوں اور پھر عثمانیوں کے ذریعے اناطولیہ کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

16/08/2026

❤️

16/08/2026
7 اکتوبر 2023ء سے جاری نسل کشی میں اب تک غزہ میں 21,546  بچے شہید ہوچکے ہیں۔ یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ ایک سو اسی (180) مت...
16/08/2026

7 اکتوبر 2023ء سے جاری نسل کشی میں اب تک غزہ میں 21,546 بچے شہید ہوچکے ہیں۔ یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ ایک سو اسی (180) متوسط درجہ کے پرائمری اسکولوں میں پڑھنے والے ٹوٹل بچوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ ان شہید بچوں میں سے ایک ایک کا جنازہ یومیہ پڑھا جائے تو 59 سال اور 11 دن لگ سکتے ہیں۔
القدس اور مسجد اقصیٰ کے محقق ڈاکٹر عبداللہ معروف عمر کہتے ہیں: "کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر غزہ میں شہید ہونے والے ہر بچے کے جنازے میں شرکت کی جائے، تو آپ کو 59 سال تک ہر روز ایک جنازے میں جانا پڑے گا۔"
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہر روز صرف ایک بچے کا جنازہ پڑھا جائے تو یہ سفر 59 سال اور 11 دن تک جاری رہے گا۔
ذرا تصور کیجیے!
ایک انسان بچپن سے بڑھاپے تک کا پورا زمانہ گزار دے، نسلیں بدل جائیں، بال سفید ہوجائیں، دنیا کا نقشہ بدل جائے، لیکن غزہ کے شہید بچوں کے جنازے ختم نہ ہوں۔
اس سے آپ نسل کشی کی اس وحشت ناک صورت حال کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ ایک پوری نسل کی تباہی کا قصہ ہے۔ ہزاروں ادھورے خوابوں، معصوم مسکراہٹوں، خالی جھولوں، سنسان اسکولوں اور ہمیشہ کے لیے خاموش ہوجانے والی ننھی آوازوں کی داستان ہے۔
غزہ کے بچے محض گنتی کے عدد تو نہیں، بلکہ وہ ماؤں کی دعائیں، باپوں کی امیدیں اور امت کے زخمی دل کی دھڑکنیں ہیں۔
اللّٰہم ارحم أطفال غزة، واحفظ من بقي منهم، واكتب للشهداء الفردوس الأعلى

° امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کے شاہکار ° ☆☆☆☆ غبار خاطر ☆☆☆☆”غبار خاطر“ مولانا آزاد کے خطوط کا مجموعہ ہے۔ یہ تمام...
16/08/2026

° امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کے شاہکار °

☆☆☆☆ غبار خاطر ☆☆☆☆

”غبار خاطر“ مولانا آزاد کے خطوط کا مجموعہ ہے۔ یہ تمام خطوط نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی رئیس بھیکم پور ضلع علی گڑھ کے نام لکھے گئے۔یہ خطوط قلعہ احمد نگر میں 1942ء تا 1945ء کے درمیان زمانہ اسیری میں لکھے گئے ۔ مولانا کی زندگی کا ایک بڑا حصہ قید و بند میں گزرا مگر اس بار قلعہ احمد نگر کی اسیری ہر بار سے سخت تھی کیونکہ اس بار نہ کسی سے ملاقات کی اجازت تھی اور نہ کسی سے خط و کتابت کرنے کی۔ اس لیے مولانا نے دل کا غبار نکالنے کا ایک راستہ ڈھونڈنکالا۔اور خطوط لکھ کر اپنے پاس محفوظ کرنا شروع کر دیے۔ مولانا نے خود اسی مناسبت سے ان خطوط کو غبار خاطر کا نام دیا ہے اور خط غبار من است این غبار خاطر سے اسے تعبیر کیا ہے۔ایک خط میں شروانی صاحب کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں: جانتا ہوں کہ میری صدائیں آپ تک نہیں پہنچ سکیں گی۔ تاہم طبع ِ نالہ سنج کو کیا کروں کہ فریاد و شیون کے بغیر رہ نہیں سکتی ۔ آ پ سن رہے ہوں یا نہ رہے ہوں میری ذوق مخاطبت کے لئے یہ خیال بس کرتا ہے کہ روئے سخن آپ کی طرف ہے۔

سجاد انصاری نے آزاد کے بارے میں لکھا ہے کہ:

” اگر قرآن اردو میں نازل ہوتا تو اس کے لئے ابولکلام کی نثر یا اقبال کی نظم منتخب کی جاتی۔ “
بیسویں صدی کی اہم ادبی شخصیتوں میں مولانا پر کچھ لکھنا جتنا آسان ہے اتنا ہی دشوار ہے ۔ آسان ان معنوں میں کہ ان کی شخصیت ایک ایسے دیوتا کے مانند ہے جس کے بت کے سائے رقص کرکے پوری عمر گزاری جا سکتی ہے۔ اور دشوار اس طرح کہ ان کے ادبی کارناموں کی قدر و قیمت متعین کرنے کے لیے جب ہم ادب کے مروجہ اصولوں کو سامنے رکھتے ہیں یا اس کسوٹی کو استعما ل کرتے ہیں جس پر عام ادیبوں کا کھرا کھوٹا پرکھا جا سکتا ہے۔ تو قدم قدم پر یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ یا توہم ان کارناموں کے ساتھ پورا انصاف نہیں کررہے ہیں یا وہ کسوٹی جھوٹی ہے۔ جس کی صداقت پر اب تک ہمارا ایما ن تھا۔ آزاد ہمارے ان نثر نگاروں میں ہیں جن کے ابتدائی کارناموں پر ہمارے بڑے بڑے انشاء پرداز سر بسجود ہو گئے تھے۔غبار خاطر کے اسلوب کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔

متعد د اسالیب نثر پر قدرت

ابوالکلام آزاد کی انشاء پردازی کا کمال یہ ہے کہ ان کی تحریر کے انداز ایک سے زیادہ ہیں۔ وہ متعدد اسالیب ِ نثر پر قدرت رکھتے ہیں اور حسب ضرورت انہیں کامیابی کے ساتھ برتتے ہیں۔ الہلال و ابلاغ کے اداریے اور مضامین گھن گرج اور پرشکوہ انداز بیان کے متقاضی تھے۔ وہاں یہی اسلوب پایا جاتا ہے۔ تذکرے کے لیے علمی طرز تحریر کی ضرورت تھی ۔ وہ وہاں موجود ہے۔ غبار خاطر خطوط کا مجموعہ ہے لیکن ان خطوط کے موضوعات الگ الگ ہیں اور موضوع کا تقاضا بھی الگ ہے۔ اس لیے موضوع کی مناسبت سے تحریر کے مختلف اسلوب اختیار کئے گئے ہیں۔ کہیں آسان عام فہم زبان ہے تو کہیں فارسی آمیز علمی زبان تو کہیں شعریت کا غلبہ ہے۔

عام فہم زبان

عام فہم زبان غبار خاطر کے کئی خطوط میں نظر آتی ہے۔ مگر وہیں جہاں موضوع اس کا مطالبہ کرتا ہے۔ مثلاً چڑا چڑیا کی کہانی ہر چند ایک علامتی کہانی ہے مگر ہے بہر حال کہانی ۔ یہاں واقعات زیادہ اہم ہیں اور ان پر توجہ کا مرکوز رہنا ضروری ہے۔ اس لیے یہاں سادہ سہل زبان استعمال کی گئی ہے اور اندازا ہوتا ہے کہ مولانا اس زبان پر بھی پوری قدرت رکھتے ہیں۔ ایک خط کا اقتباس ملاحظہ ہو۔

” لو گ ہمیشہ اس کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ زندگی کو بڑے بڑے کاموں کے لئے کام میں لائیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ یہاں ایک سب سے بڑا کام خود زندگی ہوئی یعنی زندگی کو ہنسی خوشی کاٹ دینا۔ یہاں اس سے زیادہ سہل کام کوئی نہ ہوا کہ مرجائیے اور اس سے زیادہ مشکل کام کوئی نہ ہوا کہ زندہ رہیے۔ جس نے مشکل حل کرلی۔ اس نے زندگی کا سب سے بڑا کام انجام دے دیا۔
مذید فکری، نظریاتی، سیاسی اور تاریخی مضامین کے لیے فکر شیخ الہند پیج کے ساتھ منسلک رہے، شکریہ

Address

Riyadh

Telephone

+923439898597

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice Of Pakhtoon posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Voice Of Pakhtoon:

Shortcuts

Share