27/03/2026
یہ کون ہے؟
یہ کیسا آدمی ہے؟! 🇮🇷
کرنل ابراہیم ذو الفقاری… ایران میں "مرکز خاتم الانبیاء" کے مرکزی فوجی ترجمان۔پاسد_اران انقلاب کا ڈی جی ایس پی آر۔
شاید آپ نے گزشتہ دنوں ان کا نام سنا ہو، لیکن کہانی صرف فوجی بیانات تک محدود نہیں ہے۔
30 سے 40 سال کے قریب عمر کا ایک نوجوان، کرنل کے عہدے پر، جو چار زبانیں روانی سے بولتا ہے:
فارسی، عربی، انگریزی اور عبرانی۔
جی ہاں… وہ اسرائیل اور امریکہ کو انہی کی زبان میں پیغاماتِ بازدار (deterrence) دیتا ہے!
غیر معمولی تعلیمی پس منظر (جیسا کہ بتایا جاتا ہے):
علم فلسفہ۔رياضي۔ٹیکنالوجی۔علوم دینیہ حوزہ علمیہ قم المقدسہ کا ادنی سا طالب علم۔
لیکن سب سے اہم بات:
جب ایک ہی دن میں بڑے کمانڈرز کو شہید کیا گیا اور کہا گیا کہ ایران نے اپنی طاقت کھو دی ہے، تو یہ ہی استقامت کی آواز بنا جس نے کہا:
"جنگ کا فیصلہ میدان کرتا ہے، سوشل میڈیا نہیں۔"
صرف ایک ہفتے میں، وہ ایک فوجی ترجمان سے مشرقِ وسطیٰ میں میڈیا کی ایک نمایاں شخصیت بن گیا۔
اور یہ تعریف صرف اس کی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے نہیں تھی…
بلکہ اس لیے کہ مشرقِ وسطیٰ، جو جنگوں، ٹارگٹ کلنگ اور کمزوری سے تھک چکا ہے، اسے اس میں ایک امید نظر آئی۔
ایک ایسی امید کہ ایک نوجوان لیڈر، جو فلسفیانہ حکمت اور فوجی سختی کو یکجا کرتا ہو، اور اپنے دشمنوں کی زبان میں اعتماد کے ساتھ بات کرتا ہو، بغیر ہچکچاہٹ کے بازدار کی جنگ کی قیادت کر سکتا ہے۔
ایک ایسے لمحے میں جب سب لوگ کسی زوال کے منتظر تھے، اس نے بحران میں پیدا ہونے والی قیادت کی مثال پیش کی، نہ کہ محلات میں۔
مشرقِ وسطیٰ حقیقی طاقت کا احترام کرتا ہے… اور اس شخص نے کمزور ترین لمحوں میں اس طاقت کو مجسم کیا۔
ابراہیم ذو الفقاری کو ایران کی فوجی آواز سمجھا جاتا ہے، جو دنیا کے لیے پیغام دیتی ہے، اور وہ ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت کا نیا چہرہ بن کر سامنے آیا ہے۔
اس کا انداز ایک پیچیدہ ابلاغی حکمتِ عملی پر مبنی ہے:
"پہلے دھمکی، پھر اثر کا ثبوت"
یہ انداز دشمن اور عوام دونوں کو انتظار کی کیفیت میں رکھتا ہے۔
سکیورٹی میڈیا کے نقطۂ نظر سے، ذو الفقاری کا انداز "فوجی فہم کی مینجمنٹ" میں آتا ہے، جہاں مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ دشمن اور عوام کے ذہن میں صلاحیت اور نیت کا تصور بنانا ہوتا ہے۔
پہلا بیان ایک توقع پیدا کرتا ہے، جبکہ دوسرا بیان نتیجے کے اثر کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
وہ اپنی گفتگو میں بہت کم الفاظ استعمال کرتا ہے، مگر وہ براہِ راست ہوتے ہیں اور طاقت اور نتیجے کا واضح پیغام دیتے ہیں—یہ انداز فوجی ابلاغ کے نظریات سے ہم آہنگ ہے۔
ذو الفقاری نے فوجی ترجمان کو محض بیان دینے والے سے بڑھا کر میدانِ جنگ کا حصہ بنا دیا ہے، جہاں خود خطاب بھی جنگی عمل کا حصہ بن جاتا ہے:
دھمکی → میڈیا میں انتظار → دھمکی کا عملی ثبوت → طاقت کی تصویر کو مضبوط کرنا
ابراہیم ذو الفقاری "آپریشنل اسپوکس مین" (Operational Spokesman) کی ایک مثال ہے، جو فوجی ابلاغ کا ایک جدید انداز ہے اور زمینی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ کام کرتا ہے۔