11/25/2025
1979 اور100 روپے کا ٹکٹ اور 25000 تماشائی ۔۔۔ جھارا اور انوکی کی تاریخ کی مہنگی ترین کشتی۔۔۔ آج جھارا پہلوان کی سالگرہ ہے۔
تاریخ تھی 17 جون 1979ء۔ موسمِ گرما کی شدت اپنے عروج پر تھی۔ گلی محلوں میں سناٹا تھا، سڑکیں ویران تھیں، لیکن ہر گھر کے اندر ایک الگ ہی میلہ سجا ہوا تھا۔
لکڑی کے کیبنٹ والے شٹر والے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی 📺 کے گرد پورا محلہ جمع تھا۔ چھتوں پر لگے انٹینوں 📡 کو بار بار ہلایا جا رہا تھا تاکہ تصویر صاف آ سکے، اور کمرے میں پیڈسٹل پنکھے کے شور کے باوجود سب کی نظریں اس چھوٹی سی سکرین پر جمی تھیں۔
معرکہ کوئی عام نہیں تھا۔ یہ خاندانی وقار اور قومی غیرت کا سوال تھا۔ جاپان کا عالمی چیمپئن انتونیو انوکی سامنے کھڑا تھا—وہی انوکی جس نے کچھ عرصہ قبل ہمارے اکرم پہلوان کا بازو توڑا تھا۔ لیکن آج اس کے سامنے 19 سال کا ایک پہاڑ جیسا نوجوان کھڑا تھا، شیرِ پنجاب "زبیر جھارا"! 💪🦁1979
لاہور کی گلیوں میں صبح سویرے جب اذان کی آواز گونجتی، تو شاہی قلعے کے سائے تلے آباد اکھاڑوں میں بھی زندگی جاگ اٹھتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب پہلوانی صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک مذہب، ایک جنون اور ایک تہذیب تھی۔ اسی ماحول میں، پہلوانوں کے سب سے معتبر اور عظیم خاندان "بھولو برادران" کے گھر 1960ء میں ایک بچے نے آنکھ کھولی۔
اس بچے کا نام زبیر رکھا گیا، لیکن دنیا اسے "جھارا" کے نام سے جاننے والی تھی۔
جھارا کی رگوں میں عام خون نہیں دوڑ رہا تھا۔ وہ رستمِ ہند اسلم پہلوان کا بیٹا اور عظیم گاما پہلوان کے خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ اس کے چچا بھولو پہلوان زمانے کے مانے ہوئے رستم تھے۔ جھارا کی پیدائش پر اکھاڑے کی مٹی مہک اٹھی تھی، گویا اسے معلوم تھا کہ اس مٹی کو عزت دینے والا آخری عظیم سپوت آ گیا ہے۔
بچپن ہی سے جھارا کو عام بچوں والے کھلونوں سے نہیں بلکہ ڈنڈ بیٹھکوں اور مٹی سے محبت تھی۔ اس کے باپ اسلم پہلوان، جو اپنی طاقت اور غصے کے لیے مشہور تھے، نے جھارا کی تربیت کی کمان سنبھالی۔
یہ تربیت آسان نہیں تھی۔ صبح منہ اندھیرے اٹھنا، ہزاروں ڈنڈ پیلنا، اور پھر کئی سیر دودھ اور باداموں کی سردائی پینا۔ اسلم پہلوان نے اپنے بیٹے کو سونے کی طرح آگ میں تپایا۔ جھارا کا قد کاٹھ نکلتا گیا، سینہ چوڑا ہوتا گیا اور بازو مچھلیوں کی طرح ابھر آئے۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی جھارا ایک دیو ہیکل شخصیت بن چکا تھا۔ وہ تکنیک میں اپنے چچا بھولو جیسا شاطر نہیں تھا، لیکن طاقت اور جارحیت میں اپنے باپ اسلم کا پرتو تھا۔
1976ء کا سال اس عظیم خاندان پر بھاری گزرا۔ جاپان کا عالمی شہرت یافتہ ریسلر انتونیو انوکی (Antonio Inoki) پاکستان آیا۔ اس کا مقابلہ جھارا کے چچا اور بھولو پہلوان کے بھائی اکرم پہلوان سے ہوا۔
کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایک خونی معرکہ ہوا۔ انوکی نے اپنی جدید مارشل آرٹس تکنیک (چکن ونگ) کا استعمال کرتے ہوئے اکرم پہلوان کو شکست دے دی۔ یہ صرف اکرم کی ہار نہیں تھی، یہ "گاما" کے خاندان کی شکست تھی۔
لاہور میں بھولو برادران کے گھر صفِ ماتم بچھ گئی۔ سب اکرم کی شکست سے افسردی تھے۔ اسلم پہلوان غصے سے بپھرے ہوئے تھے۔ تبھی 16 سالہ جھارا آگے بڑھا۔ اس نے اپنے بزرگوں سے وعدہ کیا:
> "میں انوکی کو شکست دے کر اپنے چچا کا بدلہ لوں گا اور خاندان کی کھوئی ہوئی عزت واپس لاؤں گا۔"
تین سال گزر گئے۔ جھارا نے دن رات ایک کر دیا۔ اس نے اپنے جسم کو لوہے میں ڈھال لیا۔ بالآخر 17 جون 1979ء کا تاریخی دن آن پہنچا۔ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف"جھارا! جھارا!" کے نعرے گونج رہے تھے۔
ایک طرف دنیا بھر کا تجربہ رکھنے والا انتونیو انوکی تھا، اور دوسری طرف صرف 19 سال کا نوجوان زبیر جھارا۔
گھنٹی بجی اور شیر دھاڑے۔ انوکی نے وہی داؤ پیچ آزمانے کی کوشش کی جو اس نے اکرم پر آزمائے تھے، لیکن جھارا کوئی عام پہلوان نہیں تھا۔ وہ ایک چٹان کی طرح ڈٹا رہا۔ پانچ راؤنڈز تک موت اور زندگی کا کھیل جاری رہا۔ جھارا نے انوکی کو زمین پر پٹخا، اسے دبوچا اور اپنی دیسی طاقت کا لوہا منوایا۔ انوکی حیران تھا کہ یہ نوجوان تھکتا کیوں نہیں؟
جب آخری گھنٹی بجی، تو انوکی نڈھال ہو چکا تھا جبکہ جھارا کا سینہ ابھی بھی تنا ہوا تھا۔ اگرچہ تکنیکی طور پر کوئی "چت" نہیں ہوا، لیکن ریفری نے جھارا کا ہاتھ فضا میں بلند کیا اور اسے فاتح تسلیم کیا:مقابلے کے بعد انوکی نے کہا کہ "میں نے دنیا میں بہت سے پہلوان دیکھے، لیکن جھارا جیسا طاقتور نوجوان نہیں دیکھا۔ یہ انسان نہیں، لوہے کی چٹان ہے۔"*
اس دن جھارا صرف ایک پہلوان نہیں رہا، وہ قومی ہیرو بن گیا۔ اس نے اپنے خاندان کی پگڑی دوبارہ سر پر رکھ دی تھی۔
انوکی کو زیر کرنے کے بعد جھارا "رستمِ پاکستان" بن گیا۔ اس کی شہرت پوری دنیا میں پھیل گئی۔ وہ ناقابلِ شکست تھا۔ اس کے بعد اس نے ہربنس سنگھ اور کئی بین الاقوامی پہلوانوں سے مقابلے کیے اور سب کو دھول چٹائی۔
جھارا کی شخصیت میں ایک رعب تھا۔ وہ جب بازار سے گزرتا تو لوگ احترام میں کھڑے ہو جاتے۔ وہ دل کا سخی تھا، دوستوں کا دوست اور غریبوں کا مددگار۔ لیکن اکھاڑے کے اندر وہ ایک بے رحم شکاری تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ بھولو برادران کی وراثت اب محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
ا
کسے معلوم تھا کہ یہ طوفان جتنی تیزی سے اٹھا ہے، اتنی ہی جلدی تھم جائے گا؟ قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
10 ستمبر 1991ء کی ایک تاریک رات تھی۔ جھارا، جو ابھی اپنی جوانی کی بہار میں تھا (عمر صرف 31 سال)، اچانک تکلیف محسوس کرنے لگا۔ یہ دل کا دورہ تھا۔ وہ دل جس نے بڑے بڑے پہلوانوں کی ہیبت کو سہہ لیا تھا، اچانک دھڑکنا بھول گیا۔
خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ "جھارا پہلوان وفات پا گئے"۔ پورے پاکستان پر سکتہ طاری ہو گیا۔ لوگ یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ وہ دیو ہیکل نوجوان، جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑتا تھا، اتنی خاموشی سے چلا گیا۔
جھارا کا جنازہ لاہور کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا۔ لاکھوں لوگ رو رہے تھے۔ انہیں داتا دربار کے قریب پیر مکی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
جھارا کی موت صرف ایک فرد کی موت نہیں تھی، یہ پاکستان میں "فنِ پہلوانی" کے سنہری دور کا خاتمہ تھا۔ وہ گاما اور بھولو کے خاندان کا آخری عظیم چراغ تھا جو بجھ گیا۔
آج بھی جب پرانے لاہوری اکھاڑوں کی بات کرتے ہیں، تو ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں اور وہ کہتے ہیں:
"پہلوان تو بہت آئے، پر جھارا، جھارا تھا!"