Showbiz Stories

Showbiz Stories Welcome to ShowBiz Stories! The new home for personal and true stories from celebrities, professionals and fans. The Truth Behind the Curtain! Sharing Stories

11/25/2025

1979 اور100 روپے کا ٹکٹ اور 25000 تماشائی ۔۔۔ جھارا اور انوکی کی تاریخ کی مہنگی ترین کشتی۔۔۔ آج جھارا پہلوان کی سالگرہ ہے۔

تاریخ تھی 17 جون 1979ء۔ موسمِ گرما کی شدت اپنے عروج پر تھی۔ گلی محلوں میں سناٹا تھا، سڑکیں ویران تھیں، لیکن ہر گھر کے اندر ایک الگ ہی میلہ سجا ہوا تھا۔

لکڑی کے کیبنٹ والے شٹر والے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی 📺 کے گرد پورا محلہ جمع تھا۔ چھتوں پر لگے انٹینوں 📡 کو بار بار ہلایا جا رہا تھا تاکہ تصویر صاف آ سکے، اور کمرے میں پیڈسٹل پنکھے کے شور کے باوجود سب کی نظریں اس چھوٹی سی سکرین پر جمی تھیں۔

معرکہ کوئی عام نہیں تھا۔ یہ خاندانی وقار اور قومی غیرت کا سوال تھا۔ جاپان کا عالمی چیمپئن انتونیو انوکی سامنے کھڑا تھا—وہی انوکی جس نے کچھ عرصہ قبل ہمارے اکرم پہلوان کا بازو توڑا تھا۔ لیکن آج اس کے سامنے 19 سال کا ایک پہاڑ جیسا نوجوان کھڑا تھا، شیرِ پنجاب "زبیر جھارا"! 💪🦁1979
لاہور کی گلیوں میں صبح سویرے جب اذان کی آواز گونجتی، تو شاہی قلعے کے سائے تلے آباد اکھاڑوں میں بھی زندگی جاگ اٹھتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب پہلوانی صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک مذہب، ایک جنون اور ایک تہذیب تھی۔ اسی ماحول میں، پہلوانوں کے سب سے معتبر اور عظیم خاندان "بھولو برادران" کے گھر 1960ء میں ایک بچے نے آنکھ کھولی۔

اس بچے کا نام زبیر رکھا گیا، لیکن دنیا اسے "جھارا" کے نام سے جاننے والی تھی۔

جھارا کی رگوں میں عام خون نہیں دوڑ رہا تھا۔ وہ رستمِ ہند اسلم پہلوان کا بیٹا اور عظیم گاما پہلوان کے خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ اس کے چچا بھولو پہلوان زمانے کے مانے ہوئے رستم تھے۔ جھارا کی پیدائش پر اکھاڑے کی مٹی مہک اٹھی تھی، گویا اسے معلوم تھا کہ اس مٹی کو عزت دینے والا آخری عظیم سپوت آ گیا ہے۔

بچپن ہی سے جھارا کو عام بچوں والے کھلونوں سے نہیں بلکہ ڈنڈ بیٹھکوں اور مٹی سے محبت تھی۔ اس کے باپ اسلم پہلوان، جو اپنی طاقت اور غصے کے لیے مشہور تھے، نے جھارا کی تربیت کی کمان سنبھالی۔

یہ تربیت آسان نہیں تھی۔ صبح منہ اندھیرے اٹھنا، ہزاروں ڈنڈ پیلنا، اور پھر کئی سیر دودھ اور باداموں کی سردائی پینا۔ اسلم پہلوان نے اپنے بیٹے کو سونے کی طرح آگ میں تپایا۔ جھارا کا قد کاٹھ نکلتا گیا، سینہ چوڑا ہوتا گیا اور بازو مچھلیوں کی طرح ابھر آئے۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی جھارا ایک دیو ہیکل شخصیت بن چکا تھا۔ وہ تکنیک میں اپنے چچا بھولو جیسا شاطر نہیں تھا، لیکن طاقت اور جارحیت میں اپنے باپ اسلم کا پرتو تھا۔

1976ء کا سال اس عظیم خاندان پر بھاری گزرا۔ جاپان کا عالمی شہرت یافتہ ریسلر انتونیو انوکی (Antonio Inoki) پاکستان آیا۔ اس کا مقابلہ جھارا کے چچا اور بھولو پہلوان کے بھائی اکرم پہلوان سے ہوا۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایک خونی معرکہ ہوا۔ انوکی نے اپنی جدید مارشل آرٹس تکنیک (چکن ونگ) کا استعمال کرتے ہوئے اکرم پہلوان کو شکست دے دی۔ یہ صرف اکرم کی ہار نہیں تھی، یہ "گاما" کے خاندان کی شکست تھی۔

لاہور میں بھولو برادران کے گھر صفِ ماتم بچھ گئی۔ سب اکرم کی شکست سے افسردی تھے۔ اسلم پہلوان غصے سے بپھرے ہوئے تھے۔ تبھی 16 سالہ جھارا آگے بڑھا۔ اس نے اپنے بزرگوں سے وعدہ کیا:
> "میں انوکی کو شکست دے کر اپنے چچا کا بدلہ لوں گا اور خاندان کی کھوئی ہوئی عزت واپس لاؤں گا۔"

تین سال گزر گئے۔ جھارا نے دن رات ایک کر دیا۔ اس نے اپنے جسم کو لوہے میں ڈھال لیا۔ بالآخر 17 جون 1979ء کا تاریخی دن آن پہنچا۔ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف"جھارا! جھارا!" کے نعرے گونج رہے تھے۔

ایک طرف دنیا بھر کا تجربہ رکھنے والا انتونیو انوکی تھا، اور دوسری طرف صرف 19 سال کا نوجوان زبیر جھارا۔

گھنٹی بجی اور شیر دھاڑے۔ انوکی نے وہی داؤ پیچ آزمانے کی کوشش کی جو اس نے اکرم پر آزمائے تھے، لیکن جھارا کوئی عام پہلوان نہیں تھا۔ وہ ایک چٹان کی طرح ڈٹا رہا۔ پانچ راؤنڈز تک موت اور زندگی کا کھیل جاری رہا۔ جھارا نے انوکی کو زمین پر پٹخا، اسے دبوچا اور اپنی دیسی طاقت کا لوہا منوایا۔ انوکی حیران تھا کہ یہ نوجوان تھکتا کیوں نہیں؟

جب آخری گھنٹی بجی، تو انوکی نڈھال ہو چکا تھا جبکہ جھارا کا سینہ ابھی بھی تنا ہوا تھا۔ اگرچہ تکنیکی طور پر کوئی "چت" نہیں ہوا، لیکن ریفری نے جھارا کا ہاتھ فضا میں بلند کیا اور اسے فاتح تسلیم کیا:مقابلے کے بعد انوکی نے کہا کہ "میں نے دنیا میں بہت سے پہلوان دیکھے، لیکن جھارا جیسا طاقتور نوجوان نہیں دیکھا۔ یہ انسان نہیں، لوہے کی چٹان ہے۔"*

اس دن جھارا صرف ایک پہلوان نہیں رہا، وہ قومی ہیرو بن گیا۔ اس نے اپنے خاندان کی پگڑی دوبارہ سر پر رکھ دی تھی۔

انوکی کو زیر کرنے کے بعد جھارا "رستمِ پاکستان" بن گیا۔ اس کی شہرت پوری دنیا میں پھیل گئی۔ وہ ناقابلِ شکست تھا۔ اس کے بعد اس نے ہربنس سنگھ اور کئی بین الاقوامی پہلوانوں سے مقابلے کیے اور سب کو دھول چٹائی۔

جھارا کی شخصیت میں ایک رعب تھا۔ وہ جب بازار سے گزرتا تو لوگ احترام میں کھڑے ہو جاتے۔ وہ دل کا سخی تھا، دوستوں کا دوست اور غریبوں کا مددگار۔ لیکن اکھاڑے کے اندر وہ ایک بے رحم شکاری تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ بھولو برادران کی وراثت اب محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
ا
کسے معلوم تھا کہ یہ طوفان جتنی تیزی سے اٹھا ہے، اتنی ہی جلدی تھم جائے گا؟ قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

10 ستمبر 1991ء کی ایک تاریک رات تھی۔ جھارا، جو ابھی اپنی جوانی کی بہار میں تھا (عمر صرف 31 سال)، اچانک تکلیف محسوس کرنے لگا۔ یہ دل کا دورہ تھا۔ وہ دل جس نے بڑے بڑے پہلوانوں کی ہیبت کو سہہ لیا تھا، اچانک دھڑکنا بھول گیا۔

خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ "جھارا پہلوان وفات پا گئے"۔ پورے پاکستان پر سکتہ طاری ہو گیا۔ لوگ یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ وہ دیو ہیکل نوجوان، جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑتا تھا، اتنی خاموشی سے چلا گیا۔

جھارا کا جنازہ لاہور کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا۔ لاکھوں لوگ رو رہے تھے۔ انہیں داتا دربار کے قریب پیر مکی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

جھارا کی موت صرف ایک فرد کی موت نہیں تھی، یہ پاکستان میں "فنِ پہلوانی" کے سنہری دور کا خاتمہ تھا۔ وہ گاما اور بھولو کے خاندان کا آخری عظیم چراغ تھا جو بجھ گیا۔

آج بھی جب پرانے لاہوری اکھاڑوں کی بات کرتے ہیں، تو ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں اور وہ کہتے ہیں:
"پہلوان تو بہت آئے، پر جھارا، جھارا تھا!"

11/25/2025

سپریم کورٹ سے باہر نکلتے ہوئے ایک وکیل دوسرے سے: ویران ہی ہو گئی ہے ہماری سپریم کورٹ
دوسری جانب ایک ملازم نے دوسرے سے کہا کہ اب چیف صاحب کا کام یہ رہ گیا ہے کہ آ کر پوچھتے ہیں کہ: یہ پودے گزشتہ روز پانچ تھے آج چھ کیوں نہیں؟ وحید مراد،

:  دلاور اور عائشہ ۔۔ ہی مین اور ڈریم گرل کی داستانِ عشق ❤️🎬بالی وڈ کی تاریخ میں کئی محبتیں پروان چڑھیں اور کئی دم توڑ گ...
11/25/2025

: دلاور اور عائشہ ۔۔ ہی مین اور ڈریم گرل کی داستانِ عشق ❤️🎬

بالی وڈ کی تاریخ میں کئی محبتیں پروان چڑھیں اور کئی دم توڑ گئیں، لیکن دھرمیندر اور ہیما مالنی کی کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ یہ کہانی ہے ایک شادی شدہ مرد کی دیوانگی، ایک 'ڈریم گرل' کی کشمکش، اور سماج کے اصولوں کو توڑ کر ایک ہونے کی ضد کی۔

یہ 70 کی دہائی کا دور تھا جب دھرمیندر انڈسٹری کے 'ہی مین' اور ہیما مالنی 'ڈریم گرل' بن چکی تھیں۔ دونوں کی کیمسٹری اسکرین پر آگ لگا رہی تھی، لیکن اصل آگ فلم "شعلے" (1975) کے سیٹ پر لگی۔

بنگلور کے قریب 'رام نگر' کی پہاڑیوں میں جہاں گبر سنگھ کا خوف تھا، وہیں ویرو (دھرمیندر) بسنتی (ہیما) کے عشق میں گرفتار ہو رہا تھا۔ قصہ مشہور ہے کہ دھرمیندر نےکیمرہ مین اور لائٹ بوائے کے ساتھ ایک خفیہ ڈیل کر رکھی تھی۔ جب بھی کوئی رومانوی سین شوٹ ہوتا، دھرمیندر اشارہ کرتے اور لائٹ بوائے جان بوجھ کر لائٹ یا شاٹ خراب کر دیتا۔ نتیجہ: ڈائریکٹر "کٹ" بولتا اور سین دوبارہ شوٹ ہوتا۔ اس طرح دھرمیندر کو ہیما مالنی کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے اور انہیں بار بار گلے لگانے کا موقع مل جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ ہر ری-ٹیک (Re-take) کے لیے دھرمیندر اس دور میں ٹیکنیشنز کو 100 روپے بطور انعام دیتے تھے!

محبت تو ہو گئی، لیکن درمیان میں ایک بڑی دیوار تھی—دھرمیندر کی پہلی شادی۔ وہ پرکاش کور سے شادی شدہ تھے اور سنی دیول اور بوبی دیول کے والد بھی۔

ہیما کا خاندان: ہیما کے والد اس رشتے کے سخت خلاف تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی کسی شادی شدہ مرد کی "دوسری عورت" بنے۔ ادھر دھرمیندر کی پہلی بیوی پرکاش کور نے صاف انکار کر دیا کہ وہ دھرمیندر کو طلاق نہیں دیں گی۔ ہندو میرج ایکٹ کے تحت پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی جرم تھی۔

لگتا تھا کہ یہ محبت ادھوری رہ جائے گی، لیکن دھرمیندر اپنی ضد کے پکے تھے۔

جب ہندو قانون نے راستہ روکا، تو محبت نے دوسرا راستہ نکال لیا۔ دھرمیندر اور ہیما مالنی نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے پورے بھارت میں ہلچل مچا دی۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اسلام قبول کریں گے کیونکہ اسلام میں ایک سے زائد شادیوں کی اجازت ہے۔ رپورٹس کے مطابق، دھرمیندر کا اسلامی نام "دلاور خان" اور ہیما مالنی کا نام "عائشہ بی" رکھا گیا۔ 21 اگست 1979 کو دونوں نے خاموشی سے نکاح کر لیا۔

یہ سب اتنا خفیہ تھا کہ کافی عرصے تک کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔

جب شادی کی خبر لیک ہوئی تو میڈیا میں ایک بھونچال آ گیا۔ اخبارات کی سرخیاں چیخ رہی تھیں۔ قدامت پسند حلقوں اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی۔

لوگوں نے کہا کہ یہ "محبت نہیں بلکہ عیاشی کے لیے مذہب کا استعمال ہے۔"
دھرمیندر پر الزام لگا کہ انہوں نے اپنی پہلی بیوی کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔
ہیما مالنی، جو ایک مثالی بھارتی ناری سمجھی جاتی تھیں، کو "گھر توڑنے والی" (Home breaker) کہا گیا۔

لیکن اس طوفان کے باوجود، دھرمیندر نے نہ تو اپنی پہلی بیوی پرکاش کور کو چھوڑا اور نہ ہی ہیما کا ہاتھ چھوڑا۔ انہوں نے دونوں خاندانوں کو الگ الگ، لیکن ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی۔

وقت سب سے بڑا مرہم ہے۔ شروع میں دھرمیندر کی پہلی فیملی (سنی اور بوبی دیول) ہیما مالنی سے شدید ناراض تھی، لیکن وقت کے ساتھ تلخیاں کم ہوئیں۔

آج، 40 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد، دھرمیندر اور ہیما مالنی (عیشا اور آہانہ کے والدین) اب بھی ساتھ ہیں۔ ان کی شادی نے ثابت کیا کہ ان کا فیصلہ محض جوش نہیں تھا، بلکہ ایک گہرا جذباتی بندھن تھا۔

یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ محبت میں انسان بادشاہ سے فقیر اور ہندو سے مسلمان تو ہو سکتا ہے، لیکن اگر نیت سچی ہو تو دنیا کی ہر مخالفت کے باوجود اپنا رشتہ نبھا بھی سکتا ہے۔

Read the full, untold story of Dharmendra and Hema Malini: their 1979 conversion to Islam, nikah as Dilawar Khan & Ayesha Bi, media backlash.

11/25/2025

جو لوگ ڈرامہ پامال میں ماموں کے کردار کو سراہ رہے ہیں
اور رضا کو کنٹرولنگ اور نرسسسٹ کہہ رہے ہیں،
میرا سوال اُن سے یہ ہے کہ:

اگر رضا کنٹرول کرنے والا شخص ہے
تو پھر ماموں کیا ہیں؟
وہ تو خود دو گنا زیادہ کنٹرولنگ ہیں۔

کیوں؟

کیونکہ رضا صرف ملیکہ کو حدود کے اندر رکھنا چاہتا ہے،
لیکن دوسری طرف ماموں اپنی بہن اور اپنی نام نہاد بیٹی ملیکہ
— دونوں کو — گھر سے باہر نکلنے، کام کرنے، یا خود مختار بننے ہی نہیں دیتے۔

یہ کنٹرول نہیں؟

ملیکہ کی شادی “بالغ اور میچور” عمر میں دکھائی گئی ہے۔
اب لوگ کہیں گے یہ عمر پر تنقید ہے —
اچھا مان لیتے ہیں کہ وہ صرف پچیس برس کی دوشیزہ ہے
(جو حقیقت میں وہ نہیں لگتی)۔

لیکن سوال یہ ہے:

ماموں کے گھر میں گاڑی موجود تھی —
تو ملیکہ گاڑی چلانا کیوں نہیں جانتی؟
شادی سے پہلے
آخر اس نے کیوں نہیں سیکھی؟

اس کی ماں شوگر کی ایسی مریض کہ دوا نہ ملے تو آفت،
تب بھی اسے نہ میڈیکل اسٹور کا پتا تھا نہ نقشے کا —
کون سا دنیا کا ایکسپوژر لے کر آئی تھی یہ مَیکے سے؟

سڑک پر دو لفنگوں سے بچنے کے لیے ایک اجنبی کی گاڑی میں بیٹھ جانے والی
—جس کو اپنی بیٹی کے اسکول میں رہ جانے پر بھی اپنی غلطی نظر نہیں آتی—
ایسی غیر ذمہ دار عورت کے ہاتھ کون لاکھوں کی گاڑی دے کر سڑک پر نکال دیتا؟

جب ملیکہ کی ماں بیوہ ہو کر بھائی کے گھر آئی،
تو اُس تجربے کے باوجود انہوں نے
بیٹی کو خود مختار بنانے کی ضرورت کیوں نہیں سمجھی؟

بلوٙک پرنٹنگ بے شک دکھائی گئی ہے،
لیکن وہ بھی اتنی نہیں کہ وہ اپنی زندگی خود چلا سکے،
ورنہ وہ اپنے بھیا کے گھر باورچن نہ بنی ہوتی۔

رضا ایک سال کا کردار،
اور ماموں و ماں پچیس سال کی تربیت۔

ماموں کا کام نہ کرنے دینا “پیار”
اور رضا کا کام نہ کرنے دینا کنٹرول؟

اگر رضا کنٹرولنگ ہے
تو ماموں کا کردار کس کٹگری میں آئے گا؟

Nov 25, 2025
3:05pm

11/24/2025

ناصر ادیب صاحب : ریما اور نیلی بازار حسن سے آئی کی لاج رکھیں اور باتیں بھی اتنی ہی بڑی کیا کریں ۔۔۔ نشو کا ناصر ادیب کو مشورہ #

✨ Fourteen Years Later — The Magic of Mahira & Fawad Returns! ✨Fourteen years, two stories, one unforgettable duo.From  ...
11/24/2025

✨ Fourteen Years Later — The Magic of Mahira & Fawad Returns! ✨

Fourteen years, two stories, one unforgettable duo.
From to , one thing is clear — the chemistry of Mahira Khan and Fawad Khan remains timeless.

As the much-awaited film Neelofar approaches release, fans are celebrating the legendary on-screen pairing that defined a generation and continues to captivate hearts today.
Their reunion has sparked massive buzz across social media, reminding everyone why this duo is considered one of Pakistan’s most iconic.



11/24/2025

ڈرامہ سیریل 'مہرہ' کی 62ویں قسط نشر ہونے کے بعد مداحوں کا صبر جواب دے گیا ہے۔ شائقین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرامہ اب صرف "کھینچا" جا رہا ہے اور اس کی کہانی کہیں کھو گئی ہے۔ مداحوں نے اسے "فضول اسٹار پلس ڈرامہ" قرار دیتے ہوئے میکرز سے اسے فوراً ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

‏جھلوری میں ایک غریب امام مسجد کی 10 سالہ بیٹی آمنہ اسکول جاتے ہوئے اغوا ہوئی۔‏باپ تھانے کے چکر کاٹتا رہا، مگر پولیس نے ...
11/24/2025

‏جھلوری میں ایک غریب امام مسجد کی 10 سالہ بیٹی آمنہ اسکول جاتے ہوئے اغوا ہوئی۔

‏باپ تھانے کے چکر کاٹتا رہا، مگر پولیس نے انگلی تک نہ ہلائی۔

‏پانچ دن تک پولیس خاموش تماشائی ہی نہیں، بلکہ سہولت کار

‏بنی رہی—چھوٹا سا محلہ، چند گھر، سب ایک دوسرے سے

‏واقف… پھر بھی مجرم آزاد پھرتا رہا۔

‏پانچ دن تک وہ معصوم بھوکی پیاسی قید رہی، ظلم سہتی رہی، ریپ ہوتی رہی—

‏اور چھٹے دن اس کی لاش ایک بوری میں بند مل گئی۔

‏عوام نے احتجاج کیا تو پولیس نے منہ چھپا کر ایک بے قصور شخص کو پکڑ دکھا دیا،

‏جبکہ بچی کے کپڑے اور جوتے پولیس کے یار موسیٰ کے گھر

‏سے برآمد ہوئے…

‏لیکن گرفتار ہوا زاہد۔

‏ذرا رک کر اپنی بچیوں کے بارے میں سوچیں۔

‏رات کو بجلی چلی جائے تو 15 سالہ بچیاں ڈر جاتی ہیں—

‏یہ دس سالہ آمنہ پانچ دن کن اذیتوں سے گزری ہوگی؟

‏اس کا سانس ایک پلاسٹک ٹیوب سے چھین لیا گیا۔

‏بتائیں، اس سے بڑی گستاخی، اس سے بڑا ظلم، اس سے بڑی بربریت کیا ہوسکتی ہے؟

‏یہ وقت بددعاؤں یا “صبر جمیل” کے درس دینے کا نہیں

‏یہ وقت ملک بھر میں آمنہ کے لیے آواز اٹھانے کا ہے۔

‏ہر دیوار، ہر ٹائم لائن، ہر پلیٹ فارم پر یہ ظلم گونجنا چاہیے،

‏جب تک اصل مجرم انجام کو نہ پہنچے—خاموش رہنا شریکِ جرم ہونے کے مترادف ہے۔

‏اور پھر وہی روایتی بہانے:

‏“وہ سندھ کا معاملہ ہے… ہمارے اختیار سے باہر ہے…

‏وزیراعظم کچھ نہیں کرسکتا… فوج کا مسئلہ نہیں…”

‏کیا سندھ پاکستان سے باہر ہے؟

‏ٹیکس پورے ملک سے وصول ہوتے ہیں،

‏اور انصاف علاقے کے نام پر بانٹ دیا جاتا ہے؟

‏اگر سندھ حکومت، مرکز، پولیس سب ہی بے بس ہیں

‏تو بتائیں پھر:

‏بلاول کس کا سفیر ہے؟

‏زرداری کس کا صدر ہے؟

‏یہ عوام کے خون پسینے کے ٹیکس کا حق کس بنیاد پر لیتے ہیں؟

‏ان کے لیے اقتدار اور پروٹوکول مقدم ہے—

‏معصوم بچوں کی لاشیں ان کے لیے صرف خبر ہیں، درد نہیں

‏آج پورے ملک کی چیخیں میڈیا پر سنائی دیتی ہیں،

‏مگر حکمرانوں کے دل پتھر بن چکے ہیں۔

‏سیاستدانوں کی پوجا، مجرموں کی چھتر چھایا، عوام کی سسکیاں

‏یہ ہے ہمارا اصل نظام۔

‏آمنہ کی بوری میں بند لاش،

‏اس کا باپ جو اب خود ایک چلتی پھرتی لاش ہے—

‏یہ سب ہمارے سماج کا آئینہ ہیں۔

‏یہ سب پڑھ کر، یہ سب دیکھ کر سانس رک سی جاتی ہے

‏⁦‪ ‬⁩
Hisham Sarwar Mubashir Multani Mubashir Shah Australian High Commission, Bangladesh Australia.com British Airways City42 Public News Neo News ARY News All India Radio News Ali Ghulam Ashiq BBC URDU

11/24/2025

History of chicha watni, agr ap b eci trha apny village ,city,town, k history share krna chatt hn to krn, hum apny platform se share krn gy...

اداکارہ رمشا خان کی 15 سال پرانی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس میں وہ بالکل ناقابل شناخت لگ رہی ہیں۔ اس ویڈ...
11/23/2025

اداکارہ رمشا خان کی 15 سال پرانی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس میں وہ بالکل ناقابل شناخت لگ رہی ہیں۔ اس ویڈیو میں وہ ایک رئیلٹی شو کا حصہ ہیں اور ایک عجیب و غریب چیلنج (سانپ کو کس کرنا) پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مداحوں نے ان کی پرانی شکل دیکھ کر 'پلاسٹک سرجری' اور 'کاسمیٹک پروسیجرز' کی بحث چھیڑ دی ہے۔

゚viralシypシ゚viralシhtag

Meher Jaffri who is playing Dr Falak in Meri Zindagi Hai Tu is real life sister of Ainy Jaffri Rehman and niece of veter...
11/23/2025

Meher Jaffri who is playing Dr Falak in Meri Zindagi Hai Tu is real life sister of Ainy Jaffri Rehman and niece of veteran actress Azra Muhyunddin. Wife of Zia Mohiyudin
゚viralシypシ゚viralシhtag

11 نومبر 1983 کو وحید اپنے چھ سالہ بیٹے عادل کو ساتھ لے کر لاہور سے کراچی آ گئے۔ سلمیٰ مراد اپنی بہن مریم عیسیٰ سے ملنے ...
11/23/2025

11 نومبر 1983 کو وحید اپنے چھ سالہ بیٹے عادل کو ساتھ لے کر لاہور سے کراچی آ گئے۔ سلمیٰ مراد اپنی بہن مریم عیسیٰ سے ملنے امریکہ گئی ہوئی تھیں۔ عالیہ بھی ساتھ گئی تھیں۔ کراچی میں وحید کے دو فلیٹ تھے لیکن وہ ڈیفنس سوسائٹی میں اپنی منہ بولی بہن بیگم ممتاز ایوب کے گھر ٹھہرے۔ 13 نومبر کو اُنہوں نے عادل کی ساتویں سالگرہ منائی۔ اگلے دن مِڈ ایسٹ ہسپتال میں پلاسٹک سرجری کے آپریشن کے لیے وقت لیا۔ انہیں 24 نومبر کا کوئی وقت دیا گیا۔ لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔

نومبر کی 23 تاریخ کو صبح کے قریب ان کے دل کی دھڑکن بند ہو گئی۔ ان کی میّت کا تابوت اُن کی والدہ کے پاس لاہور لے جایا گیا۔ وہ صدمے سے بے حال ہو گئیں۔ پچھلے سال ان کے شوہر کا انتقال ہوا تھا۔ اب اکلوتا بیٹا صرف پینتالیس برس کی عمر میں فوت ہو گیا تھا۔ وحید مراد کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ لاہور میں اسٹوڈیوز بند ہو گئے۔ فلمی صنعت کے لوگ اُن کی کوٹھی کی طرف چل پڑے۔ مداحوں کا ایک ہجوم بھی جنازے کے لیے جمع ہو گیا۔ ہدایت کار شوکت ہاشمی کا بیان ہے کہ قریباً پچیس تیس ہزار کا مجمع تھا اور سب نعرے لگا رہے تھے، ’’وحید مراد زندہ باد‘‘

سب وحید کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیچین تھے۔ پرویز ملک اور وحید کے دوسرے دوست احباب انہیں پیچھے دھکیل رہے تھے۔ ایک پرستار نے پرویز سے کہا، ’’ہم وحیدمراد سے بہت پیار کرتے تھے۔ کیا ہمارا اُس پر کوئی حق نہیں؟‘‘ پرویز ملک کہتے ہیں:
’’میں ان کے راستے سے ہٹ گیا۔ واقعی وحید پر ان سب کا حق ہے۔ ان پرستاروں ہی نے وحید کا جنازہ اٹھایا اور انہوں نے ہی وحید کو اُس کی آخری آرام گاہ تک پہنچایا۔ میں سوچ رہا تھا، ویدو! اگر تو آج ہوتا تو دیکھتا کہ تو آج بھی عوام میں کتنا مقبول ہے! وحید کے پرستاروں کے اس ہجوم نے ایک بات ہمیشہ کے لیے ثابت کر دی۔ وحید مراد اپنی زندگی میں بھی ہیرو تھا اور مر کر بھی ہیرو ہی ہے۔ ‘‘

اخبارات کی سرخی تھی، ’’وحید مراد اچانک حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے۔ ‘‘
سلمیٰ مراد اور عالیہ خبر سنتے ہی امریکہ سے روانہ ہو گئیں لیکن انہیں ڈائرکٹ فلائٹ نہ ملی اور وہ تدفین کے بعد پہنچیں۔ صدر ضیأالحق نے ان کے نام خصوصی پیغام بھیجا۔ پاکستان ٹی وی نے ایک تعزیتی پروگرام نشر کیا۔ تقریباً سبھی اخبارات نے فیچر شائع کیے۔ زیادہ تر اخبارات اور رسائل نے خصوصی نمبر بھی نکالے۔
جب وحید کی بعض پرانی فلمیں دوبارہ ریلیز ہوئیں تو سنیما گھروں پر وہ رَش دیکھنے میں آیا جو اُس زمانے میں نئی فلموں کو بھی کم ہی نصیب ہوتا تھا۔ اُس کے بعد وحید کی اکثر فلمیں دوبارہ ریلیز کی گئیں۔ پرستاروں نے ان فلموں کی نمائش پر تعزیتی بینر اور پوسٹر لگا لگا کر سینماؤں کو سجایا۔
تعزیتی آڈیو کیسٹ بھی ریلیز ہوئے۔ کیسٹوں کی دکانوں پر یہ کیسٹ اونچی آواز میں چلائے جاتے رہے اور سال ڈیڑھ سال تک بازارو ں گلیوں میں گونجتے رہے۔ ان کے شروع میں عام طور پر ماتمی الفاظ ہوتے تھے اور باقی کیسٹ میں وحید کی فلموں کے اس قسم کے مکالمے اور نغمات ہوتے تھے، جیسے فلم ’’انجمن‘‘ سے اُن کی آواز میں مکالمہ، ’’تمہیں تو میرا غمگسار ہونے کا دعویٰ ہے؟ لیکن آج میں نے دو گھونٹ شراب کے پی لیے تو تمہیں پتہ چل گیا! خون کے وہ گھونٹ تم نے نہیں دیکھے جو میں چُپ چاپ نجانے کب سے پی رہا ہوں۔‘‘ فلم ’’پھر چاند نکلے گا‘‘ سے احمد رشدی کا نغمہ بھی اکثر کیسٹوں میں شامل ہوتا تھا:

چھوڑ چلے، ہم چھوڑ چلے، لو شہر تمہارا چھوڑ چلے!
جب تم کو ہماری یاد آئے اور دل بھی تمہارا گھبرائے،
سینے سے لگا کر یاد میری تصویر سے باتیں کر لینا
تھے ساتھ کبھی جن راہوں پر اُن راہوں سے مُنہ موڑ چلے!
پا کر بھی تمہیں ہم پا نہ سکے، اپنے تھے مگر اپنا نہ سکے،
یہ کھیل ہے سارا قسمت کا تم دل کو تسلی دے لینا!
تم جن کو کبھی بھولو گے نہیں، ہم ایسے نغمے چھوڑ چلے!

چھوٹی چھوٹی کتابیں بھی مارکیٹ میں آگئیں، مثلاً ایک کتاب میں اخبارات سے کچھ تعزیتی مضامین اکٹھے کر کے پیش کیے گئے تھے۔ قیمت آٹھ روپیہ تھی اور عنوان تھا، ’’وحید مراد کا قاتل کون؟‘‘
تمہید میں مرتب نے جو سطور لکھیں وہ تحقیق پر مبنی نہ تھیں لیکن اُن سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت کیا محسوس کیا جا رہا تھا: چاکلیٹ ہیرو منوں مٹی تلے دفن کر دیا گیا اور ساتھ ہی اُس کی موت کے بارے میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ قیاس کے گھوڑے دوڑائے جانے لگے۔ اُس پریشان اور مجبور شخص کے کردار پر کیچڑ اچھالی جانے لگی۔ اُس کی شخصیت کی دھجیاں اُڑائی جانے لگیں۔
’’اب تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ کیا وحیدمراد نے خودکشی کر لی ہے؟ کیا وحید مراد کو قتل کیا گیا ہے؟ کیا سلمیٰ نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا؟ ہزاروں باتیں ہیں۔ ہزاروں افسانے ہیں۔ مگر ایک بات یقین سے کہی جا رہی ہے کہ وحید مراد چوٹ کھایا ہوا آدمی تھا۔ اُس کے دل پر چرکے لگائے گئے تھے۔ اُسے دُکھ دیے گئے تھے اور وہ اُن دکھوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اُٹھائے اِس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ تمام دکھوں اور پریشانیوں سے نجات پا گیا۔‘‘

جہاں تک اِس سوال کا تعلق ہے کہ ’’ کیا وحیدمراد نے خودکشی کر لی ہے؟‘‘، یہ اتنا بے بنیاد ہے کہ اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہونی چاہیے لیکن افسوس ہے کہ وِکی پیڈیا نے بھی وحید کے صفحے پر اِس کا اشارہ دے رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آخری وقت میں جو لوگ وحید کے قریب تھے اُنہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ وحید نے اپنی منہ بولی بہن بیگم ممتاز ایوب کے گھر وفات پائی۔ انہوں نے جس مشترکہ دوست کو سب سے پہلے بلایا، وہ قادر موسانی تھے۔ اُنہوں نے ہی وحید کی نبض دیکھ کر کہا کہ یہ شاید فوت ہو چکے ہیں، اور پھر ڈاکٹر کو بلایا۔ طاہر حبیب کا مضمون ’’وحید مراد: ہمیں زندگی نے مارا‘‘ ہے۔
’’23 نومبر 1983 سے اب تک گزرنے والے اِس 42 سال کے عرصہ میں چشمِ فلک نے بہت کچھ دیکھا۔ وہ شخص جو زندہ ہوتے ہوئے بھی مار دیا گیا تھا۔ جب حقیقتاً مرا تو موت اس کی زندگی بن گئی۔ مہینوں تک اخبارات اس کی تصویریں چھاپتے رہے۔ نام کمانے کے لئے کچھ لوگ اسکینڈلز بناتے رہے۔ وہ تقسیم کار جو اُس کی فلمیں ڈبوں میں بند کر کے بھول گئے تھے، انہیں دولت کمانے کا ایک گولڈن چانس مل گیا۔ ہر سنیما پر وحید مراد کی فلمیں لگنے لگیں۔ اور یہ سلسلہ ایک طویل عرصے تک جاری ہے۔ لگتا ہے وحید مراد مرا نہیں ہے، وہ دنیا میں لَوٹ آیا ہے۔ مگر جسمانی طور پر نہیں اپنی فلموں کے ذریعہ۔ وہ عملاً ہمارے درمیان نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے درمیان ہے۔ ہر اخبار میں اُس کی تصویریں تھیں۔ سنیماؤں پر اُس کی فلمیں تھیں اور ہر جگہ اُس کا تذکرہ تھا۔ اُس کی پرانی فلمیں دوبارہ اُسی طرح بزنس کر رہی تھیں جس طرح اُس کی حیات اُس کے عروج کے وقت کیا کرتی تھیں۔

’’کاش وہ یہ سب دیکھنے کے لئے زندہ رہتا۔ وہ زندہ تھا تو اُسے شکوہ تھا۔ شکایت تھی کہ لوگوں نے اُسے بھلا دیا ہے۔ اُسے نئی فلموں میں سائن نہیں کیا جاتا۔ اس کی پرانی فلمیں دیکھنے میں نہیں آتیں۔ حتیٰ کہ لوگ یہ بھی بھولتے جا رہے ہیں کہ وحید مراد نام کا کوئی شخص بھی فلمی دنیا میں تھا… اس نے اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لیا۔ جہاں آنے والا کوئی بھی نہ تھا۔ وہ چپ چاپ اِس جہاں سے گزر گیا۔ مگر یہ ستم بھی کیا خوب ہے کہ لوگوں نے اُسے اپنے لئے زندہ کر لیا۔ اگر اُسے پتہ ہوتا کہ اُس کی موت سے خود غرض لوگوں کی بن آئے گی تو شاید وہ موت سے لڑ لڑ کر زندہ رہنے کی کوشش کرتا۔ جب سنیماؤں پہ اس کے بڑے بڑے پوسٹر اور اخبارات میں اس کی فلموں کے بے تحاشہ اشتہارات لگے تو وحید کے سچے پرستاروں کیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ وحید مراد نے موت کو گلے لگا کر دائمی زندگی حاصل کی ہے یا دنیا سے اپنا انتقام لیا ہے۔

فلم ہیرو ۔۔۔
بحیثیت فلمساز ، مصنف اور اداکار وحید کی آخری فلم "ھیرو" 11 جنوری 1985 کو سنیما کھروں کی زینت بنی۔ ہدایات اقبال یوسف نے دی تھیں۔ نغمے تسلیم فاضلی اور خواجہ پرویز نے لکھے تھے اور موسیقی کمال احمد نے بنائی تھی۔ نمایاں ستاروں میں بابرہ شریف، ممتاز، منور سعید، تانی بیگم، ہما ڈار، سیما، ساقی، خالد سلیم موٹا، چکرم، حنیف اور جہانگیر مغل شامل تھے۔ ندیم، طالش، لہری، اسلم پرویز، الیاس کاشمیری، شاہد اور علی اعجاز مہمان اداکار تھے۔ عادل مراد بھی چائلڈ اسٹار کے طور پر متعارف ہوئے (انہوں نے وحید کے ڈبل رول کرداروں کے بچپن کے کردار ادا کیے)۔

فلم سے پہلے ایک سلائیڈ پر بیگم سلمیٰ مراد کی طرف سے پیغام آیا:
’’فلم ’ہیرو ‘میں اپنی زندگی کے ’ہیرو ‘ وحید مراد کے نام کرتی ہوں۔ دیکھنے والوں کے لیے یہ ایک فلم سہی مگر میرے لیے وحید کی پیار بھری یادوں کا ایک خزانہ ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ فلم وہ بڑی محبّت اور لگن سے بنا رہے تھے۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے، یہ کیسا عجیب سانحہ ہے کہ آج تخلیق اپنے خالق کو ڈھونڈ رہی ہے۔ فلم ’ہیرو ‘ کا ہیرو ہم سے بہت دُور چلا گیا ہے۔ مگر دُوری کے باوجود وہ ہمارے بہت قریب ہے۔ ہمارے دِلوں میں زندہ ہے۔ ’ہیرو ‘ کے رُوپ میں ہمارے سامنے ہے۔ میں فلمسٹار محمد علی اور چوہدری ثنأاللہ صاحب کی مشکور ہوں جن کے تعاون سے ہی میں اِس فلم کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکی۔
”سلمیٰ مراد‘‘ ۔۔۔۔۔

ٹائٹل کے دوران وحید ایک دیہاتی فتح محمد عرف پھتّو کے رُوپ میں اسٹوڈیوز کے باہر دھکے کھاتے نظر آئے جو مایوس ہو کر فلمی صنعت کے بارے میں کہتا ہے، ’’یا سفارش یا رشوت!‘‘ جلد ہی ایک اسٹوڈیو کا منظر نظر آیا جہاں ایک شوٹنگ ہو رہی ہے اور ہیروئین شعلہ (ممتاز)، مہناز کی آواز میں ایک نغمہ گا رہی ہے۔ دیکھنے والے اِسے اُس کے الفاظ کو اُس دُکھ کے ساتھ جوڑے بغیر نہ رہ سکے جو وحید کی وفات پر محسوس کیا جا رہا تھا:
یہ دُنیا پیار کی رِیت نہ جانے!
لاکھ ستم ہوں، راہِ وفا میں مرتے رہیں گے دیوانے!
ہم سے پہلے اِس دنیا میں لاکھوں دل ویران ہوئے،
کتنی ہیریں، کتنے رانجھے، چاہت پہ قربان ہوئے!
آگ میں اپنی ہنستے ہنستے جلتے رہیں گے پروانے!
موت کا غم کیا! ہم کو پتہ تھا عشق کا ہے انجام یہی،
انسانوں کے اِس جنگل میں پیار کا ہے انعام یہی،
دل والے بھی اپنے لہو سے لکھتے رہیں گے افسانے!

فلم کا آخری نغمہ نورجہاں کی آواز میں بابرہ شریف نے (کرن کے کردار میں)، وحید کی تصویر کو مخاطب کر کے پیش کیا ہے، ’’میں تجھ کو کیا بتاؤں کہ کیا مقام تیرا کیا ہے! ‘‘فلم کا آخری مکالمہ پھتّو کی زبان سے ادا ہوتا ہے، ’’اب میں چلتا ہوں، ماں! میرا فن، میرا مستقبل مجھے آواز دے رہا ہے۔‘‘
وحید کے پرستاروں کیلئے اِس فلم کو دیکھنا ایک عجیب تجربہ تھا کیونکہ اس میں فلم کی شوٹنگ کے مناظر موجود تھے۔ بار بار یوں لگ رہا تھا جیسے ہم فلم نہیں دیکھ رہے بلکہ کسی فلم کے سَیٹ پر وحید کے ساتھ اُن کے مہمان کے طور پر موجود ہیں۔ یوں محسوس ہوا کہ وحید کی وفات کے دن سے جو سوگ اُن کے پرستاروں نے منایا تھا، اُسے ختم کرنے کے لیے وحید خود واپس آ گئے ہیں۔

بحیثیت اداکار وحید مراد کی آخری فلم زلزلہ 13 مارچ 1987 کو ریلیز ہوئی۔ اس کی ہدایات بھی اقبال یوسف ہی نے دی تھیں (جن کے والد ایس ایم یوسف نے پچیس برس پہلے وحید کو بطور اداکار متعارف کروایا تھا)۔ اس کے آخر میں اسکرین پر لکھا آیا کہ یہ وحید مراد کی آخری پرفارمنس ہے۔
اس کے باوجود ہر سال ملک کے مختلف شہروں میں اُن کی برسی پر قرآن خوانی اور فاتحہ ہوتی رہی یہاں تک کہ اب اُن کی برسی ایک عُرس جیسی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔ قومی تاریخ میں وحید کے مقام کا تعین کرنے میں یہ پہلی اہم بات ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہر آنے والی نسل میں وحید کی مقبولیت منتقل ہوتی رہی یہاں تک کہ جو نسل وحید کے عروج کے زمانے کے بعد پیدا ہوئی اب نہ صرف وہ نسل بلکہ اُس کے بچے بھی وحید کے پرستاروں میں شامل ہیں۔ وحید نے جو مقام حاصل کیا ہے اُس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ ہم اپنے دلوں میں اُن کے لیے ایک ایسی محبت محسوس کرتے ہیں جس کا ہمیں خود بھی معلوم نہیں ہے، ’’میں تجھ کو کیا بتاؤں کہ کیا مقام تیرا کیا ہے!‘‘

فارسی کی ایک غزل کے بارے میں مشہور ہے کہ عثمان مروندی یعنی لعل شہباز قلندر نے لکھی۔ یہ غزل اُن کے مرید، وحید مراد پر ضرور صادق آتی ہے۔ اس کا ترجمہ یوں ہے:
’’میں محبوب کے عشق میں ہر لمحہ آگ میں رقص کرتا ہوں۔ کبھی خاک میں لوٹ پوٹ ہوتا ہوں، کبھی کانٹے پر رقص کرتا ہوں!
مجھے دیکھ کر دُنیا والے کہتے ہیں کہ اے مانگنے والے، تُو کیوں رقص کرتا ہے؟ لیکن ہمارے دِلوں میں ایک راز ہے، مَیں اُسی راز کی وجہ سے رقص کرتا ہوں!
آ محبوب، ذرا دیکھ کہ میں جانبازوں کے ہجوم میں رُسوائی کے سامان کے ساتھ سرِبازار رقص کرتا ہوں!
میں عثمان مروَندی ہوں، جو خواجہ منصور حلّاج کا دوست ہے! دنیا والے ملامت کرتے ہیں اور میں دَار پر رقص کرتا ہوں!‘‘۔۔۔۔۔

゚viralシypシ゚viralシhtag

Address

Birmingham, IA

Telephone

+923226796414

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Showbiz Stories posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Showbiz Stories:

Share