05/24/2026
جنگ سے معاہدے تک — اب انسانیت کو سکون چاہیے
دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے انسانوں کو مبارک ہو کہ کئی مہینوں سے جاری کشیدگی، خوف، دھمکیوں اور جنگی ماحول کے بعد اب حالات مذاکرات اور معاہدے کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ تنازعہ صرف دو ممالک یا چند طاقتوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے۔ عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی، تیل، خوراک اور روزمرہ اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جبکہ غریب اور ترقی پذیر ممالک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو گئے۔
اس عالمی بے چینی کا سب سے زیادہ اثر اگر کسی طبقے پر پڑا تو وہ عام انسان تھا۔ وہ مزدور جو روز کماتا اور روز کھاتا ہے، وہ سفید پوش طبقہ جو عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے، اور وہ غریب خاندان جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ جنگوں اور تنازعات کی قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرتا ہے، جبکہ فیصلے ایوانوں میں بیٹھے طاقتور لوگ کرتے ہیں۔
پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔ حالیہ سفارتی کوششوں اور مذاکراتی ماحول میں پاکستان کا کردار بھی ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر امن، مذاکرات اور تحمل کا پیغام دیا، مگر افسوس کہ اسی دوران پاکستان خود تاریخ کی بدترین مہنگائی، بے یقینی اور معاشی بحران سے گزرا۔ آٹا، چینی، بجلی، گیس، پیٹرول اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات عوام کی پہنچ سے دور ہوتی چلی گئیں۔ لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے لگے اور ذہنی دباؤ ہر گھر کی کہانی بن گیا۔
اب جبکہ دنیا ایک نئے معاہدے، امن اور استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے تو ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارا یہ حق بنتا ہے کہ ہم اپنے حکمرانوں اور دنیا کے طاقتور لیڈران سے یہ سوال کریں کہ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ پاکستان کے عوام کو بھی سکون دیا جائے؟ کیا اب مہنگائی کے طوفان کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں ہونے چاہئیں؟ کیا اب عام انسان کی زندگی کو دوبارہ آسان اور پُرسکون بنانے کا وقت نہیں آ گیا؟
پاکستان کے عوام نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔ کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں، کبھی معاشی بحران میں، اور کبھی سیاسی عدم استحکام میں۔ لیکن اب عوام صرف وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو، کاروبار چلیں، روزگار بڑھے، اور گھروں میں سکون واپس آئے۔
دنیا کے لیڈران اگر واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں صرف جنگ بندی کے معاہدے نہیں بلکہ انسانیت کے دکھوں کا علاج بھی کرنا ہوگا۔ کیونکہ حقیقی امن صرف سرحدوں پر خاموشی کا نام نہیں بلکہ عوام کے چہروں پر اطمینان، گھروں میں خوشحالی، اور دلوں میں امید پیدا کرنے کا نام ہے۔
آج ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہماری آواز یہی ہے کہ:
“جس طرح دنیا جنگ سے نکل کر امن کی طرف بڑھ رہی ہے، اسی طرح پاکستان کو بھی مہنگائی، بے چینی اور معاشی مشکلات سے نکالا جائے تاکہ زندگی دوبارہ ویسے ہی رواں دواں ہو سکے جیسے کبھی ہوا کرتی تھی۔”
— از قلم
مزمل یاسین خا