05/27/2026
شکیلہ جاوید آرتھر نے ایک پُراثر اور شائستہ انداز میں موجودہ وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ کے سامنے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک مسیحی قوم کی قومی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے اہم تاریخی حقائق بیان کیے۔
انہوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ قیامِ پاکستان سے قبل مغربی پنجاب کو ہندوستان میں شامل ہونے سے روکنے میں مسیحی رہنماؤں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اُس وقت مسیحی قیادت نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر یہ مؤقف اپنایا کہ یہ خطہ پاکستان کا حصہ بننا چاہیے، کیونکہ وہ ایک ایسے ملک کا خواب دیکھ رہے تھے جہاں تمام مذاہب اور اقلیتوں کو برابری کے حقوق حاصل ہوں۔
شکیلہ جاوید آرتھر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان بننے کے بعد مسیحی قوم نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ ملک بھر کے مشنری اسکولز، کالجز اور اسپتالوں نے لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی، جہاں بلا تفریق مذہب انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی گئی۔
انہوں نے شہید شہباز بھٹی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جدوجہد کے نتیجے میں تمام اقلیتی برادریوں کے لیے 5 فیصد سرکاری کوٹہ نافذ ہوا، جس سے ملک کی تمام اقلیتوں کو فائدہ پہنچا اور انہیں قومی ترقی میں بہتر مواقع حاصل ہوئے۔
گفتگو میں حالیہ قانون سازی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف اقدامات، خصوصاً نکاح کی عمر 13 سال سے بڑھا کر 18 سال مقرر کرنے جیسے قوانین، معاشرتی بہتری اور انسانی حقوق کے تحفظ کی جانب اہم قدم ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو بھی اقلیتی برادری خصوصاً مسیحی قیادت کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی اقلیتی برادریاں آج بھی وطن کی ترقی، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی خدمت کے مشن میں اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہیں گی۔
آپ کے خیال سے مسیحیوں نے اقلیتی کے حقوق کے لیے جو کام کیے اس کا جواب شکیلہ جاوید آرتھر اقلیتی نے اقلیتی وزیر امور رمیش سنگھ اروڑہ کو بہتر انداز میں دیا ہے اپنی رائے کمنٹ کر کے ضرور دیں ۔