Do Good Have Good

Do Good Have Good Digital Creator

> *خطاؤں پر خطائیں ہیں*> *موبائل پر نگاہیں ہیں*> *تلاوت نہ دعائیں ہیں*> *موبائل پر نگاہیں ہیں*> *یہ شب بھر جاگنے کی لَت ...
10/22/2025

> *خطاؤں پر خطائیں ہیں*
> *موبائل پر نگاہیں ہیں*
> *تلاوت نہ دعائیں ہیں*
> *موبائل پر نگاہیں ہیں*

> *یہ شب بھر جاگنے کی لَت محبت ہو نہیں سکتی*
> *یہ گمراہی کی راہیں ہیں موبائل پر نگاہیں ہیں*

> *عجب دورِ فتن آیا کہ فکرِ غیر محرم میں*
> *ہماری سب وفائیں ہیں موبائل پر نگاہیں ہیں*

> *پریشاں ہیں میرے بھائی پریشاں ہیں میری بہنیں*
> *پریشاں میری مائیں ہیں موبائل پر نگاہیں ہیں*

> *بظاہر دین داری ہے لبوں پر دین کی باتیں*
> *تہہِ دل میکداہیں ہیں موبائل پر نگاہیں ہیں*

> *یہ شوقِ بدنگاہی نے ہمیں بے حِس بنا ڈالا*
> *مصیبت کی ہوائیں ہیں موبائل پر نگاہیں ہیں*

10/19/2025
ضدی خواتین ناکام ہیںضدی عورتیں اپنی شادیوں میں بلکہ شوہر کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی ناکام ہوجاتی ہیں ...ایسی خواتین جو ...
10/17/2025

ضدی خواتین ناکام ہیں
ضدی عورتیں اپنی شادیوں میں بلکہ شوہر کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی ناکام ہوجاتی ہیں ...
ایسی خواتین جو شوہر کے جذبات کا خیال نہیں رکھتیں ... اور معاملات میں لچک نہیں رکھتیں ... ان کی شادیاں مکمل ناکام ہوجا تی ہیں ... بلکہ ان کی زندگیاں بھی ناکام ہو جاتی ہیں کیوں..؟؟
١ ... وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنی انا کی جنگ لڑتی رہتیں ہیں ... شوہر پر قابو پانے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں ... اس جنگ میں ہمیشہ وہ ہار جاتی ہیں ... وہ کبھی یہ جنگ نہیں جیت سکتیں ... کیونکہ مرد ضد کرنے والی بیوی کے سامنے اور زیادہ ضدی ہوجاتے ہیں ... اور وہ ایک نرم اور فرمانبردار عورت کے سامنے بہت زیادہ نرم ہو جاتے ہیں
٢ ... ایک ضدی عورت سوچتی ہے کہ وہ اپنی رائے پر اصرار کر کے جیت جاے گی اور وہ کسی بھی مخالفت کا سامنا کر لے گی ... جبکہ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ ...
یہ جنگ وہ اپنی ضد اور زبان سے جیت بھی جائے تو وہ اس دل سے محروم ہوجاے گی جو اسے پیار کرتا تھا اور اس کی فکر میں لگا رہتا تھا
٣ ... تمام ثقافتوں اور حکمتوں میں ایک آسان ، نرم ، ہمدرد ، صابرہ اور در گذر کرنے والی عورت کی تعریف کی گئی ہے ... یہاں تک کہ بڑے بزرگوں نے ایسی عورت کی تعریف کی ہے جو اپنے شوہر کا احترام کرتی ہے اور نرمی اور حکمت کے ساتھ بولتی ہے ... اور اس کے نتیجے میں وہ اس سے ہمیشہ محبت کرے گا اور اسے کبھی دور نہیں جاے گا
٤ ... وہ عورت جو اپنے شوہر کی بات مان لیتی ہے اور طوفان کے گذرنے تک صبر کرلیتی ہے ... وہ عقلمند عورت ہے ... وہ اپنے کنبہ کو بکھرنے سے بچا لیتی ہے ... اور وہ عورت جو خشک چھڑی کی طرح بے لچک کھڑی ہوتی ہے وہ ٹوٹ جاتی ہے ... جس کا دوبارہ جڑنا ممکن نہیں
٥ ... سمجھوتہ نہ کرنے والی عورت اپنی رائے سے چمٹی رہتی ہے ... وہ مسلسل اپنی فتح کا وہم برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے ... اس زعم میں رہتی ہے کہ ... میں جیت گئی اور آپ ہار گئے ... میں ٹھیک ہوں اور آپ غلط ہیں ... ایسی عورت دوسروں کو تباہ کرنے سے پہلے خود کو تباہ کر دیتی ہے ... اور وہ دنیا اور آخرت میں غمزدہ اور مایوسی کی زندگی بسر کرتی ہے ... چونکہ اسے پیار اور محبت چاہئے جو ہارا ہوا مرد نہیں دے سکتا ... اس کی زبانی جیت حقیقت میں اس کی زندگی کی ہار تھی
ازدواجی مشاورت کے لمبے تجربات
میں ... میں نے دیکھا کہ ... ضدی خواتین کی زندگی ہمیشہ مشکلات سے دو چار ہوتی ہے ... اور ان کی خاندانی اور معاشرتی زندگی ہمیشہ تلخیوں سے بھری رہتی ہے
جو عورت یہ چاہتی ہے کہ بھرپور طریقے سے خوشگوار زندگی گذارے تو اسے چاہئے کے اپنی زبان اور دماغ کو قابو میں رکھے ... اور اپنے گھر اور شوہر کے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھے۔

پڑھنے کیلئے پاس اتنے پیسے نہیں تھے اس لئے زمین فروخت کرکے پڑھا، فارن سے پی ایچ ڈی کرلی۔واپس کابل آیا، سوچ رہا تھا اتنا س...
10/12/2025

پڑھنے کیلئے پاس اتنے پیسے نہیں تھے اس لئے زمین فروخت کرکے پڑھا، فارن سے پی ایچ ڈی کرلی۔
واپس کابل آیا، سوچ رہا تھا اتنا سارا پڑھ لیا ہے اب تو صدر کے بعد سب سے بڑی کرسی مجھے ملے گی!
کافی عرصہ نوکری کیلئے دفتروں کی خاک چھانی، نوکری نہیں ملی۔ کچھ تو کرنا تھا اس لئے ایک کار سروس سٹیشن کھولا۔ رشتہ داروں نے خوب مذاق اڑایا مگر میں اپنے آپ کو اور گھر والوں کو تسلی دیتا رہا کہ سب بہتر ہو جائے گا۔
سروس سٹیشن بہت خستہ حال تھا۔ شیشوں کے بجائے پلاسٹک کا سہارا لیا، کابل کی یخ بستہ اور تیز و تند ہوائیں آئے روز پلاسٹک اڑا لے جاتے اور مجھے ہر روز نئے پلاسٹک خریدنے پڑتے۔
چچا زاد بھائیوں کو میرے نئے کام سے کافی راحت محسوس ہوتی تھی۔
آئے روز خوبصورت کاریں لاتے اور مجھ سے دھلاتے تھے اگرچہ میرے ساتھ اور بھی لوگ کام کرتے تھے مگر ان کی کاریں ہمیشہ میں خود صاف کرتا تھا۔
سخت سردی کا موسم تھا۔ کابل کی یخ بستہ ہوائیں جسم کے آرپار گزرتی تھی میں پلاسٹک والی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہا تھا۔ چچا زاد آئے گاڑی کھڑی کی اور صفائی کا کہا۔
میں نے دیکھا گاڑی اندر سے پوری طرح گوبر، گھاس سے بھری پڑی ہے۔
خدا جانے مگر میرا گمان یہ تھا کہ یہ انھوں نےخود ہی جان بوجھ کے گندی کی ہے تاکہ میں صاف کروں اور وہ دیکھ کر سکون پائے!
میرے ساتھ کام کرنے والے گاڑی کی طرف لپکے، میں نے انھیں منع کیا، مطلب یہ تھا کہ اب چچا زاد بھائی ہے وہ تو صرف اس لئے آیا ہے کہ مجھے صفائی کرتے ہوئے دیکھے۔ میں نے بھائی کو بٹھایا اور ان کیلئے چاہے کا آرڈر دیا۔
اور خود گاڑی کی واش کرنے لگا۔
کام بہت سخت تھا، میری آنکھیں بھر آئیں مگر کام کرتا رہا اور ان کی گندی گاڑی صاف کی۔

چچا زاد بھائی چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے باہر آئے اور کہا اچھی طرح صاف کرنا! اگر سچ پوچھے تو بہت ہی کھٹن حالت تھی مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ بھائی کے امیدوں پر پانی پھیروں۔

*کچھ دنوں بعد*

کار اچھی طرح دھوئی، کار کا مالک کافی مضطرب تھا. میں نے سوچا شاید گاڑی اچھی طرح صاف نہیں ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا بھائی کیا بات ہے اپ اتنے پریشان کیوں؟ انھوں نے کہا میں طالب علم ہوں اور میرا امتحان ہے۔
عجیب بات یہ تھی کہ وہ معاشیات کا طالب علم تھا اور دوسری طرف میں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی
میں نے پوچھا کس مضمون کا پرچہ ہے؟
انھوں نے کہا “اکاؤنٹنگ"
میں نے کہا تم سامنے اس روم میں جاؤ میں آتا ہوں۔
میں نے انھیں چھ ماہ کا سبق پندرہ منٹ میں سمجھا دیا!
کہا یہ گاڑی آپ نے دھوئی ہے؟
میں نے کہا ہاں جی! زندگی ہے کام تو کرنا ہے نا!
میں نے انھیں اپنی پڑھائی کے بارے میں بتایا
وہ حیران تھا!
اب وہ ضد کرنے لگا کہ آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا، ہماری یونیورسٹی کے وی سی میرے دوست ہیں۔
میں ان سے بات کرتا ہوں وہ آپ کو ضرور نوکری دے گا۔
میں ان کے ساتھ چلنے لگا تو انھوں نے میرے میلے کچلے کپڑے دیکھ کر استفسار کیا کوئی اور کپڑے نہیں ہے آپ کے پاس؟
میں نے کہا نہیں، مجھے پتہ ہے نوکری کسی نے دینی نہیں یہ تو بس آپ ضد کر رہے ہیں اس لئے تمہارے ساتھ جانے لگا ہوں۔
گیلے کپڑے زیب تن کئے ہوئے میں وی سی آفس کے ایک کونے میں کھڑا ہوگیا۔ آفس میں قیمتی فرنیچر رکھا ہوا تھا مگر میرا دل نہیں کر رہا تھا کہ اس پر پر بیٹھوں۔
وی سی مجھے مستری سمجھا، میں نے ایک کپڑا لیا صوفے پر رکھا اور بیٹھ گیا۔
طالب علم نے میری کہانی انھیں سنائی۔ انھوں نے تمسخرانہ نظروں سے مجھے گھورا۔
جان چھڑانے کی خاطر انھوں نے کہا تم ڈیمو کیلئے تیاری کرو ہم تمہیں کال کریں گے۔
میں نے کہا میں ابھی بھی ڈیمو کیلئے تیار ہوں!
انھیں میرا یہ انداز اچھا نہیں لگا مگر پھر بھی انھوں نے فون اُٹھایا، سب ٹیچرز کو اس کلاس روم میں بلاؤ کہو ڈیمو ہے!
انھوں نے مجھے ایک مارکر پکڑایا میں نے دو مارکر اور مانگے۔
کلاس پوری طرح بھری تھی۔ میں نے سلام کیا۔ میرے کپڑے دیکھ کر تمام طلبہ مسکرا رہے تھے۔ حکم ہوا آپ ڈیمو شروع کریں۔
میں نے کہا کس موضوع پر لیکچر دوں؟
کہا آپ کی مرضی!
میں نے معاشیات کے دس موضوعات بورڈ پر لکھے۔
میری خوبصورت لکھائی بورڈ پر کافی بھلی دکھائی دے رہی تھی،۔
#مندرہ
میں نے کہا اس میں کون سے موضوع پر بات کروں؟
انھوں نے کہا دوسرے نمبر والا ٹاپک،
میں نے اس موضوع کو مزید کلاسیفائی کیا۔ پھر ان کی طرف دیکھ کر کہا اب ان میں کونسا موضوع ٹھیک رہے گا؟
پورا بورڈ بھر دیا. دو ساتھ جوڑے ہوئے بورڈ بھر گئے۔
اچانک تالیاں بجنے لگییں۔ میں نے مڑ کے پیچھے دیکھا پوری کلاس کھڑی تھی اور تالیاں بجا رہی تھی اور ان کے سامنے میں، میلے کپڑوں میں کھڑا تھا۔
وی سی نے کہا! ہاں بھائی بتاؤ کتنی تنخواہ لو گے؟
اور مجھے نوکری مل گئی
میں نے مشین کی طرح کام کیا۔ ماہ کے آخر میں مجھے یونیورسٹی بیسٹ ٹیچر کے ایوارڈ کے ساتھ اچھی خاصی تنخوا ملی۔ سب سے زیادہ تنخواہ اس یونیورسٹی میں پچاس ہزار افغانی تھی، پر مجھے ایک لاکھ بیس ہزار پر رکھ لیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ یونیورسٹی، فنانس منسٹری ، بین الاقوامی کانفرنسوں اور دنیا میں کئی یونیورسٹیوں میں کام کرنے کے مواقع ملے۔ میری سروس سٹیشن کے ایک سال کنٹریکٹ ابھی ختم نہیں ہوا تھا اور میں نے تیس ممالک دیکھ لیے۔ میں آج بھی اپنے چچا زادوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا ہوں
وہ بھی میرا بہت احترام کرتے ہیں اور نام کے ساتھ “صاحب” ضرور کہتے ہیں۔
*میں خدا سے خوش ہوں۔*💯👉
*زندگی کے سامنے کبھی ہتھیار مت ڈالیں۔ زندگی کے میدان میں اتار چڑھاو آتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیشہ آنے والے کل کیلئے پرامید رہیں۔ کبھی کوئی کام کرتے ہوئے شرماتے نہیں".*

* زندگی میں کوئی کام چھوٹا اور بڑا نہیں ہوتا، البتہ کام کے طریقے چھوٹے اور بڑے ضرور ہوتے ہیں۔

Address

4798 8th Ave
Los Angeles, CA
90001

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Do Good Have Good posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share