09/08/2026
🚨 خبردار! امریکہ میں شراب نوشی سے کینسر کی اموات دوگنی ہو گئیں – ایک گلاس بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے!
کیا آپ کو لگتا ہے کہ روزانہ ایک گلاس شراب پینا کوئی بڑی بات نہیں؟
اگر ہاں، تو یہ رپورٹ آپ کی آنکھیں کھول دے گی۔
ایک حالیہ تحقیقی مقالہ جو 'The Lancet Regional Health – Americas' میں شائع ہوا، نے سب کو چونکا دیا ہے۔ امریکہ میں شراب نوشی کی وجہ سے ہونے والی کینسر کی اموات 1990 میں 11,361 تھیں، جو 2023 میں بڑھ کر 23,126 ہو گئیں – یعنی دوگنی سے بھی زیادہ! 😲
یونیورسٹی آف میامی کے سیلویسٹر جامع کینسر سینٹر کے محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مجموعی طور پر کینسر سے اموات کی شرح کم ہوئی ہے، مگر شراب سے جڑی اموات کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔
🔴 صرف جگر نہیں، پورا جسم تباہ ہو رہا ہے:
یہ تحقیق بتاتی ہے کہ شراب صرف جگر کی بیماریوں کا سبب نہیں، بلکہ یہ درج ذیل مہلک کینسرز میں براہِ راست کردار ادا کرتی ہے:
✔ چھاتی کا کینسر (Breast Cancer)
✔ آنتوں اور بڑی آنت کا کینسر (Colorectal Cancer)
✔ معدہ اور غذائی نالی کا کینسر (Esophageal Cancer)
✔ سر اور گردن کے کینسر (Head & Neck Cancers)
⚠️ سب سے بڑا خطرہ کس کو ہے؟
تحقیق کے مطابق، 55 سال سے زائد عمر کے مرد اور بزرگ افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، مگر یہ خطرہ تقریباً تمام عمر اور نسلی گروہوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
💀 کوئی بھی مقدار 'محفوظ' نہیں!
سائنسدان صاف الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ شراب کو تمباکو اور ایسبیسٹس کی طرح گروپ 1 کارسنوجن (Group 1 Carcinogen) قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کا کوئی بھی استعمال کینسر کا سبب بن سکتا ہے – چاہے وہ دن میں صرف ایک ڈرنک ہی کیوں نہ ہو۔
❗اب وقت ہے عمل کا:
ماہرین کا مطالبہ ہے کہ:
✅ شراب کی بوتلوں پر واضح کینسر وارننگ لیبل لگایا جائے۔
✅ عوامی آگاہی مہمات کو فروغ دیا جائے۔
✅ ڈاکٹرز مریضوں کو باقاعدگی سے اس خطرے سے آگاہ کریں۔
🛑 برائے مہربانی اس پوسٹ کو اپنے پیاروں تک ضرور پہنچائیں – خاص طور پر ان بزرگوں اور دوستوں تک جنہیں آپ معمولی شراب نوشی کرتے دیکھتے ہیں۔ یہ کوئی مذہبی یا سماجی پیغام نہیں، بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے جو جان بچا سکتی ہے!
👇 اپنی رائے دیں: کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان میں بھی شراب پر اس طرح کے وارننگ لیبل لگنے چاہئیں؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں!
🔗 شیئر ضرور کریں – یہ پیغام کسی کی جان بچا سکتا ہے!
Info Points Arbab Babar Psychology Today Hashem Al-Ghaili