Sufi Times

Sufi Times A JOURNAL OF Contemporary SUFISM QUARTERLY SUFI TIMES

https://auliyacouncil.com/south-asian-sectarianism-a-comparative-study/
01/06/2026

https://auliyacouncil.com/south-asian-sectarianism-a-comparative-study/

South Asian Sectarianism A Comparative Study Dr. M. Mehdi Kazmi Sectarianism: A Wound in the Soul of the Subcontinent In our beloved subcontinent, there exists an ailment so deeply entrenched that it has fragmented societies, fractured the collective soul, and made us a spectacle of ridicule before....

12/07/2025
غزلمحمد شبیر سحر ایم اے علیگشعورِ زندگی کو شمعِ دل سے جگمگایا ہےفنائے راہِ الفت نے پتہ کب اپنا پایا ہےخرد کہتی رہی رُک ج...
11/28/2025

غزل
محمد شبیر سحر ایم اے علیگ

شعورِ زندگی کو شمعِ دل سے جگمگایا ہے
فنائے راہِ الفت نے پتہ کب اپنا پایا ہے

خرد کہتی رہی رُک جا، ہے راہِ عشق پُر آشوب
مگر دل نے ہمیشہ، ایسا لمحہ آزمایا ہے

قیامت تھے، قیامت ہیں، وہ لمحے آزمائش کے
تپیدہ دل نے فکرِ یار میں پہروں تپایا ہے

چوں عشق آمد خرد زنجیر شد،، ہے قولِ سودائی
سو اس رسمِ محبت کو، سدا دل سے نبھایا ہے

بس اک قطرہ تھا، لیکن غرقِ بحرِ معرفت ہوکر
جہانِ عشق و مستی کو دل اندر تک سمایا ہے

بہ شوقِ دیدہ و دل سے نگاہِ یار کا جلوہ
کہ صد سوزِ دروں سے ظاہر و باطن جلایا ہے

گمانِ وصل ہے دل میں، نہ تو فکرِ فراقِ یار
سحرؔ نے اپنی ہستی کو سلیقے سے مٹایا ہے

غزلشیخ ابو سعید صفویاب تیرا تصور ہی مستوں کی تلاوت ہےواللہ یہی صورت بس آیت رحمت ہےجس کو نہ یقین آئے وہ دیکھے یہاں آکر...
11/28/2025

غزل
شیخ ابو سعید صفوی

اب تیرا تصور ہی مستوں کی تلاوت ہے
واللہ یہی صورت بس آیت رحمت ہے

جس کو نہ یقین آئے وہ دیکھے یہاں آکر
کیا شانِ خداوندی مرشد کی حقیقت ہے

خدمت میں تری آکر معلوم ہوا مجھ کو
کعبہ ہے خمِ ابرو، قبلہ تری صورت ہے

اس زاہدِ خود سر کو معلوم نہیں شاید
دنیائے محبت میں بس عشق عبادت ہے

آیاتِ قرآنی سے یہ درس ملا مجھ کو
بس تیری اطاعت ہی مولیٰ کی اطاعت ہے

ہے فخر سعیدؔ ہم کو ترے در کی گدائی میں
کیا تیری غلامی سے بڑھ کر کوئی دولت ہے

التجائے مسافر(بہ درگاہِ حضرت محبوبِ الٰہیؒ دہلی)فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرابڑی جناب تری فیض عام ہے تیراستارے عش...
11/28/2025

التجائے مسافر
(بہ درگاہِ حضرت محبوبِ الٰہیؒ دہلی)

فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
بڑی جناب تری فیض عام ہے تیرا
ستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائم
نظام مہر کی صورت نظام ہے تیرا
تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی
مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا
نہاں ہے تیری محبت میں رنگ محبوبی
بڑی ہے شان بڑا احترام ہے تیرا
اگر سیاہ دلم داغ لالہ زار توام
دگر کشادہ جبینم گل بہار توام
چمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گل
ہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو
چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے
شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو

نظر ہے ابر کرم پر درخت صحرا ہوں
کیا خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کو
فلک نشیں صفت مہر ہوں زمانے میں
تری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کو
مقام ہم سفروں سے ہو اس قدر آگے
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو
مری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھے
کسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کو
دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثر
تری جناب سے ایسی ملے فغاں مجھ کو
بنایا تھا جسے چن چن کے خار و خس میں نے
چمن میں پھر نظر آئے وہ آشیاں مجھ کو
پھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبیں
کیا جنہوں نے محبت کا راز داں مجھ کو
وہ شمع. بارگہہ خاندان مرتضوی
رہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کو
نفس سے جس کے کھلی میری آرزو کی کلی
بنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو

دعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمیں
کرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کو
وہ میرا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشق
ہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کو
جلا کے جس کی محبت نے دفتر من و تو
ہوائے عیش میں پالا کیا جواں مجھ کو
ریاض دہر میں مانند گل رہے خنداں
کہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کو
شگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائے
یہ التجائے مسافر قبول ہو جائے

ابراہیمی مذاہب میں امن و انصاف   حنا اطہر خاںخالقِ کائنات نے اپنی مخلوق کے بارے میں قرآنِ مجید میں فرمایا ہے کہ انسان ظا...
11/28/2025

ابراہیمی مذاہب میں امن و انصاف

حنا اطہر خاں

خالقِ کائنات نے اپنی مخلوق کے بارے میں قرآنِ مجید میں فرمایا ہے کہ انسان ظالم ہے — وہ اپنے آپ پر بھی ظلم کرتا ہے اور دوسروں پر بھی۔ انسان جاہل ہے — اپنی اور دوسروں کی صلاحیتوں سے ناواقف۔ اور انسان جھگڑالو ہے — اپنی ہی مانند مخلوقات سے منازعہ کرتا ہے۔ یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو تصادم اور تشدد کی طرف مائل کرتی ہیں۔
اگر ہم انسان سے آگے بڑھ کر کائنات کے دیگر مظاہر پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ تصادم دراصل فطرت کی ساخت میں پیوست ہے۔ گویا ایک خودکار اور خود قائم نظامِ کائنات میں تنازع یا کشمکش دراصل تبدیلی اور بقا کے لیے محرّک کا کردار ادا کرتی ہے۔
معروف مفکر جان پال لیڈراچ (John Paul Lederach) کے مطابق، “تنازع تبدیلی کا محرّک ہے” — یعنی "Conflict is the motor of change"۔ اگرچہ یہ قول سماجی تنازعات کے حوالے سے کہا گیا ہے، مگر اس کی معنویت کائنات کے عمومی توازن پر بھی صادق آتی ہے۔
تمام آسمانی مذاہب — نہ صرف اسلام — انسانی فطرت میں اس رجحان کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی اصلاح و نظم کے لیے ہدایات فراہم کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ غیر ذی شعور مخلوقات میں یہ کشمکش نظمِ فطرت کے مطابق رہتی ہے، جب کہ انسان اپنی عقل و اختیار کے باعث اکثر حدود سے تجاوز کر جاتا ہے اور یہی انحراف ظلم اور جبر میں بدل جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب "جدوجہد" یا جہاد کے مفہوم کو متعارف کراتا ہے — یعنی ایسی جدوجہد جو انسان کو ظلم سے روکے اور عدل و توازن قائم کرے۔ بدقسمتی سے انہی تعلیمات کو غلط معنی پہنا کر مذہب کے نام پر تشدد کا جواز بنایا گیا۔ اس سے یہ گمان پیدا ہوا کہ بعض مذاہب فطری طور پر “پُرامن” ہیں اور بعض “پرتشدد”۔
یہ مضمون اسی غلط تصور کو واضح کرتا ہے کہ مذہب کو اس پیمانے پر پرکھنا خود مذہب کے جوہر کے ساتھ ناانصافی ہے، اور یہ کہ مذہب کو خود اپنے خلاف ایسے بیانیوں سے دفاع کی ضرورت کیوں اور کیسے پیش آتی ہے۔
انسانی تصادم اور "ہم بمقابلہ وہ" کا رویّہ
انسانی تنازعات کی جڑ اکثر "ہم اور وہ" کی نفسیات میں ہے — ایک ایسا فکری ڈھانچہ جو محدود وسائل کے خوف یا احساسِ کمی کے تحت اپنی بقا کو دوسرے کی نفی میں تلاش کرتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کوئی بھی علامتی شناخت — خواہ معمولی ہی کیوں نہ ہو — اس دوئی کو جنم دے سکتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان دوسرے کو غیر، کمتر یا دشمن سمجھنے لگتا ہے۔
اس پس منظر میں مذہب، بطورِ شناخت، ایک نہایت طاقتور ہتھیار بن جاتا ہے۔ ابراہیمی مذاہب خصوصاً اسلام ایمان کے اُس تصور پر قائم ہیں جس میں انسان اپنے خالق کے سامنے اپنی محدود عقل کو جھکا دیتا ہے تاکہ الٰہی حکمت کی وسعت کو سمجھ سکے۔ مگر جب یہ “سجدۂ عقل” علم و فہم کے بغیر انجام پاتا ہے، تو یہی مذہبی جذبہ آسانی سے استحصال کا شکار ہو جاتا ہے، اور یہی کیفیت اکثر مذہبی تشدد یا انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے۔
اسلام اور مذہبی تشدد کا الزام
حالیہ تاریخ میں جب بھی مذہب اور تشدد کا ذکر آتا ہے تو اسلام کا نام فوراً ذہن میں آتا ہے۔ کیونکہ بیشتر مسلم ممالک اپنی ریاستی شناخت مذہب سے اخذ کرتے ہیں، اس لیے ہر جنگ کو مذہبی رنگ دینا آسان ہو جاتا ہے۔
1980ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف “جہادی تحریک” کے دوران مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی انتہا پسند گروہ وجود میں آئے جو بعد میں اپنے ہی معاشروں میں تباہی کا سبب بنے۔
فرقہ وارانہ تقسیم — جیسے کہ شیعہ و سنی، دیوبندی و بریلوی اختلافات — نے مسلم دنیا میں داخلی خلفشار کو بڑھایا۔ شام اور پاکستان جیسے ممالک کی مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بعض اوقات یہ تنازعات دراصل سیاسی رقابتوں (جیسے سعودی-ایران کشیدگی) کا مذہبی لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔
کیا مذہب واقعی پرتشدد ہے؟
کسی مذہب کو پرتشدد یا پُرامن کہنے سے قبل دو باتوں کا جائزہ ضروری ہے:کیا تشدد کا سبب واقعی مذہبی نظریہ ہے، یا یہ محض “ہم بمقابلہ وہ” کی شناختی سیاست ہے؟

اور دوسرا، مذہب کی اصل تعلیمات تشدد کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟
ولیم ٹی کیونا (William T. Cavanaugh) کے مطابق، تشدد کا باعث مذہبی نظریہ نہیں، بلکہ “Otherness” — یعنی دوسرے کو غیر سمجھنا — ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مذہب کی اصل روح کو دیکھا جائے۔
اسلام میں عدل کی اساس
اسلام کی بنیاد عدل و انصاف پر رکھی گئی ہے۔ لفظ "دین" عربی مادہ "دَین" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں “قرض” — یعنی وجود کا وہ قرض جو انسان اپنے خالق کا مقروض ہے۔ چنانچہ اسلام دراصل اس قرض کی ادائیگی کا راستہ ہے۔
قرآن میں "ظلم" (زُلم) کی تعریف ہے “کسی چیز کو اس کے غلط مقام پر رکھنا”، اور "عدل" (عَدل) کا مفہوم ہے “ہر شے کو اس کے صحیح مقام پر رکھنا”۔ یہی تصور جوہان گالٹنگ (Johan Galtung) کے اس نظریے سے ہم آہنگ ہے کہ “تشدد وہ عمل ہے جو کسی امکان کو اپنی تکمیل سے روکے”۔
یوں دیکھا جائے تو عدل نہ امن کے مترادف ہے نہ تصادم کے، بلکہ ان دونوں کے درمیان توازن کا پیمانہ ہے۔ عدل وہ میزان ہے جس پر امن اور اختلاف دونوں اپنی حد میں رہ کر بقا پاتے ہیں۔
عقل اور عدل امام علیؑ کی تعلیمات کی روشنی میں
اسلام میں عقل کو عدل کے قیام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ قرآن بار بار انسان کو تدبر اور تفکر کی دعوت دیتا ہے۔
امام علیؑ، جنہیں نبی کریم ﷺ نے “باب العلم” کہا، فرماتے ہیں کہ “انبیاء کی بعثت کا مقصد عقلوں کے دفن شدہ خزانے کو ظاہر کرنا ہے”۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وحی عقل کو دبانے نہیں بلکہ جگانے آئی ہے۔
رضا شاہ کاظمی اپنی کتاب Justice and Remembrance – Introducing the Spirituality of Imam Ali میں لکھتے ہیں کہ امام علیؑ کے نزدیک “عقل مند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھے”، اور اسی لیے “حقیقی عاقل ہی حقیقی عادل ہو سکتا ہے”۔
یہی نکتہ امام غزالی اور دیگر صوفی مفکرین کے ہاں بھی ملتا ہے — کہ عقلِ سلیم ہی عدلِ حقیقی کی اساس ہے۔
امام جعفر صادقؑ اور "خواص" کا فریضہامام جعفر صادقؑ کے مطابق، قرآن کے باطنی معانی تک رسائی صرف “خواص” کو حاصل ہے — یعنی وہ اہلِ علم جو ظاہری الفاظ کے ماوراء غور و تدبر کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آج کے زمانے میں یہ خواص وہ تعلیم یافتہ افراد ہیں جو تنقیدی فہم رکھتے ہیں اور جن کی زندگی محض معاشی دوڑ تک محدود نہیں۔
قرونِ وسطیٰ میں ہر عالمِ دین دراصل ایک ہمہ جہت محقق ہوتا تھا جو دینی علوم کے ذریعے دیگر علوم تک پہنچتا تھا۔ آج اسی روایت کو بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تعلیم یافتہ اذہان کو مذہبی بصیرت کے ساتھ جوڑا جا سکے۔
نتیجہ امن نہیں، عدل کا نظریہ
جدید سیکولر تعلیم نے یہ غلط فہم پیدا کی ہے کہ مذہب عقل کے برعکس ہے، جب کہ حقیقت میں مذہب ہی عقل کو مقصد اور سمت دیتا ہے۔
لہٰذا ہمیں “امن” نہیں بلکہ “عدل” کی نظریاتی بنیاد کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا — ایسا نظامِ تعلیم جو اہلِ علم کے ذہنوں کو الٰہی بصیرت سے منور کرے اور انہیں اپنے وجود اور سماج میں عدل قائم کرنے کا محرّک بنائے۔
تبھی مومن اُس وعدے کو پورا کرے گا جو قرآن میں فرمایا گیا: اور تم اللہ کا حق اس طرح ادا کرو جیسا کہ اس کا حق ادا کرنے کا حق ہے، اور اسی کی راہ میں اس طرح کوشش کرو جیسا کہ کوشش کا حق ہے۔(سورۃ الحج: 78)

Hina Athar Khan
Lahore, Pakistan
Phone: +92 333 5651538
E-Mail: [email protected]

حسن معاشرت اور کامیاب ریاست کے نبوی اُصول    ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحیبلاشبہ سیرت نبوی کا مطالعہ ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر...
11/28/2025

حسن معاشرت اور کامیاب ریاست کے نبوی اُصول

ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی

بلاشبہ سیرت نبوی کا مطالعہ ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی فراہم کرتاہے۔غور کرنےپرمعلوم ہوتاہے کہ سیرت نبوی کے تین بنیادی ادوار ہیں، جو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ ایک فرد سے ایک ریاست تک کا سفر کیسے طے ہوتا ہے، اور کن اُصولوں پر چل کر ہم نہ صرف اپنی دنیا بلکہ آخرت کو بھی سنوار سکتے ہیں۔سیرت کے تینوں ادوار سے ملنے والے اَسباق کاایک سرسری جائزہ پیش ہے:
۱۔پہلا دور چالیس سالہ زندگی: یہ دور،اعلانِ نبوت سے پہلے کا ہے۔ اِس عہد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بظاہر ایک عام انسان کی طرح بسرہوتی ہے، لیکن آپ کا کردار غیر معمولی رہتاہے۔ اِس عہد کی خصوصیات اور اِس سے حاصل ہونے والے اَسباق ہماری شخصیت کی تعمیر کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں،مثلاً

صداقت وامانت داری: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کایہ ایک نمایاں سبق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے اعلان سے پہلے ہی اپنی صداقت اور دیانت داری کی ایسی مثال قائم فرمائی کہ ہر شخص، چاہے وہ آپ کا دوست ہو یا دشمن، آپ کو ’’صادق وامین‘‘ کہہ کر پکارنے پر مجبورہوگیا۔ آج کے زمانےمیں جہاں جھوٹ، فریب،دغا اور خیانت عام ہے،سیرت کا یہ پہلو ہمیں بتاتا ہے کہ کسی بھی شخص کی حقیقی قدر اُس کے اخلاق اور کردار سے ہوتی ہے، نہ کہ اُس کے عہدے یا دولت سے۔
عمدہ اخلاق اور حسن سلوک: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ایسےتھے کہ آپ کا بدترین دشمن بھی آپ کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نرمی، بردباری اور رحم دلی سے پیش آتے تھے۔ غریبوں، یتیموں ،بیواؤں کی مدد، پڑوسیوں کے حقوق کا خیال، اور چھوٹے بڑے کے ساتھ شفقت واحترام کا معاملہ رکھنا آپ کے عظیم الشان اخلاق کا اہم حصہ تھا۔
لہٰذا ہمیں بھی اپنے اخلاق کو بہترسےبہتربناناچاہیے اورعام مخلوقات کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اچھا اخلاق نہ صرف دنیا میں عزت کا باعث بنتا ہے بلکہ آخرت میں بھی اِس کی بے حد اہمیت ہے۔
کسب اور خود اِنحصاری: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی محنت اور مشقت کے ساتھ بسر فرمائی۔ بچپن میں بکریاں چَرائی، جوانی میں تجارت کی،ذاتی کسب و محنت سے اپنے گزربسرکا سامان مہیافرمایا، اور کبھی کسی پر بوجھ نہیں بنے، بلکہ آپ نے ہمیشہ خوداِنحصاری کا ثبوت پیش فرمایا۔اِس اعتبارسے ہمیں بھی کاہلی اور سستی کوترک کردینا چاہیے اور اپنی روزی-روٹی کےلیے محنت ومشقت کرنی چاہیے۔ سیرت نبوی کا یہ پہلو دوسروں پر اِنحصار کرنے کے بجائے خود کفیل ہونے کی ترغیب وتحریک دیتا ہے۔
فطری پاکیزگی اور شرک بیزاری: تاریخ شاہد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل چالیس سال تک ایک ایسی قوم کے درمیان رہے جو فخریہ طورپربت پرستی، شراب نوشی، زنا اور جوئےکی عادی تھی۔پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہرطرح کے کفروشرک اور تمام ترخرافات و بداخلاقیات سے پاک رہی۔سیرت کا یہ اہم پہلو پوری انسانی برادری کے لیےبالعموم اور مسلم برادری کے لیےبالخصوص نمونۂ عمل ہے۔موجودہ عہد میں اِس کی ضرورت واہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
۲۔دوسرا دور مکی زندگی: یہ دور،سخت آزمائشوں کا ہے،جس میں اعلان نبوت فرمایا،دعوتِ دین کی ابتدا ہوئی اور ساتھ ہی مخالفتوں کا طوفان بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکمالِ صبرواِستقامت کے ساتھ دعوت کے اُصولوں کی پاسداری فرمائی، مثلاً:
اللہ پر کامل توکل : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کوتوحید کی دعوت دی، تو سب آپ کے خلاف ہوگئے۔ آپ کو سخت ترین اذیتیں دی گئیں، پتھر برسائے گئے، یہاں تک کہ جادوگر اور مجنون بھی کہاگیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرحال میں اللہ تعالیٰ پر کامل توکل رکھا ۔اِس عملی سیرت سے پتاچلتاہے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی اللہ تعالیٰ پر کامل توکل اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔
حکیمانہ اُسلوبِ دعوت:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا میں خفیہ طور پر توحید کی دعوت دی۔
پھر جب اعلانیہ دعوت کا حکم ملا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہِ صفا پر اپنی قوم کو جمع کیا، اوربڑی حکمت و دانائی سے اُن کے سامنے دین کی حقانیت بیان کی ۔ اِس سےمعلوم ہوا کہ جب کبھی کسی بڑے مقصد کاحصول پیش نظر ہوتوحکمت عملی اور منصوبہ بندی اِنتہائی ضروری ہے۔
صبرواِستقامت: مکی عہد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام نےکمال صبر و اِستقامت کا مظاہرہ کیا ،جیسے: حضرت بلال حبشی کو گرم ریت پر لٹایا گیا، حضرت سمیہ کو شہید کیا گیا اور بہت سے صحابۂ کرام کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن اِس کاسبق آموز پہلو یہ ہےکہ کسی ایک فرد نے بھی اِسلام کو نہیں چھوڑا۔لہٰذا حق کی راہ میں جب بھی مشکلات اور آزمائشیں آئیں،تو ہمیں بھی صبر واِستقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے،مکی عہد نبوی کا یہ اہم پیغام ہے۔
باطل سے سمجھوتہ نہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا آغاز فرمایا اوراہل مکہ نےآپ کے عزم مصمم کااندازہ کرلیا، تو اُنھوں نے بڑے بڑے لالچ دیے،اور کہا: اگر آپ توحید کی دعوت چھوڑ دیں، تو آپ کے جوبھی مطالبات ہوںگے اُسے پورا کردیا جائےگا۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف انکار کردیا، فرمایا:’’ اگرتم لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند بھی رکھ دو، تب بھی میں اپنے مقصد سے پیچھےنہیں ہٹوں گا۔‘‘اِس طرح باطل پرستوں سےکوئی سمجھوتہ نہ کرکےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیغام دیاکہ حق اور باطل میں ہرگز سمجھوتانہیں ہوسکتا اور یہ کہ ہمیں اپنے ایمان کا سودابھی نہیں کرنا چاہیے۔
۳۔تیسرا دور مدنی زندگی: ا ِس عہد میں اِسلام کی ایک نئی صبح کا آغاز ہوا۔ ہجرت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اِسلامی ریاست کی بنیاد رکھی اور اَیسے خوشنما وپُرامن معاشرے کی بنیاد ڈالی جو ساری دُنیا کے لیے ایک مثال بن گیا،مثلاً:
معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارہ: مدینہ منورہ ہجرت کرجانےکےبعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے مہاجرین اور اَنصار کے درمیان مواخات (بھائی چارے کا رشتہ) قائم فرمایا۔ انصار نے بھی اپنے گھر اور مال و دولت، مہاجرین کے ساتھ تقسیم کیے اور اُن کےساتھ ایک ایسا بھائی چارہ قائم کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ لہٰذاموجودہ عہد میں بھی اگرہمارےمعاشرے میں مختلف پس منظر رکھنے والے لوگ ملیں ،تو اُن کے ساتھ محبت،ہم آہنگی اور بھائی چارے کامظاہرہ کرنا چاہیےاورایک دوسرے کے دکھ-درد کابخوبی خیال رکھنا چاہیے۔
ریاست اور دستور سازی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں باقاعدہ ایک ریاست کی بنیاد رکھی اور اِنصاف پر دستور (میثاقِ مدینہ) تیار کیا، جس میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ یہودیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا گیا۔
سیرت کا یہ پہلو بہرصورت ایک حاکم وقائدکے لیے انمول تحفہ ہےجو یہ بتاتا ہےکہ ہرطرح کی سیاست و معاشرت کی تعمیر وترقی اور اِستحکام کے لیے ایک عادلانہ قانون اور مساویانہ نظام کا ہونا اِنتہائی ضروری ہے۔
سیاسی اور عسکری حکمت عملی: مدنی دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف دفاعی جنگوں ( بدر، احد، خندق وغیرہ) میں اپنی سیاسی و عسکری حکمت عملیوں کا اِستعمال کیا۔ یہ جنگیں اِس بات کا ثبوت ہیں کہ ہرایک کو اَپنےدفاع،لااینڈآڈر اورملک و قوم کی حفاظت کے لیے ہمہ دم تیار رہنا چاہیے، اور حکمت و منصوبہ بندی سے کام لینا چاہیے۔کیوں کہ وہ قومیں کبھی بھی شاد وآباد نہیں رہتیں جودِفاعی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے نہیں بڑھتی ہیں۔اِس کا مشاہدہ موجودہ عالمی پس منظر میں بخوبی کیا جاسکتا ہے۔
فتح مکہ اورعام معافی: فتح مکہ کا واقعہ اِس دورمیں بھی اِنتہائی بیش قیمتی سبق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فاتح مکہ کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بدترین دشمنوں سے انتقام لینے کا پوراموقع تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو معاف کر دیا، اور فرمایا:’’آج تمہارا کوئی مواخذہ اور گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔‘‘
یہ واقعہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ طاقت وحکومت ملنے پر بھی ہمیں انتقام کے بجائے عام معافی اور درگزر سے کام لینا چاہیے۔ بلکہ آج جب کہ سیاست ومعاشرت ہرسطح پر کمزوروں اورماتحت لوگوں کو دَبایا جارہا ہے، طاقت و قوت کاناجائز اِستعمال کیا جارہا ہے، اورعفوودرگزر کا تو کہیں نام ونشان بھی نہیں ہے ،اَیسے میںسیرت کے اِس پہلو کوبالخصوص نافذکرنے کی سخت ضرورت ہے۔دین کا مکمل نفاذ اور مثالی معاشرہ: مدنی دور میں اسلام ایک مکمل دین کی صورت میں سامنے آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادات، معاملات، اخلاقیات،ریاست اور معاشرت کے اُصولوں کو نافذ کیا۔ اُس کے نتیجے میں ایک ایسا مثالی معاشرہ وجود میں آیا جہاں عدل، انصاف، مساوات اور اُخوت کی بنیاد پر معاملات کیے جاتے تھے۔لہٰذا ہمیں بھی اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں کو سیرت کے مطابق ڈھالنا چاہیے تاکہ ہم ایک بہتر اور کامیاب ریاست ومعاشرت کی تشکیل کرسکیں۔
خلاصہ کلام: یہ کہ سیرت نبوی کے یہ تینوں ادوار اِنسانی زندگی کے لیے ایک مکمل رہنمائی کا مجموعہ ہیں۔جو ہمیں بتاتے ہیں کہ کس طرح ایک انسان اپنی سیرت و کردار کو بہترین بنا سکتاہے، کس طرح صبر و اِستقامت سے مشکلات کا مقابلہ کر سکتا ہے، اور کس طرح ایک مثالی ریاست ومعاشرت کی بنیاد رکھ سکتا ہے

Dr. Jahangir Hasan Misbahi
Editor, Monthly Khizr e Rah, Allahabad
Phone: +91 99108 65854
E-Mail: [email protected]

محبوب سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہاپنی ضروریات و حاجات اللہ کے حضور رکھنا، اسی پر اعتماد کرنا،  اس کے علاوہ کسی ...
11/28/2025

محبوب سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ
اپنی ضروریات و حاجات اللہ کے حضور رکھنا، اسی پر اعتماد کرنا،
اس کے علاوہ کسی سے امید نہ لگانا، اسی سے ہر چیز مانگنا، ، ہمیشہ توحید پر قائم رہنا

آفتاب رشکِ مصباحی

محبوب سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ (۴۷۰ھ – ۵۶۱ھ) کا شمار ان اکابر اولیا میں ہوتا ہے جو توحید اعتقادی کا عملی مظہر اور اسی کے داعی و مبلغ ہوتے ہیں۔ آپ کی تعلیمات کا اصل الاصول توحید ہے۔ جیسا کہ آپ نے اپنے صاحب زادے شیخ عبد الوہاب قادری رحمہ اللہ کو وصیت کی تھی:’’ اپنی ضروریات و حاجات اللہ کے حضور رکھنا، اسی پر اعتماد کرنا، اس کے علاوہ کسی سے امید نہ لگانا، اسی سے ہر چیز مانگنا، ، ہمیشہ توحید پر قائم رہنا کہ توحید ہی تمام نیکیوں کی جامع ہے‘‘۔(فتوح الغیب ، مقالہ: ۷۹)
آپ پر توحید کا ایسا غلبہ ہے کہ ایک مقام پر طالبین آخرت کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:
’’ اے دنیا و آخرت کے پرستارو! تم ابھی اللہ اور اس کی بنائی ہوئی دنیا کی حقیقت سے ناواقف ہو۔ تم نے اپنے اور اللہ کے درمیان دیواریں کھڑی کر لی ہیں۔

میں دیکھ رہا ہوں کہ کسی نے دنیا کو اپنا بت بنا رکھا ہے تو کوئی آخرت کا پرستار ہے۔ کوئی خواہش و لذت کا اسیر ہے تو کوئی مخلوق کی تعریف و ستائش اور پذیرائی کا خواہاں ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ ایک بت ہے۔طالبین مولی کو صرف اور صرف اللہ ہی کا طالب رہنا چاہیے ۔(جلاء الخاطر، ص: ۱۹)
آپ دعوت و تبلیغ، ارشاد و ہدایت، اخلاق و کردار کے ساتھ کشف و کرامت ہی کے امام نہیں تھے۔ بلکہ ان تمام خوبیوں کے ساتھ آپ عظیم مفسر، بڑے محدث، ماہر مفتی، زمانہ شناس فقیہ اور نحو ی و بلاغی بھی تھے۔
علم و عمل اور اخلاق و روحانیت کے اس آفتاب عالم تاب کو اللہ نے قوت گویائی اور تاثیر سخن بھی بلا کی عطا فرمائی تھی۔ آپ کے وعظ و خطاب کے دوران سامعین پر ایک قسم کی وجدانی و روحانی کیفیت طاری رہتی، پوری محفل آہ و بکا اور رقت آمیز کیفیت سے دوچار رہتی اور جب آپ اپنی تقریر سے فارغ ہوتے تو سامعین کی ایک بڑی تعداد اپنے سابقہ گناہوں سے تائب ہو چکی ہوتی۔
معاصرین سے لے کر بعد کے ادوار تک جن بلند و بالا القاب و خطابات سے ائمہ و محدثین نے آپ کو یاد کیا ہے اور آپ کے تبحر علمی ، دینی ثبات قدمی ، روحانی بلندی کا اعتراف کیا ہے، آپ کے بعد کسی کو اس طرح یاد نہیں کیا گیا ہے۔ چناں چہ آپ کی عظمت و شان بیان کرنے والوں میں شیخ علی بن ہیتی، شیخ ابو سعد قیلوی، شیخ ابو العباس سید احمد کبیر رفاعی، شیخ ابو نجیب سہروردی، شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ ابو مدین شعیب مغربی، شیخ عبد اللہ یافعی، امام عبد الوہاب شعرانی ، امام سمعانی، حافظ ابن جوزی، حافظ عبد الغنی مقدسی، حافظ ابن قدامہ حنبلی،امام برزالی اشبیلی، امام ابن النجار، امام عز الدین بن عبد السلام، امام نووی، شیخ ابن تیمیہ (شیخ ابن تیمیہ قادری سلسلہ میں صاحب خرقہ ہیں)، حافظ ذہبی، حافظ ابن قیم الجوزیہ،حافظ ابن کثیر، حافظ ابن رجب حنبلی، حافظ ابن حجر عسقلانی وغیرہم جیسےسلاطین تصوف و عرفان، اساطین علم و فن اور اکابرین فقہ و حدیث شامل ہیں۔
حضرت محبوب سبحانی قدس سرہ کی ولادت جیلان کے نواحی خطہ ’’ نیف ‘‘ میں ہوئی۔ آپ نجیب الطرفین سید یعنی والد کی طرف سے حسنی اور والدہ کی طرف سے حسینی ہیں۔آپ کی پیدائش کے ایک سال بعد ہی والد بزرگوارشیخ ابو صالح سید موسی جنگی دوست رحمہ اللہ کا وصال ہو گیا تھا۔ چناں چہ یکہ و تنہا ہونے کے باوجود آپ کی والدہ ماجدہ ام الخیر سیدہ فاطمہ رحمہا اللہ نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا۔ تیرہ/ چودہ سال تک آپ جیلان میں تعلیم حاصل کرتے رہے ۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے بغداد تشریف لے گئے، جہاں متداول علوم فنون مثلاً: تفسیر، حدیث، فقہ، ادب و بلاغت اور تصوف کی تعلیم ان علوم و فنون کے ماہر اساتذہ و ائمہ سے حاصل کیا جن میں خصوصیت کے ساتھ امام محمد بن حسن باقلانی، امام محفوظ بن احمد کلوذانی، امام ہبۃ اللہ ابن مبارک سقطی، امام یحی بن علی تبریزی، شیخ حماد بن دباس اور شیخ مبارک مخزومی بہت نمایاں ہیں۔ کتب تواریخ و سیر آپ کے سفر بغداد کے سلسلے میں اس بات پر متفق ہیں کہ بغداد جانے کے بعد آپ کا کوئی ایک مستقر نہیں تھا۔ بلکہ آپ وقتا فوقتا جگہ تبدیل کرتے رہتے جس کی وجہ سے آپ کو بے شمار مصائب سے دوچار بھی ہونا پڑا۔ رہنے سہنے کی دقت، کھانے پینے کی پریشانی اور اسی کے ساتھ گزر اوقات کے لیے معاشی تگ و دو۔
آپ خود فرماتے ہیں : ’’جس قدر بکثرت مشقتیں اور دقتیں مجھ پر پڑتی تھیں اگر کسی پہاڑ پر پڑتیں تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا‘‘۔ (قلائد الجواہر، ص: ۱۹۷)
بسا اوقات تو کئی کئی دن کے فاقے ہو جاتے اور بھوک ایسی محسوس ہوتی گویا جان ہی نکل جائےگی۔
ایسے ناگفتہ بہ حالات میں دریاے دجلہ کے کنارے اور صحراؤں میں اُگ آنے والے خود رو پودے: گھاس ، پھوس اور جنگلی سبزوں کی پتیوں سے اپنی بھوک مٹاتے۔ ایسی مشقت و پریشانی میں کوئی دوسرا ہوتا تو یہ کہتا ہوا اپنے وطن لوٹ جاتا کہ : جان بچی تو لاکھوں اورپائے۔ مگر آپ سراپا صبر و استقلال بنے ڈتے رہے ، ہر طرح کی مصیبتیں برداشت کیں، لیکن اکتساب علم و فیض میں کسی طرح کی کمی آنے نہیں دی اور اپنے کام میں مخلص لوگوں کی یہی پہچان بھی ہے کہ کسی قیمت پر وہ اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ تعلیمی حصولیابیوں کے ساتھ حضرت محبوب سبحانی قدس سرہ بڑے سخت مجاہدات بھی کیا کرتے تھے۔اکثر صحراؤں ، جنگلوں اور بیابانوں میں ایسے گشت کرتے ہوتے کہ انھیں کوئی پہچان نہیں پاتا تھا۔ اس طرح تعلیم و تربیت اور ریاضت و مجاہدہ کرتے تقریبا عمر کےچالیس/ پینتالیس سال گزر گئے تب جا کر آپ لوگوں کی تعلیم و تربیت اور رشد و ہدایت کی طرف مائل ہوئے جس کی وجہ آپ کے مرشد خلافت و اجازت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمہ اللہ بنے۔ شیخ مخزومی نے آپ کو اپنا خلیفہ و مجاز بنا کر اپنے قائم کردہ ’’ مدرسہ لطیفیہ‘‘ باب الازج، بغداد میں درس و تدریس پر مامور کیا جہاں آپ نےدرس و تدریس، تصنیف و تالیف اور فتوی نویسی کے ساتھ وعظ و خطابت کے ذریعہ خلق خدا کی دینی، علمی، فکری اور اصلاحی رہ نمائی فرمائی۔ چناں چہ آپ کے تلامذہ اور خلفا میں آپ کی اولاد (شیخ عبد الوہاب، شیخ عبد الرزاق، شیخ عبد العزیز وغیرہم ) کے علاوہ بے شمار اکابرین علم و عرفان شامل ہیں، جن میں خصوصیت کے ساتھ شیخ ابو علی حسن قادسی، حافظ عبد الغنی مقدسی، شیخ عمر بن مسعود بزاز، شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ علی بن ابراہیم حداد یمنی، شیخ محمد بن بطائح، شیخ بدیع الدین شارعی، شیخ ابو السعود حریمی وغیرہم سرفہرست ہیں۔آپ صاحب تصنیف بزرگ تھے۔ آپ کی طرف جن کتابوں کا انتساب کیا جاتا ہے ان میں فتوح الغیب، الفتح الربانی ، غنیۃ الطالبین، جلاء الخاطر نمایاں ہیں۔
حضرت محبوب سبحانی قدس سرہ نے جس دور میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا شروع کیا اس دور میں حکومت سے لے کر رعایہ تک اور عوام سے لے کر خواص تک ہر طبقے میں افتراق و انتشار، فتنہ و فساد اور دین سے دوری اور بے راہ روی کا بازار گرم تھا۔ ایسے وقت میں اس بگڑے ہوئے ماحول کو درست کرنے کے لیے جس ایمانی کیفیت اور جلالی لہجے کی ضرورت تھی اللہ رب العالمین نے اس لہجے سے آپ کو بھرپور حصہ بھی عطا کیا تھا اور آپ کی طرف لوگوں کے قلوب کو بھی مائل کر دیا تھا تاکہ لوگ آپ کی باتیں سن کر اپنی اصلاح کر سکیں۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنے مریدوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے منافق! اے مخلوق اور اسباب کے پجاری! اے اللہ کو بھلا دینے والے! تم چاہتے ہو کہ ان سب بد اعمالیوں کے باوجود تمھیں عزت اور قدر و منزلت حاصل ہو جائے ۔ ہرگز نہیں! نہ تمھارے لیے کوئی عزت ہے اور نہ کوئی قدر و منزلت۔ پہلے اسلام لاؤ، پھر توبہ کرو، پھر علم سیکھو، پھر عمل کرو، پھر اخلاص حاصل کرو۔ ورنہ تم ہدایت نہیں پا سکتے‘‘۔
(الفتح الربانی، مجلس:۳)
اپنے دور کے ظاہر داروں کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’صرف اولیاء اللہ کے نام لینے ، ان کے احوال و کرامات بیان کرنے، ان کی طرح لباس پہننے اور ان کی طرح باتیں کرنے پر اکتفا نہ کرو، کیوں کہ اگر تم ان کے اخلاق و سیرت اور طرز عبادت کی پیروی نہ کروگے ، ان کے نقش قدم پر نہ چلوگے تو یہ سب ظاہرداریاں تمھیں کچھ فائدہ نہیں دیں گی۔ تمھاری حالت تو یہ ہے کہ تم سراپا کدورت ہو ، صفاے باطن سے بالکل خالی ہو۔ تمھارے دل و دماغ میں مخلوق ہے، خالق نہیں۔ تم طالب دنیا ہو ، طالب آخرت نہیں۔ تم ظاہر پرست باطل کے دلدادہ ہو ، حقیقت اور باطن سے تمھیں کوئی علاقہ نہیں۔
تم قول کے غازی ہو ، عمل اور اخلاص کے مؤ میداں نہیں ہو۔ (السابق، مجلس:۴۹)
ایک مقام پر آپ نے فرمایا: ’’اے تصنع اور دکھاوا کرنے والے! تو کس حال میں مبتلا ہے! اگر نفس ، خواہش، طبیعت، جہل اور بد خلقی تجھ پر حاوی ہے تو محض دن کے روزے، رات کے قیام اور کھانے پینے کے معاملے میں خود پر سختی برتنے سے تجھے اللہ کا قرب میسر نہیں ہوگا، اس سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے۔ اپنے اندر اخلاص پیدا کرو اور بری عاتدوں، بری خصلتوں سے اپنے آپ کو پاک کرو‘‘۔ (جلاء الخاطر، ص: ۴۵)
مزید ایک جگہ اس طرح گویا ہوتے ہیں:
’’ قرب الہی محض ظاہری اعمال سے حاصل نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ نعمت پہلے قلب پھر جسم سے متعلق اعمال کے انجام دینے سے ملتی ہے‘‘۔(السابق، ص: ۴۸)
عوام تو عوام خواص میں بھی اب زرق برق لباس، اونچے اور موٹے عمامے، سرمئی آنکھوں کے ساتھ نرم و ملائم مخملی قالینوں پر مسند آرائی اور ارد گرد دریں چہ شک کہنے والوں کے ہجوم کا نام تقویٰ ہوتا جا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے آپ کا ارشاد ہمیں اپنے اندرون میں جھانکنے اور اپنی اصلاح کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔
آپ فرماتے ہیں: ’’تقوی کی حقیقت تو یہ ہے کہ جو کچھ تمھارے دل میں ہو اسے ایک صاف شفاف طشت میں نکال کر رکھو ، پھر اسے بھرے بازار میں لے کر پھرو جہاں ہر ایک کی نظر اس طشت پر پڑے اور اس میں کوئی ایک بھی ایسی چیز نہ ہو جس کی وجہ سے لوگوں کے سامنے لے جانے میں تمھیں حیا آئے‘‘۔(الفتح الربانی، مجلس: ۵۲) اس کے علاوہ شیخ لوگوں کو توضع و انکساری کی خصلت اپنانے کا درس دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ تواضع یہ ہے کہ تم جس کسی سے ملو- خواہ وہ تم سے چھوٹا ہو یا بڑا، عالم ہو یا جاہل ، متقی ہو یا فاسق و بد عمل، مومن ہو یا کافر- اسے اپنے سے افضل اور بہتر جانو اور اپنے دل میں یہ گمان رکھو کہ اللہ نے کوئی تو ایک خوبی اسے ایسی دی ہوگی جو تم میں نہیں ہوگی اور وہ اسی خوبی کی وجہ سے اللہ کے نزدیک تم سے بہتر و برتر ہوگا‘‘۔ (فتوح الغیب، مقالہ :۷۸) اسلام کا اولین مطمح نظر انسانیت کی بھلائی، خیر خواہی اور ان کی داد رسی رہی ہے۔ اسی لیے پیغمبر اسلام ﷺ نے سب سے زیادہ زور خلق خدا کی خدمت پر دیا ہے۔ آپ کے سچے جانشین محبوب سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ سلوک و تصوف کے جس انقلابی نظام کو لے کر اٹھے تھے اس میں صفاے قلب اور اخلاص نیت کے ساتھ خدمت خلق کو بھی بڑا درجہ حاصل تھا۔ چناں چہ ایک مقام پر آپ فرماتے ہیں’’ اپنے ہاتھوں کو دنیا میں خرچ کرنے کا عادی بناؤ اور اپنے دلوں میں دنیا سے بے رغبت رہنے کی عادت ڈالو ۔ فقرا کو عطا کرنے میں بخل سے کام نہ لو۔ جب تم سے کوئی کچھ مانگے تو منع مت کرو، ورنہ جب تم اللہ سے مانگو گے تو وہ بھی تمھاری دعاؤں کو رد کر دے گا اور کیوں کر رد نہ کرے گا حالاں کہ تم نے اس کے تحفے کو رد کر دیا۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ دروازے پر آنے والا سائل اللہ کی طرف سے بندے کے لیے بھیجا گیا تحفہ ہے۔ تمھیں اس بات پر شرم نہیں آتی کہ تمھیں اپنے پڑوسی کی محتاجی اور فاقے کا یقینی علم ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود تم اپنے باطل گمان کی وجہ سے اسے کچھ نہیں دیتے۔ تم کہتے ہو کہ وہ صرف اپنی غربت کا دکھاوا کر رہا ہے ، ورنہ اس نے اپنے پاس سونا چھپا رکھا ہے۔
تم مدعی ایمان ہو کر سو جاتے ہو حالاں کہ تمھارا پڑوسی بھوکا ہوتا ہے، تمھارے پاس زائد کھانا موجود ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود تم یہ کھانا اس محتاج کو نہیں دیتے۔ بہت جلد تمھارا مال تم سے چھین لیا جائے گا، نیز تمھارا دستر خوان بھی تمھارے سامنے سے اٹھالیا جائے گا۔ تم ذلیل و محتاج بن کر اس دنیا سے جدا ہو جاؤ گے جسے تم نے اپنی محبوب بنایا ہوا ہے (جلاء الخاطر، ۱۷۸)
’’جس نے دنیا میں کسی کو کھلایا ہوگا قیامت کے دن اسے کھلایا جائےگا۔ جس نے دنیا میں کسی کی پیاس بجھائی ہوگی قیامت کے دن اس کی پیاس بجھائی جائےگی۔ جس نے دنیا میں کسی کو پہنایا ہوگا قیامت کے دن اسے پہنایا جائےگا اور جس نے دنیا میں کسی پر رحم کیا ہوگا قیامت کے دن اس پر رحم کیا جائےگا‘‘۔ (السابق، ص: ۱۳۶)
حضرت محبوب سبحانی قدس سرہ کی یہ وہ تعلیمات و ارشادات ہیں جن پر آج کے دور میں واعظین و خطبا کی کرامت بیانیوں نے پردہ ڈال دیا ہے۔ کاش صوفیہ سے نسبت کا دم بھرنے والے محبوب سبحانی کی مذکورہ ہدایات کو عملی جامہ پہناتے تو ہمارا مذہبی منظر نامہ کچھ اور ہی ہوتا۔

M***i Aftab Rashk e Misbahi
Research Scholar, BRA Bihar University Muzaffarpur Bihar
Phone: +91 90767 66235
E-Mail: [email protected]

Address

Auliya Council Center
Mahopac, NY
10541

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sufi Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sufi Times:

Share

Category